• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • سیاسی رہنماؤں کی ضمانت پر رہائیاں اور موجودہ سیاسی منظر نامہ۔۔چوہدری عامر عباس ایڈووکیٹ

سیاسی رہنماؤں کی ضمانت پر رہائیاں اور موجودہ سیاسی منظر نامہ۔۔چوہدری عامر عباس ایڈووکیٹ

گزشتہ دنوں اسلام آباد ہائی کورٹ میں آصف علی زرداری کی صحت کے حوالے سے پمز کے میڈیکل بورڈ کی سفارشات پیش کی گئیں۔ جس میں ان کی صحت کے متعلق تشویش کا اظہار کیا گیا۔ عدالت نے پمز میڈیکل بورڈ کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے میڈیکل گراؤنڈز پر انھیں منی لانڈرنگ اور پارک لین کیسز میں ضمانت پر رہا کر دیا۔ ان کی ضمانت کا فیصلہ ہوتے ہی بلاول بھٹو زرداری صاحب کا بیان آیا کہ اب زرداری صاحب کھلاڑی کا شکار کریں گے۔ اس میں ان کا اشارہ آنے والے دنوں میں آصف علی زرداری کے سیاسی کردار پر ہے۔ اب ان تمام حالات میں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور پھر آصف علی زرداری کی ضمانت کے بعد سیاسی منظر نامے پر کیا تبدیلیاں رونما ہوں گی۔

اس بات میں تو کوئی دو رائے نہیں ہے کہ آصف علی زرداری واقعی شدید بیمار ہیں اور میری اطلاعات کے مطابق انھیں دل، بلڈ پریشر اور دماغ کی سنگین بیماریاں لاحق ہیں۔ میڈیکل رپورٹس کے مطابق ان کا دماغ سکڑ رہا ہے جو کہ ایک سیریس بیماری ہے۔ دل کی بیماری تو انھیں عرصہ دراز سے لاحق ہے۔ ان کا صحت کی گراؤنڈز پر ضمانت پر رہا ہونا کوئی غیر متوقع بات نہیں ہے کیونکہ اس سے قبل میاں نواز شریف کو بھی ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے جو کہ صحت کی گراؤنڈز پر رہائی کی ایک مثال پہلے ہی بنا چکے ہیں لہذا میاں نواز شریف کی ضمانت کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو آصف علی زرداری کی ضمانت کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے دیکھا کہ آصف علی زرداری کی ضمانت کے بعد حکمران جماعت یا کسی سیاسی لیڈر کی طرف سے کوئی جارحانہ بیان نہیں آیا ہے۔
اب ان کی ضمانت کے بعد اگر سیاسی منظرنامہ پر نظر دوڑائیں تو مجھے لگتا ہے کہ اب زرداری صاحب اپنی مکمل توجہ اپنے علاج پر دیں گے۔ سیاسی سرگرمیوں میں کم ہی نظر آئیں گے۔ اب پارٹی کی باگ ڈور مکمل طور پر بلاول کے ہاتھ میں ہو گی۔

گزشتہ سوا سال سے ایک تاثر موجود تھا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ اپوزیشن یہ سمجھتی تھی کہ حکومت انھیں دیوار کیساتھ لگا رہی ہے جس کی وجہ سے اپوزیشن کی طرف سے وقتاً فوقتاً یہ بیانات بھی سامنے آتے رہے کہ کیسز بنا کر انھیں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے ان تمام اپوزیشن جماعتوں کا مقصد ایک تھا جس نے انھیں کسی حد تک اکٹھے کیا ہوا تھا کیونکہ اس وقت یکے بعد دیگرے میاں نواز شریف، مریم نواز، ن لیگ کے دیگر لیڈران اور آصف زرداری قید میں تھے۔ اس وجہ سے ان جماعتوں کا ایجنڈا ایک تھا کہ انھیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پھر کچھ عرصہ بعد ہم نے دیکھا کہ میاں نواز شریف کی ضمانت کے بعد اپوزیشن جماعتوں میں سرد مہری پیدا ہونا شروع ہوئی جو وقت کیساتھ ساتھ بڑھتی گئی۔ پھر مریم نواز کو ضمانت ملی تو یہ سرد مہری مزید بڑھ گئی۔ اب آصف علی زرداری بھی ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔ اب یوں لگ رہا ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں اپنی اپنی سیاست کریں گی۔ کیونکہ اس وقت ملک میں مسائل بہت زیادہ ہیں۔ ملکی معیشت مسائل کا شکار ہے، مہنگائی اور گورننس جیسے دیگر مسائل درپیش ہیں۔ ان حالات میں اپوزیشن کی بیشتر جماعتیں حکومت کو گرانا ہرگز نہیں چاہیں گی۔ اپوزیشن یہ چاہے گی کہ حکومت کو وقت دے کر پارلیمنٹ کے اندر رہتے ہوئے حکومتی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی جائے جو ملک کیلئے بہتری کا باعث بھی ہے کیونکہ اس سے مثبت سیاست جنم لیتی ہے۔ میاں نواز شریف لندن میں ہیں جہاں سے وہ اپنی سیاست کرتے رہیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ن لیگ تو شاید یہ چاہتی بھی ہو کہ مڈٹرم الیکشن ہوں لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت ابھی جلدی الیکشن کے موڈ میں نظر نہیں آتی کیونکہ ان کے پاس سندھ کی حکومت ہے۔ وہ اسے جلد کھونا نہیں چاہیں گے۔ حالیہ انتخابات کے نتائج میں ہم نے دیکھا کہ پیپلزپارٹی پنجاب اور دیگر صوبوں کے اندر غیر فعال ہو چکی ہے۔ پیپلزپارٹی کی اب شدید خواہش ہے کہ وہ پنجاب کے اندر بھی اپنی پارٹی کو فعال کریں لہذا اب بلاول بھٹو زرداری اس پر توجہ دیں گے اور پنجاب میں جگہ بنانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ اگر ہم گزشتہ دو سال کا ریکارڈ دیکھیں تو پیپلز پارٹی نے زیادہ تر مفاہمت کی سیاست ہی کی ہے۔ اگر کہیں احتجاج بھی کیا ہے تو جمہوری انداز میں کیا۔ بہت جارحانہ انداز نہیں اپنایا جیسا کہ دیگر اپوزیشن جماعتیں کرتی ہیں۔ اور اب ویسے بھی زرداری صاحب کی صحت کے مسائل بھی درپیش ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان بیمار ہیں۔

حالیہ ضمانتوں سے ملکی سیاست پر میرے خیال میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ملک کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ کیونکہ اب تک جتنی بھی رہائیاں ہوئی ہیں وہ ضمانت پر ہوئی ہیں۔ مقدمات تو بہرحال اب بھی برقرار ہیں اور وہ عدالتوں میں چلتے رہیں گے، اگر کوئی جرائم ثابت ہو جائیں تو جب چاہیں ریکوریز بھی کی جا سکتی ہیں۔ حالیہ ضمانتوں سے دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں میں بہرحال غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوا ہے۔ اب امید یہ کی جا رہی ہے کہ ملکی سیاست میں ایک مثبت تبدیلی آئے گی۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک تناؤ کی سی کیفیت کا کسی حد تک خاتمہ ہو گا۔ اب ہو سکتا ہے کہ اسی وجہ سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک ورکنگ ریلیشن شپ پیدا ہو سکے کیونکہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملکی نظام کو چلانے کیلئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک ورکنگ ریلیشن شپ کی ازحد ضرورت ہوتی ہے۔ حکمران جماعت کو اپنے حکومتی امور نمٹانے کیلئے بہرحال اپوزیشن کیساتھ مل بیٹھ کر بات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجود حالات میں اگر دیکھا جائے تو پارلیمنٹ میں بہت سے قانون سازی کے بل اور دیگر امور التوا کا شکار ہیں۔ الیکشن کمیشن کے دو اراکین کا تقرر تاحال التواء کا شکار ہے، چیف الیکشن کمشنر کی ریٹائرمنٹ کے بعد الیکشن کمیشن عملی طور پر غیر فعال ہو چکا ہے۔ لہٰذا جلد از جلد چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کی بھی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قانون سازی کی ضرورت ہے جس کیلئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کچھ دن قبل اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ یہ قانون سازی تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت سے کی جائے جس کیلئے انھوں نے اپوزیشن سے بات چیت کیلئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔

حالیہ ضمانتوں سے بہر حال اپوزیشن جماعتوں کے اس تاثر اور سوچ میں کافی حد تک تبدیلی آئے گی کہ انھیں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناؤ کی کیفیت میں کمی واقع ہو گی اور ریاستی امور نمٹانے میں حکومت کو آسانی پیدا ہو گی جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت حقیقی عوامی مسائل کے حل کیلئے مؤثر قانون سازی کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گی۔

چوہدری عامر عباس
چوہدری عامر عباس
کالم نگار چوہدری عامر عباس نے ایف سی کالج سے گریچوائشن کیا. پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی. آج کل ہائی کورٹ لاہور میں وکالت کے شعبہ سے وابستہ ہیں. سماجی موضوعات اور حالات حاضرہ پر لکھتے ہیں".