پرواز کی کوتاہی۔۔۔ڈاکٹر مختیارملغانی

چالیس سالہ منیر بلوچ لگ بھگ دس سال اسلام آباد ائیر پورٹ پر پرندے مارنے , Bird shooter , کی ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد اب گلگت بلتستان کے جنگلات میں جنگل دار ، Forester, کے فرائض انجام دینے پہ تعینات تھا, منیر بلوچ ایک خوبرو، صحت مند اور متوازن جسمانی ساخت کا مالک تھا، اسی علاقے میں ایک مقامی سیاستدان کے تعاون سے اسے اپنی فیملی کو ساتھ رکھنے کیلئے ایک چھوٹا سا گھر بھی میسر تھا۔

گزشتہ دو تین سالوں میں منیر بلوچ نے یہاں رہتے ہوئے انتہائی بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بنا لیے تھے، اس خوبصورت علاقے میں، جہاں فطرت نے اپنے تمام رنگ پوری سخاوت و ہنر سے بکھیر رکھے تھے، بڑے بڑے لوگ اپنی اپنی فیملیز اور دوستوں کے ساتھ چھٹیاں گزارنے اور وقت بِتانے آیا کرتے تھے، اور منیر بلوچ ایسے میں ان شخصیات کی ہمہ قسمی خدمت کیلئے تیار رہتا تھا، ان خدمات میں آنے والے مہمانوں کے ذوق کے مطابق، شکار وسیر سپاٹے سے لے کر شاموں کی رنگینی کیلئے “مشروباتِ روحانی ” تک کی فراوانی شامل تھیں، بدلے میں یہ شخصیات منیر بلوچ کو مالی تعاون کے علاوہ کچھ چھوٹے موٹے کاموں، جیسے کسی عزیز کی نوکری یا تبادلہ، کسی ہسپتال میں گھر کے بزرگ یا رشتہ داروں کے علاج کیلئے سفارش وغیرہ جیسے معاملات میں مدد کرتے تھے، ان بااثر شخصیات میں بڑے بڑے فوجی افسران، سیاست دان، کاروباری شخصیات اور میڈیا کے معروف نمائندگان تک شامل تھے۔

ایک اتوار کی صبح جب گھاس اوس کے قطروں سے چمک رہی تھی، اور جنگل میں موجود درختوں کے نیم گیلے پتوں کی بھینی خوشبو اور چاروں طرف پھیلے فطرت کے پُرکیف اشارے تشفئ جمالیات کا ساماں کیے ہوئے تھے ، تب منیر بلوچ شادمانئ طبیعت کے زیرِ اثر اپنی رائفل اور کارتوس اٹھائے جنگل کے عین وسط میں بہتے دریا کی طرف چل نکلا، اپنے خیالوں میں گُم دھیمی رفتار سے چلتے ہوئے منیر بلوچ صبح کی سیر سے حقیقی لطف پا رہا تھا کہ اچانک بائیں طرف اس سے کچھ فاصلے پر چھوٹی جھاڑیوں کے جھنڈ کے پیچھے کچھ حرکت سی محسوس ہوئی، فاریسٹ آفیسر دم سادھے اپنی نظریں جھاڑی کے اس پار گاڑے اور بالکل ساکن حالت میں کچھ لمحے کھڑا رہا، اور پھر جھاڑی کی خاردار مگر سبز ٹہنیوں کے اوپر سے ایک ہرن کا سر نمودار ہوا جیسے گھاس چرنے کے دوران حفظِ ماتقدم کے تحت کچھ وقفے کے بعد ہرن اور دوسرے جانور سر کو اٹھا کر ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لینے کیلئے کیا کرتے ہیں، ہرن کسی ظاہری خطرے کو نہ پاتے ہوئے دوبارہ گھاس چرنے میں مشغول ہو رہا، منیر بلوچ نے آہستہ سے رائفل لوڈ کی اور زمین پر بیٹھ کر ہرن کی طرف نشانہ تان دیا، باریک وسبز خاردار جھاڑیوں کے درمیان وقفے وقفے سے قدرتی بنے شکافوں سے کہیں سرمئی رنگ دکھائی دے پاتا تھا جسے یقینی طور پر ہرن کا جسم سمجھتے ہوئے فاریسٹ آفیسر نے ، اپنی توجہ نبض پہ رکھتے ہوئے دل کی دوسری اور پہلی دھڑکن کے درمیان جہاں ساکن وقفہ نسبتاً طویل تر ہوتا ہے، پہلا فائر داغا، جنگل کا سناٹا چیرتی فائر کی آواز سے اچانک پرندوں کی حرکت و شور سنائی دینے لگا، ہرن چھلانگ لگاتے ہوئے مخالف سمت کو دوڑا۔

اگرچہ منیر بلوچ کا نشانہ خطا نہ ہوا مگر کارتوس صرف ہرن کی اگلی ٹانگ کے اوپر، کندھے کے قریب والے حصے کو زخمی کر سکا، فارسٹ آفیسر جانتا تھا کہ ہرن زخمی ہے اور جھاڑیاں گھنی ہیں اس لیے شاید زیادہ دور تک نہ بھاگ سکے، اس لیے اس نے بھی ہرن کے پیچھے اپنی پوری قوت سے بھاگنا شروع کیا، دوڑتے ہوئے شکاری نے دو اور کارتوس لوڈ کیے اور فائر کیے مگر شکار اور شکاری کے حالتِ حرکت میں ہونے کی وجہ سے دونوں فائر خطا گئے، آخر ہرن دوڑتے دوڑتے دریا کے کنارے جا پہنچا، جہاں سے آگے کی  طرف بھاگنا اب ممکن نہ تھا، ہرن زخمی ہونے کی وجہ سے زیادہ توانا نہ تھا اور انتہائی سست رفتاری سے دائیں طرف کو حرکت کیلئے بوجھل قدم اٹھاتا رہا، اس دوران منیر بلوچ بھی ہرن کے تعاقب میں وہاں آن پہنچا اور جنگل کے بالائی حصے سے دریا کنارے چلتے ہرن کو دیکھ سکتا تھا، فاریسٹ آفیسر نے آخری کارتوس لوڈ کیا اور نشانہ باندھ کر فائر داغ ڈالا، اس دفعہ کارتوس ہرن کی کمر کے پیچھے والے حصے کو جا لگا، ہرن وہیں ڈھیر ہو رہا۔

منیر بلوچ بھاگتا ہوا ہرن کے قریب آیا ، ہرن شدید زخمی مگر زندہ تھا،اسے حلال کرنے کیلئے شکاری نے اپنی جیب میں سے چاقو ، جو ہمیشہ اس کی جیب میں ہوتا تھا، نکالنے کیلئے ہاتھ ڈالا تو چاقو ندارد، چاقو یقیناً  گھنی جھاڑیوں کے درمیان بھاگتے ہوئے کہیں گِر گیا تھا، منیر بلوچ ہرن کے قریب گھٹنے ٹیک کے بیٹھ گیا، ہرن حالتِ درد میں کراہتے ہوئے زبانِ حال سے گویا موت کی طلب کر رہا تھا، منیر بلوچ نے اس کی خوف سے بھری اور مایوس آنکھوں میں غور سے دیکھا ، اس سے قبل منیر بلوچ نے کبھی بھی رحم کی بھیگ مانگتی ایسی آنکھیں نہ دیکھی تھیں، اسے اپنے پورے بدن میں ایک جھرجھری سی محسوس ہوئی، دل گویا   خون کے آنسو ٹپکا رہا تھا، ضمیر پر ایک پہاڑ سا بوجھ اور روح کو ایسی ہی خاردار جھاڑی سے اٹکا پایا، جیسی جھاڑیوں سے کچھ ہی دیر قبل گزرتے ہوئے اس نے اپنے کپڑے پھڑوا لیے تھے۔

منیر بلوچ کی آنکھوں کے سامنے اس کا پورا بچپن چند لمحوں میں گزر گیا، جب وہ اپنے دادا کے ساتھ مسجد نماز پڑھنے جایا کرتا تھا اور صبح کی نماز کے بعد مسجد کے امام صاحب سے قرآن پڑھا کرتا تھا، اسے وہ تمام مناظر یاد آئے جب اس کا باپ سارا سارا دن مزدوری کر کے بمشکل دو وقت کی روئی کا انتظام کر پاتا تھا مگر شام کو اپنے بچوں کو عزت، غیرت اور ایمان کےمطابق زندگی گزارنے کا درس دیتا تھا، اسے وہ دن بھی یاد آئے جب وہ بیمار ہوتا تو اس کی ماں اسے گود میں اٹھائے گھنٹوں ہسپتال کے فرش پر ڈاکٹر کے انتظار میں بیٹھی رہتی۔

کچھ لمحوں کیلئے منیر بلوچ نے خود کی روح کو جسم سے الگ پایا اور کسی ایسی وجدانی مگر مایوس کن کیفیت کو محسوس کیا کہ اس کی آنکھ سے آنسو ٹپک پڑے، ہرن اب بھی اس کے سامنے کراہ رہا تھا، فاریسٹ آفیسر اس اذیت کو مزید برداشت نہ کر پایا اور رائفل کے بٹ سے ہرن کے سر پر وار کرتے ہوئے اسے اس اذیت سے ہمیشہ کیلئے نجات دلا دی۔ہرن کی لاش کو ٹھکانے لگانے کے بعد منیر بلوچ واپس اپنے ہیڈ کوارٹر کی طرف روانہ ہوا، آج ایک جنرل صاحب اپنی نوجوان معشوقہ ،جو کہ ایک معروف اداکارہ تھیں، کے ساتھ ان علاقوں کی سیر کو آئے تھے اور ان کی دیکھ بھال، رہن سہن، خوراک و دوسرے لوازمات منیر بلوچ کے ذمہ تھے جنہیں وہ ہمیشہ پوری مہارت سے نبھاتا آیا تھا، ہیڈ کوارٹر واپس پہنچنے پر فارسٹ آفیسر نے جنرل صاحب کو بغلِ معشوقاں اپنا منتطر پایا، ان دونوں پر اپنی نظروں سے چار حرف بھیجتے ہوئے منیر بلوچ اپنے گھر کو چل دیا، بیوی کو سامان باندھنے کا کہہ کر وہ بس اسٹیشن کو روانہ ہوا، جہاں اسے اپنے آبائی وطن , بستی ملوک، کیلئے واپسی کے ٹکٹ لینا تھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *