تریاق۔۔۔۔ قراۃالعین حیدر

موسمِ سرما کی طویل رات کا تیسرا پہر تھا اور میں اپنے نرم گرم بستر میں گہری نیند سو رہی تھی کہ اچانک موبائل کی گھنٹی بجی۔ سیکنڈ کے چوتھے حصے میں میری آنکھ کھلی۔ ہانپتے کانپتے دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کے ساتھ میں نے موبائل کا کوڈ لگایا اور اپنے محبوب کا محبت نامہ پڑھا۔ محبت بھرے پیام نے میری نیند اڑا دی۔۔۔ وہ ابھی آن لائن تھا اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ ابھی اس سے بات کرنے کے موڈ میں ہے۔ اور میں تو جیسے راضی بیٹھی تھی۔ بس گپ شپ شروع ہوگئی اور جب اس نے کہا کہ اب وہ سونا چاہتا ہے تو معلوم ہوا کہ گھنٹہ گزر چکا ہے۔ اس ایک گھنٹے میں کتنی ہی باتیں ہوئیں۔۔ روز مرہ زندگی، کرکٹ ٹیسٹ میچ کا آج کا دن، بدلتے ہوئے موسمی اثرات اور ساتھ ساتھ ان کی محبت ۔۔۔۔ پھر اس محبت کی فرقت، حساسیت، لانگ ڈسٹنس ریلیشن کی تکالیف اور بہت کچھ۔ فون بستر کے ساتھ رکھنے پہ مجھے لگا کہ میرا دایاں ہاتھ کچھ سُن ہے۔ ظاہر ہے ایک گھنٹہ فون ہاتھ میں پکڑنے سے ایسا تو ہوگا۔

میری فراز سے ملاقات ٹرین کے سفر میں ہوئی جب میں لاہور سے پنڈی آرہی تھی۔ اور پنجاب یونیورسٹی سے فائن آرٹس میں ایم اے کررہی تھی۔ ہم دونوں کی سفر کے دوران دوستی ہوئی اور بات بڑھ گئی۔ فراز نوکری کے کسی کام سے لاہور سے واپس آرہا تھا۔ دوستی محبت میں بدلی اور پھر فراز نے گھر میں رشتے کی بات چھیڑ دی۔ اس کا گھرانہ اس کیلئے راضی نہ تھا اور یوں معاملہ لٹک گیا۔ پھر کچھ سالوں میں اس کی شادی اس کی خالہ زاد سے کردی گئی اور یہ معاملہ کسی حد تک ختم ہوگیا۔ میں ایک سکول میں پڑھانے لگ گئی اور زندگی ایک نئی ڈگر پہ چل نکلی۔ لیکن اصل میں معاملہ ختم نہیں ہوا۔ اگرچہ ہم دونوں میں رابطہ نہ تھا لیکن میں اپنے لئے آنے والے رشتوں کو ناگواری سے انکار کرتی رہی بنا یہ سوچے کہ میں کس کا انتظار کررہی ہوں؟ اور اسی میں زندگی کے آٹھ سال گزر گئے۔ اچانک ہی فراز کی مجھ سے ملاقات ہوگئی اور زندگی ایک بار پھر کِھل اٹھی اور پھر سے ہم دونوں باقاعدہ رابطے میں رہنے لگے۔ فراز نے اپنے بارے میں مجھے سب بتا دیا کہ وہ اب تین بچوں کا باپ ہے لیکن اس سب کے بعد بھی میں اپنے آپ کو اس سے محبت کرنے سے روک نہ سکی۔

tripako tours pakistan

جس شخص کے پاس تمہیں دینے کے لیے ایک میسج کا وقت نہیں ،اس کے انتظار میں موبائل پر نظریں جمائے رکھنا بے معنی ہے،کیونکہ بھیک میں ملے دو لمحوں کی توجہ کا اگر دل ایک بار عادی ہوگیا تو پھر ساری زندگی یہی بھیک ملے گی، تو ابھی سوچ لو۔۔۔۔ کہ تمہیں یہ بھیک میں ملی ہوئی محبت اور توجہ چاہیے یا نہیں۔”۔ یہ کہتے ہوئے اس کی آواز بھرا گئی۔ اس کی آنکھوں میں میرے لئے گھنیری مایوسی نظر آرہی تھی۔ کچھ دیر کے بعد اس نے کہا “دیکھو ماہا! یہ سچ ہے کہ محبت اندھی ہوتی ہے لیکن فراز اگر تمہارے لئے ذرا بھی سنجیدہ ہوتا، تو تم سے شادی کرسکتا تھا ۔۔ یہ تو بے وفائی ہے کہ وہ محبت تم سے نبھاتا رہا اور شادی اپنی خالہ زاد سے کرلی۔ بلکہ ابھی تک اس نے تمہیں اپنی محبت کا لارا لگایا ہوا ہے۔ ہوش کرو۔۔۔۔ ابھی بھی تمہارے پاس وقت ہے ۔ تم کسی بھی اچھی جگہ شادی کرسکتی ہو، ایک اچھی اور پُرسکون زندگی تمہارا مقدر بھی ہوسکتی ہے لیکن تم فراز سے جان چھڑوالو۔” اس کا یہ کہنا تھا میں تڑپ اٹھی۔۔۔ “میں فراز کو اس طرح نہیں چھوڑ سکتی۔ تم محبت کو کیا سمجھتی ہو تانیہ۔ تم ابھی گریجویشن کررہی تھی تو ارینج میریج ہوگئی اور پھر شوہر سے ہی محبت ہوگئی۔ مجھے دیکھو۔۔۔۔ میں نے زندگی کے تیرہ سال اس کی محبت میں گزارے ہیں۔ مجھے دیکھو میرا چہرہ، میری آنکھیں چیخ چیخ کے گواہی دیتے ہیں کہ میں فراز کی امانت ہوں۔ میں نے جس شدت سے اس سے محبت کی ہے کوئی اور نہیں کرسکتا۔” اتنا سنتے ہی وہ آگ بگولہ ہوگئی اور میری بات کاٹ کر تیز لہجے میں بولی “لیکن ماہا! تم یہ بھی تو سوچو کہ جتنی شدت سے تم نے فراز سے محبت کی ہے اس نے اس شدت سے تم سے محبت نہیں کی۔ اگر اس نے تم سے محبت کی ہوتی تو اس کے اپنی بیوی سے تین بچے نہ ہوتے۔” یہ سن کر میں ذرا دیر کو رکی لیکن میں پھر اپنی وہی آہ و زاری کرنے لگی اور آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔

میرے دل میں کہیں کسک رہ گئی کچھ وقت گزرا تو میں دھیرے دھیرے  نارمل ہونے لگی۔ میرے والدین میرے لئے خاصے پریشان تھے۔ میری شادی کی عمر نکل چکی تھی۔ اگرچہ  میں نے اپنے آپ کو بہت ٹھیک ٹھاک رکھا ہوا تھا اور میری تنہائی کا واحد سرمایہ فراز کی یادیں تھیں۔ میں شادی کرنے میں پہلے بھی دلچسپی نہیں دکھاتی تھی اور اب بھی حالات کچھ ایسے ہی تھے۔ اچانک ہی علی کا رشتہ میرے لئے آیا، وہ ہمارے دور کے رشتہ دار تھے۔ تعلیم یافتہ، خوش شکل اور اچھی پوزیشن پہ نوکری کر رہے تھے۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ان سے شادی کرونگی۔ لیکن علی کے والدین کے مطابق علی نے خود کہا ہے کہ وہ کئی سالوں سے مجھ سے شادی کے خواہشمند ہیں۔ دوسرا کوئی اور آپشن موجود نہیں تھا اس لئے شادی کیلئے ہاں کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ تیسرا اپنی کزن تانیہ کی باتیں میرے ذہن میں گونجتی رہتیں کہ مجھے بھی اچھی زندگی گزارنے کا حق ہے یہی سوچ کے شادی کیلئے ہاں کردی۔ چند ہی مہینوں میں میری علی سے شادی ہوگئی۔
کچھ زیادہ نہیں ساتھ رہتے ہوئے کوئی اڑھائی ماہ ہی تو ہوئے تھے لیکن ہم دونوں کے بیچ میں میاں بیوی کا رشتہ نہ بن سکا۔ سننے میں یہی تھا کہ میں اپنے میاں کی پسند ہے، شادی کا دن تو ہنگامہ آرائی میں گزر گیا رات وہ پاس آیا بھی تو کچھ ایسے جیسے زبردستی فرض ادا کررہا ہو۔ اس کے اندر خود سپردگی کی واضح کمی تھی۔ میں محسوس تو کررہی تھی لیکن نظر انداز کر گئی۔ اس کی دو وجوہات تھیں کہ ایک تو مجھے اتنا پتا تھا کا علی شرمیلا ہے دوسرا میں پہلی بار چھوئے جانے کے خمار میں تھی۔ میں ان چھوئی سی اس کی کچھ باتوں، آسودگی کے چند لمحات اور رومانس میں یہ فیصلہ ہی نہ کرسکی کہ اس سب صورتحال میں کسی چیز کی واضح کمی ہے۔ اس کا نام تو میرے نام کے ساتھ لگ گیا ہے لیکن شاید رفتہ رفتہ ہمارے تعلقات میں بہتری آجائے اسی امید پہ میں  ہر دن ایک نئے عزم کے ساتھ زندگی کو خوش آمدید کہتی رہی۔

“ہمیشہ انسان پہلی محبت غلط شخص سے غلط وقت پہ کر بیٹھتا ہے۔ لیکن دوسری محبت پہلی کی نسبت پائیدار ہوتی ہے۔ آخر ایک شخص کا دیا ہوا زخم دوسرے شخص کی محبت ہی بھرتی ہے۔” یہی سوچ کر میں ہر روز ایک نئے جذبے سے علی کی جانب بڑھنے کی کوشش کرتی رہی۔ اتنے دن ساتھ رہنے سے مجھے اب علی کی عادت ہوچکی تھی۔۔۔۔ شاید یہ محبت تھی یا کچھ اور ۔۔ میں ٹھیک سے فیصلہ نہ کرسکی۔ لیکن علی کی آواز پر میرے کان لگے رہتے تھے۔ شرمیلا تو وہ تھا ہی ساتھ میں کم گو بھی تھا جبکہ میں پہلے دن سے چاہتی تھی کہ وہ اپنی تمام باتیں مجھ سے شئیر کرے لیکن ایسا ہو نہ سکا اور وہاں ہمیشہ سرد مہری ہی رہی۔ میں سوچتی ہمارے بیچ اتنے فاصلے کیوں ہیں؟ کیا اسے یہ پتا چل گیا ہے کہ میں فراز سے محبت کرتی تھی؟ لیکن اس کے رویہ میں سرد مہری تو تھی لیکن یہ محسوس نہ ہوتا تھا کہ اسے مجھ پہ شک ہے۔ اس دوران ہمارے رشتہ داروں نے ہمیں کئی مرتبہ دعوتوں پر بلایا۔ چند شادیوں میں جانے کا اتفاق بھی ہوا۔ میرا دل کرتا کہ جیسے باقی سب جوڑے ایک دوسرے کے ساتھ تصاویر بنواتے ہیں ہم بھی بنوائیں۔ میں بھی فیس بک اور وٹس ایپ پہ اپنے شوہر کے ساتھ تصاویر لگاؤں لیکن اس کی کبھی نوبت ہی نہ آئی۔ کسی کے ہاں یا فنکشن پر پہنچ کر وہ مجھ سے دور بھاگ جاتا اور بہت سے لوگوں میں گِھرا نظر آنے لگتا۔
شادی کے ہفتہ دس دن بعد وہ شرعی تعلق سے بھی اجتناب کرنے لگا۔ مجھے لگا کہ شاید اس سرد مہری کی وجہ کوئی پریشانی ہے؟ استفسار کرنے پر بھی کچھ پتا نہ چلا۔ میں یہی سنتی رہتی تھی کہ میں علی کی پسند ہوں لیکن وہ مجھ سے دور کیوں ہورہا تھا؟ یہ وہ سوال تھا جسے پوچھنے کی ہمت مجھ میں نہیں تھی شاید بیوی کے طور پر میں اسے پسند ہی نہیں آئی۔ اسی لئے وہ مجھ سے دور رہتا۔ نہ صرف دور رہتا ہم میں بےتکلفی بھی نہ ہوسکی۔ ہمارے بیچ چند میکانکی جملوں کا تبادلہ ہی ہوتا جیسے چائے بنا دو۔ کھانا لگادو وغیرہ۔ مجھے لگتا تھا کہ میں اپنے سسرال میں کوئی فالتو شے ہوں جس کی ضرورت علی کو نہیں ہے۔ میں کبھی بھی اپنے سسرال کو اپنا گھر نہ کہہ سکی کیونکہ گھر تو گھر والے سے ہوتا ہے۔
اپنے طور پر میں نے ہر ممکن کوشش کی کہ میں علی کی بھرپور توجہ حاصل کرسکوں لیکن کامیابی نہیں ملی۔ نتیجے کے طور پر میں اپنے آپ سے بے توجہی برتنے لگی اور دھیرے دھیرے بے رنگ ہوتی چلی گئی۔ ہم مڈل کلاس عورتیں محبت اور توجہ کے بغیر نہیں رہ سکتیں۔۔۔۔مجھے محبت میں کِھلنے کا موقع ہی نہ ملا اور بے توجہی سے مرجھا گئی۔ اس وقت ہماری شادی کو لگ بھگ چھ مہینے ہورہے تھے۔ مجھے ابھی بھی لگتا تھا کہ علی پرانی باتیں بُھلا کر میری طرف مائل ہوجائے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا اور میں ہر رات کرب کے ساتھ گزارنے پر مجبور تھی۔ رات میں کتنی ہی دیر میں اس کے چہرے کی جانب تکتی۔ وہ پرسکون سو رہا ہوتا اور میں صرف اس انتظار میں ہوتی کہ کب وہ مجھ سے بات کرے گا۔ جو تکلیف اور اذیت مجھے تھی اس کا کوئی اندازہ کیسے کرتا۔
بےقدر اور بیدرد سے محبت کرنا کتنا مشکل اور تھکا دینے والا عمل ہے۔ آپ اپنے تن من سے محبتوں کے پھول نچھاور کرتے چلے جاتے ہیں اور وہاں وہی سردمہری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں کوئی بھی شخص کسی دوسرے کی ذرا سی توجہ پہ کھنچا چلا جاتا ہے۔ علی کے اس نامناسب رویہ سے میرا دل کرتا کہ میں پھر سے فراز سے رابطہ کروں شاید اس کی باتیں میرے اندر کا خلا بھرنے میں کچھ مدد کرسکیں۔ میں روز سوچتی کہ آج فراز کو میسیج کرونگی لیکن میں نے گھر کے کاموں میں اپنے آپ کو کچھ ایسے گُم کرلیا تھا کہ اس چھوٹے سے کام کیلئے بھی وقت نہ نکال پائی۔ یوں بھی ہم مشرقی عورتیں کہاں ایسے جھمیلے پالنا چاہتی ہیں ۔ کبھی کبھی آدھی رات کو میرے جذبات کنٹرول سے باہر ہوجاتے جی میں آتا کہ میں علی کی طرف خود بڑھوں اور پہل کروں۔ ایسے میں شادی کے شروع کے دنوں میں اپنی وہ بےعزتی یاد آجاتی جو علی نے اسی پل جاگتے ہی کی تھی۔ رات کے بےقابو جذبات مجھے اکساتے کہ میں فراز سے نہ صرف رابطہ کروں بلکہ اگر وہ جسمانی تعلق پر بھی آمادہ ہو تو میں اپنی پیاسی روح کو سیراب کروں۔ کیونکہ اب تو میرے پاس شادی شدہ ہونے کا باقاعدہ سرٹیفکیٹ ہے۔
یہ عقدہ اس رات کُھلا جب ایک رات میں گہری نیند میں تھی تو کمرے میں کچھ ٹھنڈ محسوس ہوئی۔ الماری سے چادر نکالنے کیلئے میں اٹھی تو علی بستر پر موجود نہ تھا۔ کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ میں یہ سوچنے لگی کہ اللہ خیر کرے میرے ساس سسر کی طبعیت ٹھیک ہو جو علی کمرہ میں نہیں ہیں۔ خاموشی میں مجھے علی کی آواز آئی جیسے وہ کسی سے فون پہ بہت آہستہ بات کررہا تھا۔ میں نے سننے کی کوشش کی لیکن کچھ پلے نہ پڑا۔ علی کی کمرے میں واپسی پر میں سوتی بن گئی وہ کچھ دیر موبائل پہ میسیجز کرتے رہے پھر سوگئے۔ مجھے ایک شک گزرا کہ کہیں علی کا کوئی افئیر تو نہیں جو آدھی رات کو کسی سے بات کررہے ہیں اور مجھے اس کی وجہ سے اگنور کررہے ہیں؟ میرے اندر کئی سوالات اٹھنا شروع ہوگئے۔ جب میں نے علی سے اس بےالتفاتی کی وجہ پوچھی تو اس نے بلا خوف مجھے بتا دیا کہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتے۔ بلکہ پچھلے چند سالوں سے اپنی ایک کولیگ کی محبت میں مبتلا ہیں۔ ان کے والدین اس شادی کیلئے رضامند نہیں تھے اور یہ شادی ان کی مجبوری تھی۔ یہ شادی کبھی بھی ختم ہوسکتی تھی۔ کیونکہ وہ اس شادی کو چلانے میں دلچسپی بھی نہیں رکھتے۔ میں یہ سن کر ششدر رہ گئی۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا جواب دوں۔ جب ایک شخص کوئی تعلق رکھنا ہی نہیں چاہتا تو اس کے ساتھ کیسے کوئی تعلق نبھایا جاسکتا ہے۔

میں علی کی طرف سے بالکل مایوس ہوگئی لیکن میں اس سے الگ ہوکر بھی کیا کرتی اور گھر کے کام کاج میں دل لگانے لگی۔ میری مرجھائی طبعیت نے میری ساس کو شک میں مبتلا کردیا کہ ہو نہ ہو ان دونوں کے حالات کچھ خراب ہیں۔ ان کے استفسار کرنے پہ مجھے مجبوراً انہیں بتانا پڑا کہ ہم دونوں محض اس لئے ساتھ رہتے ہیں کہ ہماری شادی ہوچکی ہے۔ انہوں نے علی کی بازپرس کی لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا الٹا علی نے انہیں دھمکی دی کہ وہ یہ گھر اور بیوی چھوڑ بھی سکتا ہے۔ اکلوتے بیٹے کی دھمکی کارگر ثابت ہوئی اورماں خاموش رہنے پہ مجبور ہوگئی۔ میں اپنی ذہنی اور جسمانی حالت سے بالکل بھی نئی شادی شدہ دلہن نہیں لگتی تھی۔ کچھ دن کیلئے میکے رہنے گئی تو امی نے پوچھا کہ فیملی پلاننگ کا ارادہ ہے کیا تم دونوں کا؟ اور میں نے ماں کو صاف صاف بتا دیا کہ یہ بات بھول جائیں۔۔۔ ہم میں ایسا کوئی بھی رشتہ نہیں ہے۔ ماں یہ سن کر ششدر رہ گئی اور مجھے بار بار پوچھنے لگی کہ اگر یہ حالات پہلے ہفتے سے ہی خراب تھے تو اسی وقت کیوں نہ بتایا۔ بیٹی کی شادی کی ہے بیچی تھوڑی ہے۔ انہوں نے میری ساس کو فون کیا اور ساری صورتحال پر کافی بحث کی۔ انہوں نے اس تمام معاملے پہ مجھے ہی موردِ الزام ٹھہرایا کہ میں علی کو اپنی طرف مائل کرنے میں ناکام رہی ہوں ۔ اگر عورت کا کوئی افئیر نکل آئے یا بھلے کوئی پرانی ٹوٹی ہوئی منگنی ہی کیوں نہ ہو اس کا طعنہ مرد تمام عمر دیتا ہے لیکن جب مرد پر یہی بات آتی ہے تو ہر بات پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ یہی کچھ میرے ساتھ بھی ہوا۔ کئی بار دل کیا کہ اس فضول رشتہ پہ تین حرف بھیج دوں لیکن میں ایسا کچھ بھی نہ کرسکی۔ بس یہی سوچتی رہی کہ اس اگر شادی ناکام ہوگئی تو والدین کو شرمندگی اٹھانا پڑے گی۔ مردوں کے اس معاشرے میں تمام عیب عورت کے ہی تو ہیں۔ شادی سے پہلے مجھے لگتا تھا کہ میں شاید فراز کو بُھلا نہیں پاؤنگی اور کہیں مجھے دوہری زندگی نہ گزارنی پڑ جائے لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ الٹا مجھے اپنے شوہر کی بےالتفاتی اور بے اعتنائی کا سامنا کرنا پڑا۔

سارا دن گھر میں اسی ادھیڑبُن میں رہتی کہ اس سے کیسے بات کرنی ہے لیکن کامیابی نہ ہوئی وہ میری طرف تکتا بھی نہیں تھا اور اگر میں کوئی بات شروع بھی کرتی تو بات چند جملوں سے آگے بڑھ ہی نہ پاتی۔ اس تمام خالی پن کو دیکھتے ہوئے میں نے پھر سے نوکری شروع کرنے کا سوچا اور اس نے بخوشی اجازت دیدی۔ اب میں مصروف ہو گئی میرے ساس سسر اس تمام معاملات پر کُڑھتے تھے لیکن علی کو اس کی پرواہ نہیں تھی۔ اور پھر وہ دن آگیا جب علی شام کو دفتر سے کافی دیر ہوگئی ابو نے کال کیا تو اس نے بتایا کہ وہ کچھ دیر میں آجائے گا۔ اور جب وہ آیا تو وہ تنہا نہ تھا۔ وہ شادی کرکے اپنی دلہن ساتھ لے آیا تھا یہ وہی تھی اس کی کولیگ سونیا ۔۔۔۔ جس سے وہ شادی کرنا چاہتا تھا۔ والدین حیران و ششدر رہ گئے لیکن وہ کیا کرسکتے تھے۔ انہوں نے اس تمام معاملے کا ذمہ دار مجھے ہی ٹھہرا دیا کہ میں ہی علی کے دل میں جگہ بنانے میں ناکام رہی تھی اسی لئے اس نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ علی نے نیا حکم نامہ جاری کردیا کہ ابھی تو رات ہے تم کل تک اس گھر میں رہ سکتی ہو۔ صبح اپنے والدین کی طرف چلی جانا طلاق کے کاغذات تمہیں پہنچ جائیں گے۔ مجھے سمجھ ہی نہ آیا کہ میں اس رویہ پہ کیا رسپانس دوں میں شاک میں تھی مجھے یکدم خیال آیا کہ طلاق تو ہونی ہی ہے میں اپنی بےقدری کی بھڑاس کیوں نہ نکالوں۔ یہی سوچ کر میں نے کہا
“اب تم ہی  بتاؤ کیا کروں؟؟؟ دل کی پوسٹ تو خالی تھی ہی نہیں ۔۔۔۔ تم نے مجھ سے محبت کی ہی نہیں۔۔۔تمہیں کبھی کھونے کی اذیت اٹھانا نہیں پڑی ۔۔۔ لیکن میں نے محبت بھی کی تھی اور اسے کھویا بھی ہے ۔۔۔ کیا اس سے زیادہ تکلیف دہ بات کوئی ہو سکتی ہے؟  کہ جس سے محبت کی جائے اسے اپنے ہاتھوں سے کھو دیا جائے ۔لیکن میں نے ایسا کیا تھا! تم جیسے شخص کے ساتھ زندگی گزارنا کتنا تھکا دینے والا عمل ہے جو میری محبت کے جواب میں نہ تو محبت دیتا ہے، نہ ہی کوئی رسپانس ۔۔ بلکہ اگر میں اپنی زندگی بھی تمہیں دیدوں تو تم مجھے صرف سرد مہری سے دیکھو گے اور اپنی ہتک کا احساس بھی صرف مجھے ہی ہوگا۔ کیونکہ تم بےقدر ہو بےدرد ہو اور یہ ناقدری کا وہ احساس ہے جو مرنے کے بعد بھی رہتا ہے۔ تمہارے دل کے دروازے تو مجھ پہ کبھی وا ہی نہ ہوئے۔ میں بارہا تمہارے اندر جھانکنے کی کوشش کرتی رہی لیکن ہر بار تم نے میرا ہاتھ اس بےدردی سے جھٹک دیا جیسے میں تمہاری زندگی میں زبردستی شامل کر دی گئی ہوں لیکن یاد رکھو ۔۔ ہماری شادی ہم دونوں کی رضامندی سے ہی کی گئی ہے ۔ اس معاشرے کی نظر میں تمہاری وجہ سے میری جو حیثیت ہے، میں تمہیں اس سے بھی آزاد کرتی ہوں۔ جاؤ اپنی زندگی جی لو لیکن یاد رکھو میں آج بھی یہیں کھڑی ہوں اور آئندہ بھی یہیں کھڑی رہونگی۔ اپنی طلاق تم اپنے پاس رکھو تمہارے نام کا یہ تمغہ میرے ماتھے پہ ہمیشہ لگا رہے گا”۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *