دشمن، دروازے پر۔۔۔(قسط6)محمداقبال دیوان

بھارت سے آئے ہوئی ایک مہمان سے مکالمہ۔
ہمارے محترم محمد اقبال دیوان نے یہ طویل مضمون کچھ دوستوں کے اصرار پر لکھا ہے۔ یہ در اصل چند گھنٹوں کا ایک طویل مکالمہ ہے جو مصنف اور بھارت نژاد، امریکہ میں مقیم ایک گجراتی خاتون کی بے لاگ اور بے باک سوچ پر مبنی تبادلہء خیالات سے کشید کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے کا تفصیلی تعارف اسی مضمون کی پہلی قسط میں موجود ہے۔ انعام رانا۔(ایڈیٹر ان چیف)

پانچویں قسط کا آخری حصہ
ابھی دیکھو ہم نے مبارک حسین پٹیل کو کتنا سنبھال کر رکھا ہے۔ ہمارے ٹی وی پر یا تو فردوس عاشق اعوان، حریم شاہ کو لفٹ ہے یا کمانڈر کلبھوشن یادو(مبارک حسین پٹیل) کو۔ ہم نے حال میں
ونگ کمانڈر ابھی نندن کو چائے بھی پلائی،Bespoke Tailors جبار ٹیلر گروپ سے نیا ہرنائی کا سمر سوٹ بھی سلواکردیا اور ایک نئی یونی فارم انڈین ایر فورس کی اس کے بیگ میں ڈال دی کہ پرانی یونی فارم کیچڑ میں گرنے کی وجہ سے خراب ہوگئی تھی۔ ہمارا ارادہ تو تم لوگ کو ایک ایف سکسٹین جہاز بھی تمہارے برباد مگ ٹواینٹی ون کی جگہ گفٹ ہیمپر میں دینے کا تھا۔مودی بولا اس کو اڑائے گا کون۔ ہم نے کہا سنی لیونے کو تین دن ہم لوگ ٹریننگ بھی مفت میں دے دیں گے تو بولا۔ وہ سالی مرد لوگ کے سامنے کپڑے نہیں پہنتی۔ اس کو ویمان اڑانے پر لگادیا تو ایر بیس پر بہت دنگا ہوا کرے گا۔اپنا ویمان اپنے پاس رکھو بس ابھی نندن مجھے لوٹا دو۔اب رہا یہ کہ تم لوگ نے جیا جرنل کو جو تمہارے اسپوکس نیٹ ورک کا بتایا تھا تو ہم لوگ نے احسان کا بدلہ دے دیا ہم نے بھی راجیو گاندھی اور ہم لوگ کی بے نظیر کے ٹائم میں خالصتان کے آتنت وادیوں کی پوری لسٹ گفٹ ہیمپر میں دی تھی۔ ٹھوکو سالوں کو ۔ بہت دھماچوکڑہی مچائی ہے تم لوگ کے امرتسر بٹالہ اور بنگلہ فاضلکا میں۔ بڑے بڑے دیشوں میں اس طرح کی انڈراسٹینڈنگ ہوتی ہے۔پیار میں اور پڑوسیوں میں See- Saw relationship ہوتی ہے۔

بلیک فرائیڈے سیل
سنی لیونے

چھٹی قسط کا آغاز
بابری مسجد اور چیف جسٹس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم نے کامیا کو بابری مسجد کے سوال پر اتنا طویل اور دل چسپ(De-Tour پھیرا کاٹنے)پر چھیڑا۔کامیا جی آپ کا اور وکیلوں کا ایک ہی طرح کا ایشو ہے۔سیدھا سادھا بابری مسجد پر سوال تھا تو کاؤ جی، وکرم سود، مرارجی ڈیسائی سب کو جانے کہاں سے آپ بلیک فرائیڈے کی کلیئرنس سیل میں اٹھا لائیں۔(یاد رہے کہ نومبر کے آخری جمعے کو امریکہ میں لوٹ سیل لگتی ہے کیوں کہ دسمبر میں نیا مال آنا ہوتا ہے)۔تم لیڈیز لوگ کا مسئلہ یہ ہے کہ صبح کو ناشتے میں آملیٹ مانگو تو رات تک مرغی کا نکاح نامہ ڈھونڈتی پھرتی ہیں۔
اس سے پہلے کہ وہ ہمارے اعتراضات کا جواب دیتی عنبر صدیقی نے جھانکا اور شیشے کے  خالی برتنوں کی طرف نگاہ دوڑاکر ہنستے ہوئے کہنے لگی۔

Thanks God plates are intact(اللہ کا شکر ہے پلیٹیں تو ثابت ہیں)
No guarantee if we ever marry
ہم نے بھی ترنت گرہ لگائی کہ (اگر ہماری شادی ہوگئی تو اس کی کوئی گارنٹی نہیں)۔کامیا عنبر سے کہنے لگی تو نے سالی وہ ٹائم اسکوائر میں پورٹ اتھارٹی بس ٹرمینل پر میرے کو قلندر والا کونسا شعر ٹھوکا تھا میرے کو(کامیا ہر گجراتی کی   طرح لفظ مجھے کی جگہ میرے کو بولتی تھی۔شعر کے ساتھ ٹھوکنے کا لفظ استعمال کرتی تھی جو گجراتی حسِ  مزاح کا حصہ ہے)۔ عنبر کا شاعرانہ ذوق چست ہے مگر کشور ناہید اور دیگر خواتین شعرا سے حیا لتا کو بہتر شاعرہ سمجھتی ہے۔کہنے لگی ارشاد کیا ہے ہمارے پولیس سروس آف انڈیا کے بھائی قیصر خالد نے ع
اے چشم التفات، یہ منظر، یہ سڑک
ہیں منتظر کہ ان پہ قلندر بھی آئیں گے
تو دیوان صاحب اس بے چاری کو اجازت دیں کہ یہ اپنی بات اپنے انداز میں پوری کرے میں نے اس کو سمجھا دیا ہے کہ آپ سدا کے ایک طالب علم اور باذوق مرد ہیں۔مجھے ذرا مہندی والیوں سے نمٹنے دیں۔چلتے چلتے آپ کی خدمت میں انہی کا دوسرا شعر پیش خدمت ہے یہ صرف آپ کے لیے ہے اور اس میں امبر الف  اور میم سے ہے ع اور ن نہیں جس کے معنی آسمان یا فضا کے ہیں ع
ہم وہ خدا ترس ہیں فقیری ہے جن کی شان
یوں ہی رہے تو در پر سکندر بھی آئیں گے۔

کامیا نے بیان وہیں سے جوڑا اور یوں گویا ہوئی کہ جب مرارجی بھائی ڈیسائی مختلف پارٹیوں کے اتحاد سے جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر سن 1977 میں پہلی دفعہ اسی برس کی عمر میں پردھان منتری بنے تو وہ نہرو، شاستری اور اندرا کے بعد وزیر اعظم بننے والے   پہلے نان کانگریسی لیڈر تھے۔اس سے ظاہر ہوا کہ ہندوستان میں کانگریس گورے نے 1885 میں بنائی تھی اور کانگریس 1920, میں گاندھی جی کی لیڈر شپ میں پولی ٹیکل پارٹی بنی تمہارے جناح صاحب بھی1906 میں کانگریس کے ممبر بنے تھے اور سات آٹھ سال تک اس سے جڑے رہے۔گاندھی جی نے ہندوستان چھوڑ دو کا آن دولن(تحریک چلانا) کیا تو جناح صاحب کو لگا گاندھی جی گیم کھراب کررہے ہیں، سو وہ پلان بی کہ ہندوستان توڑو پر چل پڑے۔ ہم نے پوچھا ظاہر کیا ہوا، وہ نہیں بتایا ، تو کہنے لگی ،لگ بھگ ساٹھ سال بعد ہندوستان کی راج نیتی پر نان کانگریسی ۔نان سیکولر گروپس نے پہلی بار اینٹری ماری۔
اے لڑکی وہ بابری مسجد کا کیا ہوا۔ بولی یار اتنا اتاولا پن کاہے کا۔ تم لوگ کی اینجل کمپنی کو میں سب بتا کے جاؤں گی۔آج نہیں تو یو ایس جاکر اپن فیس ٹائم کریں گے۔ فیس میرا۔ٹائم آپ کا۔آئیڈیاز کو،وچار دھارا کو Conceptکے چمٹے سے پکڑا کرو۔علامات نہیں اسباب پر دھیان دو۔ اس سے انگلیاں نہیں جلتیں۔مرارجی ڈیسائی کے پردھان منتری بننےسے بھارت کے سیکولر واتا ورن (ماحول) اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کا معاملہ نشٹ (برباد)ہوگیا۔ مرارجی ڈیسائی کی کابینہ میں ودیش(خارجہ) منتری اٹل بہاری واجپائی تھے۔ وزیر اطلاعات لال کشن ایڈوانی۔

آرمی چیف آف انڈیا
لاش کے حشر والی کتاب

کار سیوک،امیر احمد۔پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
بابری مسجد
بابری مسجد کی بربادی
بابری مسجد کی بربادی
بابری مسجد کے قدیم مناظر

یہ دونوں سالے شروع سے ہارڈ لائنر تھے مگر جب ان لوگ نے دیکھا کہ ہر طرف دھرم پولی ٹکل فلاسفی بن رہا ہے تو یہ بھارتی جنتا پارٹی بنانے میں لگ گئے۔اندرا گاندھی دوبارہ جب پردھان منتری بنیں تو بہت گڑبڑ کی وہ جنتا پارٹی کے ڈر سے ان سارے دھڑوں کی حمایت کرتی تھیں جو ریجنل (علاقائی) تھے۔اس سے بہتdistortion ہوا۔ ہم نے کہا ہمارے ہاں فوجی جب آتے ہیں تو وہ بھی ایسی پولی ٹیکل hip-shooting کرتے ہیں۔ [جلد بازی اور بے عقلی کے اقدامات] ارے تم لوگ کی پالی ٹیکس تو سالی ہمیشہ سے فوج کی رکھیل ہے۔ہم لوگ کے بھارت میں تمہاری راج نیتی[پالی ٹکس ] سینا [فوج ]کی رنڈی بولتے ہیں مگر ابھی کیا جب سے مودی جی آۓ ہیں ہماری راج نیتی بھی گجراتی دلالوں کے ہتھے چڑھ گئی ہے اور مودی جی باجار میں موتئیے کے گجرے بیچتے ہیں ۔  ہمارے ہاں سال سال ہمارا پردھان منتری سینا پتی [آرمی چیف ]کا منہ نہیں دیکھتا تمہارے ملک میں وزیر اعظم کی زپ پھنس جائے تو آرمی چیف ایدھی کی ایمبولنس لے کر پہنچ جاتا ہے ۔ ہمارے ہندوستان کی راج نیتی کا ایک راستہ ہے۔ اس کے بدلتے موڈز کو پڑھنا آسان ہے۔تم لوگ کی طرح نہیں کہ ایک آدمی کا راج ہے چاہے وہ جنتا کا سویلین ہو کہ فوج کانپولین۔ہندوستان کی گورننس ایک بیان مانگتی ہے چاہے وہ کتنا ہی کمزور اور بے کار کیوں نہ ہو۔اب مجھے بتاؤ کہ عمران کا بیان کیا ہے۔ٹرمپ تو چلو کارپوریٹ امریکہ کا گلام ہے مگر دس۔مین عمران۔اس کو نہ بولنا آتا ہے۔ ہاؤس میں مودی اور امیت شاہ سارا دن آکر بیٹھتے ہیں۔ عمران کو تو کوئی ہاؤس میں بولنے ہی نہیں دیتا۔ہمارا آرمی چیف جب تک بڑا ایونٹ نہ ہو میڈیا میں دکھائی نہیں پڑتا۔

ہم نے کہا بابری مسجد، کامیا بابری مسجد۔ اوکے
جمپ ٹو پی وی نرسما راؤ۔آپ کو یاد ہے میں بولی تھی ایک گفٹ دوں گی۔(دوسری قسط) ہم نے کہا جی۔
کہنے لگی کہ ایک کتاب ہے نرسما راؤ ہاف لائن(آدھا شیر)۔ اس میں لکھا ہے کہ جب بابری مسجد ٹوٹی تو وہ وزیر اعظم تھے۔ میرے کو کوئی بولا جب یہ ’ورودھی پاشنڈی(شرپسند)مسجد تو ڑ رہے توکسی نے نرسما راؤ جی کو کہا کچھ کریں،پردھان منتری ہیں۔بولے میری پوجا پرارتھنا کا ٹائم ہے۔ڈسٹرب مت کرو۔ سونیا گاندھی نے ان کا   بُرا حال کیا۔ جب ان کا کریا کرم ہورہا تھا تو شمسان گھاٹ پر بارش ہوئی، لوگ چتا ادھوری جلتی چھوڑ کر چلے گئے۔ وہ ٹھنڈی ہوئی تو کتے لاش کھارہے تھے۔دوسرے ایک بلبیر سنگھ جی ہوتے تھے۔ کار سیوک۔ پکے سنگھی ،رام رکھشا کے ٹھیکدار ۔بلبیر جی سولہویں صدی کی بابری مسجد توڑنے میں یہ پیش پیش تھے ۔اب ان کا نام امیر احمد ہے۔ ایک مسلمان خاتون سے شادی کرلی ہے۔بہت ہی پچھتاوا ہے۔اس نشتاورن (کفارے میں)کی وجہ سے اب تک اپنے علاقے میں نوے کے قریب مسجد بناچکے ہیں۔ان کا ٹارگیٹ مسجدوں کی سنچری کا ہے۔

فرغانہ سے ایودھیا
رام للا وراجمان

جسٹینین
ترلوکی ناتھ پانڈے

اب بابری مسجد کا قصہ یوں ہے کہ بابر کے ایک سپہ سالار میر باقی نے فرغانہ سے آج کے سولہ سو کلو میٹر دور فیض آباد لکھنؤ میں بابری مسجد بنائی۔اب سمجھ لو کہ یہ جو ایودھیا ہے یہ ہندو دھرم کے سات بڑے دھاموں (مقامات) میں سے ایک ہے۔اس کو مریادا پرشوتم(ideal man) کی جنم بھومی مانا جاتا ہے۔وہ ایودھیا کے راجہ تھے اور سیتا کے شوہر۔ہم نے کہا سری لنکا کے بادشاہ راون کے قبضے سے وہ بندروں کے بھگوان ہنومان کی مدد سے چھڑاکر جب واپس لائے تو سیتا کو انہوں نے گھر سے نکال دیا۔Are you provoking me or is it a serious dialogue?(تم مجھے اشتعال دلا رہے ہو کہ یہ سنجیدہ مکالمہ ہے)۔ ہم نے اٹھ کر گلے لگایا تو ایسا لگا پرکھوں کی چھوڑی  ہوئی  ساری جائیداد کا ہمارا کلیم بھارت سرکار نے مان لیا۔ ایک ایسی اپنائیت جو نہ عورت کا بدن تھی جس پر دونوں طرف وقت کی قید اور ہوس کا شائبہ نہ تھا۔

کہنے لگی سپریم کورٹ نے بہت خچ ماری ہے(خچ گجراتی میں کھچ بولا جاتا ہے اور چاقو یا تلوار کی ضرب مگر عام طور پر بے ہودگی کرنے کو بولتے ہیں)۔9 نومبر 2019 کے ا س متفقہ فیصلے کو جس کو  پبلش نہیں کیا۔اس فیصلے میں جو پانچ ججوں  نے دیا جس کو بھارت کے چیف جسٹس رانجن گو گوئی والی بینچ نے سنایا اس میں مسلمانوں کے نمائندے دو تھے۔سنی وقف بورڈ اور شیعہ وقف بورڈ۔ ان کی آپس میں لڑائی کی وجہ سے مسجد سیل بھی رہی۔ کورٹ کے اس نرنے (فیصلے)  کی  تین وچار دھارا ؤں (خیالات کی لڑیاں) کو ایک ساتھ استعمال کیا گیا ہے۔ایک تو دھرم وہ بھی اکثریت کا۔دوسرا تاریخ تیسرا ہندو لاء۔ہمارے لاء میں رام للّا وراج مان۔یعنی‘ بھگوان رام کو juristic person کے طور پر استعمال کیا ہے۔‘juristic person کا مطلب ہے کہ اس بھگوان کا عدالت کی نظر میں وہی حق ہے جو پرسنل لا میں ایک انسان کا اور کارپوریٹ لا کسی کمپنی کا ہوتا ہے۔ چھ اگست کو اس سال جب مقدمہ شروع ہوا تو رام للا کو عدالت نے perpetual minor مان کر ان کو ابھیوگی (یعنی مدعی یاplaintiff) مانا۔ہم نے پوچھا یہ وراج کیا ہے اور رام للا کہاں سے آئے۔ہنس کے فرمایا۔انوشکا شرما تو یاد ہے نا پی کے والی جس کا ماننا تھا کہ سرفراز دھوکا نہیں دے گا۔اس کے میاں اور ہمارے پرانے کپتان کا نام تھا نا وراج کوہلی۔وراج کا مطلب آپ کی شدھ اردو میں تشریف رکھیے ہوتا ہے مگر یہ ہمارے ہاں عالی شان اور ذی وقار کو بھی بولتے ہیں۔
1992 میں سپریم کورٹ نے وشوا ہندو پریشد کے کہنے پر مندر کی تعمیر کے لیے ایک بڑے پجاری جی کو بھی لگادیا تھا۔اس  سٹاف کو سرکار پگار(تن خواہ) دیتی ہے۔ہم نے پوچھا تو رام للا نے کیس کے کاغذات پر کیسے دستخط کیے اور‘juristic person مانا کہ آج کے کارپوریٹ لا میں کمپنی جیسا ہے مگر کمپنی کی طرف سے ایک نمائندہ بھی ہوتا ہے جس کے دستخط عدالت میں مانے جاتے ہیں۔رام جی نے یہ سو بھاگیے (بہت بڑا اعزاز) کس کو دیا۔بتانے لگی کہ معاملہ یوں ہے کہ ہمارا ہندو لا یہاں سے انگلش لاء سے جدا ہے۔عدالت جس کو قانونی دعوے دار juristic personality مانتی ہے
وہ اس بھگوان کے بہترین پجاریوں کا گروپ ہوتا ہے یوں یہ کمپنی  سٹیٹس مل جاتا ہے۔رام للا جی کے بہترین پجاری دوست پانڈے ترلوکی ناتھ جی بنے یوں یہ مقدمہ میں  آگئے۔
اصل میں آپ سپریم کورٹ کے فیصلے کو پنچ پرمیشور کا فیصلہ سمجھو۔جیسا جرگہ فیصلہ کرتا ہے۔
اس میں قانون مت ڈھونڈو۔ ایسے مانو ہمارے مہان دیس بھارت میں بابر کے آنے سے پہلے یہاں اس جگہ پر کوئی مسجد نہیں تھی۔یہ اتہاس ہے یعنی کہ ہسٹری۔یوں رام کی راجدھانی ایودھیا میں سب دھام[مقام] رام کے ہیں ابھی تمہاری کورٹ نے بھی تو بنی گالہ میں عمران کے گھر کو جمائما کا دھام مانا، ہمیں حیرت ہوئی کہ یہ عورت پاکستان پر کیسے نظر رکھ کر بیٹھی تھی ۔بابر یہاں دیپکا کی فلم پدماوتی دیکھنے اور عالیہ بھٹ کو ڈیٹ مارنے نہیں آیا۔مال لوٹنے آیا تھا۔ادھر تو اس کو پٹھان لوگ زندہ چھوڑنے پر راضی نہیں تھے۔ہم نے کہا اشوکا اور لارڈ کلائیو بھی یہاں کون بنے گا کروڑ پتی اور انڈین آئیڈل میں گانے سنانے نہیں آئے تھے۔تیرے جیسی عورت بھی کامیا Invaders کو جب مذہب کا چشمہ لگا کر دیکھتی ہے تو میرے کو من  میں دکھ ہوتا ہے۔ہات پر ہات مار کہنے لگی میں نہیں بھارت میں سب لوگ ایسا سوچتے ہیں بے بی۔

امریکہ میں بڑا فیصلہ

چلو بات پوری کریں مزے کی بات یہ کہ فیصلے پر سائین تو پانچوں کے ہیں مگر پھٹو لوگ بولتے نہیں کہ نرنے لکھا کس نے ہے۔ایک جج نے تھوڑی چترائی(چالاکی) یہ کی کہ نرنے میں ایک addendum (اضافی حصہ)لگایا ہے اس میں لکھا ہے کہ اس جگہ بابر کے آنے سے پہلے رام کے موجود ہونے کے بہت گواہ ہیں جو عدالت کو اب اس لیے نہیں مل سکتے کہ ان کا دیہانت ہوگیا ہے۔
سچ پوچھو تو اس فیصلے میں لاء کے دو بڑے اصولوں میں سے ایک کا سہارا لیا گیا ہے۔ ایک اصول (Maxim) تو روم کے بادشاہ جس ٹین این کا ہے
Justinian maxim of Fiat justitia ruat caelum, meaning “Let
justice be done though the heavens fall.
اگر آسمان بھی گرتا ہو تو فیصلہ انصاف پر مبنی ہونا چاہیے۔ اس میں لوگوں کی تعداد، اکثریت اقلیت کا سوال نہیں۔ گوگوئی گینگ نے اس کو ایک طرف پھینک دیا۔لوگ بولے بھی کہ امریکہ کے چیف جسٹسEarl Warren نے براؤن بمقابلہ بورڈ آف ایجوکیشن میں متفقہ فیصلہ اس قانونی اصول کی روشنی میں دیا تھا۔ پہلے کالے گورے طالب علم اسکول کالج میں علیحدہ پڑھتے تھے۔عدالت نے یہ پابندی ہٹا دی۔ سب امریکی برابر ہیں۔امریکہ کے اس وقت کے آئزن ہاور اس کے حق میں نہ تھے مگر عدالت نے حکم دیا کہ جو اسکول اور کالج اس فیصلے کو نہ مانے حکم کو نافذ کرنے وہاں نیشنل گارڈز(ان کی بغیر پانی والی رینجرز) بھیج دو۔اس کی بجائے ہماری عدالت نے ‘s سسرو (Cicero) کا maxim Salus populi suprema lex esto, meaning “The welfare of the people is the Supreme Law”.
عوام کی فلاح سب سے بہترین قانون ہے۔ میرے ایک دوست جس نے فیصلہ پڑھا ہے وہ بولتا ہے کہ اس کی legal reasoning بہت ہلکی ہے۔ بھارت کے آئین کے Article 142 میں لکھے لا ہے کہ غلطی کبھی بھی ہوئی ہو ریاست کا کام اس کو ٹھیک کرنا ہے۔بابر نے wrong commitکیا ،ہماری عدالت ریاست کو حکم دیتی ہےmust be remedied۔سنی وقف کو نئی زمین دی جائے اور مسجد بنانا ان کا رائٹ ہے۔
ہم نے بہت نرمی سے جتایا کہ وہ اپنی روانی میں رام للّا کا پوائنٹ چھوڑ گئی ہے۔
تو کہنے لگی او   یسOh Yes مگر اس سے پہلے بطور وکیل وہ سچ بولے کہ کیا بھارت کی سپریم کورٹ نے دونوں طرف کی پارٹیوں کے لیے different standards of evidence استعمال نہیں کیا۔کہنے لگی گوگوئی بہت compromised تھا۔ جب اپن آدی واسی پر بات کریں گے تو یہ مدعا چھیڑیں گے۔ مسلمان لوگ کو مودی کچھ نہیں سمجھتا اورجیسے تم لوگ کے لیڈر ہیں ان سے بھارت کے مسلمان کو اب امید بھی نہیں.
تم لوگ ڈر گئے ہو اور لڑنا نہیں چاہتے۔ کشمیر ٹیسٹ کیس ہے۔ تھوڑا بہت تم لوگ کا بھے(خوف) طالبان سے تھا مگر اب امریکہ کی وجہ سے نان اسٹیٹ پلیئرز کا باجا بج گیا ہے۔نان اسٹیٹ پلیئر سیکنڈ ہینڈ اسلحہ کو استعمال کرکے بڑے وسائل پر قبضہ کرنا ہوتا ہے۔ امریکہ کا پرانے اسلحہ کا Junk- Pile(پرانے اسلحے کا ڈھیر) ختم ہوگیا ہے۔اب سب جگہ اس کا کارپوریٹ کنٹرول ہے۔سی پیک میں دیکھنا وہ تم لوگ کی کیسی چکن حلیم بناتا ہے۔چین کچھ نہیں کرنے کا۔جو لوگ سانپ اور کتے نہیں چھوڑتے وہ تو تم لوگ کی ہنزہ گلگت کی چھوکری بھی کھاجائیں گے۔ مت کرو۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *