طلبہ یونین بحالی،دیرآیددرست آید۔۔اسلم اعوان

ان دنوں کسی طلسماتی قوت نے ملک کے طول و ارض میں پھیلے نوجوان طلبہ کے دل و دماغ میں،سرفروشی کی تمنا،پیدا کر کے انہیں اچانک اس قدر فعال بنا دیا کہ اب وہ،بازوِ قاتل کا زور آزمانے کو بیتاب نظر آتے ہیں۔ایسا لگا کہ نوجوان نسل کے دل و دماغ میں کُلبلانے والے زندہ تغیرات کی حدّت سماج پہ مسلط اس ذہنی جمود کو توڑ ڈالے گی،جس سے نجات کی آرزوئیں دل میں بسائے،فیض احمد فیض،حبیب جالب،احمد فراز اورغنی خان جیسے عبقری شعرا کے علاوہ اصغر خان اورمعراج محمد خان جیسے شورید سر رہنما اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔بظاہراس صحت مند تحریک کی شروعات حال ہی میں لاہور کے الحمرا ہال میں منعقد ہونے والے،فیض امن میلہ کے موقع پر بائیں بازور کے چند طلبہ وطالبات نے بسمل عظیم آبادی کے مقبول شعرسے کی ،تاہم سوشل میڈیا کی تیز لہروں نے راتوں رات انہیں مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچا کے زندگی کے مجموعی تصور کو درخشندہ بنا دیا۔

دیکھتے ہی دیکھتے چہار سو طلبہ یونین بحالی کے مطالبات کی گونج سنائی دینے لگی بلکہ سندھ گورنمنٹ نے تو اس مطالبہ کو پذیرائی دیکر طلبہ یونین سے پابندی اٹھا لی۔بلاشبہ ان لوگوں کو آغاز شباب کے وہ سنہرے ایام یاد ہوں گے جو ساٹھ،ستّر اور اَسی کی دہائی کے پہلے تین سالوں میں یونیورسٹیوں کے کیفے  ٹیریا پہ بیٹھ کے سرمایہ  داری،سوشل ازم اوراسلام کے تناظر میں اجتماجی زندگی کی حرکیات پہ بے تکان بحث کیا کرتے تھے۔لاریب اس وقت انہی رومانوی تصورات میں زندگی کی توانائی سے لبریز ان آشفتہ سر نوجوانوں کے لئے بے پناہ کشش پائی جاتی تھی جن کی نوخیز جوانیاں کشمکش حیات میں اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کو بے قرار رہتی تھیں۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

ہمارے عہد طالب علمی میں آخری بار 1982/83 میں طلبہ یونین کے انتخابات کرائے گئے۔یہ وہ زمانہ تھا جب اعلی ترین تعلیمی ادارے بظاہر مذہب اور کیمونزم کے مابین جاری مبارزت کا میدان کارزار بنے ہوئے تھے،سوشلسٹ نظریات سے مزّین سیاست کی گونج ،مزدوروں اور کسانوں کی طبقاتی جدلیات کی حدود سے نکل کر ان درس گاہوں تک آ پہنچی تھی جہاں کے نوعمر طلبہ ہر قسم کے طبقاتی،مذہبی،لسانی اور علاقائی تعصبات سے پاک ایسے گداز ماحول میں پروان چڑھ رہے تھے،جہاں زندگی کی تفہیم عقلی تعلق سے کی جاتی تھی۔سکولز،کالجز اور یونیورسٹی کے کلاس روم میں امیرغریب،پنجابی،سندھی،بلوچی،پٹھان بلکہ ہندو اورمسلمان سب یکساں سطح پہ دیکھے جاتے تھے،ان درسگاہوں میں برتری کا پیمانہ حسب و نسب اور سرمایہ  نہیں بلکہ علم اور صلاحیت کی تیز تر نمو ہوا کرتی تھی لیکن بدقسمتی سے ہماری مذہبی و سیاسی اشرافیہ کی سہل  نگاری نے اپنی سیاسی و نظریاتی جدوجہد کا وبال طلبہ تنظیموں کے سر مڑھ کے تعلیمی اداروں میں پروان چڑھنے والے اس گداز تمدن کو کرپٹ کر دیا جو سوسائٹی اور تعلیمی نظام کو ریگولیٹ کرنے کا فطری میکانزم تھا۔

دوسری جانب فوجی آمریتیں بھی طلبہ کی فعالیت اور بڑھتے ہوئے سیاسی شعورکو اس جمود(status quo)کےلئے خطرہ تصور کرنے لگیں،جو ا ن کے دوام ِ اقتدار کی ضمانت بنا ہوا تھا چنانچہ جنرل ضیاءالحق نے سیاسی پارٹیوں کی سرگرمیاں محدود کرنے کے بعد 1983ءمیں طلبہ یونین پہ پابندی عائد کرکے ایک صحت مند معاشرتی سرگرمی اور اس علمی بہاؤ کی رخ گردانی کرنے میں مفاد ڈھونڈ لیا جو سماج کے ذہنی ارتقاءکا ابتدائی محرک تھا۔تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کی جائز سیاسی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرنے والی سٹوڈنٹ یونینز پہ پابندی کے بعد طلبہ کا انحصار سیاسی جماعتوں پہ بڑھتا گیا،مختلف مذہبی وسیاسی جماعتوں کے زیر ِ اثر کام کرنے والی طلبہ تنظیموں نے تعلیمی اداروں میں اپنی بالادستی قائم رکھنے کےلئے زروبازوکا سہارا لے لیا،یہی وہ مرحلہ تھا جب نوجوان کے جذبات و خیالات کی ریل پٹڑی سے اتر گئی۔پنجاب یونیورسٹی اسلامی جمعیت طلبہ کی قوت کا مظہر بن گئی،پشاور یونیورسٹی میں پختون اورپیپلزسٹوڈنٹ فیڈریشن کے الائنس کو برتری حاصل رہی،بلوچستان میں پختون اور بلوچ قوم پرستوں کے حامی طلبہ نے سرخ پھریرے لہرا دیئے اور کراچی یونیورسٹی،جہاں پہلے جمعیت چھائی تھی، آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹ فیڈریشن کے تصرف میں آ گئی اور یوں طلبہ کے اسی رجحان سے مرکز گریز جماعتوں کو توانائی ملنے لگی۔

علی ہذالقیاس،دائیں اور بائیں بازو کی ان طلبہ تنظیمیں کو اپنی بقاءاور مالی وسائل کے حصول کی خاطر ناجائز ذرائع پہ انحصار اورتعلیمی اداروں میں بالادستی قائم کرنے کےلئے آتشیں اسلحہ کے استعمال کا سہارا لینا پڑا،اسی جدلیات نے درسگاہوںمیں  ذہنی آزادیوں کا دائرہ محدود اور فکری نمو کےلئے مجموعی فضا کو ناموافق بنا دیا۔اسی کارن ایک طرف نوجوانوں میں تشدد کا رجحان بڑھا تو ودسری جانب مقدس درسگاہوں کا ماحول مالی بدعنوانی،منشیات کے استعمال اور اخلاقی بے راہ روی کے زہر سے آلودہ ہونے کے علاوہ تعلیم وتعلّم کےلئے درکا رسازگار ماحول اور استاد وشاگرد کے باہمی احترام پہ مبنی تعلق سے بیگانہ ہوتا گیا۔یہ وہ قباحتیں تھیں جومحض تعلیمی اداروں تک محدود نہ رہیں بلکہ فارغ التحصیل طلبہ انہی روّیوں کو دل و دماغ میں سنبھالے ہمارے سماجی ماحول،سیاسی نظام اورسرکاری دفاتر کا حصہ بنتے رہے۔

یوں پچھلے چھتیس سالوں کے دوران انہی پراگندہ خیال نوجوانوں کی افسردہ نسل نے معاشرے کی عنان سنبھال کر اجتماعی حیات کے پورے نظام کوبگاڑ دیا۔اگر عالمی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کی خاطر ہمارے ارباب اختیار،تاجروں،کسانوں،مزدوروں کی انجمنوں اورطلبہ یونینز کو معطل نہ کرتے تو آج ہمارے سماج کو زندگی کے ہرشعبہ میں بہترین رجال کار اور ریاست کو باشعور شہری میّسر ہوتے،ہمارے فکری و سیاسی ارتقاءکا عمل وقت اور زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتا لیکن افسوس کہ  ایک آزمودہ قانونی عمل کے ذریعے پیداواری عمل میں حصہ لینے والے کسانوں اور مزدوروں کے علاوہ ہمارے ریاستی نظام کو تازہ خون فراہم کرنے والے طلبہ کو ذہنی پسماندگی،خود غرضی اور نفرتوں کے دلدل میں دھکیل کے خسارے کا سودا کیا گیاجس کی تلافی تو ممکن نہیں لیکن اب بھی اگر طلبہ یونین اور مزدور تنظیموں کو ریگولیٹ کر لیا جائے تو انہی کی بدولت نا صرف ریاست کا تنظیمی ڈھانچہ مضبوط ہوگا بلکہ ہمیں معاشرتی اکائیوں کو مربوط رکھنے والے کردار بھی مل سکتے ہیں۔اگر قانون کے مطابق طلبہ کوسیاسی مینڈیٹ میسر ہوتا تو ہمارا تعلیمی نظام یوں بانجھ نہ ہوتا بلکہ اعلیٰ  تعلیمی اداروں میں زرخیز ذہنوں کی افزائش کے ذریعے ایسا توازن قائم ہوتا جس میں اساتذہ طلبہ کے سچے خیرخواہ اور طلبہ بغیر کسی غرض اور جبر کے استادکے فرمابردار ہوتے۔چیک اینڈ بیلنس کا یہ دوطرفہ نظام درسگاہوں کو مالی اور ذہنی بدعنوانی سے بچاتا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

بہرحال،ساڑھے تین دہائیوں کے تلخ تجربات نے ثابت کیا،طلبہ یونین پہ پابندی سے بہتری نہیں آئی بلکہ تعلیمی نظام کا توازن بگڑ گیا،جسکی وجہ سے مقدس اداروں کو مالی بے قاعدگیوں اور اخلاقی زوال نے گھیر لیا،احتساب کے اداروں نے یونیورسٹیوں میں مالی کرپشن کے الزامات کے تحت کئی وائس چانسلرز کو گرفتار کیا۔پشاور یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے اساتذہ کی طرف سے جنسی حراسگی کے خلاف مظاہرے کیے اوربلوچستان یونیورسٹی میں ٹیچرز کی طرف سے طالبات کو حراساں کرنے کی گونج عالمی میڈیا میں سنائی دینے لگی، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں منشیات فروشی کے دھندے کی بازگشت بھی سٹوڈنٹ یونین پہ پابندی کے مضمرات کا شاخسانہ تھی۔اب تو سمسٹر سسٹم کے تحت، پرچہ بنانے،امتحان لینے اور مارکنگ کرنے کا پورا عمل ٹیچرز کے حوالے کرکے معصوم طلبہ کو استادکے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا گیا۔افسوس ہماری مصیبت زدہ نسل علم کی اس ارض معمورکو تاریک بنا بیٹھی،جہاں آدمیت پروان چڑھتی تھی،لاریب!تعلیم انسانیت کی ذہنی،اخلاقی،سائنسی اور فنی میراث کو اگلی نسلوں تک پہنچانے کا وسیلہ بنتی ہے۔

  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply