• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • میرے بیٹے کا نام محمدہے اور احمدی کافر ہیں۔۔چوہدری نعیم احمد باجوہ

میرے بیٹے کا نام محمدہے اور احمدی کافر ہیں۔۔چوہدری نعیم احمد باجوہ

لڑکھڑاتی زبان سے نکلنے والے بے ربط الفاظ ایسے ادا ہو رہے تھے جیسے ایک مجرم طاقتور ظالم حاکم کے سامنے پیش ہو۔اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کر رہاہو  ۔ خیالات منتشر ہوں اور زبان ساتھ نہ دے رہی ہو ۔ جسے یقین ہو کہ کچھ بھی کہہ دیاجائے فرد جرم عائدہوکر رہے گی۔ کچھ ایسی ہی حالت اس وائرل ہونے والی ویڈیو میں ہے جسے اسسٹنٹ کمشنر اٹک کی ویڈیو بتایا جا رہا ہے ۔ ایک گلی کے لونڈے کی بکواس کو Vaildقرار دیا جاتاہے ۔اسے یہ بھی اجازت ہے کہ اس خاتون آفیسر سے بیہودہ لہجے میں مخاطب ہو۔اس سے تفتیش کرے ۔اس کے ایمان کا امتحان لے اور پھر اسےمسلمان یا کافر ہو نے کا سرٹیفکیٹ دے ۔

یہ صرف ایک ویڈیو نہیں بلکہ تعفن زدہ بےحس معاشرے کی ایک جھلک ہے ۔ جہاں خود ساختہ خدائی فوج دار ہر دم لٹھ اٹھا کر دوسروں کے ایمان  کی پیمائش کرتے پھرتے ہیں ۔ اور جو ذرا  بھی ان سے اختلاف کرنے کی جرأت کرے اسے سبق سکھانے کی تاڑ میں رہتے ہیں ۔آئین اور قانون کی ضرورت کے لئے کافر قرار دیے گئے احمدی ان لٹھ برداروں کے نشانے پر ہمیشہ سے رہے ہیں۔پر احمدیوں نے کبھی قانون ہاتھ میں لیا نہ روڈ بلاک کیے۔ دھرنے دیے نہ سکیورٹی خیرات مانگی۔ چپ چاپ اپنے قبرستان بھرتے چلے جا رہے ہیں ۔

ایک سرکاری دفتر میں دیگر افسران کی موجودگی میں ایک مجاہداس خاتون سے تفتیش کر رہا ہے کہ اس نے احمدیوں کا  نام کیوں لیا؟ احمدیوں کو کافر سمجھتی ہیں یا نہیں ؟ اس پڑھی لکھی معزز خاتون کی بے بسی اور لڑکھڑاتی زبان اس معاشرے اوراس خود ساختہ ریاست مدینہ کے منہ پر طمانچہ ہے ۔ عاشقان ِ ریاست ِ مدینہ کو خبر ہو کہ ریاست مدینہ اصولوں پر ایستادہ تھی۔ زبانی جمع خرچ، جھوٹ ، نفرت ، بے اصولی کے ستونوں پر اس کی بنیاد نہیں تھی۔اس کے در ودیوار اقلیتوں اور غیرمذاہب کے خون سے رنگین نہیں تھے ۔

کیا کوئی بتاسکتا ہے کہ ریاست مدینہ میں بھی کبھی اس قسم کا کوئی واقعہ ہوا ہو؟۔سب سے بڑے دشمن یہودی تھے ان کے ساتھ نا صرف ریاست مدینہ نے معاہدے  کیے بلکہ ان کی پاسداری بھی کی ۔ ہیڈ آف  سٹیٹ اور ہیڈ آف ریاست مدینہ نے ان یہودیوں کی دعوت بھی قبول فرمائی جبکہ ا س میں زہر ملا کر قتل عمد کی کوشش بھی کی گئی تھی ۔

احمدی کافر ہیں یا نہیں انہیں اپنے اعمال کے لئے خدا کے سامنے جوابدہ ہونے کے لئے چھوڑ دیں۔اقلیتوں اور احمدیوں کو قتل کرنے کے بجائے اپنے اعمال پر نظر کیجیے ۔ دوسروں پر اسلام نافذکرنے کے بجائے اپنے پانچ فٹ کے جسم پر تواسلام نافذ کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں بیس کروڑ عوام پر کیسے اور کون سا اسلام لاگو کرلیں گے۔ یہ صرف چھچھورا پن ہے ۔یہ اپنے آپ پر یقین نہ ہونے کی علامت ہے ۔

یہ معززخاتون آفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماں بھی ہے۔اور اس وقت اس کی بے بسی ایک مجبور اور بے بس ماں کی تھی۔وہ ماں جو ہر قیمت پر اپنے بچوں کو بچانا چاہتی ہے۔ وہ منتیں کر رہی ہے دیکھو میں تو مسلمان ہوں۔ دیکھو میں نے تو اپنے بچے کا نام بھی محمدر کھا ہوا ہے۔ پھر بھی تمہیں شک ہے کہ میں مسلمان نہیں ہوں ۔دیکھو جو تم کہتے ہو میں دہراتی جاتی ہوں۔ تم نے کہا احمدی کافر ہیں ہاں ہاں میں کہتی ہوں احمدی کافر بلکہ پکے کافر ہیں ۔پر مجھے کچھ نہ کہنا۔ میری جان بخش دو ، میرے بچوں میرے خاندان کو کچھ نہ کہنا ۔ اسے مشعال خان نہ بنا دینا، دیکھو وہ تو محمد ہے ۔ کوئی فتویٰ نہ لگا دینا ۔ تب وہ صرف ایک سہمی ہوئی ڈری ہوئی ماں تھی ۔ اسے اپنا معزز ہونا ، آفیسر ہونا یا دنہیں تھا ۔صرف یہ سوچ رہی تھی کہ اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو کیسے ان درندوں سے بچا نا ہے ۔ ہم واقعی اس معاشرے میں درندے پال رہے ہیں جنہوں نے ممتا کو بھی خوف زدہ کر دیا ہے ۔ ماں بھی اپنے بچوں کا مسلمانوں والا نام بتا بتا کر دہائی دے رہی ہے کہ میں مسلمان ہوں ۔

جس ریاست میں اس کے اپنے آفیسر محفوظ نہ ہوں ا ور وہ بازاری چھوکروں کی عدالت میں جواب دہ ہوں۔ سرکاری دفتر میں گھس کر اس قدر دھمکایا جا رہا ہو زبان لڑکھڑا رہی ہو۔تصور کیجیے اگر اس معزز آفیسر کی جگہ ایک نہتا احمدی ہوتا ؟۔ ایک بے بس عیسائی ہوتا؟ ۔ تو اس کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا؟ ۔اسے تو یہ سوال و جواب بھی نصیب نہ ہوتے اور مجاہدین اس کے خون سے ہاتھ رنگین کر کے اب تک اپنی دانست میں جنت کما چکے ہوتے۔ جو ریاست اپنے آفیسر زکو تحفظ دینے سے قاصر ہے وہ پوری دنیا کے مظلوم مسلمانوں کی نمائندہ بننے کے خواب دیکھتی ہے ۔ ا س صدی کا اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے۔

آج پوری دنیاسمجھ چکی ہے کہ جب پاکستان کا کوئی وزیر یاکوئی عہدیدار یہ اعلان کرتا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے  تمام حقوق محفوظ ہیں تو اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ ان اقلیتوں کے جملہ حقوق ان بازاری لوگوں کے ہاتھوں میں محفوظ ہیں ۔مکمل مذہبی آزادی کا مطلب ہے کہ ہم نے مجبور کر کے ان اقلیتوں کو اپنے اپنے مذاہب پر عمل کرنے سے روک کر انہیں مذہبی پابندیوں سے آزاد کر دیا ہے ۔

ایسےمیں جب وزیر برائے انسانی حقوق محترمہ شیریں مزاری صاحبہ فرماتی ہیں کہ احمدیوں کو تمام شہری حقوق حاصل ہیں اور انہیں اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہے ۔ تو ان کی خدمت میں صرف یہ ویڈیو پیش کرنا کافی ہے کہ جہاں یہ خاتون صرف احمدیوں کا نام لے کر جان و عزت داؤ پر لگا بیٹھی ہے وہاں اس معاشرے میں احمدی ہونا اور احمدی کہلانا کس قدر محفوظ ہوگا۔

احمدیوں کے مطابق۱۹۸۴ کے اینٹی احمدیہ ا ٓرڈیننس کے بعد اب تک ۲۶۴ احمدی مذہب کے نام پر ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو چکے ہیں ۔ ۳۸۸ پر قاتلانہ حملے ہوئے ہیں ۔۷۶۵ مقدمات کلمہ طیبہ لکھنے یا پڑھنے کے، ۸۰۰ سے زائد مقدمات تبلیغ کے ،۲۸ عبا دت گاہیں منہدم ،۳۹ عبادت گاہیں سیل ،۲۳ عبادت گاہوں پر ہجوم کے حملے توڑ پھوڑاور آگ لگانے کے واقعات جبکہ ۱۷ عبادت گاہوں کو مسلمانوں نے فتح کر لیا ۔۷۰ سے قریب واقعات تدفین روکنے کے اور ۳۹ واقعات تدفین کے بعد قبر کشائی کے ہو چکے ہیں۔298Cکی تلوار ہر احمدی کے سر پر ہمہ وقت لٹکتی رہتی ہے۔احمدیوں کی کتب بین ہیں ۔ بچوں کے رسائل ، خواتین کے رسائل ، نوجوانوں کے رسائل پر پابندی لگ چکی ہے ۔ ہر قسم کی تبلیغی تربیتی سرگرمیوں پر قدغن ہے ۔لیکن ریاست مدینہ جدید کے بانی عالمی میڈیا پر بھی کمال ڈھٹائی سے احمدیوں اور اقلیتوں کے حقوق کے ضامن بن کر ظاہر ہوتے ہیں ۔ جب پابندیاں لگائی گئی ہیں تو پھر یہ جرأت کیوں نہیں کہ کھل کر کہہ  سکیں کہ ہاں ہم نے پابندی لگائی ہے ۔

ہو سکتا ہے وہ کوئی اور ملک ہو جہاں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہو۔ کیوں کہ پاکستان میں تو احمدیوں کو مکمل مذہبی اورشہری حقوق حاصل ہیں ۔ کسی آفیسر کو غلطی سے احمدی کا نام لینے پر اپنی جان بچانے کے لئے اپنے بچوں کا واسطہ نہیں دینا پڑتا ۔

Avatar
Ch. Naeem Ahmad Bajwa
محبت کے قبیلہ سے تعلق رکھنے والا راہ حق کا اایک فقیر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *