ریویو:جی ہاں میں نے گھٹیا افسانے پڑھے ہیں۔۔شجاعت بشیر عباسی

مکالمہ سے میرا  پرانا تعلق ہے ،لکھنے سے زیادہ پڑھنے کا شغف ہے، منفرد تحاریر،افسانے، اور کہانیاں   یہاں پڑھنے کو میسر آتی ہیں۔جس میں مختلف زاویہ فکر کے حامل لکھاری طبع آزمائی کرتے نظر آتے ہیں کئی بار تو اتنی اچھی تحاریر نظروں سے گزری ہیں کہ مداح سرائی اور تنقید کو طبعیت  تو بہت مچلی لیکن ہمت نہ ہوئی کہ  آیا انصاف ہوپائے گا یا نہیں ۔

آج فاروق بلوچ صاحب کے افسانوں پر جنہیں فاروق بلوچ نے “گھٹیا افسانہ” کا ٹائٹل دے رکھا ہےکو پڑھ کر جی چاہا کے کیوں نا  کچھ لکھا جائے۔مجموعی طور پر فاروق بلوچ صاحب نے اسی عنوان سے اب تک اٹھائیس افسانے لکھے لیکن میں صرف پہلے آٹھ افسانوں کا مختصراً  تذکرہ کرنا چاہوں گا۔

موضوع اور حدود قیود سے یہ افسانے اس قدر آزاد تھے کہ یقین جانیے دوران مطالعہ کئی بار مجھے اپنے دماغ کی چولیں ہلتی محسوس ہوئیں ایک ہی افسانے میں کئی موضوعات کو کھل کر اپنے مخصوس انداز کے ساتھ  ضبطِ تحریر میں لانا اور ان موضوعات کا مکمل گرفت کے ساتھ کچا چٹھا کھولنا ہی ایسا کمال ہے کہ جس نے افسانوں کو دلچسپ اور منفرد بنایا۔۔مثلاً اپنے پہلے ہی افسانے جسے ہم گھٹیا افسانہ نمبر 1 کہہ لیتے ہیں اس میں فاروق بلوچ ایک لکھاری کو اپنے لکھے گئے آرٹیکل کے فیڈ بیک سے لطف اندوز ہوتے  ہوئے دکھا رہے ہیں، تو وہیں ایک بااثر مجرم کے سامنے بے بس پولیس آفیسر کا احوال بھی زیر قلم لاتے دکھائی دیے ،اسی افسانے میں آگے بڑھتے ہوئے۔۔ایک کال گرل کی کتھا جو ناکام محبت کے بھیانک انجام کی بدولت اپنی داستان مصنف کے کندھے پر سر رکھے گوش گزار کرتی ہے دوسری طرف ایک باپ مہنگی فیسوں سے پریشان ہے لیکن بچوں کو فر فر انگلش بولتے دیکھ کر قدرے مطمئن بھی ہو جاتا ہے۔
اپنے اس پہلے افسانے میں مزید موضوعات کا احوال بھی موصوف نے بخوبی سما رکھا ہے۔گرل فرینڈ کا دوغلا چہرہ،کمرہ عدالت کا منظر نامہ، بینک ڈیفالٹر شخص کی ہٹ دھرمی،  میوزیم کی چھت کے بعد آخری وار کرتے ہوئے تہذیبوں کے ٹکراؤ  کو تقسیم کی وجہ قرار دیتے مصنف عروج کمال پر نظر آتے ہیں۔

کسی سے پیسے لینے ہوں اور مقابل شخص رقم ادا کرنے کے بجائے آپ کے باپ کی تعزیت کر کے نکل جائے تو میرے آپ کے یا کسی کے بھی کیا احساسات ہوں گے؟ ظاہر ہے زیرلب گالیاں ہی دیں گے گھٹیا افسانہ نمبر 2 میں بھی ایسی ہی صورتحال میں گِھرا شخص بے بسی کی تصویر بنا اپنی رقم ڈوبنے کا نوحہ خاموش لفظوں میں بیان  کرتا دکھائی دیا۔
اسی افسانے میں ایک خوش نصیب شخص بھی موجود ہے جس کی گرل فرینڈ بہت دیالو ہے دوران مطالعہ یہاں پہنچ کر نجانے کیوں مجھے اس خوش نصیب شخص پر رشک آیا جس کی گرل فرینڈ منہ مانگی رقم کا بندوبست خوش دلی سے بغیر وجہ پوچھے کرتی ہے افسانے کا یہ حصہ پڑھتے ہوئے میں خاصا افسردہ بھی ہوا اس افسردگی کی وجہ میرا ایسی سعادت سے محروم رہنا تھا لیکن امید بہرحال ابھی بھی قائم ہے ( کیونکہ خوش قسمتی سے ابھی تک میرے سارے بال کالے ہیں )۔

ہم جنس پرستی چاہے گناہ ہے،لذت ہے، یا پھر ایک بیماری، ان سب سے بڑھ کر یہ ایک حقیقت ہے اور معاشرے میں موجود اس حقیقت سے پردہ چاک کرنے کی جرات کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے لیکن مصنف بلاجھجک اس کو زیر بحث لائے یہی وصف دیگر لکھاری حضرات سے اس افسانے کے قلم کار کو ممتاز بنانے کے لیے کافی ہے۔

کوئی بھی قوم کیسے ترقی کر سکتی ہے معاشرہ کیسے اسلامی اصولوں پر چلتے ہوئے اپنی بقاء کو یقینی بنا سکتا ہے مصنف ان مسائل پر ایک پوری تقریر کرتا ہے کئی رہنما اصول وضع  کر کے اپنی تقریر کو پُر اثر بناتے ہوئے مجمعے سے داد وصول کرتا ہے یہ سب کچھ آپ کو افسانہ نمبر 2 کے آخری حصے میں پڑھنے کو ملے گا پہلے افسانے کی طرح دوسرے افسانے میں بھی مختلف موضوعات پر مختصر لیکن جامع تحریر نے مجھے تیسرے افسانے کی طرف مائل ہونے پر مجبور کیا ۔لنک اوپن کرتے ہی مجھے شاعری سے پالا پڑا ظاہر ہے شاعری کے لیے ماحول بھی درکار ہوتا ہے اسی لیے مصنف نے منظر نامے میں شراب و کباب کو بھی محفل کی زینت بنا رکھا ہے اسی ماحول نے مجھ پر بھی اثر دکھایا، میں نے ابھی لفظوں کا جام سجا کر کباب کے ساتھ چسکیاں لینا شروع ہی کی تھیں کہ  مصنف میرا ہاتھ تھام کر مجھے زندگی کے تلخ حقائق کی بھٹی کے پاس لے آیا اور چپکے سے دھکا دے کر سلگتی آگ کو میرا مقدر بنا دیا اس بھٹی کے اندر میں نے ایک ننھے بچے کو اپنے ہی عزیزوں کے ہاتھوں بچپن سے محروم ہوتے دیکھا ایک پروفیسر کے ہاتھوں اردو زبان کی درگت بننے کے باوجود ہال سے تالیاں بجتے اور محبت کو قربان کر کے رشتے بچانے کی کوشش کے باوجود ایک عاشق گولی کھاتا ملا۔

افسانہ نمبر چار میں میرے لیے ایک خوشگوار حیرت تھی مصنف ایک شادی کا نقشہ کھینچتا ہے دلہن ماضی میں کوہالہ پل سے چھلانگ لگانے کی کوشش کر چکی ہے یہی میرے لیے حیرت کا مقام تھا کیونکہ کوہالہ پل میری مستقل رہائش سے چند کلومیٹر دور ہے اسی لیے اس پل کا تذکرہ مجھے پُرشوق رکھنے کا باعث بنا۔

الفاظ کی افادیت پر اور چرس کے متعلق سربراہ اینٹی نارکوٹکس کے نادر خیالات نے بھی گھٹیا افسانہ نمبر 4 میں مجھے  اپنے حصار میں   باندھے رکھا۔
جہاد کیا ہے اللہ تعالیٰ نے قران پاک میں اس بارے کیا حکم دیا اور ہم مختلف تفسیروں میں اس بارے میں کیا پڑھ رہے ہیں مذہبی جماعتیں یونیورسٹی کالجوں میں کس حد تک اپنا اثر رکھتی ہیں کیسے اپنے کارکنان کی تربیت اپنے ہی تخلیق کردہ مواد سے کی جاتی ہے۔
شادی مذہبی فریضہ ہی نہیں فطری ضرورت بھی ہے لیکن ہمارے اسی معاشرے کے کچھ شریف لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی نصف بہتر کے ہاتھوں دھوکے کا شکار ہوتے ہیں ،لیکن اپنی سادہ لوحی یا دیگر کمزوریوں کے باعث خاموشی کا کڑوا گھونٹ پینا پڑتا ہے افسانہ نمبر 6 میں جنسی زیادتی، بلیک میلنگ جیسے ایشوز سے مصنف نے پردہ اٹھایا۔
ایک متاثرہ عورت کی اذیت کو بہترین الفاظ میں ڈھالا گیا۔
فرقہ پرستی کو کچھ شاطر ذہن لوگ کیسے اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں چند میسج سے اپنے راستے کا پتھر ہٹانا بھی افسانہ نمبر 7 کی رونق رہا مجموعی طور پر پہلے آٹھ افسانوں میں انسانیت کے بہت سے اچھے بُرے کرداروں پر کُھل کر بات کی ہے اور کئی نازک موضوعات کو چھیڑا گیا ہے ان افسانوں میں ایک بات مشترک ہے کہ جس کردار پر بھی لکھا گیا مکمل اور جامع لکھا گیا بغیر کوئی لگی لپٹی رکھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *