بد سے بدنام بُرا۔۔عزیز خان

کل کچھ وکلا نے پنجاب انسٹیٹوٹ آف کاڈیالوجی پر حملہ کر دیا میں وکلا کے اس فعل کی مذمت کرتا ہوں مگر ہر واقعے کے پیچھےکچھ محرکات ہوتے ہیں۔
وکلا پر PIC میں کچھ دن قبل تشدد ہوا، سوشل میڈیا اور میڈیا خاموش رہا، کوئی نہیں بولا، کوئی گرفتاری نہیں ہوئی، پھر بھی وکلا نے بڑے دل کا مظاہرہ کیا اور صُلح کر لی، اگر PIC پر حملہ ہی کرنا تھا یا وکلا نے غنڈہ گردی کرنی تھی تو اُس روز کر تے۔

میں 2010 میں Dsp سٹی بہاول پور تھا قائداعظم میڈیکل کالج کے طلبا اور YDA نے اپنے کالج کے پرنسپل پر تشدد کیا اُس کے دفتر کا گھیراؤکیا ،پولیس پر پتھراؤ کیا، DPO بہاولپور پتھراؤ سے زخمی ہوئے۔ YDA اور سٹوڈنٹس کے خلاف تھانہ کینٹ بہاولپور میں سات مقدمات درج ہوئے ۔ پولیس نے بھی ان کی خوب خدمت کی۔ یہ سارے واقعات میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے، ان کی حرکتیں کسی بھی طرح  پڑھے لکھے انسانوں والی نہیں ہوتی تھیں، پولیس والوں کی انکوائری چیف جسٹس کے حکم پر ہوئی اور پولیس کو بے گناہ قرار دیا گیا۔

ڈاکٹر عدنان کا تعلق احمد پور شرقیہ سے ہے ،یہ بھی شاید اُن طلبا میں شامل تھے۔۔
میں نے بھی ان کی وہ تقریر سُنی جو انہوں نے صلح کے بعد کی اور اپنی بہادری کے قصے بیان کیے، اس تقریر سے مجھے 2010 کی وہ ساری تقریریں یاد آگئیں جو ڈاکٹر کیا کرتے تھے، آؤٹ ڈور بند تھا،مریض مر رہے تھے مگر ان ڈاکٹروں کو کوئی احساس نہ تھا۔

کل تین مریض جاں  بحق ہوگئے مگر قبل ازیں ڈاکٹروں کی ہڑتال سے کتنے لوگ متاثر  ہوئے ؟کوئی حساب نہیں ۔
ڈاکٹر عدنان کی تقریر وائرل ہوئی، کس نے کی ؟جب صلح ہو چکی تھی پھر ایسی تقریر کی کیا ضرورت تھی؟

ایک دوست نے فیس بک پر لکھا، میں اور میرے دو بیٹے وکیل ہیں، میں وکلاء  کے بارے میں نہیں لکھوں گا ،اس میں کوئی شک نہیں، میں پہلے پولیس میں تھا، اُس کے خلاف بھی لکھ رہا ہوں، اب وکیل ہوں تو بھی اُن وکلا کے بارے میں لکھوں گا جو غلط ہو گا۔

میں لکھ رہا ہوں کہ وکلا کا کل PIC پر حملہ غلط تھا ،یہ حملہ کیوں کیا گیا، اس بات کی انکوائری ہونی چاہیے
حکومت کو بھی پارٹی نہیں بننا چاہیے وزیر صحت بھی ڈاکٹر نہ بنیں ،ڈاکٹر شہباز گل بھی ڈاکٹرز کی غیر ضروری حمایت میں ٹویٹ نہ  کریں ، وکلا ء پر بھی تشدد ہوا جو ڈاکٹرز اور پولیس نے کیا ،سینئر وکیل منیر بھٹی اور ناگرہ بھی پولیس تشدد کا شکار ہوئے، وزیر فیاض چوہان پر بھی وکلا نے تشدد کیا۔

جو بھی ہوا غلط ہوا اگر وکیل غلط ہیں تو ڈاکٹرز بھی دودھ کے دُھلے نہیں۔
چینلز نے بھی یکطرفہ صحافت کی ،صرف وکلا ء کو حملہ کرتے دکھایا، صرف وہ ویڈیوز دکھائیں جن میں وکلا توڑ پھوڑ کر رہے ہیں، وہ نہیں دکھائیں جن  میں وکلا ء کو پولیس اور ہسپتال کا عملہ تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔

نقصان ہمیشہ عوام کا ہوتا ہے چاہے دھرنے ہوں یا ہسپتال پر حملے ۔
اب عدالتیں بند ہوں گی، ڈاکٹر ہڑتال کریں گے، سائل عدالتوں میں اور مریض ہسپتالوں میں ذلیل و خوار ہوں گے، وکلا اور ڈاکٹرز کے لیڈران اپنی اپنی سیاست چمکائیں گے سیاسی پارٹیاں بھی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں گی۔
اللہ پاک اس مُلک اور عوام کی حفاظت فرمائے !آمین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *