لاہور کا ’’تاریک‘‘ جغرافیہ۔۔عطا الحق قاسمی

بھلے مانس کُتے

لاہور میں کتے بہت زیادہ ہیں، آپ شہر میں کسی طرف نکل جائیں آپ کو آوارہ کتے کسی قصائی کے پھٹے تلے اونگھتے نظر آئیں گے یا آپ کی موٹر سائیکل یا کار کے پیچھے بھاگتے دکھائی دیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر آپ بریک لگا دیں تو بظاہر خونخوار انداز میں آپ کا پیچھا کرنے والے یہ کتے وہیں رک جائیں گے اور ٹائر وغیرہ سونگھ کر اپنی راہ لیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک لاہوری خاتون روزانہ اپنی سہیلی کو بتاتی تھی کہ آج تمہارا شوہر ایک عورت کے ساتھ سینما میں فلم دیکھتا ہوا پایا گیا یا کسی ریستوران میں کسی عورت کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے دیکھا گیا مگر اس شوہر کی بیوی ان باتوں کا کوئی اثر نہیں لیتی تھی۔ ایک دن اس کی سہیلی نے جھنجھلا کر کہا تم عجیب طرح کی بیوی ہو، اپنے شوہر کے بارے میں یہ سب سنتی ہو اور تمہیں غصہ ہی نہیں آتا۔ اس پر بیوی نے وہی بات کہی جو میں نے اوپر کی سطور میں بیان کی ہے۔ اس کا کہنا تھا میرا شوہر بھی ہمیشہ خونخوار انداز میں عورتوں کا پیچھا کرتا ہے مگر ان کے متوجہ ہونے پر وہ بھی بس ٹائر وغیرہ سونگھ کر اپنی راہ لیتا ہے۔

خیر یہ مثال تو یونہی درمیان میں آگئی، میں آپ کو لاہوری کتوں کے بارے میں بتا رہا تھا، ان میں کچھ پالتو کتے بھی ہیں جن کے بہت ناز نخرے اٹھائے جاتے ہیں۔ میڈم قسم کی خواتین ان کا منہ چومتی ہیں جس پر غالب کی روح فریاد کرتی نظر آتی ہے۔

’’کتنے شیریں ہیں اس کے لب کہ رقیب‘‘ وغیرہ!

کتے پالنے کا مجھے بھی بہت شوق ہے۔ زندگی میں بہت دفعہ اپنا یہ شوق پورا کیا مگر پھر باز آ گیا کیونکہ میں جو کتا بھی پالتا تھا وہ بالآخر مجھی پر بھونکتا تھا۔ میں نے ایک بات یہ بھی محسوس کی کہ یار لوگ عموماً کتے پالتے ہیں، کتیا نہیں۔ میں نے ایک دوست سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا ’’کتیا سوشل بہت ہوتی ہے اس کے مہمانوں کو کون سنبھالتا پھرے‘‘!

ممتاز دانشور

لاہور میں ایک مخلوق پائی جاتی ہے، جسے دانشور کہتے ہیں۔ یہ معروضی اور غیر معروضی حالات کا ذکر بہت کثرت سے کرتے ہیں تاہم کچھ ایسی اصطلاحات کا استعمال بھی ان کے ہاں زیادہ ہے جنہیں استعمال کرنے کے لئے بہت زیادہ پڑھا لکھا ہونا یا ان اصطلاحات کا صرف رٹا لگانا ضروری ہوتا ہے۔ یہ دانشور لکھتے لکھاتے کچھ نہیں ہیں ایسی ادبی محفلوں میں تقریریں کرتے ہیں۔ یہ عہدِ جدید کے بڑے فلسفیوں اور دانشوروں کے اقوال اپنی گفتگوئوں میں دہراتے ہیں۔ اگلے ہفتے ان کے حریف بھی بعض دوسرے دانشوروں کے اقوال سے سامعین کو متاثر کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک محفل میں ایک دانشور ڈبلیو ایچ ولز کے اقوال سے اپنی گفتگو کو معتبر بناتا رہا بعد میں پتا چلا کہ ڈبلیو ایچ ولز نام کا کوئی دانشور اس سطح ارضی پر موجود نہیں بلکہ یہ نام ایک سگریٹ کے پیکٹ پر لکھا ہوتا ہے۔

غریب نواز صحافی

لاہور سے سینکڑوں روزنامے شائع ہوتے ہیں ان سب اخبارات کی مل ملا کر کل اشاعت بھی سینکڑوں ہی میں بنتی ہے چنانچہ ان میں سے یہ اخبار صرف اس کے ایڈیٹر ہی کو پڑھنے کے لئے ملتا ہے۔ یہ اخبار ایک تو صحافت اور دوسرے اپنی خدمت کے لئے نکالے جاتے ہیں۔ متعلقہ ادارے سے مک مکا کر کے ان کی تعدادِ اشاعت کا اگر لاکھوں نہیں تو ہزاروں کا سرٹیفکیٹ لیا جا سکتا ہے جس کے مطابق انہیں سرکاری اشتہار ملتے ہیں اور تعداد اشاعت کے مطابق اشتہاروں کا ریٹ مقرر ہوتا ہے۔ ان میں سے ہر اخبار کے ساتھ مضافات کے سینکڑوں رپورٹرز منسلک ہوتے ہیں جنہیں کوئی تنخواہ نہیں ملتی بلکہ انہیں اپنے گھر کے علاوہ مالک کے گھر کا چولہا بھی جلانا ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک تانگے والے نے جب کسی ایسے ہی اخبار کے اہلکار سے کرایہ مانگا تو اس نے کہا تم جانتے نہیں میں کون ہوں؟ اور پھر اپنی جیب میں سے اخبار کا آئی ڈی کارڈ نکال کر اسے دکھایا اس پر کوچوان نے اپنی دھوتی کے ’’ڈب‘‘ میں سے ایک کارڈ نکالا اور کہا میں اس اخبار کا بیورو چیف ہوں۔ واللہ علم بالصواب۔

جنگ

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *