دشمن، دروازے پر۔۔۔(قسط5)محمداقبال دیوان

بھارت سے آئی ہوئی ایک مہمان سے مکالمہ۔
۔۔۔ ہمارے محترم محمد اقبال دیوان نے یہ طویل مضمون کچھ دوستوں کے اصرار پر لکھا ہے۔ یہ در اصل چند گھنٹوں کا ایک طویل مکالمہ ہے جو مصنف اور بھارت نژاد، امریکہ میں مقیم ایک گجراتی خاتون کی بے لاگ اور بے باک سوچ پر مبنی تبادلہء خیالات سے کشید کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے کا تفصیلی تعارف اسی مضمون کی پہلی قسط میں موجود ہے۔ انعام رانا۔(ایڈیٹر ان چیف)
چوتھی قسط کا آخری حصہ
اس پارٹی کا نام جنتا پارٹی تھا جو تین سال بعد ٹوٹ گئی۔اس کے پیٹ میں سے بی جے پی نکلی۔ہمارے کلکتہ کے ایک نیتا شیاما پرساد مکرجی ہوتے تھے۔یہ نہرو جی کے ادیوگ(صنعت) منتری تھے۔ کشمیر کے مدعے پر نہرو جی سے لڑائی ہوگئی تو اپنی پارٹی بناڈالی الگ ہوکر اپنی پارٹی بھارتی جن سنگھ بنائی۔1977 میں جب اندرا جی نے ایمرجنسی ختم کی تو چناؤ جیت کے مرارجی ڈیسائی پردھان منتری بن گئے۔اٹل بہاری واجپائی وزیر خارجہ اور ایل کے آڈوانی جی انفارمیشن منسٹر بن گئے۔ ہمارے واجپائی
جی بہت کٹر ہندوتوا والے تھے۔میٹھی زہر میں بجھی چھری۔ان لوگ نے بھارت کا سیکولر آؤٹ لک بدل دیا۔مودی اور آڈوانی کی پالی ٹکس گلی کے غنڈے لوگ کی ہے واجپائی اصل برین تھا۔شیو سینا اور بے جے پی کا جنم ایک سال میں ہی ہوا ساٹھ کی دہائی میں۔شیو سینا کچھ لوگ بولتے ہیں اندرا جی نے بنائی تھی۔

پانچویں قسط

تینوں بابے جیل میں
کم کردیشیاں اور کنائے ویسٹ
بشپ ملعون جو بچوں کی زیادتی کی وجہ سے مستعفیٰ ہوئے

مرارجی ڈیسائی سے بابری مسجد تک کا سفر
گفتگو میں ایک بہت ناپسندیدہ خلل اس وقت آگیا جب شہود میاں نے دوبارہ انٹری دی۔انہیں دیکھتے ہی کامیا پٹیل کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔ کڑواہٹ کی ایک نمی بے باک آنکھوں میں موتیے کی جھلی کی طرح دکھائی دینے لگی۔وہ تو شکر ہے ان کی بیگم نے بھی چند منٹوں میں آن کر کہا کہ وہ گھر جانے کے لیے تیار ہیں۔جس گرمجوشی سے وہ ہم سے بغل گیر ہوئے اور کامیا کو اللہ حافظ اور سی یو اگین کہا اس سے کچھ حیرت ہمیں بھی ہوئی۔ شریر تھی چلے گئے تو کہنے لگی پوؤر گرل، میرا بدلہ چکائے گی۔یہ سارا ویر(بدلہ) اس سے لے گا۔
ہم نے پوچھا شہود میاں سے اتنی نفرت کیوں۔کہنے لگی ان دھارمک ڈرامے بازوں کی وجہ سے میں agnostic(دہریہ) بنی ہوں ۔ہمارے طرف چھ سات بابوں نے سالے لوگ نے کھوب روپیہ کمایا کھوب سیکس اور ریپ کیا۔جیسے ہمارے آسا رام باپو گورمیت رام رحیم سنگھ، پھلاری مہاراج،رام پال جی۔نتھیا نندا،میرے کو سیکس پر کوئی آپتی(اعتراض) نہیں۔سیکس اگر کرنی ہے تو شاہ رخ، اکشے،کم کردیشاں اور کنائے ویسٹ بنو، ننگا ناچو،مگر یہ دھرم کا چولا اوڑھ کر معصوم ناریوں کو مولیسٹ کرنا۔میرے کو  عنبر نے امریکہ میں بولا تھا کہ میرا ایک آ فیسر دوست ہے کراچی میں،وہ بولتا ہے کہ مندر کا چوہا،بھگوان سے سب سے کم ڈرتا ہے۔ مین یہ تو ایک دم گھاتک بات ہے(ہلاکت آمیز) ہم نے کہا وہ بدنصیب ہم ہی تھے جس کا ذکر ہم سے پہلے تیری محفل میں تھا۔مذہبی لوگ سب سے کم اللہ اور تیرے بھگوان سے ڈرتے ہیں ان کو ہی ہم نے مندر کا چوہا بولا تھا۔

رانی کوشیلا ،رام کی والدہ ماجدہ
گہرام پٹیالہ،رام کی جنم بھومی
بھیکا شاہ کا مقبرہ کہرام
پٹیالہ پیگ

سمجھنے کا مدعا یہ ہے کہ ہمارے طرف کے معاشرے بہت گھٹن زدہ ہیں۔ اس کے الٹ امریکہ اور یورپ تو بہت لبرل ہے۔ مال بھی ہے آزادی بھی۔اس کے باوجود سالے یہ پادری بچوں کے ساتھ کیا کیا بلتکار کرتے ہیں مگر یہ جو نیویارک میں بشپ رچرڈ میلون سے پوپ نے جو زبردستی استعفی لیا ہے وہ اس خفیہ لسٹ کے حوالے سے تھا۔ جس میں ان ڈیڑھ سو پادریوں کے نام ہیں جن کے لیے چرچ کے چندہ فنڈ سے ان بچوں کے والدین کو چپ رہنے کے لیے ادائیگی کی گئی جن کے ساتھ ان خبیث پادریوں نے جنسی زیادتی کی تھی۔
کامیا پاکستان کے ایک مشہور سیاست دان کی نقل کرکے کہنے لگی وہ تم لوگ کا ایک پنجابی پولی ٹیشن ہے نا جو منہ  میں سوکھی ڈبل روٹی رکھ کر بولتا ہے چلو مٹی پاؤ۔ سو بابری مسجد پر بات کرتے ہیں۔یہ اپن کی بات ہندو مسلمان والی نہیں۔ خالص گجراتی گرڈ پر ہے۔

مرارجی ڈیسائی پر الزام
مہوش حیات

ابھی کیا ہے کہ سچ بولو تو خود ایودھیا کے پنڈت مہاشے بولتے ہیں کہ رام جی ادھر جنم لیے کہ اودھر کون بتا سکتا ہے۔ وہ تو نو لاکھ  برس پہلے اس سنسار سے اس پار چلے گئے۔ والمیک کی رامائن کے مطابق رام کے والد راجہ دسارتھ کی تین بیویاں تھیں۔ والدہ رانی کوشلیا ہریانہ کی تھیں اور سب سے چھوٹی کائے کئی چکوال کی۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہندوؤں میں ایک سے زیادہ بیوی رکھی جاسکتی ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ ان لوگ جو نسے تھے وہ کوئی بھگوان نہیں تھے سیدھے سادھے چھوٹے موٹے بادشاہ راجے  نواب لوگ تھے۔ کوشیلا کا بیٹا رام سمترا کے بیٹے لکشمن اور شتروگن اور چھوٹی چکوالن رانی کئے کئی کا بیٹا بھارت۔Nothing Divine ۔اب ہندوستان کے بہت سے ایریاز میں پہلا بچہ کرنے لڑکی مائیکے آتی ہے۔ یہ بات من کو لگتی ہے کہ رانی کوشلیا بھی گھورام۔ Ghuram آئی ہوگی جو آج ہم لوگ کا پٹیالہ ہے۔جس کا سردار لوگ پیگ پیتے ہیں۔ (پٹیالہ پیگ بڑے پیگ کو بولتے ہیں)۔ریت رواج کو مانو تو رام للا کی جنم بھومی گہرام ضلع پٹیالہ ۔ریاست ہریانہ ہے نہیں کہ ایودھیا،ضلع فیض آباد لکھنؤ جدھر کی آپ کی گرل فیرینڈ امراؤ جان تھی ۔

کاؤ جی
سود جی کتاب
شریمتی اندرا گاندھی دھماکے والے مقام پوکھران پر

چکر کیا ہے کہ جیسے تم مسلمانوں کوماموں بنانے کے لیے امریکہ کو پہلے طالبان اور القاعدہ کی ضرورت تھی اس لیے اسرائیل نے تم لوگ کے ہاں بہت مال لگایا کہ ہر لفنٹر عرب سے نکل کر روس کو  ٹھوکنے پاکستان آجائے۔ابھی جیاالحق اور اس ٹیم کے جرنلوں اور مولوی لوگ کو ڈالر پیٹیوں میں مل رہے تھے سو بسم اللہ بول کر مال پکڑ رہے تھے۔ہمارے بزنس مین نے سوچا کہ کانگریس سالی لیفٹ کی پالیٹکس کرتی ہے اب اس کو پاور سے باہر کرنا ہوگا۔ تیس سال سے ہندوستان کا نواز شریف بنے لی ہے۔اسی لیے گجرات کے اربا پتی بزنس مین کھاس طور امبانی ۔گوتم آدانی،جندل،متل، پریم جی لوگ بی جے پی پر مال لگایا اور مودی کے لالن پالن کرکے اپنا الو سیدھا کرتے تھے۔ مودی rootless تھا۔کمپلیکس کا مارے لا گھر کا گلام سالا، کھونی۔یہ سب مودی پر دو لگا کر سو کماتے تھے،
ان لوگ نے اندرا گاندھی کو ہرانے کے لیے مرارجی بھائی ڈیسائی اپن کے گجراتی جن کو تم لوگ کی پردھان منتری بے نظیر نے 19 مئی1990 میں سب سے بڑا سول ایوارڈ نشان پاکستان دیا تھا۔
بالکل ہمارے بھارت رتنا ( Jewel of India) جیسا۔ ہمارے فرسٹ انڈین جن کو تم نے اتنا آنر دیا۔ہمارے وی پی سنگھ جی اس وقت بھارت کے پردھان منتری تھے۔ کامیا کا یہ انکشاف ہمارے لیے باعث حیرت تھا۔ ہم نے پوچھ لیا کہ ایسا کیوں ہوا تھا۔ وہ تو بھارتی تھے۔یہ اعلیٰ  ترین ایوارڈ تو پاکستان کے مہربانوں اور معزز مہمانوں کو دیا جاتا ہے۔ویسے مہوش حیات کی بات اور ہے مگر اس کو ذرا ہلکا تمغہ امتیاز دیا تھا۔ان کا ارادہ حریم شاہ کو بھی چھوٹا موٹا تمغہ حسن کارکردگی دینے کا تھا مگر اس کے لچ پن کی وجہ سے گالیاں دے کر چپ ہوگئے کہ سالی یہ کیسی مُنّی ہے جو یاروں کو بدنام کرتی ہے۔

کامیا نے راز کھولا کہ ہماری خفیہ ایجنسی را کے دو چیف ہوتے تھے۔ پہلے تھے آر این کاؤ۔انہوں نے اندرا کے اشارے پر سن 1968 میں را بنائی تھی۔اس نے تم لوگ کا بنگلہ دیش میں کریا کرم(ہندوؤں میں موت کی آخری رسومات) کردیا۔دوسرے ہمارے وکرم سود صاحب تھے۔ وہ بھی را کے چیف تھے۔انہوں  نے اپنی کتابThe Unending Game میں لکھا ہے کہ جب اندرا گاندھی کے بعد پہلی دفعہ مرارجی ڈیسائی نان۔ کانگریسی وزیر اعظم بنے تو را چیف آر این کاؤ نے سن 1977 میں پردھان منتری ڈیسائی سے اجازت مانگی کہ پاکستان سیالکوٹ کے پاس
ایٹمی دھماکے کرنے والا ہے۔ ہم اس سے تین برس پہلے پوکھران۔ راجھستان میں شریمتی اندرا گاندھی کے ٹائم پر اپنا پھٹاکا پھوڑ چکے تھے۔کاؤ جی نے مرارجی بھائی کو بتایا کہ ہمارا جو جاسوسی کا نیٹ۔ ورک پاکستانی پنجاب میں ہے، اس نے ایک پاکستانی سائنسدان کو ٹریپ کرلیا ہے۔ وہ اس دھماکے کا بلیو پرنٹ دس ہزار امریکی ڈالر میں ہم کو بیچنے پر تیار ہے۔پیمنٹ چونکہ فارن کرنسی میں ہونی ہے لہذا آپ  کی منظوری لازم ہے۔آپ کی اکھشا (رضامندی) ہوگی تو پاکستانی سرکار کا گیم الٹ دیں گے۔
ہمارے گاندھی جی کے یہ اہنسا (عدم تشدد) کے چیلے بہت اونچی ہوا میں اُڑ رہے تھے۔وہ نہیں مانے تو کاؤ صاحب نے تیاگ پتر (ہندی میں، استعفیٰ) دے دیا۔
وکرم سود نے یہ بھی لکھا ہے کہ سن1977 میں اسرائیل ہندوستان کی مدد سے کہوٹہ کو برباد کرنا چاہتا تھا مگر مرارجی ڈیسائی نے کہا پاکستان ہمارا پڑوسی ہے۔ہم اپنے ایر اسپیس کسی دوسرے ملک کو پڑوسی کے خلاف استعمال کرنے نہیں دیں گے۔بم ہمارے پاس ہے تو ان کے پاس بھی ہونا چاہیے۔

سو گجراتی نا۔ دشمن کو برباد مت کرو۔ اپنے کو مجبوط رکھو۔دس از بزنس۔ ہم نے نوٹ کیا کہ انگریزی الفاظ میں کامیا کی ف۔ ق۔ ز پھے، کاف اور جیم میں نہیں بدلتی مگر ہندی اردو میں وہ ان کی ادائیگی میں بداحتیاطی کرتی ہے۔وکرم سود یہ بھی لکھتے ہیں کہ پردھان منتری نے ضیا الحق جرنل کو بولا(ہنسی) جیا میرے منے تو بہت ہشیار بنتا ہے۔(جنرل ضیا الحق اور مرارجی ڈیسائی کی شبینہ گفتگو کا احوال ہم پچھلی قسط میں دے چکے ہیں کامیا بتارہی تھی کہ مرارجی بھائی ڈیسائی کو اپنا پیشاب پینے کی عادت تھی سن 1978 میں امریکہ کے مشہور ٹی وی پروگرام سکسٹی منٹس کے میزبان ڈان راتھر کو اس وقت ورطہء حیرت میں ڈال دیا جب انہوں نے urine therapy ان لوگوں کے لیے تجویز کی جو مہنگا علاج کرانے سے قاصر ہوں۔رات کو دونوں رہنما اکثر گپ لگاتے تھے اور بقول کامیا پٹیل تم لوگ کا جرنل جیا الحق سالا لپاڑیا (گجراتی میں گپ لگانے کا شوقین) تھا، اکثرپردھان منتری مرارجی ڈیسائی کو رات کو فون کر کرکے پوچھتا تھا۔ پیشاب کب پینا چاہیے، کتنا پینا چاہیے روز پینا چاہیے کہ ہفتے میں ایک بار؟۔ ایک دن مرارجی بھائی نے اس کو چڑ کر بولا تو نے لوگوں کا کھون (خون)پینا بند کردیا ہے تو جب من آئے  میں پی لے مگر اپنا پیشاب ہی پینا۔۔ایسی ہی ایک مذاق مسخری میں بڈھے ڈیسائی نے چال باز جیا کو بول دیا کہ تم لوگ کے پنجاب میں ہمارے جو جاسوس لوگ ہیں انہوں نے میرے کو بتایاہے کہ تم لوگ کو پھٹاکے پھوڑنے(گجراتی میں پٹاخے چلانا بمعنی ایٹمی دھماکے)
کے چکر میں ہو۔ سیالکوٹ کے پاس جگہ دیکھ لی ہے۔جیا نے تھوڑی دیر گپ لگا کر ان کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔ بولا اکیلے مت آنا۔ ہیما مالنی کو ساتھ لانا اس کی آنکھیں میرے کو بہت اچھی لگتی ہیں۔ مرارجی بھائی بولے ۔ہیما سے میں بات کرلی ہے بولتی ہے تو اپنی آنکھوں کا آپریشن کراکے ان کو ٹھیک کرلے۔
وہ خوش ہوگئے۔بھگوان سے پرارتھنا کر سو گئے۔صبح سے پاکستان میں بھارتی سپوکس(جاسوسوں) کی کھوج شروع ہوئی۔ چن چن کر پکڑے اور موت کے گھاٹ اتار دیے۔ہم لوگ کو کسی نے بتایا کہ بے چارے ہمارے سپوکس کو تم لوگ کی اینجل کمپنی (آئی ایس آئی)نے الیکٹرک۔سا (بجلی کے آرے)سے کاٹا تھا۔

گومکو کلیمپ برائے ختنہ
اجیت دوال طالبان کی زد میں

see saw

وقت ہوچلا تھا کہ ہم کامیا کو اس پروپیگنڈے کی دلدل سے اس کا تندرست بازو بغل کے نیچے سے تھام کر باہر کھینچ لیں سو ذرا زور دے کر کہا۔ ’ٹوٹل بل شٹ۔ آل لائی۔ ایک تو یہ را کا چیف وکرم سود شیطان کا سالا، انٹیلی جینس والا ہے۔تمہاری سول سروس کے پوسٹل گروپ کا افسر تھا۔بعد میں اپنے پیٹرن بی رامن کی وجہ سے را میں گھس گیا۔ابھی تو اس کی باتوں کو Gospel Truth(الہامی سچائی)سمجھے گی تو
Where is your Gujju Swag? Where is that Yankee mind? That touch of class to compel me to think of eloping with you.

( swag آج کل انگریزی لفظ “cool” کی جگہ بولا جاتا ہے۔یہ بتا تیرا گجراتی سواگ کہاں ہے۔وہ کلاس کہاں ہے جو مجھے تیرے ساتھ گھر چھوڑ کر بھاگنے پر اکسائے)
پاکستان میں پولیس اور انٹیلی جینس والے بہت کھراب مانے جاتے ہیں۔ یہ سالے لوگ اتنے بدمعاش ہوتے ہیں کہ پیدا ہوتے وقت نانی نے زچگی کے معاوضے کی جو رقم دائی کو دی ہوتی ہے وہ بھی یہ پرس سے چراکر ڈائپر میں چھپالیتے ہیں۔ نائی اور سرجن بھی ان سے ڈر کر دور کھڑا رہ کر ختنہ کرتا ہے کہ کہیں قینچی یا Gomco clamp چھین کر اس کا ہی کام نہ اتار دیں۔وکرم سود کی کتاب بہت ہلکی ہے۔ ہم نے پڑھے لی ہے۔ سالی میں کوئی Substance نہیں۔۔ہم نے جو تیرے ہاں بہت ٹھیکڑے مارتا (گجراتی میں چھلانگیں مارنا) اجیت دوال اس کو واپس جانے دیا۔حالانکہ افغانستان میں 24 دسمبر1999میں انڈین ائیر لائن کی جو فلائٹ ہائی جیک ہوکر قندھار پہنچی تھی اس وقت اس کو غائب کرنے کے لیے ہماری اینجل کمپنی کا اشارہ کافی تھا۔ یہ لوزر ائیرپورٹ پر جہاز کے پاس ٹرمیک پر کھڑا تھا۔چاروں طرف ہم لوگ کے طالبان بھائی کھڑے تھے۔

ابھی دیکھو ہم نے مبارک حسین پٹیل کو کتنا سنبھال کر رکھا ہے۔ ہمارے ٹی وی پر یا تو فردوس عاشق اعوان، حریم شاہ کو لفٹ ہے یا کمانڈر کلبھوشن یادو(مبارک حسین پٹیل) کو۔ ہم نے حال میں
ونگ کمانڈر ابھی نندن کو چائے بھی پلائی،Bespoke Tailors جبار ٹیلر گروپ سے نیا ہرنائی کا سمر سوٹ بھی سلواکردیا اور ایک نئی یونی فارم انڈین ائیر فورس کی اس کے بیگ میں ڈال دی کہ پرانی یونی فارم کیچڑ میں گرنے کی وجہ سے خراب ہوگئی تھی۔ ہمارا ارادہ تو تم لوگ کو ایک ایف سکسٹین جہاز بھی تمہارے برباد مگ ٹواینٹی ون کی جگہ ایک نیا ایف سکسٹین ویمان دینے کا تھا۔مودی بولا اس کو اڑائے گا کون۔ ہم نے کہا سنی لیونے کو تین دن ہم لوگ ٹریننگ بھی مفت میں دے دیں گے تو بولا۔ وہ سالی مرد لوگ کے سامنے کپڑے نہیں پہنتی۔ اس کو ویمان اڑانے پر لگادیا تو ایر بیس پر بہت دنگا ہوا کرے گا۔اپنا ویمان اپنے پاس رکھو بس ابھی نندن مجھے لوٹا دو۔اب رہا یہ کہ تم لوگ نے جیا جرنل کو جو تمہارے اسپوکس نیٹ ورک کا بتایا تھا تو ہم لوگ نے احسان کا بدلہ دے دیا ہم نے بھی راجیو گاندھی اور ہم لوگ کی بے نظیر کے ٹائم میں خالصتان کے آتنت وادیوں کی پوری لسٹ گفٹ ہیمپر میں دی تھی۔ ٹھوکو سالوں کو ۔ بہت دھماچوکڑہی مچائی ہے تم لوگ کے امرتسر بٹالہ اور بنگلہ فاضلکا میں۔ بڑے بڑے دیشوں میں اس طرح کی انڈراسٹینڈنگ ہوتی ہے۔پیار میں اور پڑوسیوں میں See- Saw relationship ہوتی ہے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *