ٹرانجٹ کی زندگی۔۔ڈاکٹر ظہیر

اتنا غصہ اسے اپنے اوپر کبھی نہیں آیا تھا۔ زندگی میں کئی بار اس نے غلط فیصلے لیے تھے اور ان کا نتیجہ بھگتنے کے ساتھ ساتھ اپنی بیوقوفی اور ناسمجھی پر غصہ بھی آیا تھا۔ لیکن اتنا کہ اپنا سر دیوار سے مارنے کو جی چاہے، ایسی حالت اس کی کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اسے معلوم تھا — اس سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے، کیونکہ اس نے اس آدمی کو ۔۔ کیا نام بتایا تھا اس نے؟ ہاں شام بہاری گرگ ۔۔ کیوں اس کو جواب دیا؟ کیوں اس کے کونچنے کو اَن سنا نہیں کرپائی تھی؟ آخر کیا فائدہ ہوا اسے جواب دینے کا؟ دیکھا جائے تو کیا فائدہ ہوا پارٹی میں جانے کا؟ ہے تو وہ اب بھی اتنی ہی اکیلی یا شاید زیادہ اکیلی، جتنی سومیہ کے آنے سے پہلے تھی۔

شاید سارے فساد کی جڑ سومیا کا آنا ہی تھا۔ شبنم کے پاس جب اتنے پیسے ہوئے کہ وہ ہر دوسرے تیسرے سال کرائے کے گھر بدلنے کی جھنجھٹ سے چھٹی پا لے اور ایک معمولی سا فلیٹ خریدکر، اپنی خانہ بدوشوں کی زندگی کو چھوڑکر ایک جگہ بس جائے، تب اس کی عمر چالیس چھو رہی تھی۔ دو بار رشتے بنانے کی کوشش میں ناکام رہی تھی اس لیے اکیلی تھی۔ بچپن سے ہی اس کی تربیت ایسی ہوئی تھی کہ اس نے رشتہ داروں کی صلاح ہنس کر اڑا دی اور جامعہ ملیہ یا نظام الدین کے آس پاس گھر خریدنے سے انکار کردیا۔ اس کے آس پڑوس میں ادھکتر ہندو خاندان تھے، دو سکھ گھر تھے اور ایک اُتّر پوربی علاقے کے رہنے والے بودھ تھے۔ کالونی میں ایک مندر تھا، جہاں باقاعدگی سے صبح شام آرتی ہوتی تھی۔ اس کے باوجود بڑے والے پارک میں، جسے جاگرس پارک کہا جاتا تھا، پرانے گھنے پیپل کے پیڑ کے نیچے بھی مورتیاں رکھ دی گئیں اور شنیوار کو دیا بھی چلنے لگا۔ کچھ دنوں بعد ایک ہنومان مندر بھی بن گیا اور بڑے زور شور سے یاترا کے بعد ہنومان جی کی مورتی کی پران پرتشٹھا ہوئی۔ ایک شام یوں ہی ٹہلتے ہوئے شبنم نے دیکھا کہ ہر چھوٹے بڑے پیپل کے اور برگد کے نیچے دیے جل رہے ہیں، پھول پڑے ہوئے ہیں اور اکادھ پر لال چُنری بھی بندھی ہوئی ہے۔ وہ خود تو مذہبی تھی نہیں، اس لیے پڑوسیوں کے  اندرونی عقیدوں پر ہنس دی۔

جب وہ اپنا سامان ٹمپو میں لدواکر اکیلی آئی تھی تو تیز گرمیوں کے دن تھے۔ اس کے برابر والے پڑوسیوں نے اسے دو بار پانی پلایا۔ ان کا جوان لڑکا بھاری سامان لگوانے میں اس کی مدد کرنے آگیا۔ وہ دودھ خریدکر لائی تو اسے اپنے فریج میں رکھ دیا، تاکہ اس کے فریج کے ٹھنڈے ہونے تک پھٹ نہ جائے، نیچے والے پڑوسی بن مانگے برف دے گئے اور رات کے کھانے پر آنے کے لیے زور دیتے رہے۔ یہ سب اس وقت تک، جب تک اس نے اپنے نام کی تختی، فلیٹ کے دروازے پر نہیں ٹانگی تھی۔  پھر تو  ایسا چپ ہوئے ساتوں گھروں کے لوگ جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ وہ تو وہی تھی۔ پھر اس کے مذہب سے بھلا کیا بدل گیا تھا؟ خیر، شبنم کو اس طرح کے اچانک روکھے پن کی عادت تھی اور اسے یہ بھی وشواس تھا کہ اگر وہ سب کے ساتھ ٹھیک سے پیش آتی رہے گی تو آدھے سے زیادہ لوگوں کے برتاؤ کی ٹھنڈک خود بخود ہی کم ہوجائے گی۔ ویسے بھی، اسے اتنی دوستی گانٹھنے کا وقت بھی کہاں تھا۔ شام چار بچے اسکول سے لوٹتی، اپنا سارا کام خود کرتی اور پڑھنے لکھنے سے نبٹتے یوں ہی رات ہوجاتی۔

شبنم نے سب سے اوپر کا فلیٹ دو کارنوں سے خریدا تھا۔ ایک تو تیسری منزل کا یہ فلیٹ سب سے سستا تھا۔ دوسرے، اس کے اوپر والی چھت ساتھ ملی تھی۔ شبنم نے یہاں بستے ہی چھت پر گملے لگانے شروع کردیے۔ دھیرے دھیرے پیڑوں نے چھت کو ہریالی سے بھر دیا۔ موسم بدلا تو پھولنے والے گملے پھولوں سے لد گئے۔ لیکن پھول آئے ہوئے کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ پھول غائب بھی ہونے لگے۔ اسے اکثر، تڑکے سویرے چھت پر کسی کے دبے دبے پیروں کی آہٹ ملتی۔ شاید کوئی بچہ اس کا باغیچہ خراب کررہا ہے، یہ سوچ کر وہ ایک صبح چپکے چپکے آپہنچی۔ کیا دیکھتی ہے کہ دو بزرگ عورتیں جلدی جلدی تازۃ کھلے ہوئے پھول توڑ رہی ہیں۔ اسے دیکھ کر ذرا کھسیاکر ہنسی۔ شبنم بھی مسکرا کر بولی، ”کسی کی چیز لینے سے پہلے پوچھنا ضروری ہوتا ہے۔“
ان میں سے ایک، جو ذرا بے باک سی تھی، بولیں، ”پوجا کے لیے ہیں، بھگوان کے لیے۔“
”او اچھا، بھگوان کے لیے لینے سے پہلے پوچھنا نہیں ہوتا؟“ شبنم کے طنز پر وہ ڈھٹائی سے بولیں، ”سب کچھ تو بھگوان کا ہی ہے، ہمارے دھرم میں تو ایسا ہی مانتے ہیں۔“
”تب اس طرح سے منہ  اندھیرے، چوری چھپے کیوں لینے آتی ہیں؟“
”بھگوان کے لیے لی گئی چیز کو چوری کہتی ہو۔ ودھرمی ہو نہ اس لیے“ وہ بھڑک پڑی۔
شبنم نے تیکھے لہجے میں کہا، ”ودھرمی کے پھول لیتے اور اپنے دیو کو چڑھاتے تو آپ کو آپتّی نہیں ہے،“ وہ انھیں سمجھانا چاہ رہی تھی کہ سارے پھول نہ  توڑ لیا کریں۔ بھگوان تو دو چار پھولوں میں ہی مطمئن ہوجائیں گے، وہ دونوں اس کا سارا باغیچہ کیو ں مونڈ دیتی ہیں۔ لیکن یہ سب کہنے سمجھنے سے پہلے ہی دونوں تن کر، چنے ہوئے پھول پھینک کر بڑبڑاتی ہوئی چھتوں کے بیچ کی چھوٹی سی منڈیر پھاندکر چلی گئی۔

دھیرے دھیرے کچھ پریواروں سے آتے جاتے دعا سلام ہونے لگی۔ نامی پبلک اسکول میں بارھویں کی حساب کی ٹیچر ہونا اپنے آپ میں ایک الگ تعارف ہے جو آج کی ہوڑ کی دنیا میں ایک رتبہ تو دلا ہی دیتا ہے۔ نیچے والی مسز گپتا نے ایک دن ذرا ہچکچاتے ہوئے کہا کہ ان کی لڑکی گنت میں کمزور ہے۔ دسویں کے  بورڈ کا امتحان ہے۔ سارا کیریئر اسی سال پر ’ڈیپنڈ‘ ہے۔ شبنم نے جو اس لڑکی کو پڑھانا شروع کیا تو نئی بسی ہوئی کالونی میں اس کے پڑھانے کی دھوم مچ گئی۔ دوسرے بچے بھی آنے لگے، پیسہ بھی آئے اور وقت بھی اچھا کٹنے لگا۔ پڑوس کے لوگ تھوڑا بہت کھل گئے مگر نہ کوئی اس کے گھر آتا نہ اسے اپنے یہاں بلاتا۔

پھر سومیہ کو دلّی میں ایک بڑی نوکری مل گئی۔ بچپن کی ساتھی، بات بات پر ہنسنے والی، بڑی ملنسار چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس، شبنم کی سب سے اچھی دوست سومیہ، لکھنؤ سے یہاں آکر، کمپنی کا گھر ملنے تک بھلا اس کے یہاں نہیں تو اور کہاں رہتی؟ چار سال کے بعد کی ملاقات۔ شروع کی شامیں تو بچپن کے دنوں، ہاسٹل کی یادوں، دوستوں کی خبروں کی ادل بدل میں گزر گئیں۔ پانچویں شام سومیہ نے اس سے صاف صاف پوچھ ڈالا — ”یار، کیا بات ہے؟ یہ تیرے پڑوسی نہ تیرے یہاں آتے جاتے ہیں، نہ تجھے بلاتے ہیں۔“
شبنم نے بات کو ٹالتے ہوئے کہا، ”بس ایسے ہی ہیں، کیا کیا جائے؟“ وہ جلدی جلدی چائے کے کپ اٹھانے لگی، لیکن سومیہ کب ماننے والی تھی، اس کے پیچھے پیچھے کچن تک آگئی۔
”مجھے بھی عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔“
”اب تو دیکھنے میں اچھی ہے تو مرد تو تجھے عجیب نظروں سے دیکھیں گے ہی،“ شبنم نے بات کو ہلکا کرنے کی کوشش کی۔
”میں اس دیکھنے کی بات نہیں کررہی ہوں۔ چنک بھر دروازہ کھول کر، تھوڑا سا پردہ ہٹاکر، چھپ کر جائزہ لینا جیسے سمجھنے کی کوشش کررہے ہوں کہ میں چیز کیا ہوں۔ آج شام تو نیچے والی مسز گپتا نے پوچھ ہی ڈالا۔“
چائے کا کپ شبنم کے ہاتھ سے پھسل کر سِنک میں گر گیا، ”کیا پوچھا مسز گپتا نے؟“ اسے معلوم تھا — سومیہ تعصب کی باتوں سے بھڑک جاتی ہے۔ کہیں لڑہی نہ پڑی ہو۔
”میرا نام پوچھ رہی تھیں اور پھر یہ جان کر کہ میں سومیہ ادھیکاری ہوں، مجھے زبردستی اندر لے گئیں۔“
شبنم کا دل بیٹھ رہا تھا، مگر وہ چپ رہی۔
”کہنے لگی کہ بِندی دیکھ کر ہی سمجھ گئی تھی کہ میں ہندو ہوں۔ میں نے کہا کہ وہ تو شبنم بھی اکثر لگاتی ہے۔ ذرا کھسیاگئی۔ پھر کافی دیر تک تیری میری دوستی کے بارے میں پوچھتی رہیں۔ سمجھ تو میں بھی گئی تھی کہ وہ کیوں یہ سب کھوج خبر لے رہی ہیں۔ اس لیے میں نے بھی تیری ہندو دوستوں اور اپنی مسلمان سہیلیوں کے بارے میں انھیں دل کھول کر بتایا۔ بیچ بیچ میں یہ طعنہ بھی دیتی گئی کہ نہ جانے وہ کیسے لوگ ہوں گے جو دھرم کی وجہ سے کسی سے بیر رکھتے ہیں۔ پہلے انسان کو پرکھنا چاہیے، پھر اسے پسند یا ناپسند کرنا چاہیے۔“
”اف سومیہ، یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی؟“ اس نے ذرا ناراض ہوتے ہوئے پوچھا۔
”واہ! ضرورت کیسے نہیں تھی۔ دس انسٹی ٹیوشن ہیز ٹو بی نِپڈ اِن دی بڈ۔“
”وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہوجاتا۔ جلدبازی کرنے سے کیا فائدہ؟“
”تو ہر بات کو وقت پر چھوڑنے والی ڈیفی ٹسٹ کب سے ہوگئی اور فائدہ تو ہوا۔ کل شام کو مسز سریواستو کے یہاں چائے کا نیوتا ہے۔ ہم دونوں کا!“
”کیا!“ شبنم کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔
”جی ہاں! جاننا پرکھنا بھی شبنم، وقت ساتھ گزارنے پر ہی نربھر کرتا ہے۔ وہ بھی تو جانیں کہ پڑھے لکھے، ترقی پسند ہندوؤں اور مسلمانوں کی ضرورتوں، خواہشوں اور آکانچھاؤں میں کوئی فرق نہیں ہے۔“

’ایف‘ بلاک کے سارے لوگ جمع تھے۔ مسز سریواستو کے بیٹے کا تین دن پہلے، ان کے سسرال جے پور میں مُنڈن ہوا تھا۔ اسی کی پارٹی تھی۔ دونوں پتی پتنی اور باقی سبھی مہمان شبنم کے ساتھ بڑے اپنے پن سے پیش آرہے تھے۔ وہ برابر خود کو کوس رہی تھی۔ ایسی ایک بھی پارٹی اگر وہ اپنے گھر میں کر لیتی تو سال بھر اسے اکیلے پن میں، صحیح  وقت کا انتظار کرتے ہوئے نہ کاٹنا پڑتا۔ آخر اس کے پہل کرنے میں کیا بگڑ جاتا؟ مسز سریواستو، پکوڑے بنانے اور چھوٹے سے بچے کو سنبھالنے میں نڈھال ہوئی جارہی تھیں۔ جب شبنم نے ہچکچاتے ہوئے ان سے کرچھی مانگی تو وہ نہال ہوتی ہوئی بولیں، ”آپ مجھے انجانا کہا کیجیے نا۔“
”کہہ سکتی ہوں اگر آپ بھی مجھے شبنم اور تم کہیں۔“ عورتوں میں ایک ہنسی کا پھوّارہ پھوٹا۔
”ہاں بھئی، لین دین برابر کا ہونا چاہیے۔“ مسز گپتا بولیں۔
”ناپ تول کی بات تو تمھیں بتا سکتی ہو، بنیانی جو ہوں۔“ مسز بھاٹیہ نے چٹکی لی، عورتیں پھر زور سے ہنسیں۔

سب لوگ کھا پی کر نمٹ گئے تو کافی کی ٹرے گھمائی گئی۔ شبنم کے سامنے ایک سجّن بیٹھے تھے جو بار بار اسے بڑے دھیان سے دیکھ رہے تھے۔ بیچ بیچ میں دوسرے مہمانوں سے کچھ اس طرح سے بات کرتے کہ شبنم کو وشواس ہوجاتا کہ اسی کے بارے میں بات ہورہی ہے۔ وہ یہ ارادہ کرہی رہی تھی کہ اٹھنا چاہیے کہ انھوں نے تپاک سے اور کافی زور سے اس سے پوچھا، ”تو مس شبنم بلگرامی، آپ سے ایک بات پوچھنی ہے۔“ ان کی کوشش کرکے رعب دار بنائی آواز اور خود کو انصاف پسند دکھانے کی کوشش پر شبنم ذرا ہوشیار ہوکر ان کی طرف دیکھنے لگی۔
”ویسے پوچھ میں رہا ہوں لیکن یہ سوال یہاں پر ہر کسی کے من میں ہے۔ آپ کہہ سکتی ہیں کہ یہ ایک ’کلیکٹیو‘ سوال ہے۔“ وہ سب کی طرف دیکھ کر مسکرائے جیسے کہہ رہے ہوں، ”ڈرو مت، تمہارے وِچاروں کو میں شبدوں کا روپ دیتا ہوں۔“
شبنم چپ رہی اور ان کو ایک ٹک دیکھتی رہی۔
”تو ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ رام جنم بھومی کے بارے میں کیا وِچار رکھتی ہیں؟“
سب چپ تھے۔ شبنم نے تھوک نگلا — ”رام جنم بھومی پر وِچار سے آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟“ اس نے الٹا سوال کیا۔
”مطلب آپ کیا چاہتی ہیں؟ وہاں رام مندر بنے یا دوبارہ بابری مسجد بنا دی جائے؟“
اب تک شبنم سنبھل گئی تھی۔ گمبھیر ہوکر بولی، ”ہوسکتا ہے، میں دونوں نہ چاہتی ہوں۔“
”یہ تو ٹالنے والی بات ہوئی،“ انھوں نے ترک کیا۔
”کیوں؟ بات ٹالنا کیا ہوا؟ کوئی ضروری ہے کہ مندر چاہیں یا مسجد؟“ سومیہ بحث میں کود پڑی۔
”کوئی پکچھ تو لینا ہی پڑے گا۔ میں تو یہی کہوں گا کہ ہر مسلمان کو ہندوؤں کا ساتھ دے کر ایک بھویہ رام مندر کے نرمان کے کام میں یوگدان دینا چاہیے۔“
”آپ کا کیا نام ہے؟“ سومیہ نے ذرا بدتمیزی سے پوچھا۔
”میرے نام سے ستیہ تو نہیں بدل جائے گا، ویسے میں شام بہاری گرگ ہوں۔“
”آپ کس ستیہ کی بات کررہے ہیں؟“ شبنم نے پوچھا۔
”مسلمان تو باہر سے آئے تھے نا اور لٹیرے تھے۔ ان کا مقصد بھارت سے پراچین ہندو دھرم کو ختم کرکے اسلامی راج قائم کرنا تھا۔ اسی لیے انھوں نے مندر توڑے اور ان کی جگہ مسجدیں بنائیں۔ نیائے تو ہونا ہی چاہیے۔ ساری پرانی مسجدوں کو آج گراکر ان کی جگہ دوبارہ مندر بننے چاہئیں۔ ہندو راشٹر کی یہی مانگ ہے۔“
”بھارت ہندو راشٹر کب سے ہوا؟“ سومیہ نے جرح جاری رکھی۔
”جب سے ان لوگوں نے اپنا پاکستان مانگا اور پالیا۔“ انھوں نے پلٹ کر جواب دیا۔
”لیکن شبنم کے پریوار سے کوئی پاکستان نہیں گیا۔ نہ ہی ان لوگوں نے کبھی پاکستان کی طرفداری کی تھی۔“ شبنم کو ذرا ہکّا بکّا دیکھ کر سومیہ نے ان کی بات کا جواب دیا۔
”تب تو انھیں بھارتیہ سنسکرتی کو مان لینے میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں ابھی تک پرائی بنی ہیں۔“ وہ اسے اُکسا رہے تھے، اتنا تو شبنم بھی سمجھ رہی تھی۔ لیکن سومیہ کو چھوڑکر کوئی اور کچھ کیوں نہیں بول رہا تھا، یہ اس کے سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ تھوک نگلتے ہوئے بولی، ”بھارتیہ سنسکرتی کا مطلب ہندوتو ہے کیا؟ آپ دھرم اور سنسکرتی کو ایک مانتے ہیں؟“
”ایک ہی تو ہیں۔“ انھوں نے اطمینان سے کہا۔
سومیہ بپھر پڑی، ”آپ لوگوں نے رام جنم بھومی کے نام پر ہندوتو کو اچھالا۔ پاگل پن کی ایک باڑھ آئی، اور ہندو دھرم کے کچھ ٹھیکیداروں نے، کچھ غنڈوں کے سہارے بابری مسجد گرا دی۔ کر لی آپ نے اپنی من مانی۔ اس کے بعد کیا کیجیے گا؟ اب جنتا کو کیسے اکسائیے گا؟ اب تو آپ کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں ہے، کوئی مدعا نہیں ہے۔“ سومیہ کا ترک سن کر ان کے ہونٹ ایک چکنی سی مسکان میں پھیل گئے۔ مسکان جو ان کی آنکھوں تک نہیں پہنچی۔ ان کی آنکھیں تیکھی ٹھنڈی نظروں سے اُسے گھور رہی تھیں، کونچ رہی تھیں۔ بات سومیہ نے کہی تھی لیکن جواب وہ شبنم پر نظر گڑاکر دے رہے تھے۔
”کیوں، ابھی تو کاشی ہے، متھورا ہے اور بھی نہ جانے کتنے مندر ہوں گے جن پر مسجدیں کھڑی کردی گئی ہیں۔ سب کو واپس چھین لینا ہے۔“
شبنم کافی دیر سے اپنے غصے کو دبائے، کھولتے ہوئے سومیہ کو اُبال آنے سے روکے اپنا دماغی سنتولن بنائے رکھنے کی کوشش کررہی تھی۔ اُسے لگا جیسے اس کے اندر، دل کے بہت قریب، ایک تڑاک کی آواز کے ساتھ کچھ چٹخ کر ٹوٹ گیا۔ اس کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی ساتھ کوئی زور زور سے چیخنے لگا۔ کیا کوئی قیمتی چیز ٹوٹی تھی؟ ایک پل کے بعد اسے پتہ چلا کہ چیخنے والی آواز اسی کی تھی۔
”ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں۔ آپ لوگ رام جنم بھومی لیجیے، کاشی اور متھورا لیجیے۔ ہم لوگ کشمیر لے لیں گے۔ آدھا تو لے ہی لیا ہے۔“ وہ زور زور سے روتی ہوئی باہر بھاگی اور سومیہ کی آوازوں کو نظرانداز کرتی ہوئی سیڑھیاں چڑھ کر اپنے فلیٹ میں گھس گئی۔

دو چار منٹ پھوٹ پھوٹ کر رونے کے بعد اس نے خود پر قابو پایا، ٹھنڈے پانی کے چھپاکے مارکر منھ پونچھا، بالوں میں کنگھی پھیری، خود کو گالیاں دینے کا سلسلہ روک کر کچھ ٹھوس کرنے کے بارے میں سوچنے لگی۔ نیچے جاکر اسے معافی تو مانگی ہی چاہیے۔ یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس نے جو کچھ بھی کہا وہ غصے میں اس کے منہ  سے نکل گیا تھا، اس پر وشواس اسے قطعی نہیں تھا۔ لیکن کیا اتنی بڑی بات کو لوگ معاف کردیں گے؟ اور سومیہ؟ اس سے کیسے نظریں ملائے گی، وہ تو ہمیشہ سے تعصب کے خلاف کھڑی رہی تھی۔ اس سومیہ کی تو اس نے ناک ہی کاٹ دی تھی۔ دکھ، ڈر، آشنکاؤں کی لہریں اس کے من میں دوڑنے لگیں۔ تعصب کا جواب بھلا دہشت گردی ہوسکتا ہے؟

کتابوں کے بڑے سے ریک کے سب سے نچلے والے خانے میں رکھی ہوئی فائلوں کی پنکتی میں سے اس نے سب سے موٹی والی فائل نکالی۔ ساڑی کے پلّو سے جھاڑکر بڑے احتیاط سے فائل میز پر اس طرح سے رکھی جیسے وہ معمولی گتّے کی بدرنگ فائل نہیں، کوئی بہت قیمتی اور نازک چیز ہو۔ فائل کھولتے ہی چھوٹے بڑے کالے حروف کی سرخیاں اس کی آنکھوں کے سامنے ناچنے لگیں ……
”کشمیر ہندوؤں کو ان کے گھر واپس ملے۔“
”اپنے ہی دیش میں شرنارتھیوں — کشمیری پنڈت!“
”مسلم پڑوسی! دوست یا جاسوس؟“
”آج بھی یاد آتے ہیں زعفران کے کھیت!“
اور بھی نہ جانے کیا کیا۔ ان لیکھوں کی کترنیں، جو اس نے پچھلے سالوں میں لکھے تھے، جن کے کارن اس کے مسلم دوست اس سے کترانے لگے تھے، جو اس نے کشمیری کیمپوں میں گھوم کر، اپنے آنکڑے جمع کرکے لکھے تھے، اس وشواس اور اعتماد پر کہ ایک انسان کو کسی بھی حالت میں دوسرے انسان سے اس کا گھر، اس کا وطن چھڑوانے کا حق نہیں۔ اس نے اگلا صفحہ پلٹا — ”مندر یا مسجد کی ضرورت کسے؟ ایودھیا کو ملے ایک وشووِدیالیہ“، ”ہندو مسلم مل کر بنائیں ایودھیا میں ایک بہترین اسپتال۔“ ایودھیا، فتح پور، الٰہ آباد میں پیدل گھومنے کے نتیجے، عام جنتا کے وِچار جو کسی بھی دھارمِک آندھی میں سوکھے پتّوں کے ڈھیر کی طرح تتر بِتر ہوجاتے ہیں یا تعصبی نشے میں بھبھک پڑتے ہیں، وہی جنتا اصل میں کیا چاہتی ہے۔ وہ معمولی زمین کے نزدیک جینے والے انسان، جن کی حسرتوں کی اڑان بھویہ مندروں، عالیشان مسجدوں اور انترکچھ سے دِکھنے والی چاردیواریوں تک نہیں جاتی۔ جو دنگوں میں برابر سے پستے ہیں اور اپنے مستقبل کے لولہے لنگڑے، خون سے لتھڑے جسم کو گود میں اٹھائے، انصاف کی فریاد کرتے کورٹ کچہریوں کے چکّر کاٹتے ہیں۔

اس نے منہ پر وہی دھول لگا پلّو پھیرا، فائل کو ثبوت کے طور پر اٹھائے دروازے کی طرف بڑھی۔ دروازے کے ہینڈل گھما کر اس نے اپنی طرف کھینچا۔ چوماسہ بیتے تو مہینہ ہوآیا، تعجب ہے کہ لکڑی ابھی تک پھولی ہوئی ہے۔ اس نے اور زور سے کھینچا اور پھر پورا زور لگایا۔ انتم بار میں اسے باہر کی کنڈی کی ’کھڈ ٹن‘ سنائی دی۔ تو دروازہ پھول کر پھنس نہیں گیا تھا۔ اسے باہر سے کسی نے بند کردیا تھا۔
ایک انجانے اندیشے نے اس کے دل کو گھیر لیا تھا۔ وہ بڑے کمرے کی بالکونی پر نکل آئی۔ برابر کے فلیٹ کی بالکونی کا دروازہ کھلا تھا۔ دل کی بڑھتی ہوئی رفتار کو کم کرنے کے لیے اس نے ایک لمبی سانس لی، پھر ایک ساتھ دو بار پکارا، مسز نیگی، مسز نیگی!“
پڑوس کے گھر سے ایک خاموشی کی گونج آئی۔ ایسی خاموشی جیسے کوئی سن کر اَن سنا کررہا ہو۔ بے چینی کو پیچھے دھکیل کر شبنم نے پھر آواز دی۔ بیس کے قریب آوازوں کے بعد، مسز نیگی کا جوان لڑکا بالکنی پر آیا۔ اس کا پورا ہاؤ بھاؤ ایسا تھا جیسے اسے تنگ آکر صرف اس لیے باہر بھیجا گیا تھا تاکہ وہ پکارنا بند کردے۔ وہ اسے بتا ہی رہی تھی کہ اس کا دروازہ باہر سے بند ہے کہ اس کی طنز بھری مسکراہٹ دیکھ کر رُک گئی۔ لڑکے نے ایک پل اسے دیکھا، پھر بنا کچھ کہے سنے اندر لوٹ گیا۔ ٹی وی کا والیوم اندر سے بڑھ گیا۔ شبنم کچھ پل تو سکتے میں کھڑی رہی، پھر دوڑکر اندر آئی اور اپنا موبائل ڈھونڈنے لگی۔ دماغ اس قدر تیزی سے کام کررہا تھا کہ ڈھونڈنا شروع کرنے سے پہلے ہی اسے احساس ہوگیا تھا کہ موبائل فلیٹ میں نہیں ہے۔ اسے تو وہ اپنے پرس میں نیچے بھول آئی تھی۔
وہ پھر بالکونی پر لوٹ آئی۔ کیا کرے؟ ڈر کی ایک باڑھ اس کے پورے جسم پر دوڑتی ہوئی، سینے میں بندھ رہی تھی۔ بھئے سے سرابور نسیں، پھیپھڑوں میں جاکر، اسے چھان کر، ہمت دینے والے، ڈھاڈھس باندھنے والے بھاگ کو باہر پھینک کر، شُدھ ڈر سے ڈوبے لہو کو واپس دل تک لوٹا رہی تھی۔ ڈر! کیا ہوگا؟ کیا یہ لوگ اسے یہیں بند چھوڑ دیں گے۔ دھیرے دھیرے تِل تِل کرکے مرجانے کے لیے۔ اس نے دوڑ کر فریج کھولا۔ ایک ڈبل روٹی، تین چار ٹماٹر، ایک گوبھی کا پھول، ہاں فریجر میں گوشت کے چار پیکٹ تھے۔ لیکن بھلا اتنا سا کھانا کتنے دن چلے گا؟ اور پانی؟ اگر نیچے سے پانی کا کنیکشن کاٹ دیں۔ اس نے جلدی جلدی پانی کی ساری بوتلیں بھریں، پھر دوڑ کر باتھ روم میں ساری بالٹیاں بھریں۔ بجلی کا میٹر بھی تو نیچے ہے۔ اگر بجلی کاٹ دیں ……؟ یا شاید کسی دن، رات کے سنّاٹے میں، کوئی پٹرول بم آکر اس کے گھر میں گرے اور سب کچھ جل کر خاک کردے؟ جب لپٹیں ٹھنڈی ہوں تو ایک گمنام لاش برآمد ہوگی۔

اپنے ڈگمگاتے پیروں کو اس نے ایک کرسی پکڑ کر سہارا دیا، پھر اسی کرسی پر بیٹھ گئی۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران، یوروپ میں ہوئے یہودیوں پر ظلم سے اسے ان کے ساتھ ہمدردی تو تھی، لیکن آج شاید پہلی بار اسے سمجھ میں آرہا تھا، ان کے دل اور دماغ پر کیا گزری ہوگی۔ کیا انھیں بھی یہ خیال بار بار تڑپاتا نہیں ہوگا کہ جرمن گستاپو تو ان کے دشمن ہیں، لیکن عام جرمن کو کیا ہوا ہے؟ کیوں انھوں نے نفرت کے اس باڑھ میں خود کو بہہ جانے دیا؟ کیوں یہودیوں کے بارے میں جاسوسی کی، انھیں ہنس کر، تالیاں بجاکر ’کانسینٹریشن کیمپ‘ بھجوایا؟ کیا ہمارا دیش بھی اسی راہ پر چل رہا ہے، جب کسی دھرم میں جنم لینا اتنا بڑا گناہ ہوگا کہ اس دھرم کے ماننے والوں کو منہ  چھپائے پھرنا ہوگا؟

ظاہر ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ یہ خیال آتے ہی اس نے راحت سی محسوس کی۔ دل کا بوجھ اور کم کرنے کے لیے اس نے ایک لمبی سانس لی۔ شہر میں قاعدہ قانون ہے، آس پڑوس میں اور لوگ بھی ہیں اور سب سے بڑھ کر سومیہ تو ہے ہی، جو اس وقت بھی ان لوگوں کے ساتھ بحث کررہی ہوگی۔ ان کے تعصب سے پک گئی سوچ کو بدلنے کی کوشش کررہی ہوگی۔ جو جیتے بغیر مورچہ چھوڑے گی نہیں اور اگر یہ رَن ہار بھی گئی تو بھی اس کے پاس تو آئے گی ہی۔ اسے آزاد تو کرے گی ہی!

شبنم کے انتطار کی رنگت بدل گئی۔ کیا وہ اسی طرح انتظار کررہی تھی جیسے یوروپ کے کسی گھر کے تہہ خانے میں کسی یہودی پریوار نے کیا ہوگا کسی مہربان عیسائی کا کہ وہ ان کے لیے کھانے کا سامان، کچھ دوائیں، کچھ روز ضرورت کی چیزیں بخش جائے یا اگر ممکن ہو تو انھیں سرحد پار کروانے کا انتظام کردے تاکہ وہ اپنے وطن کو چھوڑکر، پھر کسی زمین کے ٹکڑے پر اپنا وطن بسا سکیں۔

نور ظہیر
نور ظہیر
نور صاحبہ اپنے بابا کی علمی کاوشوں اور خدمات سے بہت متاثر ہیں ، علم اور ادب ان کا مشغلہ ہے۔ آپ کا نام ہندستانی ادب اور انگریزی صحافت میں شمار کیا جاتا ہے۔ایک دہائی تک انگریزی اخبارات نیشنل ہیرالڈ، اور ٹیکII، پوائنٹ کاؤنٹرپوائنٹ اخبارات میں اپنی خدمات سرانجام دیتی رہی ہیں ۔نور ظہیر کی علمی خدمات میں مضامین، تراجم اور افسانے شمار کیے جاتے ہیں۔ ہندوستان جہاں سرخ کارواں کے نظریات نے علم،ادب، سیاست، سماجیات، فلسفے اور تاریخ میں جدید تجربات کیے، وہیں ثقافتی روایات کو بھی جدید بنیادوں پر ترقی پسند فکر سے روشناس کروایا گیا۔ ہندوستان میں “انڈین پیپلز تھیٹر(اپٹا) “، جس نے آرٹ کونئی بنیادیں فراہم کیں ، نور بھی ان ہی روایات کو زندہ رکھتی آرہی ہیں، اس وقت نور ظہیر اپٹا کی قیادت کر رہی ہیں۔ نور کتھک رقص پر بھی مہارت رکھتی ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں جا چکی ہیں، آدیواسیوں کی تحریک میں کام کرتی آرہی ہیں۔سید سجاد ظہیر کے صد سالہ جشن پر نور ظہیر کے قلم سے ایک اور روشنائی منظر عام پرآئی، جس کا نام ” میرے حصے کی روشنائی” رکھا گیا۔ نور کی اس کتاب کو ترقی پسنداور اردو ادب کے حلقوں میں اچھی خاصی پذیرائی حاصل ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *