سب سے بڑا گناہ۔۔ڈاکٹر نور ظہیر

فرزانہ نے ان سولہ عورتوں پر نظر دوڑائی جو زنانہ جیل سے اس کمرے میں لائی گئی تھیں۔ پھر اس نے نظر بھرکر اس نوجوان ڈاکٹر اور ڈاکٹرنی کو دیکھا جو بیچ والی کرسی اور سٹول پر بیٹھے تھے۔ وہ طنز سے مسکرائی اور اٹھارہ کپ سے بھری ٹرے اس نے آگے بڑھ کر ان کے پاس میز پر رکھ دی۔
لیڈی ڈاکٹر   بولی— ”سب کو دو۔ ہم سب ساتھ ہی چائے پئیں گے۔“
فرزانہ پھر مسکرائی — ساتھ! چائے پینے میں، کھانا کھانے میں، اس میں تو انسان کو بڑی آسانی سے ساتھ مل جاتا ہے۔ اس سے ذرا بھی بڑے کام میں ساتھ چاہو تو لوگ کیسے دامن جھٹک لیتے ہیں۔ وہ گول رکھی ہوئی پلاسٹک کی کرسیوں میں سب سے پیچھے بیٹھ گئی۔ اس کے سامنے اور اگل بغل، عمرقید کاٹ رہی عورتیں تھیں۔ سب کی سب خونی، سب کی سب اکیلی۔
کچھ دن پہلے آئی جیلر نے جیل میں نئے تجربے کرنے شروع کیے تھے۔ یہ بھی کوئی نئی قسم کی تھیرپی تھی۔ جرم ثابت ہوجانے کے بعد، سزا کاٹ رہی عورتوں کے لیے۔ گروپ تھیرپی کے دوران انھیں اپنی کہانی سناکر خود یہ طے کرنا تھا کہ ان کی زندگی میں ان کے حساب سے سب سے بڑا جرم کیا تھا؟ وہ — جس کی وہ سزا کاٹ رہی تھیں یا کوئی اور۔ جیلر نے بتایا کہ اس گروپ تھیرپی سے انھیں جیل کی سزا کے بعد زندگی شروع کرنے میں مدد ملے گی۔ چھوٹنے کے بعد زندگی؟ ایک دن سے دوسرے دن جیتے رہنے میں مدد کی کیا ضرورت!
بات چیت شروع ہوچکی تھی۔ ڈاکٹر صاحب سمجھا رہے تھے کہ کوئی زبردستی نہیں ہے۔ جو جتنا بتانا چاہے اتنا ہی بتائے۔ اپنے جرم کی بات نہ کرنا چاہو تو دوسروں کی داستان سنیں، تاکہ خود اپنے کیے کا سامنا کرسکیں۔ تین چار عورتیں سناچکی تھیں۔ دو چار ان کی کہانی پر، کچھ اپنی آپ بیتی پر سوچ کر رو رہی تھیں۔ فرزانہ کو یہ سب ڈھکوسلہ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ چائے ایک گھونٹ میں گلے سے اتارکر اس نے ایک ہاتھ سے کپ زمین پر رکھا اور دوسرا ہوا میں اٹھایا۔
ڈاکٹر کی آنکھوں میں ذرا سی حیرانی آئی۔ پھر اس نے اپنی ساتھی کی طرف مڑکر دیکھا۔ ابھی تک عورتوں کو کچھ بھی کہنے کے لیے بہت سمجھانا اور اُکسانا پڑا تھا۔
ڈاکٹرنی اس کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے بولی — ”تم خود ہی اپنی بات کہنا چاہتی ہو، یہ تو بڑا اچھا ہے۔“
”کہنا تو ہے ہی، تو پہلے ہی کہہ کر چھٹی پالوں۔ یہ سب چونچلے مجھے پسند نہیں۔ میری کہانی تو آپ کو جیل ریکارڈ سے بھی مل جائے گی، پھر میرے منہ سے سننے سے کیا بدل جائے گا؟ پھر بھی، جب آپ اسی لیے آئے ہیں تو سنیے —

میں چودہ سال کی تھی جب میرا نکاح ہوا۔ میاں محمود احمد کی سائیکل مرمت کی دکان تھی، بریلی میں اپنا مکان تھا۔ میں پڑھی لکھی نہیں تھی۔ ہاں، قرآن ضرور پڑھایا گیا تھا۔ گھر کے پاس کے مدرسے میں دو سال دینیات پڑھی تھی اور تمیز تہذیب بھی سیکھی تھی۔ جب گیارہ سال کی ہوئی تو مولی صاحب آکر ابّا سے کہہ گئے۔ ان کا حکم نہ ماننے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ مجھے برقعہ پہنا دیا گیا۔ مدرسے کی استانی جی بھی بار بار یہی سمجھاتی تھی — عورت وہی عزت دار ہوتی ہے جسے دنیا کی شرم ہوتی ہے۔ عورت کی عزت یا تو گھر میں محفوظ ہوتی ہے یا برقعے میں۔ جو عورت گھر کے باہر، برقعے کے بنا نکل گئی وہ تو سمجھو کوٹھے پر جا بیٹھی۔ برقعہ پہنی ہوئی عورت کو مرد خود کی حفاظت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ گھر کی عزت اور عورت کی آبرو ہے برقعہ۔
مجھے اچھے کپڑوں کا بہت شوق تھا۔ پڑوس کے ایک گھر میں سلائی سکول تھا۔ وہاں میں نے ایک سال سلائی سیکھی۔ کسی بھی طرح کا ڈیزائن دیکھ کر ہی نقل کر ڈالتی۔ جب برقعہ پہننا پڑا تو میں کتنا روئی تھی۔ یہ کیا کہ اتنے اچھے کپڑے بناکر پہنو، بنو سنورو اور اوپر سے ایک کالا بورا سر سے پاؤں تک اوڑھ ڈالو۔ منہ پر کریم، آنکھوں میں کاجل، ہونٹوں پر لپسٹک لگاؤ، بُندے پہنو اور سب کے اوپر کالا نقاب ڈال لو۔ شروع شروع میں تو ایسا جی چاہتا تھا کہ پھاڑ کر چِندی چِندی کر ڈالوں موئے برقعے کو۔ پھر دھیرے دھیرے عادت ہوگئی۔ کچھ مہینے بعد تو اگر برقعہ پہنے بغیر آنگن کے باہر جھانک بھی لیتی تو ایسا لگتا جیسے ننگی باہر آگئی۔ یہ ڈر بھی دل میں بیٹھ گیا کہ اگر کہیں برقعے کے بنا نکلی تو نہ جانے کیا ہوجائے۔ شاید یہ مردوئے مجھے اُٹھاکر لے جائیں، میری عزت لوٹ لیں، مجھے کسی کوٹھے پر بیچ آئیں۔ اور بھی نہ جانے کیا کیا خیال دل میں گھر کر گئے۔ جب کہیں باہر جاتی اور خیریت سے گھر واپس آجاتی تو اس برقعے کا کتنا شکر مانتی جو مجھے عزت آبرو سمیت، صحیح سلامت گھر لے آیا جہاں میں بالکل محفوظ ہوں۔
میں اپنے برقعے سے محبت کرنے لگی۔ وہ میرا محافظ تھا، مجھے سماج میں عزت دلاتا تھا۔ میرا جسم اور میری عصمت اسی کی وجہ سے محفوظ تھے۔ جب شادی طے ہوئی تو میں نے ضد کرکے اپنے لیے نیا برقعہ بنوایا۔ اس کے گلے اور آستینوں پر نازک کشیدہ کیا، نقاب کے چاروں طرف مہنگی والی لیس لگائی۔ سر پر آنے والے گول پر سلمیٰ ستارے کا کام کیا۔ جتنا ہو سکتا تھا برقعے کو سجایا تاکہ لوگ اندر کے کپڑوں کو نہ سہی، کم سے کم برقعے کو ہی دیکھ کر تعریف کریں۔ اور سچ مچ ہوا بھی ایسا۔ میرے دہیز میں آئے سب کپڑوں سے زیادہ، عورتیں اس برقعے کو الٹ پلٹ کر، کھول کھول کر دیکھ رہی تھیں۔ دو تین بڑی بوڑھیوں نے تو منہ دلائی کے وقت ہی ایسا برقعہ بناکر دینے کی فرمائش کرڈالی۔
میرے شوہر نے مجھ سے اس لیے شادی کی تھی کیونکہ ان کی ماں نے اکثر بیماری سے مستقل بیماری کی منزل طے کرکے کھاٹ پکڑ لی تھی۔ لیکن بیوی گھر میں ہو تو اس کا استعمال تو ہونا ہی چاہیے۔ میں گھر کا سارا کام کرتی، ساس کی دیکھ بھال دوا دارو کرتی، دو چھوٹے دیوروں کو کھانا پکاکر کھلاتی، سب سے چھوٹی نند کو نہلاتی، تیار کرتی، رات کو جب تھک کر جسم ٹوٹ رہا ہوتا تو دو تین بار میاں کو سواری بھی کراتی۔ باہر نکلنا تو دور کے خواب ہوگئے۔ دل مسوس کر میں نے نیا برقعہ اخبار میں لپیٹ کر، صندوق میں سب سے نیچے رکھ دیا۔
چھ سال کی خدمت لے کر ساس اللہ کو پیاری ہوگئی۔ ویسے  اچھی تھی بیچاری، لیکن اس وقت تو یہی لگا تھا کہ چلو ایک عذاب سے تو جان چھوٹی۔ لیکن ساس کا مرنا تھا کہ سسر کا گھر میں پڑے رہنا شروع ہوگیا۔ ان کی پان بیڑی سگریٹ کی دکان تھی۔ صبح سب سے پہلے وہی گھر سے نکل جایا کرتے تھے اور رات کو ہی لوٹتے تھے۔ اب جب دیکھو تب گھر پر ہی بنے رہتے۔ پہلے پہلے تو میں سمجھی ساس کے غم میں گھلے جارہے ہیں بیچارے۔ پھر لگا جیسے عجیب نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ کبھی کچھ لینے دینے میں بلاوجہ ہاتھ چھو دیتے، انگلی دبا دیتے۔ ساس جب تک تھیں تب تک مجھے ’بہو‘ پکارا کرتے تھے اب نام لے کر بلانے لگے، کبھی کبھی نام چھوٹا کرکے ’فرزو‘ پکارتے۔ میں پورے وقت 13-14 سال کی نند کو ساتھ رکھتی۔ شادی کو 8 سال گزر گئے اور میرے تین بچے ہوگئے۔ نند کا بھی بیاہ ہوگیا۔ بڑا دیور پان کی دکان پر بیٹھنے لگا۔ چھوٹا دیور اور میرے دو بچے اسکول چلے جاتے۔ چھوٹے بچے کے ساتھ اب میں گھر پر اکیلی ہوتی۔ ایک دو بار میں نے محمود کو کہا بھی کہ مجھے ابّا سے ڈر لگتا ہے۔ لیکن انھوں نے یا تو سمجھا نہیں یا سمجھنا چاہا نہیں۔ بس اتنا کہہ کر ٹال دیا کہ اپنے باپ جیسے سسر سے بھلا ڈر کیسا؟
پھر میں نے ایک چال چلی۔ بڑے دیور کی شادی طے کردی۔ جب دیورانی آجائے گی تب مجھے گھر پر اکیلے نہیں رہنا پڑے گا۔ وہ سامنے ہوگی تو انھیں اس طرح کی حرکتیں کرنے کی ہمت نہیں پڑے گی۔ لڑکی والوں کے یہاں مجھے مٹھائی وغیرہ لے کر جانا تھا۔ سوچا اس سے بہتر موقع پھر کب ملے گا۔ اتنے ارمانوں سے بنایا ہوا برقعہ آج نہیں پہنوں گی تو کب پہنوں گی؟ صندوق کھول کر برقعہ نکالا، لیس کی کناری، جارجیٹ کے نقاب والا، ایک بار پہن کر دیکھ رہی تھی کہ ٹھیک سے آتا ہے یا نہیں۔ آئینے کے سامنے پہن کر نقاب الٹا ہی تھا کہ سسر کمرے میں گھس آئے اور پیچھے سے مجھے دبوچ لیا۔ پلنگ کی پٹّی سے سر اتنا زور سے ٹکرایا کہ مجھے چکر آنے لگا۔ اور وہ چلاّنے لگے — ”سجتی ہے، بن سنور کر مجھے لبھاتی ہے، چھنال کہیں کی۔“
میں منّت کرتی، خوشامد کرتی — ”نہیں ابّا، چھوڑ دیجیے ابّا۔ میں کہاں سج رہی ہوں، میں تو برقعہ پہن رہی تھی، میں آپ کی بیٹی ہوں ابّا۔“ آدھا گھنٹہ بعد وہ اپنی ہوس شانت کرکے باہر چلے گئے۔ میں ٹوٹا جسم لیے اٹھ کر غسل خانے میں جارہی تھی کہ پڑوس کی ایک عورت آگئی۔ اسی نے سنبھالا، ہاتھ منہ دھلایا اور یہ صلاح بھی دی کہ مسجد کے امام کے پاس جاؤں۔
امام صاحب نے میری بات تو کم سنی، ہاں اپنے سوال بہت پوچھے — پیچھے سے پکڑا تھا؟ کہاں سے، کمر سے یا چھاتی سے؟ چھاتیاں پکڑی تھیں یا مسلی تھیں؟ چوما تھا، کہاں کہاں؟ کپڑے کون سے پھاڑے؟ قمیض یا سلوار، پہلے اوپر والا یا نیچے والا، سلوار کے نیچے کچھ پہنے تھی یا نہیں؟ کچھا پہنے تھیں کیسی، گھٹنوں تک والی یا تکونی والی؟
اس کے بعد انھوں نے مجھے گھر جانے کو کہا اور محمود اور میرے سسر کو بلایا۔ تینوں میں کیا بات ہوئی وہ تو پتہ نہیں مگر اگلے دن میرے نام پر فتویٰ جاری ہوگیا۔ مجھے سسر کے ساتھ نکاح کرنا ہوگا اور اپنے شوہر کو بیٹا ماننا ہوگا۔ اور اپنے تینوں بچوں کو، جنھیں نو نو مہینے کوکھ میں رکھا، انھیں کیا سمجھوں؟ اپنے بچے یا اپنے پوتے؟ لیکن مجھ میں بھی نہ جانے کہاں سے ہمت آئی۔ میں نے بھی سرکاری کورٹ جانے کا فیصلہ کرلیا۔
تینوں بچوں کو ساتھ لیے میں نے کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اپنے سسر کو گرفتار کروایا۔ ڈیڑھ سال تک مقدمہ چلا۔ اخبار والوں نے بھی کتنا لکھا۔ غیرسرکاری ادارے ساتھ کھڑے  ہوگئے۔ ان میں سے کچھ نے محمود کو سمجھایا۔ وہ بھی باپ کے خلاف میرا ساتھ دینے کو راضی ہوگئے۔ مجھے امید ہوگئی کہ مجھے انصاف ملے گا، اب منزل دور نہیں ہے۔ اور ہوا بھی ایسا۔ دس سال کی قید ہوئی اسے۔ میں خوش تھی، اب میں گھر لوٹ سکتی ہوں، اپنے بچوں کے ساتھ، شوہر کے پاس لوٹ سکتی ہوں۔
میں اپنے مائیکے سے تیار ہوکر نکلنے ہی والی تھی کہ محمود آپہنچے۔ بریلی کے مولویوں نے ایک اور فتویٰ جاری کردیا تھا۔ میرا اور محمود کا اب کوئی رشتہ نہیں تھا۔ اگر ہم دوبارہ نکاح بھی کرلیں تو وہ بھی ناجائز ہی مانا جائے گا۔
محمود نے کہا کہ وہ اب بھی مجھ سے محبت کرتے ہیں مگر وہ ذات برادری سے الگ نہیں ہوسکتے۔ وہ لوگوں کے فقرے بازی اور طعنہ کشی کا نشانہ نہیں ہوسکتے۔ کورٹ ایک مجرم کو سزا تو دے سکتا ہے مگر شریعت میں دخل نہیں دے سکتا تھا۔ اس لیے اب تو طلاق لینا ہی بہتر ہوگا۔ دونوں ہی دوبارہ زندگی شروع کریں۔
دوبارہ شروعات! وہ اکیلے، مرد، کام کاجی۔ میں تین بچوں کے ساتھ، بیکار، عورت! خیر، اگر ایسا ہی ہے تو ایسا ہی سہی، وہ پیسہ تو ان کو مجھے دے دینا چاہیے جو میرے بچوں کی پرورش کے لیے کوئی غیرسرکاری اداروں نے دیا تھا۔ محمود چپّی سادھ گیا۔ میں سمجھ گئی، بات برادری اور شریعت سے بڑھ کر پیسے پر آگئی ہے۔ محمود نے میرا ساتھ ان کے سمجھانے کی وجہ سے نہیں ان کا پیسہ دیکھ کر دیا تھا۔
میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔ تین بچے، میں اکیلی، کیسے پالوں، کس پر بوجھ بنوں؟ گھر کے پچھواڑے کا دروازہ کھولا تو سامنے، گول گول، کانٹے دار پھلوں سے لدی دھتورے کی جھاڑی دِکھی۔ رات کے اندھیرے میں توڑ لائی۔ پیس کر دودھ میں ملاکر بچوں کو بھی پلادیا، خود بھی پی لیا۔ اسپتال میں جب ہوش آیا توپتہ چلا — ان تینوں کو تو آزادی مل گئی اور مجھے — خون کا مقدمہ! پوری کہانی بس اتنی ہے۔“
وہ مڑی اور باہر کی طرف چلنے لگی۔ ڈاکٹرنی اس کے پیچھے لپکی اور اس کا راستہ روک کر بولیں — ”ٹھہرو فرزانہ۔ ابھی بات پوری نہیں ہوئی۔ تم نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ تم اپنے کس کام کو اپنا سب سے بڑا گناہ مانتی ہو؟“
ایک پل کو فرزانہ کی آنکھوں میں حیرانی جھلکی — ”ارے بتا تو دیا آپ کو، اور کیسے بتاؤں؟“
”فرزانہ، ہم تمہیں اپنی زندگی کو سمجھنے میں مدد کرنے آئے ہیں۔ تمہیں بتانا ہے کہ تمہاری نظروں میں تمہارا سب سے بڑا جرم کیا ہے۔ ہمیں کورٹ کے فیصلے سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ تم اپنے آپ کو کس معاملے میں گنہگار مانتی ہو؟ کیا تمہارے ساتھ بلاتکار ہوا تم اسے اپنی غلطی سمجھتی ہو؟ تم خود کو بچا نہیں پائی، اسے اپنا گناہ گنتی ہو، تم نے ملّاؤں سے مدد مانگی، اسے نادانی مانتی ہو؟ کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا، انصاف مانگا اور پایا — یہ جرم کیا؟ یا اپنے بے قصور بچوں کا خون کیا — یہ تمہارا سب سے بڑا گناہ ہے؟“
فرزانہ کے منہ  پر وہی طنزیہ مسکراہٹ آئی — ”آپ میری بات بالکل نہیں سمجھیں۔ میں نے یقین کیا کہ گھر میں عورت محفوظ ہوتی ہے، یقین کیا کہ جو عورت برقعہ پہنتی ہے اسے سب عزت کی نظروں سے دیکھتے ہیں، زمانہ اس کا ساتھ دیتا ہے، خود اس کا نگہبان ہوتا ہے۔ اس جھوٹ پر بغیر سوچے سمجھے، بنا جانچے پرکھے یقین کیا، یہی میرا سب سے بڑا گناہ ہے۔“

نور ظہیر
نور ظہیر
نور صاحبہ اپنے بابا کی علمی کاوشوں اور خدمات سے بہت متاثر ہیں ، علم اور ادب ان کا مشغلہ ہے۔ آپ کا نام ہندستانی ادب اور انگریزی صحافت میں شمار کیا جاتا ہے۔ایک دہائی تک انگریزی اخبارات نیشنل ہیرالڈ، اور ٹیکII، پوائنٹ کاؤنٹرپوائنٹ اخبارات میں اپنی خدمات سرانجام دیتی رہی ہیں ۔نور ظہیر کی علمی خدمات میں مضامین، تراجم اور افسانے شمار کیے جاتے ہیں۔ ہندوستان جہاں سرخ کارواں کے نظریات نے علم،ادب، سیاست، سماجیات، فلسفے اور تاریخ میں جدید تجربات کیے، وہیں ثقافتی روایات کو بھی جدید بنیادوں پر ترقی پسند فکر سے روشناس کروایا گیا۔ ہندوستان میں “انڈین پیپلز تھیٹر(اپٹا) “، جس نے آرٹ کونئی بنیادیں فراہم کیں ، نور بھی ان ہی روایات کو زندہ رکھتی آرہی ہیں، اس وقت نور ظہیر اپٹا کی قیادت کر رہی ہیں۔ نور کتھک رقص پر بھی مہارت رکھتی ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں جا چکی ہیں، آدیواسیوں کی تحریک میں کام کرتی آرہی ہیں۔سید سجاد ظہیر کے صد سالہ جشن پر نور ظہیر کے قلم سے ایک اور روشنائی منظر عام پرآئی، جس کا نام ” میرے حصے کی روشنائی” رکھا گیا۔ نور کی اس کتاب کو ترقی پسنداور اردو ادب کے حلقوں میں اچھی خاصی پذیرائی حاصل ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *