بیوہ/مطلقہ کی عدت پر ایک سیکولرموقف۔۔۔(قسط6)سلیم جاوید

بیوہ/مطلقہ کی عدت پر ایک سیکولرموقف۔۔۔(قسط5)سلیم جاوید

مطلقہ کی عدت کادوسرا کیس ڈسکس کرتے ہیں جس کے بعد تین ماہ کی عدت لازم قراردی جاتی ہے-

باردگرعرض گزار ہوں کہ اپنے فہم پہ اصرار نہیں ہے تاہم جو کچھ اس کیس میں قرآن سے سمجھ آیا، وہ آپکے سامنے رکھ دیتا ہوں-

دیکھیے، جب مرد اورعورت ایک دوسرے کو پسند کرلیتے ہیں توجلدی شادی کرنا چاہتے ہیں-انسانوں کی اس بنیادی چاہت میں اسلام کوئی  رکاوٹ نہیں ڈالتا-یعنی ایک باہمی ایگریمنٹ کے تحت فوراً شادی کرسکتے ہیں- (اس اگریمنٹ میں جتنا زیادہ عورت کے مستقبل کا تحفظ ہوگا، اتنا ہی وہ شادی”اسلامی” ہوگی)- اب کسی وجہ سے اس جوڑے میں ناچاقی ہوجاتی ہے تو یہ جلدی جدا ہونا چاہتے ہیں- فوری جدائی بھی ان کا حق ہے( اور بعض اوقات حالات کا تقاضا  بھی یہی ہوتا ہے)- خدا نے اس فوری جدائی  کی راہ میں بھی کوئی  لازمی قانونی رکاوٹ نہیں ڈالی تاہم، اسلام کی منشا یہی ہے کہ طلاق نہ ہو بلکہ کچھ صورت ایسی بنے کہ گھرآباد رہے-

بوجوہ، مرد کو طلاق کا حق دیا گیا ہے مگرخدا نے مرد کوہدایت کی ہے کہ طلاق دینے کا عمل، عورت کے تین حیض تک میں مکمل کرے-

ایک بات نوٹ کیجئے کہ ہمارے ہاں جو دستورہے کہ بیوی کو ایک ہی نشست میں تین بار طلاق کہنے سے طلاق نافذ ہوجاتی ہے، یہ دستور حضرت عمر کے دور سے شروع ہوا- ورنہ قران نے طلاق دینے کی ترتیب بتائی  ہے کہ پہلے عورت کو ایک بار طلاق دی جائے( جوکہ وارننگ ہے)- اسکے بعد ایک حیض یعنی ایک ماہ گزر جائے تو دوسری بار طلاق دی جائے- اور پھر تیسری بارطلاق دی جائے-

کسی اور موقع پراس کو تفصیل سے عرض کریں گے کہ حضرت عمرنے اپنے دور میں جو فیصلہ فرمایا تھا، وہ بہت صائب اور اس وقت کے لحاظ سے خواتین کیلئے بہت مفید ثابت ہوا- مگرحضرت عمرکے اسی فیصلے سے دوباتیں سمجھ میں آتی ہیں-
ایک یہ کہ طلاق بارے سمجھا ئی  گئی الہی ہدایت بھی کوئی  ایسا قانون نہیں ہے کہ لفظ بہ لفظ اسی طرح ہی کرنا ہوگا( ورنہ حضرت عمر اس میں تغیّرنہ کرتے)- بلکہ اصلاً اسلام کی سپرٹ یہ ہے کہ کوئی  ایسا چانس مہیا کیا جائے جس سے ایک گھرٹوٹنے سے بچ جائے،اس لئے طلاق کا عمل تین ماہ تک پھیلا دیا تاکہ خاندان کے بڑے اس میں اپنا کردار اداکرنا چاہیں تو ان کوموقع مل جائے۔

دوسرے یہ کہ حضرت عمر کی طرح، ہردور کا مسلمان سماج، اپنے کلچرکے لحاظ سے شادی، مہر، جہیز، طلاق وعدت وغیرہ بارے ایسی قانون سازی کرسکتا ہے جس میں “معاشرے کی سلامتی” کو مدنظر رکھا جائے- ایسی قانون سازی ، اسلامی قانون سازی ہی کہلائے گی چاہے لفظ بہ لفظ قرآن کے مطابق نظر نہ آتی ہو-

خیر، ہم قرآن کی طرف چلتے ہیں- یہ سورہ بقرہ کی آیت 228 ہے-

وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍؕ-وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًاؕ-وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۪-وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠-

آس آیت کی بھی پانچ الگ الگ ٹکڑوں میں تشریح کرنے کی کوشش کرتے ہیں-

1- وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍؕ-( اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک)

تشریح: خاکسار کا خیال ہے کہ آیت کے پہلے لفظ “مطلقات” سے ابہام ہوا ہے جس کی وجہ سے مطلقہ کی عدت تین ماہ بتائی  گئی ہے- ہماری رائے یہ ہے کہ مطلقہ کا لفظ ۔ طلاق وقوع ہوجانے سے پہلے بھی استعمال ہوسکتا ہے یعنی جونہی پہلی نشست میں طلاق کہی گئی تو طلاق کا عمل شروع ہوگیا-( اور یہاں سے عورت کو مطلقہ کہہ دیاگیا- ضروری نہیں کہ طلاق کا عمل پورا ہو تو اسکے بعد ہی اسے مطلقہ کہا جائے)-

قرآن ہی کی ایک اور آیت ہے( انک میت وانھہم میتون ) –اس آیت کے نازل ہوتے وقت نبی زندہ تھے- مگر ان کومیت اس لئے کہا گیا تھا کہ بہرحال موت آنا ہی تھی- چنانچہ، پہلی طلاق کے بعد تین حیض تک یہ عورت خاوند کے ساتھ اسی گھر میں رہے گی، (اسکو آپ عدت بھی کہہ سکتے ہیں)- طلاق کی تیسری نشست اور تیسرا حیض ایک ساتھ ہوگا جس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں اور یوں طلاق کا عمل بھی مکمل ہوگیا اور عورت بھی آزاد ہوگئی- (جس کے بعد عدت نہیں ہوگی)-

2- وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-( اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک اور انہیں حلال نہیں کہ چھپائیں وہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں)-

تشریح: یہ تین مہینے  کا دورانیہ فقط اس لئے دیا گیا ہے کہ شایدگھرٹوٹنے سےبچ جائے- سوچیے کہ وہ کیا بات ہوسکتی ہے جوبیوی کے عیبوں کے باوجود خاوند کو طلاق کا فیصلہ بدلنے پرمجبور کر  سکتی ہے؟- وہ ہے ” اولاد” – پس اس دوران اگر اولاد کے ہونے کے آثار پیدا ہوجائیں تو گھر بچ سکتا ہے- مگربیوی اگر چاہے تو حمل ٹھہرنے کے باوجود، شروع کے مہینوں میں اس کوخاوند سے چھپا سکتی ہے- (ہوسکتا ہے میاں کے طلاق دینے پربیوی بھی ضدمیں آگئی ہواور جان چھڑانا چاہتی ہو) تو عورت کو نصیحت کی گئی کہ دیکھو اگر ایمان والی ہو تو اس خبرکو شوہر سے نہیں چھپانا-( شاید کہ وہ فیصلہ بدل لے)-

3- ؕ-وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحً(اور ان کے شوہروں کو اس مدت کے اندر ان کے پھیر لینے کا حق پہنچتا ہے اگرصلح چاہیں)

تشریح: ان تین ماہ ( یا کم وبیش مدت) کے اندر میاں، اپنی بیوی کو واپس لے سکتا ہے اگرنیت اصلاح کی ہو( نہ کہ مزید اس عورت کو اذیت دینے کی نیت ہو)- باقی یہ جو دوسری طلاق کے بعد دوبارہ نکاح پڑھوانا والی ترتیب ہے فقہاء نے بتائی  ہے، اس میں بڑی بہتری ہے تاکہ ہرقضیہ ڈاکومنٹنڈ ہوجائے-

4- وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۪-وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌؕ-( اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق اور مردوں کو ان پر فضیلت ہے)

تشریح: یعنی ایسا بھی کیس ہوسکتا ہے کہ عورت کی فیملی طاقتور ہویا عورت نے ازخود طلاق لے رکھی ہو تو اس عورت کو بھی اگرا س دورانیہ میں پشیمانی ہوتی تو وہ بھی اسی طرح واپسی کا حق رکھتی ہے جیسا کہ مرد-تاہم، دوبارہ صلح کرتے ہوئے، کسی ایک فریق کوتو پہل کرنا ہی ہوگی نا؟- پس خدا نے بتادیا کہ بوجوہ مرد کا درجہ زیادہ ہے لہذا صلح کیلئے پہل عورت ہی کوکرنا چاہیے-

5- وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠( اور اللہ غالب حکمت والا ہے)

تشریح: یہ دونوں میاں بیوی کو وارننگ ہے کہ سازش کی نیت مت کرنا ورنہ میں خدا آپ لوگوں پرغالب بھی ہوں اورمظلوم کی مدد کی سبیل نکالنے کی حکمت بھی رکھتا ہوں-

پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ یہ آخری جملہ انسانوں کی نیت بارے وارننگ کا ہوتا ہے اور مقصود یہ ہوتا ہے کہ جو قانون پہلے بتایا جاچکا، اس میں حالات کے تحت ردوبدل کیا جاسکتا ہے مگرنیک نیتی شرط ہے-چنانچہ، اگر ایسی صورتحال درپیش ہوجائے کہ مرد اور عورت دونوں کو فی الفور جدا ہونے کا فیصلہ کرنا پڑے تو یہ تین ماہ کا دورانیہ بھی ضروری نہیں چہ جائیکہ مزید تین ماہ بطور عدت نافذ کرنا-

بہرحال، ہم یہ اخذ کرتے ہیں کہ مطلقہ کیلئے کوئی  الگ سےعدت نہیں ہے، مگر یہ کہ طلاق کے عمل کو تین حیض تک پھیلایا گیا تاکہ اس دوران جوڑ کی صورت نکل سکے-چونکہ اصل مقصود اس دورانیہ سے گھربسانا ہے تو بانجھ عورت کی طلاق کیلئے بھی یہی ترتیب ہے کہ وہ تین حیض میں دی جائے(اگرچہ اس سے بچہ نہ ہونے کی تسلی ہے مگرشاید کہ ان تین ماہ میں دل جڑ جائیں)- اگر ان تین ماہ میں کوئی  صورت اصلاح کی نہیں نکلتی تو پھر یہ عمل طلاق کا مکمل ہوگیا- اس طلاق کے دورانیہ یا مدت کو ہی “عدت “کہا گیا-

البتہ اگران تین ماہ میں کسی عورت کا بچہ پیدا ہوجائے اورپھربھی خاوند کا دل نہ پگھلےتو مزید انتظار کی ضرورت نہیں- اب فوری طلاق ویلڈ ہوسکتی ہے- اسکو مندرجہ ذیل آیت میں دیکھئے-

وَاللَّآئِىْ يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُـمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ اَشْهُرٍ وَّاللَّآئِىْ لَمْ يَحِضْنَ ۚ وَاُولَاتُ الْاَحْـمَالِ اَجَلُـهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَـمْلَـهُنَّ ۚ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّـٰهَ يَجْعَلْ لَّـهٝ مِنْ اَمْرِهٖ يُسْرًا

ترجمہ: اور تمہاری عورتوں میں سے جن کو حیض کی امید نہیں رہی ہے اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہیں اور ان کی بھی جنہیں ابھی حیض نہیں آیا، اور حمل والیوں کی عدت ان کے بچہ جننے تک ہے اور جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ اس کے کام آسان کر دیتا ہے۔

جب طلاق کا عمل تین حیض میں مکمل ہوجائے تو اب اگر بیوی کوواپس رکھنا چاہو گے تو دوبارہ نکاح پڑھانا پڑے گا(جسکے لئے قرآن نے دوایسے سٹیٹس والے بندوں کی گواہی ضروری قرار دی جو خاوند کو نتھ ڈال کررکھ سکنے پرقادر ہوں)- چنانچہ فرمایا :

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَـهُنَّ فَاَمْسِكُـوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّّاَشْهِدُوْا ذَوَىْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَاَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّـٰهِ ۚ ذٰلِكُمْ يُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۚ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّـٰهَ يَجْعَلْ لَّـهٝ مَخْرَجًا

پس جب وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انہیں دستور سے رکھ لو یا انہیں دستور سے چھوڑ دو اور دو معتبر آدمی اپنے میں سے گواہ کر لو اور اللہ کے لیے گواہی پوری دو، یہ نصیحت کی باتیں انہیں سمجھائی جاتی ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں، اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے نجات کی صورت نکال دیتا ہے۔

نوٹ:
چونکہ “حلالہ ” بھی ایک دینی ایشو ہے(جوکسی اورموقع پرتفصیلی ڈسکس کریں گے) تویہاں “بلغن اجلھن” کا معنی یہ کریں گے کہ تین ماہ مکمل ہونے کے قریب پہنچ جائیں اورپھررجوع کرنا چاہیں تودوبارہ گھربسانےکی صورت میں دو معتبر آدمی گواہ بنا ئے جائیں یعنی نیا نکاح کا معاہدہ کرنا ہوگا- (“بلغن اجلھن” کا یہ معنی بھی قرآن سے ثابت ہے)-

طلاق کیلئے بتائی  گئی قرآنی ترتیب، باقی امت کیلئے توخدا کی طرف سے ایک نصیحت ہے مگرخود رسول خدا کیلئے ایک حکم ہے( جن کے درجے بڑے ،ان کی ذمہ داریاں بڑی)-چنانچہ بطور خاص نبی اکرم کیلئے فرمایا گیا کہ آپ اگر کسی زوجہ کو طلاق دینے کا ارداہ فرمائیں توعدت کے دنوں کو گن کرطلاق مکمل کریں (یعنی تین حیض میں )اور اس دوران وہ آپکے ساتھ گھر میں رہیں گی-

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًا
اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے موقع پر طلاق دو اور عدت گنتے رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے، نہ تم ہی ان کو ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود ہی نکلیں مگر جب کھلم کھلا کوئی بے حیائی کا کام کریں، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، اور جو اللہ کی حدوں سے بڑھا تو اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا، آپ کو کیا معلوم کہ شاید اللہ اس کے بعد اور کوئی نئی بات پیدا کر دے۔

مذکورہ بالا تقریر آیات سے پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظرمیں ہمیں مندرجہ ذیل گائیڈنس ملتی ہے-

1- کوئی  بھی شوہرطلاق دینے کا ارداہ کرے تو پہلے ایک وارننگ لیٹرکورٹ میں جمع کرائے جس میں وجوہات لکھی ہوئی  ہوں- (اس کو پہلی طلاق سمجھا جائے گا)-یہاں سے عورت کی عدت شروع ہوگئی-

2- کورٹ کا ٹارگٹ ، اس گھرکو بچانا ہونا چاہیئے-لہذا، کورٹ اگر یہ سمجھے کہ کچھ عرصہ اس معاملے کو لٹکانے سے دونوں کا راضی نامہ ہوسکتا ہے، تو فریقین کو اگلی پیشی دینا شروع کردے-(تین حیض کی مدت برائے راہنمائی ہے، اس کو حسب حال، زیادہ یا کم کیا جاسکتا ہے)-

3- طلاق مکمل ہونے تک کا عرصہ عورت کیلئے عدت ہے-اس مدت میں عورت کہاں رہے گی؟- اس پہ کورٹ کوہی سوچنا چاہیئے-اگر ایک ساتھ رہنے میں جوڑ بن سکتا ہے تو شوہر کے گھر میں رہے، اور اگر شوہر سے جدا ہونے میں شوہر کی محبت ابھرنے کی توقع زیادہ ہے، تو عورت کوشوہرسے دور کردیا جائے-

4- ایک بار طلاق کا عمل قانونی طور پرمکمل ہوگیا تو اب اسکے بعد مزید کسی عدت وغیرہ کی ضرورت نہیں جسکی بنیاد پراب اس آزاد عورت کو کسی خاص جگہ، کسی اور بندےکی خاطر مقید رکھا جائے- واللہ اعلم

برادران کرام!

عدت کے موضوع سے ہٹ کرایک ضروری بات خواتین کیلئے عرض کرنا چاہتا ہوں- تفاسیر میں آتا ہے کہ حضرت حفصہ کو حضور نے ایک طلاق دے دی تھی کیونکہ رسول اکرم نے انکو ایک راز بتا کرمنع فرمایا تھا کہ کسی اور کو نہیں بتانا مگرانہوں نے افشاء کردیا تھا- مگر پھرخدا کے حکم سے وہ طلاق واپس لے لی تھی- قرآن میں حضرت حٖفصہ کا نام تو نہیں ہے تاہم اس بات سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اگر خاوند نے اپنا کوئی  سیکرٹ( چھوٹا یا بڑا) اپنی بیوی کے ساتھ شیئر کیا ہو اور اسکو آؤٹ کرنے سے منع بھی کیا ہو، اسکے باوجود بیوی اس کو آؤٹ کردے تو طلاق دینے کی شرعاً درست وجہ بن جائے گی-(چنانچہ رسول اکرم نے درست کام کیا تھا)-تاہم، خدائے پاک اپنے محبوب کی ذات پرہردم نگہبان تھا اورانکو اعلی ترین اخلاق پرپہنچانا چاہتا تھا تو بطور خاص رجوع کرنے کا فرمایا گیا( محبوب نے ماننا ہی تھا)- لہذا، خواتین اس بات کو دھیان میں رکھیں کہ جس بات کو افشاء کرنے سے خاوند بطور خاص منع کردے، اسکو ہرگز باہرنہیں نکالنا چاہیے-

یہاں پہنچ کرہمارا مضمون مکمل ہوگیا ہے- تاہم، ایک مختصر مگر بہت ضروری بات آپ احباب سے شیئر کرنا باقی ہے- جو کہ کل آخری قسط میں پیش کی جائے گی ان شاء اللہ-
(جاری ہے)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *