میاں مطیع ملائم پوری۔۔اشتیاق گھمن

ایک صاحب کی ہربُرا کام کرنے پر طبیعت ہمیشہ مچلتی رہتی، لیکن وہ اپنے تمام غلط کاموں کی ذمے داری دوسروں پر ڈالنے میں یدِ طُولیٰ رکھتے تھے۔

ایک رات گئے شراب میں دُھت سڑک کنارے لُڑھکتے چلے جا رہے تھے۔ اس حالت میں پہلی بار دیکھ کر مجھے دِلی صدمہ ہوا۔ جو پوچھا تو فرمانے لگے، میاں، واعظ نے کہا تو دل رکھنے کو پی لی۔

ایک دن بِنگو سے نکل رہے تھے تو میرے ہتھے چڑھ گئے۔ میں نے پھر پوچھ لیا کہ حضرت، جوے میں لُٹیا ڈبو آئے کہ بچ گئے۔ کہنے لگے میاں، ایک چیرٹی والے نے کہا تو میں یہاں کھیلنے چلا آیا۔

ایک دن میرے گھر ہی پہنچ گئے۔ ان کا ضمیر ان کی لذتِ گناہ کو کِرکرا کر رہا تھا۔ بتانے لگے کہ میں کل سوہو گیا تھا اور وہاں تو بس بچی کھچی عزتِ سادات بھی جاتی رہی۔ میں چِلاّیا کہ اے اعلیٰ حضرت، پچاس کے پیٹے میں پہنچ کر بھی محلہِ طوائف میں؟ غضب خدا کا کہنے لگے کہ میاں، خود نہیں گیا تھا، بس امیر نے کہا تو جانا پڑا۔

حلال گوشت کے حوالے سے ان کی اپنی فقہ تھی۔ ٹیسکو، ایذڈا، موری سن، مکڈونلڈ اور کے ایف سی سے چکن لے کر کھانا ان کے نزدیک عین حلال بلکہ کارِ ثواب تھا بھلے اس پر تکبیر پڑھی گئی ہو یا نہیں لیکن ایک دن تو حد ہی ہو گئی میں نے انہیں ہیم خریدتے دیکھ لیا۔ حیرانی سے جو انہیں پوچھا تو کہنے لگے، حکیم صاحب نے بتایا تھا کہ یہ جوڑوں کے درد کے لیے انتہائی مفید ہے۔

محلے کی گلی میں ہمیشہ نظر نیچی اور چھڑی اونچی لے کر خراماں خراماں چلتے۔ رات کے دو بجےکے  لگ بھگ، لندن کے مضافات میں ہونے والے ایک ناچ گانے کے پروگرام میں جب ان کے ٹھمکے دیکھے تو اس مجرے میں اپنی چڑھی جوانیوں کا سبب انہوں نے یہ بتایا کہ میاں سیاست پوری نے سوشل پروگرام کے دھوکے میں بُلا لیا اور جب وہاں پہنچا تو پھر حسیناؤں کو نا چتا دیکھ کر خود پر قابو نہ رکھ سکا۔

دوستو، ایسے میاں مطیع ملائم پوری آپ کو یقیناً ہر روز اپنے اردگرد نظر آتے ہوں گے۔ یہ میاں مردوں میں بھی ہیں اور خواتین میں بھی۔ یہ بزدل لوگ ہر کام کرنا تو چاہتے ہیں لیکن تسلیم نہیں کرنا چاہتے۔ مجھے ان کی اطاعت پسندی پر حیرت ہوتی ہے کہ کسی نے کہا تو شراب پی لی، کسی کے کہنے پر جوا کھیل لیا، کسی نے کہا تو بازارِ حسن پہنچ گئے، کسی نے کہا تو خنزیر کھا لیا اور کسی نے کہا تو مجرا کر لیا۔

آپ ان کی یہ ملائمیت آزما لیجیے۔ آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ ان کی اطاعت صرف اپنی پسند کے کاموں کی تعمیل تک ہی محدود ہے۔ آپ ان سے دس پاؤنڈ ادھار مانگ کر دیکھ لیجیے، یہ فوراً اپنی اوقات پر آ جائیں گے۔ میری گزارش صرف یہ ہے کہ جو کرنا ہے پوری جرات سے کریے  اور ذمہ داری خود اٹھائیے۔

رام بھلی کرے گا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *