پنجاب میں اقتدار کا نیا کھیل۔۔اسلم اعوان

پنجاب میں بڑے پیمانے پہ انتظامی تبدیلیاں بادی النظری میں اتحادی جماعتوں کی لیڈرشپ کے مابین اختلافات کا شاخسانہ دکھائی دیتی ہیں کیونکہ حالیہ سیاسی بحران کے دوران نوازشریف کی علاج کی غرض سے بیرون ملک روانگی کا معاملہ ہو یا مولانا فضل الرحمٰن کی حکومت مخالف مہم کی سرگرانی کا ایشو،ہر دو معاملات میں گجرات کے چوہدریوں نے سہولت کاری کا فریضہ سرانجام دینے کے علاوہ سیاسی محاذ پہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ایسا مفاہمانہ رویہ اپنایا جو پی ٹی آئی حکومت کی جارحانہ پالیسی کو سوٹ نہیں کرتا تھا بلکہ اس مہیب کشمکش کے دوران بسا اوقات چوہدری برادران کے سیاسی رواداری اور انسانی ہمدردی کے لبادوں میں لپٹے بیانات الٹا اپوزیشن کے بیانیہ کو تقویت پہنچاتے رہے،جس کا تحریک انصاف کے حلقوں میں بُرا منایا گیا۔

امر واقعہ یہ ہے کہ پاورپالیٹیکس کے تقاضوں سے ناواقف پی ٹی آئی نے ابتداءمیں پنجاب جیسے بڑے صوبہ کو چلانے کےلئے قاف لیگ کی پختہ کار قیادت کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اوراسی مقصد کی خاطر پنجاب کی سول بیوروکریسی میں چیف سیکریٹری اور آئی جی پی سمیت زیادہ ترافسران کا انتخاب چوہدری پرویز الہی کی مرضی پہ چھوڑ دیا گیا،مگر بدقسمتی سے چوہدری برادران کی وفادار بیوروکریسی ڈلیورکر سکی نہ نوزائیدہ حکمرانوں کو اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے میں مدد دینے کی روادار بنی،جس سے پنجاب میں بتدریج تحریک انصاف کی مقبولیت کا گراف گرنے لگا۔

دوسری طرف ان ساری انتظامی ناکامیوں کا ملبہ وزیراعلی پنجاب سردارعثمان بزدار کے سر تھوپنے کےلئے ایک منظم میڈیا مہم چلائی گئی،جس میں تحریک انصاف کے وہ حامی صحافی بھی پیش پیش تھے جن کے چوہدری برادران سے دیرینہ تعلقات چلے آ رہے ہیں لیکن اس سب کے باوجود وزیراعظم عمران خان نے قاف لیگ کی قیادت کے ساتھ باہمی اعتماد کے رشتوں کو استوار رکھا۔16 ماہ بعد ان تعلقات میں پہلی دراڑ اس وقت پڑی،جب پنجاب اسمبلی کے  سپیکر چوہدری پرویز الہی نے بظاہر مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے کو تحلیل کرنے کےلئے نادیدہ قوتوں کے ساتھ شٹل ڈپلومیسی کے لئے اپنی خدمات پیش کیں،جس نے ایک طرف وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں بنائی گئی حکومت کی مذاکرات کمیٹی کو غیر موثر بنا دیا تو دوسری جانب عمران خان کے سیاسی حریف،مولانا فضل الرحمٰن کو آزمائش کی بھٹی سے سرخرو نکلنے میں مدد دے کر بلواسطہ پی ٹی آئی گورنمنٹ کوکمزور کرنے میں معاونت دی۔پھر وزیراعظم کا استعفیٰ  لئے بغیر دھرنے کے میدان سے واپس پلٹنے کے بعد جب مولانا کو ناقدین کے تلخ سوالات کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے مختلف ٹی وی چینل کے ساتھ انٹرویوز میں دعوی ٰ کر دیا کہ وہ اسلام آباد سے خالی ہاتھ نہیں لوٹے بلکہ دھرنا کی بساط لپیٹنے کے صلے  میں انہیں دسمبر میں سیاسی تبدیلی کی یقین دہانی کرائی گئی،ابتداءمیں چوہدری پرویز الہی نے خود بھی روا داری   میں نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں مولانا کے اِسی دعوے  کی تائید کردی لیکن جب مولانا نے اس راز سے پردہ اٹھایاکہ پنجاب میں حکومتی اتحادی چوہدری برادارن بھی پی ٹی آئی گورنمنٹ کی کارکردگی سے غیرمطمئن اور عمران خان کے طرز عمل سے ناخوش ہیں،تو مولانا کے اسی بیان نے چوہدری پرویز الہی کے عزائم کو عیاں کر دیا،اگرچہ بعد میں چوہدری صاحب نے مولانا فضل الرحمٰن کے مبینہ دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے وضاحتیں دیں کہ کسی کی ایما پہ مولانا کو دسمبر میں تبدیلی کی یقین دہانی کرائی نہ وہ عمران خان کے رویہ سے نالاں ہیں لیکن اس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا تھا اور ان بیانات کی منفی توضیحات باہمی اعتماد کے نازک رشتوں کو چکناچور کر چکی تھیں۔

بیشک مسئلہ یہی تھاکہ قاف لیگ روز اوّل سے اپنی اتحادی جماعت، پی ٹی آئی،کو قائل کرنے کی سرتوڑکوشش کرتی رہی کہ نواز لیگ کا مقابلہ کرنا ہے تو پنجاب کی وزرات اعلیٰ  چوہدری پرویز الہی کے حوالے کی جائے لیکن تمام تر مشکلات کے باوجود،پی ٹی آئی،پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا تاج سرنڈر کرنے پہ آمادہ ہوئی نہ دس نشستوں والی قاف لیگ اپنے مطالبہ سے دستبردار ہو سکی۔اسی کشمکش کے دوران جب وفاق میں مونس الہی کو وزارت بھی نہ ملی تو چوہدریوں کی ناراضگی کی سطح مزید بلند ہو گئی اور سیاسی لین دین پہ مبنی ان اختلافات نے دونوں جماعتوں کے درمیان وفاداری کے رشتے  کو کمزور کر دیا بلکہ بتدریج یہ اختلافات اب سیاسی تنازعہ کی صورت اختیار کرتے دکھائی دینے لگے ہیں ۔

واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اور چوہدری برادران کے مابین باہمی احترام کے یہ رشتے چوہدری ظہور الہی اور مولانا مفتی محمود مغفور کے وقتوں سے چلے آ رہے ہیں اور دونوں خاندانوں کے دیرینہ سماجی تعلقات سیاسی مفادات کی لن ترانیوں سے بالاتر ہیں،اس لئے مولانا فضل الرحمٰن نے بلاجھجھک چوہدری پرویز الہی کے وعدوں پہ بھروسہ کرکے دھرنے کی بساط لپیٹ لی۔چوہدری پرویز الہی نے بھی نیک نیتی سے مولانا کو ریسکیو کیا لیکن پاور پالیٹکس کی اسی بے رحم جدلیات نے دونوں کونقصان پہنچایا،شاید وہ دونوں غلطی پہ تھے۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ چوہدری پرویز الہی مولانا کو دی گئی ضمانتوں پہ عمل درآمد کرانے کی طاقت نہیں رکھتے،جس سے مولانا فضل الرحمٰن کا ذہنی اضطراب بڑھ رہا ہے۔

دوسری طرف مولانا کی طرف سے خفیہ وعدوں کا افشاں چوہدریوں کو اپنے اتحادیوں سے دور کرنے کا سبب بن گیا،لہذا  سیاست کے اس بے رحم کھیل میں دونوں فریق سیاست اور سماجی تعلق گنوا بیٹھے۔اس ڈیل میں پتہ نہیں مولانا کا مستقبل کیا ہو گا لیکن بہرحال اس خفیہ ڈیل میں قاف لیگ تو اپنے طاقتور اتحادی کا اعتماد کھو چکی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ اقتدار کی رسہ کشی نے قاف لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان بداعتمادی کی ایسی دراڑ پیدا کر دی جسے وقت، حالات اور سیاسی مفادات کے تقاضے مزید گہرا کریں گے۔

یہی وجہ تھی جو مولانا کی سیاسی مہم جوئی کی سرگرانی سے نجات پاتے ہی وزیراعظم نے پنجاب کے انتظامی ڈھانچہ میں غیرمعمولی تبدیلیاں کر کے چوہدری برادارن کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے علاوہ عثمان بزدار کی کرسی کو مضبوط بنانے کا تہیہ کر لیا۔فی الوقت پنجاب کی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پہ تبادلوں کی یہ ناگہاں لہر،اتحادی جماعتوں کے مابین پائے جانے والے،انہی داخلی تضادات کا شاخسانہ نظر آتی ہے۔عمران خان کی شخصیت اور مزاج سے واقف لوگ جانتے ہیں اگر انہیں موقع  ملا تو وہ قاف لیگ کو مزید پیچھے دھکیلنے کی خاطر چوہدریوں کے خلاف شہبازشریف دور میں بنائے گئے مقدمات کو ازسر نو زندہ کر سکتے ہیں۔اگر ہمارا اندازہ درست ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چوہدریوں کی ناراضی مول لیکر پی ٹی آئی پنجاب جیسے اس حساس صوبہ پہ اپنی گرفت مضبوط رکھ پائے گی؟

جہاں کے انتظامی ڈھانچے اور سماج میں نوازلیگ کی جڑیں کافی گہری ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ متذکرہ بالا دونوں جماعتوں کو حالات کے جبر اور نوازشریف کی مخالفت نے باہم متحدکیا اور دونوں پارٹیاں بمشکل معمولی اکثریت سے پنجاب میں حکومت بنانے کے قابل ہوئیں،ان دونوں کے مابین اگراختلافات بڑھے تو نوازلیگ فائدہ اٹھانے میں دیر نہیں کرے گی۔پنجاب اسمبلی کی371 میں سے دو نشستیں خالی پڑی ہیں۔پی ٹی آئی نے اپنی 181اورقاف لیگ کی 10نشستیں ملا کے191 ممبران سے حکومت بنائی۔ادھر پنجاب اسمبلی میں اپوزیش کے پاس نوازلیگ کی166،پی پی پی کی 7، پی آر ایچ کی ایک اورآزاد امیدواروں کی چار نشستیں ہیں۔اگر قاف لیگ پی ٹی آئی کو چھوڑ کے اپوزیشن کے ساتھ جا ملی تو نواز لیگ باآسانی وزارت بنا لے گی۔لیکن واقفان ِ حال کا کہنا ہے کہ قاف لیگ کی لیڈرشپ سے کسی مہم جوئی کی توقع نہیں کی جا سکتی کیونکہ اے این پی کی قیادت کی مانند قاف لیگ والے بھی نیب سے بہت ڈرتے ہیں،چنانچہ غالب امکان یہی ہے کہ چوہدری برادران کسی پُرخطر مزاحمت میں سرکھپانے کی بجائے ایک قدم پیچھے ہٹنے میں عافیت تلاش کر لیں گے۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *