ایک قبر کی فریاد۔۔۔(پہلا حصّہ )ڈاکٹر نور ظہیر

یہ قصہ ایک الہام کی طرح مجھے معلوم ہوا، جب میں اُن ان گنت قبروں میں سے ایک پر اونگھ رہی تھی۔ اونگھ! ایک قبر پر، اللہ رحم! سونا تو ایک نہ ایک دن ہم سب کو ہی قبروں میں ہے، یعنی وہ مستقل والا سونا۔ کم سے کم مسلم اور عیسائیوں کو تو ایسا ہی کرنا ہے۔ چند لوگ اس معاملے میں ہم سے زیادہ خوش قسمت ہیں۔ ان کے بے جان جسم گِدھوں کے کام آتے ہیں جو کوڑے سے بنٹارے کا یقینا ً زیادہ رحم دل اور فائدے مند طریقہ ہے۔ خیر بات گڑبڑائے  نہ۔ میں مری نہیں تھی اور کسی قبر میں چین سے یا بے چین سو نہیں رہی تھی۔ میں بڑاگڑھ کے قبرستان میں تھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں شہیدوں کی سب سے بڑی آرامگاہ ہے۔ یہ وہ تھے، جن کی قسمت میں سامنتی راجپوتانہ کی اَن گنت جھڑپوں میں شہید ہونا لکھا تھا۔

میری ماں کٹّر راجپوت تھی۔ وہ نجیب الطرفین سیدزادی بھی تھی جس کا مطلب کچھ یوں ہے کہ ان کا خون سیدھا حضرت محمد ﷺ سے تعلق رکھتا تھا۔ اب  یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ کیوں کر تھی، یہ اپنے آپ میں ایک بڑا سوال ہے، جن سوالوں کی جڑیں لیے ہمارا دیش مضبوطی سے کھڑا ہے۔ بہرحال، یہ دو شُدھ خون کی دھاراؤں والی میری ماں بہترین قصہ گو تھیں۔ میرے بچپن کی کڑکڑاتے جاڑے کی ان گنت راتوں کو راجستھان یا عربستان کی تپتی ریتوں کی کہانیوں کی گرمی ان کی آواز سے ملی۔ انھیں میں سے ایک کہانی نے میرے چھ سال کے دماغ پر ایسی گہری چھاپ چھوڑی کہ چھیالیس سال کی عمر میں، میں نے خود کو بڑاگڑھ کے اس قبرستان میں پایا۔ مغل دور میں ’گلاب کی کھیتی‘ پر کتاب لکھ رہی تھی اور شہزادی جہاں آرا کے اس باغ کی جانکاری لینے یہاں آئی تھی۔ یہ پچاس ایکڑ کا باغیچہ، پیر خواجہ واضح محمد چشتی کی درگاہ سے پانچ کلومیٹر کی دوری پر ہے اور اس کے پھول روز مزار پر پہنچائے جاتے ہیں۔ میرے نانا اس مزار کے ٹرسٹ میں تھے اور ہم اکثر گرمیوں کی چھٹیاں یہاں گزارتے۔ یہیں ایک تپتی السائی دوپہر میں امی نے یہ کہانی سنائی تھی —

انیسویں صدی کے شروع میں ایک دُکن مسافر، صرف اسی مقصد سے بڑاگڑھ آیا کہ اس قبرستان کی قبریں گن سکے۔ رہا ہوگا آج کے ڈیٹا کلیکٹ کرنے والوں کا سا سوشل سائنٹسٹ۔ اس نے گنا اور پھر احتیاطاً ایک اور بار گننے کا فیصلہ کیا۔ دونوں بار فرق گنتی دیکھ کر اس نے پھر گنا۔ آخر تنگ آکر وہ شہر لوٹا اور ایک بوری نمبو لے آیا اور ہر قبر پر ایک ایک رکھتا گیا اور گنتا رہا۔ جب نمبو جمع کیے تو پھر ٹوٹل الگ آیا۔ یہ سوچ کر کہ کچھ نمبو گول ہونے کی وجہ سے شاید قبروں سے لڑھک گئے ہوں، وہ اس بار شہر سے سپاریاں لے کر آیا اور پھر ایک ایک قبر پر سپاری رکھ کر جوڑا۔ حساب پھر الگ آیا۔ آخر چڑھائی اور سپاٹ پر دوڑتے بھاگتے وہ تھک گیا اور ایک قبر کے پاس لیٹ کر سوگیا۔
اچانک اسے لگا جیسے کوئی اپنی لاٹھی سے اسے ٹھیل رہا ہو۔ اٹھ کر بیٹھا تو کیا دیکھتا ہے کہ پاس کی قبر کھلی ہے اور ایک بوڑھا سایہ، اتنا بوڑھا جتنا کہ وجود سے آزاد سائے کی ہوسکتی ہے، اس کے پیروں کے پاس کھڑا ہے۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن سائے نے اپنے ہاتھوں سے اسے روکتے ہوئے کہا — ”ٹھہر! اے بوڑم! ٹھہر! کیا تلاش کرنے آیا ہے یہاں؟ شہیدوں کی قبروں کی گنتی؟“ ابن غفور، منہ  کھلا، آنکھیں پھٹی، بس سر ہلا سکا۔ ”دُکنی گدھے کی اولاد، جانتا نہیں، مقصد کے لیے مرنے والے، وجود، روپ اور گنتی سے پرے ہوتے ہیں۔ بھلا شہیدوں کی قبریں کبھی گنی گئی ہیں؟“
ابن غفور کی آنکھیں کھل گئیں اور وہ الٹے پیر دُکن کی طرف دوڑا۔ لیکن اس سے پہلے وہ پیر صاحب کے سجادہ نشینوں میں سے ایک کو یہ واردات سنا گیا۔ انھوں نے بڑی باقاعدگی سے اس کا پرچار کرکے، درگاہ میں گھٹتی ہوئی دلچسپی کو پھر بڑھا دیا۔

کتھئی ہری گھاس پر، ان گنت قبروں کے بیچ میں کھڑی میں سوچ رہی تھی کہ کیا ہو جو میں ابن غفور کی حرکت کو دہراؤں؟ اگر میں جمع کیا پورا ڈیٹا کمپیوٹر کے حوالے کر دوں۔ کیا شہیدوں کی روحیں، بل گیٹس کے پلّوں کو، جو ہر بار میرا نام ٹائپ کرنے پر ’ڈکشنری میں نہیں ہے، بدل ڈالیے‘ فلیش کرتے ہیں، پہلے کی طرح ہردم برہم کرپائیں گے؟ کیا نمبر خود کو بدل ڈالنے کی ڈھٹائی پر اڑے رہیں گے؟

اس بات پر سوچتے اور راجستھان میں اب پیدا ہونے والے بنارسی پان کی جگالی کرتے، میں ایک قبر کا سہارا اپنی تھکی ہوئی پیٹھ کو دیتی زمین پر بیٹھ گئی۔ ان شاندار، سفید، چمکتے پتھر والیوں پر نہیں — کیا جانے وہ کسی سیناپتی یا علمبردار کی ہوں؟ اتنا جوکھم تو نہیں اٹھایا جاسکتا۔ یوں بھی سورج اپنے پورے زور پر آگ برسا رہا تھا، چلچلاتی ہوئی سنگ مرمر، بھلا کہاں کسی کی تھکی پیٹھ کو سہارا دے سکتی ہے۔ جسے میں نے  چُنا تھا وہ تو ٹوٹی پھوٹی سی اینٹوں مٹی کے ڈھیر بھر تھی۔ ایک معمولی سپاہی کا آخری بستر، جس نے پچھلی رات ہی کسی مرگ نینی سے سویرے تک پیار کیا ہوگا اور جس کے ذہن میں اس کے جسم سے اٹھتی ہوئی سوندھی مٹی اور پسینے کی مہک اس وقت بھی بسی ہوگی جب وہ اپنی قطار میں مستعدی سے کھڑا، ہلاّ بولنے کا انتظار کررہا ہوگا۔ جو ایک کسان خاندان کے پانچ بچوں میں تیسرا تھا، جو کبھی فوج میں شامل نہ ہوتا اگر اس کی زمین مہاجن کے پاس گروی نہ ہوتی، جس کی ہتھیلیوں میں ہل ٹھیلنے اور مٹی کے لوندے مسلنے کی کسک تھی، جس کی نظر دور اُڑتی ہوئی دھول سے گردیلی آندھی اور نم بادلوں میں فرق کرپاتی تھی اور جو دوپہر ہونے سے پہلے، گھوڑوں کی ٹاپوں کے نیچے اوندھے پڑا تھا۔ اس کی وردی بس گواہی دے رہی تھی کہ وہ سپاہی تھا اور کس طرف سے لڑ رہا تھا۔ ایسی ہی ایک قبر کا سہارا لیا میں نے۔ زندہ یا مردہ، عام آدمی ہی ہم جیسوں کو سہارا دیتے ہیں۔ یہ پھٹ کر ایک سایہ بن کر نمودار نہیں ہوگی، اسے ایک زیادہ اہم کام نبھانا تھا، میری دُکھتی پیٹھ کو سہارا دینا۔

سانس پر قابو پا لینے کے بعد، میں چائے کا تھرمس کھول ہی رہی تھی کہ قبر کی بائیں طرف سے ایک تہذیب دار کھانسی کی آواز آئی۔ شاید قبرستان کا چوکیدار ہوگا جو مجھے اس جگہ کی پاکیزگی بنائے رکھنے کے لیے ہدایت کرنے آیا ہوگا۔ نظر اٹھائی تو دیکھا، ساٹھ کے لگ بھگ ایک صاحب، سفید کرتا پاجامہ پہنے، دودھیا سفید نہیں، وہ والا جسے سستے صابن سے بار بار دھویا جاتا ہے اور اُجلاپن لانے کی خواہش میں نیل کی ڈبکیاں دی جاتی ہیں۔ ان کے سر پر ایک نازک کشیدہ کی ہوئی گول ٹوپی تھی جس کے نفیس کام کو نہارنے میں، میں اتنا مشغول ہوگئی کہ انھیں پھر کھنکھارنے کی ضرورت ہوئی۔ میں ذرا شوقین ہوں، کیونکہ تعلق تو میرا بھی ایک امیرانہ خاندان سے ہے۔ بُرا وقت پڑنے سے ایسی چیزیں میرے پاس نہیں ہیں لیکن جناب شوق تو اب بھی ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں، اس شوق کو میں نے ایک اچھے چلتے ہوئے بزنس کا روپ دیا ہے — بگڑتے ہوئے رئیس زادوں سے اس طرح کی کھاٹی چیزیں خرید کر  باہر ملکوں میں پرائیویٹ کلکٹروں کو بیچتی ہوں۔ میرا دماغ اس اُدھیڑبن میں الجھا تھا کہ دونوں چیزوں کا ایک ساتھ اور الگ الگ کیا دام لگاؤں، شروعات کتنے سے کروں اور اپنا کمیشن کتنا رکھوں؟ نظر ملی تو دیکھا ان کے چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ تھی، ایسی جس سے ظاہر تھا  کہ وہ میرے خیالوں کو پڑھ پارہے ہیں۔ سر ہلاتے ہوئے، انھوں نے خاموشی سے مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ میں تہذیب کے دائرے میں رہوں۔ میں نے واسکٹ اور ٹوپی کو لیبل لگاکر ذہن کے کونے میں رکھ دیا۔ اُجڑے راجاؤں، نوابوں سے اتنی چیزیں خریدنے کے بعد مجھے انھیں منالینے کے سارے پینترے آتے ہیں۔ جی ہاں، بہت پھٹیچر والے بھی خاندانی وراثت سے جدا ہونے میں ہچکچاتے ہیں اور یہ تو کپڑے اتار لینے کی بات تھی۔ لیکن میں بھی بہت سی تکڑمیں جانتی تھی۔ ابھی نہ سہی کبھی اور سہی۔

پھر انھوں نے ایسی حرکت کی کہ میں حیران رہ گئی۔ ایسی، جس نے مجھ جیسے بوہیمین کو بھی چونکا دیا۔ ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے، اللہ کا نام لیا اور خود کو پاس والی قبر پر بٹھا دیا — جی جناب، بالکل قبر کے اوپر۔ میں نے جلدی سے ادھر اُدھر دیکھا اور ٹھنڈے لہجے میں ان سے بولی — ”آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ میری مراد آپ کے قبر پر بیٹھنے سے ہے۔“
”واقعی! جان سکتا ہوں کیوں نہیں۔“ انھوں نے پوچھا۔
ٹخنوں تک نمازیوں والے اُٹنگے پاجامے کے باوجود حضرت تھے بڑے آزادخیال۔
”کیونکہ، اس روح کا بھوت، یعنی اس آدمی کا بھوت، آپ کے پیچھے پڑ جائے گا۔“ میرے اپنے کانوں کو بھی میری بات بچکانہ لگ رہی تھی۔
”اب، جب میں خود ہی یہاں آرام کرتا ہوں تو خود کے پیچھے تو پڑ نہیں سکتا۔“
”کیا مطلب ہے آپ کا؟“ اپنا سوال ختم ہونے سے پہلے ہی سچائی میری سمجھ میں آگئی۔
”نہیں، میں کھسکا ہوا نہیں ہوں اور یہ قبر میری ہے۔ اس کا کتبہ مدتوں پہلے گرکر کھوگیا ورنہ میں تمہیں اس پر اپنا کھدا ہوا نام دکھاتا۔“
”لیکن میری سمجھ میں نہیں آرہا — آپ یہاں، مطلب دونوں جگہ، اندر باہر کیسے ہوسکتے ہیں؟“
”کیا بتائیں بی بی، وہ ایک لمبی داستان ہے۔“
”بتائیے نا۔“ میرے اصرار کے پیچھے کہانیاں لکھنے کا بھی چسکا تھا۔ یہاں بڑاگڑھ کی پہاڑی پر، خود کو ایک شہید کی روح سمجھنے والے دیوانے کی کہانی اُسی کی زبانی، اچھی بِک سکے گی۔ میں پورے دھیان سے ان کی طرف تاکنے لگی اور وہ شاید میری توجہ سے خوش ہوئے کیونکہ انھوں نے بغیر کسی تاخیر کے فوراً ہی شروعات کردی۔

”یہ اس وقت کی بات ہے جب ہندوستان کے تخت پر اورنگ زیب بیٹھا کرتا تھا۔ بھائی چارے کی ڈور، جو صوفیوں نے ہندو مسلمانوں کے بیچ باندھی تھی، اُس ظالم بادشاہ کی حکومت میں دھاگا دھاگا ہورہی تھی۔ اپنے مالک کے رویے کا فائدہ اُٹھاکر، مسلمان حاکم، جاگیردار اور نائب، ہندو رعایا پر قہر برسا رہے تھے۔ چھوٹے سے جرم پر وہ اپنی ملکیت کھو دیتے، کوئی بھی بہانہ کرکے ان کامالِ  تجارت ضبط کرلیا جاتا، ان کے نوجوان بے روزگار، عورتیں غیرمحفوظ اور خوفزدہ ہوگئیں۔ اتنے سے بھی بادشاہ مطمئن نہیں ہوا۔ ظالم نے جزیہ سود لاگو کردیا۔ ہندو عوام ان بے پناہ ظلموں سے تڑپ رہی تھی اور مذہبی نفرت کی دیوار مضبوط ہورہی تھی کہ سلطان نے اپنا رخ ان کی طرف کیا جنھوں نے انسانیت، بھائی چارے اور محبت کی نیو رکھی تھی۔ صوفی سنت اگلا نشانہ بنے۔ دکھاوے کے لیے اس نے مٹھی بھر مُلاّؤں کو جمع کیا اور صوفیوں سے اسلام کی باریکیوں پر بحث کرتے، اور یہ ثابت کردیتے کہ صوفی اسلام کے راستے پر چلنے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن وہ سچے اسلام کے پھیلاؤ میں رکاوٹ ہیں اور اس لیے پھانسی، سولی، صلیب یا سر قلمی میں سے ایک کے حقدار ہیں۔

عوام اس ظلم سے کراہ اُٹھی کیونکہ وہ صوفی ہی تھے، جو سلطان کے دیے ہوئے زخموں پر مرہم لگاتے تھے، جو انھیں امید دلاتے تھے کہ اوپر والے پر یقین رکھو — وہ تکلیفوں کے ذریعے تمہارے اعتماد کا امتحان لے رہا ہے۔ بیچارے عوام، دانت بھینچ کر، کولہو کے بیلوں کی طرح جُتے رہتے، وہ کولہو جس کے دونوں پاٹوں کا وزن ہر پل بھاری، اور بھاری ہوتا جاتا۔ پھر یہ صوفی ایک ایک کرکے غائب ہونے لگے۔ کچھ تو کھلّم کھلّا ذبح کیے گئے، کچھ اچانک لاپتہ ہوگئے۔ جنتا چلچلاتی دھوپ میں، ایک مکڑی کے جالے جیسے سائے سے مرحوم، سسکتی، بلکتی رہی۔

وہ بُرا وقت تھا بی بی۔ بیٹوں کو وداع کرتے ہوئے ماؤں کو پتہ نہیں ہوتا تھا کہ پھر ان کا منہ  دیکھنا نصیب ہوگا یا نہیں۔ لکھ پتی باپ کو یہ خبر نہ ہوتی کہ دوپہر کے بعد، شام کا کھانا بال بچوں کو کھلا پائے گا یا نہیں۔ ’بچنے کی خواہش‘ نام کی پری کا پیچھا کرتے ہوئے لوگ مذہب بدلنے لگے کہ جی پائیں، ایک سے دوسرے دن تک۔ ہر آذان پر مسجدیں کھچاکھچ بھری ہوتیں لیکن خدا کا شکر کوئی ادا نہیں کرتا۔ خاموشی سے سر جھکائے وہ دل میں ظالم بادشاہ پر خدا کا قہر برپا ہونے کی بھی دُعا نہ کرتے — کیا جانے کوئی دل کے اندر کی گرجن بھانپ لے۔ اور سلطان؟ اس نے اپنی چوکسی دوگنی، پھر تین گنی، پھر چوگنی کرڈالی۔ یہاں تک کہ اس نے جامع مسجد تک جانا بند کردیا۔ لال قلع کے اندر مسجد بنوائی گئی تاکہ عید بقرعید کو بھی سلطان کو سب کے ساتھ نماز نہ پڑھنی پڑے۔ پھر بھی، اس کے لیے ابھی اور کام باقی تھے۔ اس نے درگاہوں کا رُخ کیا۔

سلطان نے ایک اعلان جاری کیا — ”صوفی پیروں میں طلسمی طاقت ہوتی ہے، جو اتنی طاقت ور ہوتی ہے کہ ان کے جسم کے ختم ہونے کے بعد بھی، ان کی مزاروں پر موجود رہتی ہے اور ان کو ماننے والوں کی مدد کرتی ہے۔ اگر یہ بات سچ ہے تو میں خود ہر صوفی کے  مزار پر جاؤں گا اور اس سے سوال کروں گا۔ اگر درست جواب ملا، تو ٹھیک، ورنہ تو اس درگاہ کی وقف کی ساری ملکیت ضبط کرلی جائے گی۔ مزار کھودکر برابر اور پورا مقبرہ توڑکر خاک میں ملا دیا جائے گا، تاکہ اس درگاہ کا نام و نشان مٹ جائے۔“

بی بی، بہت سی درگاہیں ڈھائی گئیں، بہت سی شانت قبروں کو کھول ڈالا گیا اور سیکڑوں کتبے ذرہ ذرہ ہوئے۔ عوام ان حبیبوں کا ماتم کرتی، جن کی موجودگی انھیں اَن دیکھے خدا کا یقین دلاتی تھی، لیکن یہ ماتم بھی وہ چپکے چپکے بند دروازوں کی آڑ میں کرتی۔

پھر ایک دن، سلطان کی بہن، جہاں آرا نے، پیر خواجہ واضح محمد چشتی کی اس درگاہ کو، ایک سو ایکڑ کی پہاڑی دان کردی۔ یہ عمدہ زمین تھی، جسے شہزادی نے گلاب کے باغ کے لیے چن کر صحیح فیصلہ کیا تھا۔ اس پر، اچھی دھوپ بھی پڑتی ہے، اونچائی کی وجہ سے بارش واجب ہوتی ہے اور پانی ٹھہرتا نہیں۔ اب یا تو سلطان خود یہ اُپجاؤ زمین کسی درباری کو دینا چاہتے ہوں گے یا کسی جاگیردار کی اس پر پہلے سے نظر تھی، بادشاہ اس خیرات پر چوکنّے ہوئے اور انھوں نے صدر سجادہ نشین کو فرمان بھیجا۔ انھوں نے ہمارے پیر کے بارے میں بہت سنا تھا۔ ان کے پردادا، ظل سبحانی، جلال الدین اکبر خود ننگے پاؤں چل کر زیارت کرنے آئے تھے۔ سلطان خود زیارت کرنا چاہتے ہیں اور رمضان کے مہینے کے پورے چاند کے روز تشریف لائیں گے۔

راجاؤں، نوابوں، شہزادوں اور بادشاہوں کی آمد کی خبر جشن کی وجہ ہوتی تھی۔ عام طور پر وہ لالچی لوگ ہوتے تھے اور اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ خیرات جتنی زیادہ ہوگی، پھل بھی اتنا ہی جلدی، اتنا ہی زیادہ ملے گا۔ ان کے جینے کا طریقہ ان عظیم جگہوں پر بھی نہیں بدلتا اور ان کے دسترخوانوں کی جوٹھن اور تن کی اُترن، ان سیکڑوں لوگوں کا پیٹ بھرتی اور تن ڈھکتی جو اپنے حکمرانوں کی ایک جھلک دیکھنے اُمڈ پڑتے۔
لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا۔ فرمان پڑھ کر سجادہ نشین گمبھیر ہوگئے اور اپنی برفیلی داڑھی سہلانے لگے۔ وہ بھلے آدمی تھے لیکن کوئی خاص ذہین نہیں، اللہ ان کی روحوں پر رحم کرے۔ لیکن اتنا تو وہ بھی سمجھ گئے کہ اس آمد کا انجام اچھا نہیں نکلنے والا ہے۔ انھوں نے سارے سجادہ نشینوں کو اور وقف کے دوسرے ممبران کو بلوایا۔ وہ ایک گمبھیر جمگھٹ تھا جو درگاہ کے اندر والے دالان میں جمع ہوا۔ کسی کے دل میں کوئی شک نہیں تھا — سلطان درگاہ کیوں آرہے ہیں۔ ہر کوئی یہ بھی سمجھ رہا تھا کہ یہ زمین کا ٹکڑا اس قدم کی وجہ ہے۔ ایک نے رائے دی — زمین لوٹا دی جائے، دوسرے نے کہا کہ — شہزادی جہاں آرا سے کہا جائے کہ وہ دخل دیں۔ دونوں پر ہی بحث کرکے ردّ کردیا گیا۔ ہر کسی نے مانا کہ ضدّی سلطان کو اپنا فیصلہ بدلنے پر کوئی راضی نہیں کروا پائے گا۔

میں شروع سے ہی ذرا گرم دماغ رہا ہوں۔ پیر صاحب کے سجادہ نشینوں میں جنم لینے کے باوجود، میں ایک تلوارباز ہونا چاہتا تھا اور شاہی فوج میں سپاہی ہونا میرا خواب تھا۔ میری ماں کے آنسوؤں، باپ کی گالیوں اور ایک نازنین سے نکاح نے میری فطری خواہش کو لگام دی۔ پیڑھیوں میں ٹکراؤ تو صدیوں سے ہی بالغ ہونے اور پالن کرنے کا انگ ہے۔ میری ماں کی  بلند چیخ و  پکار اور ابّا کی کھلے  عام لعنتوں نے مجھے اس تکیے میں ایک باغی کا رتبہ دے ڈالا۔ اس دن کی انجمن میں، میری موجودگی کی وجہ میرے ابّا کی بیماری تھی۔ میں نے تکیے کے سبھی نوجوانوں کو تیراندازی اور تلواربازی میں تعلیم شروع کردینے کا سجھاؤ دیا۔ وقت آگیا تھا، جب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ صوفیوں کی رگوں میں پانی نہیں بہہ رہا ہے۔ ہمارا ہتھیار پیار ہے، لیکن ہم اسپات کی تلوار بھی استعمال کرنا جانتے ہیں۔ یہی وقت ہے کہ ثابت کیا جائے کہ اللہ کی خدمت میں ہمارا خون جم نہیں گیا ہے۔ آؤ، بڑاگڑھ کی زمین کو لال کر ڈالیں۔ شہادت کی موت گمنامی کی زندگی سے کہیں بہتر ہے۔

کوئی ایک منٹ گہرا سنّاٹا رہا، پھر سب سے بزرگ سجادہ نشیں ڈگمگاتے ہوئے اُٹھے۔ وہی دراصل اصلی صدر تھے اور اکیس سال اس رُتبے پر بنے رہنے کے بعد اس لیے اسے چھوڑا تھا تاکہ اللہ کی عبادت کرسکیں۔
”برخوردار آپ تو ایسے بات کررہے ہیں جیسے کہ سلطان آکر واپس ہوگئے ہوں۔ آپ اس وقت کی بات کررہے ہیں جب ہم سب کو اس مزار سے محروم کرکے، سڑکوں پر بے آسرا چھوڑ دیا گیا ہو، معمولی بھکاریوں کی طرح۔ کیا یہ ایمان ہے؟ کیا سلطان نے مزار سے سوال کیا اور کوئی جواب نہیں پایا۔ مجھے یقین ہے ایسا نہیں ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ حضرت پیر اس سرپھرے گھمنڈی سلطان کو مناسب جواب دیں گے۔ میرے بچوں! خوف نہ کھاؤ، آخری وقت کی تیاری ابھی سے نہ کرو۔ خود کو اللہ کے حوالے کرکے دعا کرو۔ رحم کی دعا، سب گناہوں کے لیے جس نے ہم پر یہ قہر برپا کیا ہے۔ بھروسہ رکھو کہ اگر ہم اس سے گزر گئے تو اللہ ہم پر پھر مہربان ہوگا۔ ایمان کی لو جلاؤ اور اسے دعاؤں کی ہوا دو۔ آؤ، سجدے میں جھک جائیں اور اوپر والے کا شکر ادا کریں کیونکہ اس نے ہمیں آزمائش کے لیے چنا ہے۔

ایک ساتھ سب لوگ اٹھے اور مغرب کی طرف مڑکر دُعا کرنے لگے۔ میں نے اپنی آنکھیں ذرا سی کھول کر دیکھا کہ ہم میں سے کئی اپنے بغل میں کھڑے لوگوں کو ایسے ہی جائزہ لے رہے تھے۔ ایسا نہیں کہ وہ دیندار نہیں تھے یا انھیں مزار کی طاقت پر یقین نہیں تھا، لیکن یہ پاپی پیٹ کا سوال تھا۔ درگاہ نہیں تو روٹی نہیں۔ درگاہ نہیں تو اس بھری دنیا میں کوئی پہچان بھی نہیں۔

میری خاندانی اکائی کو مزار پر چڑھنے والے نذرانے میں سے ایک چھوٹا سا حصہ ملتا تھا۔ میں نے اپنی بیوی زرینہ سے حیدرآبادی کرن پھولوں کا وعدہ کیا تھا۔ اور یہ طے تھا کہ کسی بڑی  آسامی کی آمد پر اسے دلا دوں گا۔ میری نظروں کے آگے اس کا مایوس چہرہ آگیا۔ سلطان آئیں اور زیارت کے ایجنڈے سے کرن پھول ندارد۔ اب یہاں پر آپ کو زرینہ کے بارے میں بتانا ضروری ہے۔ وہ میری بڑی دور کی رشتہ دار تھی، اتنی دور کی کہ ان کے گھرانے کو نذرانے سے حصہ نہیں ملتا تھا۔ وہ بلا کی خوبصورت تھی، اتنی کہ اس نے میرے دماغ سے فوج میں بھرتی ہونے کے سارے خیال پونچھ ڈالے تھے۔ اب تو اس کی ادائیں تلواربازی کرتیں اور میں مسحور ہو ان کے وار سہتا، اس کی نگاہیں تیکھے تیر چلاتیں اور میں دل نکال کر ان کا ایک بھی نشانہ چوکنے نہیں دیتا۔

خوبصورتی کے ساتھ اس کے وجود میں شرارت گھلی تھی۔ ایسی، جیسی شرارت اور نافرمانبرداری بچوں میں ہوتی ہے۔ ایسی ایسی شیطانیاں اسے سوجھتی کہ لوگ دنگ رہ جاتے۔ جیسے صدر سجادہ نشیں کے باورچی خانے میں چپکے سے گھس کر قورمے میں کٹوری بھر مرچ ڈال دیتی، سفید چادر اوڑھ بھوت بن کر، امام باڑے کی سیڑھیوں پر دوڑتی ہوئی بیچ زنانہ مجلس میں پہنچا دیتی۔ دو تین خواتین تو بے چاری ہول کے مارے بے ہوش ہوگئیں۔ یا پھر امام حسین کے گھوڑے دُلدل کے لیے بنے، بُھنے چنے محلے کے بچوں کو بانٹ آتی۔ حضرت دُلدل کو بھوکا رہنا پڑتا۔ مگر یہ شیطانیاں اس کی اصل قابلیت نہیں تھی۔ وہ پلک جھپکتے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے آنسو رو سکتی تھی جو موٹی موٹی بوندوں میں تبدیل ہوکر چکنے گالوں پر پھسلنے لگتیں اور وہ ڈانٹتے ہوئے بزرگوں کو، نظروں میں رنج اور دُکھ لیے ایک ٹک تاکتی رہتی — واللہ، اس نظر کے سامنے تو پتھر کا دل بھی نرم موم ہوجاتا۔ مجھے کافی وقت، کوئی دو برس لگ گئے اصلیت سمجھنے میں اور وہ بھی نہ سمجھتا اگر وہ خود مجھے رازدار نہ کرتی کہ وہ ڈرامہ کرتی ہے۔ بہت بڑی اداکارہ تھی ہماری زرینہ۔ انیس سو چالیس کا زمانہ ہوتا تو میں اسے بمبئی لے جاتا اور ہم کروڑپتی مووی مغل ہوتے بجائے اصلی مغلوں کے خدمت گار ہونے کے۔ ہاں، اس کے آنے سے تکیہ جیسے زندہ ہوگیا تھا۔ گلیاں، جو صرف امیروں کی آمد کی ترحی سے حرکت میں آتیں، اس کے آنے سے زندگی کی جنبش سے شرابور ہو اٹھی تھیں۔ لوگ اس سے پیار بھی کرتے تھے اور نفرت بھی۔ دلچسپ وقت گزارنے کو اسے جو اپنے یہاں بلاتے تھے، وہی وقت خیریت سے گزر جائے اس کی دعائیں بھی مانگتے رہتے۔ وہ ہردلعزیز بھی تھی اور سب کے غصے کی وجہ بھی۔ سب کی ایک ہی رائے تھی — گود بھرنے دو، طبیعت میں ٹھہراؤ آجائے گا۔ آہا! آسان راستہ تلاش لینے کی ہندستانی عادت۔ بگڑے لڑکے کو باندھنے کے لیے بہو لے آئیے، بے چین فطرت کی بہو کو شانت کرنے کے لیے اس کی گود بھر جانے کی دعا کیجیے اور ضدی، چنچل بچے کو سنجیدہ کرنے کے لیے چھوٹے بھائی یا بہن کا انتظام کردیجیے۔ خیر، بچہ تو اس میں ٹھہراؤ لانے کے لیے ابھی تک آیا نہیں تھا اور مجھے اکیلے کو ہی کرن پھول نہ پانے کے اس کے غصے کو جھیلنا تھا۔

زیادہ تر مرد، تصوف کے پیچیدہ معاملوں پر لمبے بیان دے پائیں گے، صفر اور انسانی ہستی پر بھی ان کی کوئی نہ کوئی رائے ضرور ہوگی، لیکن ایک مرد سے یہ پوچھیے کہ مردوں کے بیچ ہوئی باتیں، کسی مرد کے پہنچنے سے پہلے، زنانے میں کیسے پہنچ جاتی ہیں، تو یقین مانیے اچھے اچھے داڑھی کھجلاتے رہ جائیں گے۔ میں زرینہ کے سامنے بیٹھا تھا، جسے پورا حال پہلے سے معلوم تھا اور اس وقت وہ سلطان کا درگاہ پہنچنا ناممکن بنانے کے لیے الگ الگ شیطانیوں پر غور کررہی تھی۔

”وہ ننگے پاؤں ہوگا، ظاہر ہے۔ مان لو وہ پھسل کر گر پڑے، مکھن کی ایک ڈلی پر اور اپنی ریڑھ کی ہڈی توڑ بیٹھے — لیکن نہیں۔ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ پھسلے اور کہیں چوٹ نہ آئے، تمہاری چاچی کی طرح، جو پچھلے ہفتے گری تو پوری پٹ، مگر اتنی ہی تیزی سے اٹھ کر جھاڑو گھماتی میرے پیچھے دوڑی۔ اچھا، اگر اس کے درگاہ میں قدم رکھتے ہی ہم پٹاخوں کی ایک لڑی چھوڑیں؟ اسے اپنی جان بہت پیاری ہے۔ جان بچاکر دوڑ پڑے گا اور شاید دلی تک دوڑتا جائے۔“
”ظاہر ہے کہ اس کے بعد تو ہم میں سے کوئی یہ دیکھنے کو زندہ بچے گا نہیں کہ درگاہ اور مزار کا کیا ہوا۔“ گھبراہٹ اور غصے میں میں نے ایک پورے کلچے کا چورا کر ڈالا جسے زرینہ بہت سلیقے سے دسترخوان سے، اپنی بکری کو کھلانے کے لیے سمیٹ رہی تھی۔ اس کی اس بے پرواہی سے میں آگ بگولہ ہوگیا۔ ”کیا تمہارے دماغ میں شیطانیوں کے سوا اور کچھ نہیں ہے؟ یہاں ہم سب، پورا کنبہ، نیست و نابود ہونے کی دہلیز پر کھڑا ہے اور تم ہو کہ تمہیں گھٹیا شرارتوں کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے۔ ارے، چار سال کے بچے بھی سہمے ہوئے، قہر برپا ہونے کا انتظار کررہے ہیں اور تم — اتنے گھٹیا، اتنے سستے اور ہلکے ہیں خیالات تمہارے۔ مجھے تو غصے سے زیادہ تم سے گھِن آتی ہے۔ تم ان میں سے ہو جو زندگی کو سدا گلابی شیشے سے دیکھتے ہیں۔ تم ایک شرارتی بچی نہیں، ایک خودپسند انسان ہو۔ تمہیں اپنی ناک کے آگے کچھ نہیں دکھائی دیتا۔ زندگی کو بغیر کچھ دیے جاؤگی تم یہاں سے اور جب اللہ تم سے قیامت کے دن حساب مانگیں گے تو تمہارے پاس شرارتوں کی فہرست کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوگا۔“

پہلی بار مجھے اس پر غصہ آرہا تھا۔ میں چیختا چلاتا رہا۔ ۔ اپنے ڈر اور خوف کو غصے سے دبانے کی کوشش کرتا رہا۔ زرینہ کی مسکراہٹ میری زندگی کے مسئلوں پر لمبی تقریر کے بیچ کہیں غائب ہوگئی تھی۔ لیکن میں اگر اس کے پھوٹ کر رو پڑنے کا انتظار کررہا تھا تو مجھے حیران ہونا تھا۔ خود کو سنبھال کر یوں تن کر کھڑی ہوگئی جیسے کوئی ملکہ ہو اور پورے اعتماد سے بولی، ”ترس آتا ہے تم پر جسے بس شرارتیں ہی دِکھیں، ان کے پیچھے کام کررہا دماغ نہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے — اگر نجات کا راستہ، گناہ سے ہوکر گزرتا ہے تو اے بندے، تو سوال کرنے والا کون ہوتا ہے۔ میرا نام لے اور منزل کی طرف بڑھ۔“
میں نے اسے پوری بات سمجھانے کو کہا، اسے دھمکایا، منتیں کیں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ میری چلبلی، چنچل بیوی، جو پچاس سیکنڈ سے زیادہ ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھ سکتی تھی اور اسی وجہ سے کبھی پوری نماز نہیں پڑھ پاتی تھی، ایک دم چپ سادھ گئی۔ تین دن گزر گئے اور منہ  سے ایک لفظ بھی نہ پھوٹا۔ شخصیت کے اس اچانک بدلاؤ پر ظاہر ہے کہ سوالیہ نگاہیں اٹھیں۔ صحت پوچھی گئی، بڑی بوڑھیوں نے تاریخ دریافت کی، کچھ نے رائے دی کہ اسے مائیکے کی یاد ستا رہی ہے۔ لیکن جب اسے وہاں بھیجنے کی بات ہوئی تو اس نے صاف انکار کردیا۔ ایک دادی نے خوش رہ کر، اپنی خوبصورتی بنائے رکھنے پر ایک لمبا لیکچر دے ڈالا۔ ابّا نے ایک برس پہلے، امی کے گزر جانے کے بعد سے ہی کھاٹ پکڑ لی تھی۔ وہیں سے پکار کر، سمجھنے کی کوشش کی، کہ وہ حوصلہ رکھے اور اس قہر کے بارے میں نہ سوچیں جو ابھی تک برپا نہیں ہوا ہے۔ خواجہ پیر حضرت نے ابھی تک ہمیں بے آسرا نہیں چھوڑا ہے۔ اس کے چہرے پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ آئی، لیکن اس نے کہا کچھ نہیں۔ تین رات وہ برابر عبادت کرتی رہی، بس ایک جلتے ہوئے چراغ کو ساتھ لیے۔ تیسرے دن کی سحر میں اس نے اپنا آنچل پھیلایا اور ایک ٹک ہلکے ہوتے ہوئے آسمان کو دیکھتی رہی۔ سچ کہوں تو اس وقت اس سے ہیبت سی محسوس  ہورہی تھی۔ دن بھر وہ گھر کا کام ایک عجیب باقاعدگی سے کرتی رہی۔

چوتھی صبح میں، اس کے اور بکری کے بیچ چل رہی نوک جھونک سے اٹھا۔ میں نے اطمینان کی سانس لی، سب ٹھیک تھا۔ شخصیت کا اچانک پلٹا کھانا، آس پڑوس کے لوگوں کے لیے مشکلیں پیدا کردیتا ہے۔ بدتمیز، پھکّڑ آدمی اگر اچانک تہذیب دار ہوجائے، بے پناہ غصہ ور اگر صبر کرنا سیکھ جائے تو ساتھ رہ رہے لوگوں کو اس کی طرف اپنا رویہ بدلنا پڑتا ہے۔ میرے اڑتے خیالوں کو گرم دودھ میں گھلتی ہوئی چینی کی خوشبو نے لگام دی۔ زرینہ ایک گلاس سے دوسرے گلاس میں دودھ انڈیل رہی تھی۔ صحیح  گرماہٹ پر لاکر اس نے دوپٹے کے سرے میں رکھا چاندی کا گلاس میری طرف بڑھایا۔ خدایا، وہ اس کے حسن کی تابانیاں! میں تو خوشی سے اس کے ہاتھ سے زہر بھی پی لیتا۔
اس نے دھیمی آواز میں بات شروع کی۔ — ”میں نے سب سوچ لیا ہے۔ ایک چیز بھی بے ترتیب نہیں ہے۔“
”کیا سوچ لیا ہے تم نے؟“
”سلطان کو روکنے کا راستہ۔ سب کچھ ٹھیک ہے، بس تمہیں میری مدد کرنی ہے۔ مجھے ایک مرد کے ساتھ کی ضرورت ہے۔“ اس نے یہ ایک جھنجھلاہٹ بھرے لہجے میں کہا، جیسے وہ سب کچھ اکیلے ہی سرانجام دینا چاہتی تھی لیکن کچھ ایسی بات تھی کہ ایک مرد کو مجبوراً ساتھ رکھنا پڑ رہا تھا۔ اسے خوش کرنے کے ارادے سے میں نے اسے اپنا پلان بتانے کو کہا۔ ”یہاں نہیں اور ابھی نہیں۔ مجھے آج رات چھوٹی درگاہ پر لے چلو، وہاں سب کچھ بتاؤں گی۔“
چھوٹی درگاہ تکیے سے بیس میل دور، بیچ جنگل میں، ویران جگہ پر تھی۔ رات میں وہاں سے کوئی گزرنا نہیں چاہتا تھا۔ میں نے حیرانی سے پوچھا — ”وہاں کیوں، یہاں کیوں نہیں؟“
”وہ میرے مائیکے سے آدھی دوری پر ہے۔ میری پوری تجویز سننے کے بعد شاید تم میرے ساتھ رہنا نہ چاہو۔ ایسا ہوا تو میں وہاں سے اپنے والد کے گھر چلی جاؤں گی۔“ اس سے آگے بات کرنے سے اس نے صاف انکار کردیا۔ مجھ میں اگر ڈھیلے بھر کی عقل ہوتی تو میں پوری بات اپنے ابّا کو سنا ڈالتا، لیکن میں اس کی اس بات سے کہ میں اس کے ساتھ رہنا نہ چاہوں، ایسا سٹپٹایا اور بہتّر گھنٹے کی چپّی سے ایسا گھبرایا ہوا تھا کہ اس کی بات مان گیا۔

دوپہر بعد نکلنا طے ہوا۔ ابّا سے اس نے کہا کہ اسے مائیکے کی یاد آرہی ہے۔
”رات کو لوٹیں گے تو کیا کہوگی؟“ میرے پوچھنے پر اس نے جواب دیا — ”آدھے راستے میں پہیے کا پینچ گر گیا تھا۔“ یقینا ًاس نے سب سوچ لیا تھا۔
دو گھنٹے کے دھکّے دھکیلوں کے بعد، ہم پیڑوں کے اس جم گھٹ میں داخل ہوئے جسے جنگل کہا جاتا ہے۔ کوئی پون گھنٹے بعد ہم چھوٹی درگاہ کے سامنے کھڑے تھے۔ کالی کائی اور پھپھوند سے ڈھکی، چھوٹی درگاہ، خواجہ پیر حضرت کی بیٹی کا مزار تھا۔ مزار کیا، آٹھ کھمبوں پر ایک چھتری تھی اور بیچوں بیچ میں ان کی قبر۔ ان کا انتقال حمل کے دوران ہوا تھا اور یہ مانا جاتا تھا کہ ان کے  مزار پر زیارت کرنے سے بال بچوں کی صحت بنی رہتی ہے اور بانجھ عورتوں کو اولاد بھی ملتی ہے۔ درگاہ کوئی خاص نہ تھی، زیارت کرنے والیاں عرس کے دوران ہی آتیں، جو پیر حضرت کے عرس کے ساتھ منایا جاتا۔ باقی وقت اس پر ویرانی چھائی رہتی۔ بیل گاڑی سے اتر کر زرینہ سیدھی مزار کی طرف بڑھی اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر، دونوں ہاتھ اٹھاکر دعا کرنے لگی۔ بے چاری دُکھیا! اسے اولاد چاہیے تھی مگر سب کے سامنے یہاں آنے سے شرماتی تھی۔ ٹھیک ہے، اگر وہ میرے گھر کا چراغ روشن کرنا چاہتی ہے تو مجھے بھی دعاؤں میں اس کا ساتھ دینا چاہیے۔ میں نے ایک پیڑ سے بیل باندھے اور مزار کی چار سیڑھیاں چڑھ کر اس کے برابر میں کھڑا ہوگیا۔ میری موجودگی کا احساس ہوتے ہی اس نے آنکھیں کھولیں اور مزار پر نظریں گڑائے ہوئے بولی — ”یہیں پر کرنا ہوگا۔ سلطان کو بڑی درگاہ کے بجائے یہاں آنا ہوگا۔“
”کیا کہہ رہی ہو تم؟“
”میری پلاننگ۔ تم جانتے ہو کہ یہ جھوٹی قبر ہے۔ یہاں کے  سب مزاروں میں اوپر کی قبر ایسی ہی ہے۔ اصلی قبریں نیچے، تہہ خانے میں ہیں ، جس کا دروازہ کچھ دوری  پر ہے۔ ہمارے خاندان کی عورتوں کے علاوہ اور کسی کو تہہ خانے میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہی میری تجویز ہے۔“
میں ہکا بکا رہ گیا۔ جتنا لگتا ہوں اتنا بے وقوف میں ہوں نہیں اور اس وقت تو اس کا پورا منصوبہ میری سمجھ میں آنے لگا تھا۔
”یہ تو کفر ہے! “ میں نے کچھ ڈانٹتے ہوئے کہا۔
”ہے کیا؟ درگاہ شریف کو بچانے کی کوشش کفر ہے؟“

جاری ہے

نور ظہیر
نور ظہیر
نور صاحبہ اپنے بابا کی علمی کاوشوں اور خدمات سے بہت متاثر ہیں ، علم اور ادب ان کا مشغلہ ہے۔ آپ کا نام ہندستانی ادب اور انگریزی صحافت میں شمار کیا جاتا ہے۔ایک دہائی تک انگریزی اخبارات نیشنل ہیرالڈ، اور ٹیکII، پوائنٹ کاؤنٹرپوائنٹ اخبارات میں اپنی خدمات سرانجام دیتی رہی ہیں ۔نور ظہیر کی علمی خدمات میں مضامین، تراجم اور افسانے شمار کیے جاتے ہیں۔ ہندوستان جہاں سرخ کارواں کے نظریات نے علم،ادب، سیاست، سماجیات، فلسفے اور تاریخ میں جدید تجربات کیے، وہیں ثقافتی روایات کو بھی جدید بنیادوں پر ترقی پسند فکر سے روشناس کروایا گیا۔ ہندوستان میں “انڈین پیپلز تھیٹر(اپٹا) “، جس نے آرٹ کونئی بنیادیں فراہم کیں ، نور بھی ان ہی روایات کو زندہ رکھتی آرہی ہیں، اس وقت نور ظہیر اپٹا کی قیادت کر رہی ہیں۔ نور کتھک رقص پر بھی مہارت رکھتی ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں جا چکی ہیں، آدیواسیوں کی تحریک میں کام کرتی آرہی ہیں۔سید سجاد ظہیر کے صد سالہ جشن پر نور ظہیر کے قلم سے ایک اور روشنائی منظر عام پرآئی، جس کا نام ” میرے حصے کی روشنائی” رکھا گیا۔ نور کی اس کتاب کو ترقی پسنداور اردو ادب کے حلقوں میں اچھی خاصی پذیرائی حاصل ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *