میں عورت ہوں, کیوں پیدا کیا مجھے؟۔۔رمشا تبسّم

میں گُل سما ہوں جسے  کاری قرار دے کر سنگسار کردیا گیا۔ مگر مجھے گل سما کے نام سے نہ پکارا جائے کہ میں عورت ہوں مجھے صرف اور صرف عورت ہی کہا جائے۔میرا نام الگ الگ ہو, یا میری عمر الگ ہو, یا ہو میرا چہرہ اور جسم الگ مگر مجھے عورت ہی کہا جائے کہ میں صرف عورت ہوں۔ وہ عورت جو پیدا ہونے جا رہی ہے۔وہ عورت جو پیدا ہو چکی ہے۔وہ عورت جس کو پیدا ہوتے ہی مار دیا جاتا ہے۔وہ عورت جس کو پیدا ہونے ہی نہیں دیا جاتا۔وہ عورت جو ظلم و ستم سہہ رہی ہے۔وہ عورت جسے ونی کیا جاتا ہے۔وہ عورت جو ذبردستی خریدی اور بیچی جاتی ہے۔وہ عورت جسے دارلامان اور یتیم خانوں سے امیروں کے بنگلوں تک پہنچایا جاتا ہے۔وہ عورت جسے ہر لمحہ خواہشوں کا گلا گھونٹ کر جینا پڑتا ہے۔وہ عورت جسکی مرضی,اسکی پسند, اسکی آزادی کا اپنی پگڑیوں کو اونچا رکھنے کی خاطر گلا گھونٹ دیتے ہو۔وہ عورت جو تمہاری ہوس کا شکار ہوتی ہے۔وہ عورت جو تمہاری ہوس کا شکار ہوئی عورت کے وجود سے جنم لیتی ہے۔وہ عورت جو تمہاری دسترس میں نہ آئے تو کارو کاری قرار دے کر سنگسار کرتے ہو۔ہاں میں صرف عورت ہوں جسکو تم ہر روز کسی نہ کسی صورت, کسی نہ کسی بہانے کچل رہے ہو۔

میری صدا ہے کہ کاش میں زمانہ جاہلیت میں پیدا ہوتی۔مجھے پیدا ہوتے ہی مار دیا جاتا۔میں درد اور اذیت سے نا آشنا شاید اس تکلیف کو سہہ جاتی۔ممکن تھا کہ میرے لبوں پر کوئی شکوہ نہ ہوتا, کوئی شکایت نہ ہوتی۔نہ ہوتا مجھے کوئی رنج کہ مجھے معلوم ہی کہاں ہوتا کہ یہ درد, یہ شکوے, یہ شکایتیں کیا چیزیں ہوتی ہیں۔مجھے ذندہ دفنانے والے ہاتھ میرے اپنوں کے ہوتے۔ممکن تھا کہ میرے اپنے مجھے مارنے سے پہلے ایک نظر رحم کی ڈالتے۔ زمانے کے دستور اور اپنی جہالت سے مجبور میرے اپنوں کی نگاہوں میں ذرا سی محبت ذرا سا دکھ نظر آ جاتا۔ اور پھر انکی اس لمحے بھر کی محبت کے نشے میں اندھیری قبر میں بھی آخری سانس نکلتے بھی میں شاید اتنا نہ تڑپتی۔میں شاید اتنا نہ ڈرتی میں شاید اتنا نہ سسکتی۔ کہ وہ جاہل لوگ وہ اندھیرے میں ڈوبے لوگ بے خبر تھے کہ عورت کا رتبہ کیا ہے بیٹی کی شان کیا ہے۔عورت کی عظمت کیا ہے۔مگر اب جو اندھیرے جہالت کے چھٹ گئے۔حق کا سورج طلوع ہو گیا۔خدا نے عورت کی عظمت بیان کر دی اور اب جو یہ انسانوں کے روپ میں تم وحشی جو روز کھیل کھیلتے ہو۔عورت کا نازک وجود روندتے ہو۔ہاتھوں میں بھرکر پتھر بھرے مجمع میں سنگسار کرتے ہوئے عورت پر قہقہے لگاتے ہو۔پھر پاکیزگی پر اپنی پھر بہت اتراتے ہو ۔اپنے انصاف پر بہت مغرور ہوتے ہو ۔
اپنے شملے عورت کے وجود کو نوچ کر بلند رکھنے والو۔ عورت پر بدکاری کا الزام لگانے والو۔عورتوں کو پتھر مارنے والوں ۔عورتوں کو رسوا اور برباد کرنے والو
سنو!
اک اور عورت گل سما ہو گئی رخصت
اب بتلاؤ
اے پاکیزگی کے شہزادوں
ختم ہوئی ناپاکی؟
پاکیزگی کا نیا سورج
اُفق پہ جھلملایا ہے؟
پاک کرداروں کا اب
تم نیا موسم لے آئے ہو؟
یہاں تم اب مردانگی کو
خوب آزمانے والے ہو؟
سنو
اک اور عورت ہو گئی  رخصت
تمہاری انا کی اب تسکین ہو گئی  کیا؟

مگر سنو!
سنو کہ تم وحشی درندے ہوں۔تم عورتوں کو ہر لمحہ ہر پل کسی نہ کسی صورت نوچ رہے ہو۔تم ہر لمحہ عورت کو کسی نہ کسی کسوٹی پر کھڑا کرتے ہو۔ عورتوں کی ننھی خواہشیں, معصوم خواب, نازک وجود کو اپنی جھوٹی انا اور غرور کی بھینٹ چڑھاتے ہو۔انسانوں کے صحرا میں اب تا حد نگاہ وحشت چھلکتی ہے۔تم بھیڑئیے ہو ,گدھ ہو, تم شیطان ہو, جانور ہو۔تم حوا کی بیٹی کے جسم کو نوچ لیتے ہو۔کبھی ہوس بجھاتے ہوکبھی پتھر برساتے ہو۔جو عورت حاصل نہ ہو اس کو تم جلاتے ہوتم مردانگی پر اپنی پھر بہت اتراتے ہو۔
تم ذہنی بانجھ لوگوں سے
حوا کی بیٹی کو خطرہ ہے
گھروں میں, سکولوں میں
کالجوں میں, محلوں میں,
شہروں میں,دیہاتوں میں
مسجدوں میں,مندروں میں
عزتیں لوٹنے والوں ,عزتیں بیچنے والوں
پگڑیاں بلند رکھنے کو کارو کاری کرنے والو
محشر کا دن بھی آئے گا
تمہیں رب جب اٹھائے گا, میں ہرمظلوم عورت سنگ
وہاں رب کو بتاؤں گی تم نے کتنا ستایا ہے
تم نے کتنا تڑپایا ہے
سب رب کو سناؤں گی
تم حیوانیت کے دیوتا
حوا کی بیٹی کے مجرم ہو
تمہیں محشر میں اب
خدا خود جلائے گا
مگر اس حشر سے پہلے
میں ایک گستاخی کرنے والی ہوں !
خدا کی خدمت میں اب کچھ عرض کرنے والی ہوں
اے رب کریم
کیا حوا کی بیٹی کو
انہی درندوں میں بھیجا ہے؟
انہی کی ہوس بجھانے کو آخر عورت بنائی ہے؟
انہی کی مردانگی دکھانے کو عورت بنائی ہے؟
گر نہیں ایسا تو بتاؤ
کیوں پیدا کیا مجھ کو جب
رحمت قرار دینے سے
رحمت سمجھی نہیں جاتی
کیوں پیدا کیا مجھے
اس وحشی دنیا میں
جہاں لمحوں میں جرگوں میں
اس رحمت کو داغدار کیا جاتا ہے
جہاں خواہش کی تکمیل کا
مجھے حق نہیں ذرا سا
اس سنگ دل دنیا میں
کیوں پیدا کیا مجھے ؟
کہ میں جائیداد کی خاطر
قرآن سے بیاہ دی جاتی ہوں
کہیں ونی کردی جاتی ہوں
کہیں بیچ دی جاتی ہوں
اے خدا کیوں پیدا کیا مجھے؟
بتلاؤ اے ربِ کریم
کیوں پیدا کیا مجھے اس دنیا میں
جہاں غیرت صرف مردوں کی ہے
جہاں عزت صرف مردوں کی ہے
جہاں پاکیزہ کردار صرف مردوں کے ہیں
جہاں حاکم صرف مرد ہیں
جہاں منصف بھی صرف مرد ہیں
جہاں گواہ بھی صرف مرد ہیں
جہاں حق پر بھی صرف مرد ہیں
اے خدا کیوں پیدا کیا عورت کو ایسے جہاں میں ؟
جہاں مجرم صرف عورت ہے
جہاں گناہگار صرف عورت ہے
جہاں بدکردار صرف عورت ہے

میں عورت ہوں ,کیوں پیدا کیا مجھے؟؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *