بیوہ/مطلقہ کی عدت پر ایک سیکولرموقف۔۔۔(قسط4)سلیم جاوید

پہلی آیت پرمبنی قانون سازی کیلئے گائیڈ لائن:

ماضی کی سچویشن: عرب کلچرمیں عورت کیلئے نہ سسرال ہوتا تھا نہ میکہ- (نہ یہ نند کے ساتھ رہتی نہ بھابھی اسے رکھتی)- ایک غریب گھرانے کا منظر ہے جہاں خاوند کا اچانک انتقال ہوگیا- عرب میں بیوہ یا مطلقہ کیلئے دوسرا رشتہ مسئلہ نہیں مگربہرحال کچھ وقت کیلئے اس عورت کوٹھکانہ چاہیے- اس گھرکی ملکیت خاوند کے قبیلے کے پاس ہے تو انکے لئے ہدایت ہے کہ کچھ عرصہ اس عورت کو بطور مہلت یہاں ٹھکانہ دیا جائے-

حال کی سچویشن : ایک ملازم کمپنی کی رہائش میں رہتا ہے-اسکی عورت ہاوس وائف ہے- اچانک خاوند کا انتقال ہوجاتا ہے- اس عورت نے کمپنی کی رہائش خالی کرنا ہے- کمپنی بورڈ کو ہدایت کی جاتی ہے کچھ مناسب عرصہ، اس بیوہ کو یہاں رہنے دیا جائے- ہاں کسی معروف انداز میں وہ عورت خود اپنا کہیں الگ انتظام کرلیتی ہے تو کمپنی پراسکی ذمہ داری نہیں ہوگی-

یہ دومثالیں بیان کی گئی ہیں- دراصل، ایک بے آسرا عورت پربیوگی کی اچانک افتاد پڑے تو اسکی معاشی کسمپرسی کے پیش نظر، کچھ مدت کیلئے آسرا مہیا کرنے کی مدت کو ہی عدت کہتے ہیں-(ضروری نہیں کہ خاکسار کا ہی نکتہ نظر درست ہولیکن قرآن کو اس انداز میں دیکھ لینے میں بھی کوئی  حرج نہیں)-

اب قرآن کی آیت ملاحظہ کیجئے: البقرہ 234
وَٱلَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَٰجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۖ فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِىٓ أَنفُسِهِنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ

یہ خاکسار اس آیت کے چھ الگ ٹکڑے کرکے، ایک مفہوم بتانے کی کوشش کرتا ہے- ملاحظہ کیجیے:

1- وَٱلَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ- (اور تم میں سے جو فوت ہو جائیں) –

تشریح: (اگرچہ یہ حکم نامہ مردحضرات کیلئے ہے مگرظاہرہے فوت شدگان کو حکم نہیں دیا جارہا بلکہ زندہ مردحضرات کو کہا جارہا کہ مرنے کے بعد، انکی بیوی بارے کیا سچویشن ہوگی؟)-

2-وَيَذَرُونَ أَزْوَٰجًا- (اوربیویوں کو چھوڑ جائیں )-

تشریح : یعنی بیوی کو بے سہارا چھوڑ گیا-
اس جملے میں ایک لطیف رمزہے- یہ جملہ یوں بھی ہوسکتا تھا کہ “تم میں سے جووفات پاجائیں اور انکی بیویاں پیچھے رہ جائیں”- مگریہاں استعمال ہوا کہ “بیویوں کو چھوڑ جائیں”- خاکسار کے خیال میں یہ اصطلاح “چھوڑ جانا ” دراصل بے آسرا بیوی کی طرف اشارہ ہےجسکے پاس میکہ یا ٹھکانہ وغیرہ نہیں- (خیر یہ ایک ذوقی نکتہ ہے)

4-يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا-(تو وہ اپنے آپ کو چار ماہ دس دن انتظار میں روکے رکھیں)-

تشریح : یہاں چار ماہ دس دن تک انتظار کا کہا گیا مگراس آیت میں یہ نہیں کہا کہ شادی سے روکا گیا- ( مفہوم البتہ لیا جاسکتا ہے)-

سچویشن ذہن میں لایئے کہ جو خاوند اخراجات دینے والا تھا وہ تو اچانک مرگیا- عورت کے پاس اس ایمرجنسی میں کچھ نہیں ہے- خاوند کے ورثا کو کہا جارہا کہ اس عورت کو مزید چار ماہ تک ٹھکانہ اور نان ونفقہ دیئے رکھیں- (اگرچہ خطاب کا رخ عورت کو ہے-یہ ا س لئے کہ عورت اسکو اپنا حق سمجھ کراس گھرمیں بیٹھی رہے- دباؤ میں آنے کی ضرورت نہیں)-

قرآن میں مذکور، دیگراعداد سمیت یہ چارماہ دس دن کی گنتی بھی فقط ایک جنرل گائڈنس کے طورپردی گئی ہے نہ کہ ایک حتمی دورانیہ-

دیکھیے، قرآن میں ہی خدا نے ایک اورحکم بمع مدت بیان کیا ہے کہ نومولود بچے کو اسکی ماں مکمل دو سال(یا ڈھائی  سال) تک دودھ پلائے- اب ایک ایسی عورت جسکا دودھ چھ ماہ میں خشک ہوگیا ہو، وہ کیسے دوسال کی مدت پوری کرے گی؟- یا پھرایسی عورت جسکا دوددھ تو ہے مگربچے کی صحت کیلئے نقصان دہ ہے تو کیا وہ بھی ضرور دوسال تک دودھ پلائے گی؟- یا پھربچہ ایسا مریض ہے کہ ایک سال بعد دودھ نہیں پی سکتا توکیا پھر بھی دوسال تک دودھ پلانا ہوگا کیونکہ قرآن میں یہی مدت لکھی ہوئی  ہے؟- اس سے بھی آگے بڑھ کربات یہ کہ مارکیٹ میں موجود مصنوعی دودھ اگر بچے کی صحت کیلئے ماں کے دوددھ سے زیادہ بہترہو توپھرکونسا دودھ پلانے کا حکم ہوگا اورکون سا دودھ سے منع ہوگا؟-

یہ آپ ہی بتائیں کہ اسلام کا مقصد بچے کی بہتر نشوونما ہے یا دوسال کی مدت پورا کروانا ہے؟- چنانچہ، قرآنی حکم کی روح کا تعین کرلیجئے، اسکے بعد آیات کے لفظی معنوں سے استباط کرکے “زیادہ خیر” کے معنی نکالنا ہی تفقہ کہلاتا ہے-

“چار ماہ دس دن” کا مطلب خاکسار ایک ایسی معقول مدت لیتا ہے جس میں عورت کو دوسرا ٹھکانہ مل جانے کی توقع ہو اور جس پرعورت اور ورثا راضی ہوں( یعنی فریقین پہ بار نہ پڑے)- ہمارا کہنا ہے کہ ہر زمان ومکان کے لحاظ سے ایسی مدت کوریاست یا مسلمان سماج، عدت قرار دے گا(مگریہ عدت زمانے کے ساتھ قابل تبدیل بھی ہوگی)-آپ اس مدت کوایک موسم کی مدت بھی کہہ سکتے ہیں( گرمیاں یا سردیاں)-

آپ سوال کرسکتے ہیں کہ کسی مدت کی راہنمائی  کیلئے” راؤنڈ فگر” دی جاتی تو بہتر ہوتاجیسا کہ چار ماہ- یہ اوپر”دس دن” کیوں بتایا گیا؟- ہم یہی سوال جب مولوی صاحبان سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ “ایکسٹرا احتیاط” کیلئے ہیں- پوچھیں کہ پھرپندرہ دن کیوں نہیں بتائے؟- بہرحال، ہوسکتا ہے کہ اس عدد میں کوئی  ایسی باریکی ہو جو آئندہ زمانوں میں سمجھ آسکے مگرفی الحال، ہمارے لیئے یہ فقط ایسا ہی جنرل عدد ہے جیسا کہ سورہ کہف میں تین سواور نوسال مزید بتائے گئے ہیں-( نو سال مزید کیوں بتائے گئے؟ یہ اتنا اہم ایشو نہیں ہے )-

5- فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِىٓ أَنفُسِهِنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۗ( پھر جب وہ اپنی عدت پوری کرچکیں تو پھر جو کچھ وہ شرعی دستور کے مطابق اپنے حق میں کریں تم پر اس معاملے میں کوئی مؤاخذہ نہیں)-

تشریح : جب وہ اپنی عت کی مدت پوری کرلیں اور رواج کے مطابق کہیں اور رشتہ بنائیں تو اب آپکی ذمہ داری ختم ہے (یعنی اس مدت کے بعد، وہ اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں اور اس مدت کے بعد، مزید انکو ہرجہ خرچہ دینے کے بھی آپ پابند نہیں)-

یہاں مدت سے مراد ہم وہ مدت لیتے ہیں جس پر زمان ومکان کے لحاظ سے ورثا اور بیوہ متفق ہوگئے ہوں-( گائیڈنس کے طور پریہ چار ماہ، مگر کم وبیش ہوسکتی ہے)- چنانچہ یہاں “اجل” کا معنی بیوگی کے پہلے روز پر طے شدہ مدت ہے جس پہ فریقین متفق ہوجائیں مگریہ مدت کم ازکم اتنا عرصہ ہو جس میں بیوہ اورورثا پرانکی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہ پڑے- یہی “اجل” کا لفظ اگلی آیت نمبر 235 میں بھی استعمال ہوا ہے-

برسبیل تذکرہ، یہاں میں ایک اور بات عرض کروں کہ ہم قرآن کی آیت 234 اور 235 کوایک ہی آیت مانتے ہیں( چونکہ ہم قرآن کی آیات کو ایک آئین کے آرٹیکلز سمجھتے ہیں اور ہرآرٹیکل ، دوسرے سے بالکل الگ مگراپنی جگہ مکمل ہوتا ہے)-

آیت 235 میں لکھا ہوا ہے کہ مرد حضرات عدت کے دنوں میں اس عورت کے ساتھ فارمل ایگریمنٹ نہیں کرسکتے- یہ عدت تو چار ماہ دس دن ہے نا؟- مگرآیت کہتی ہے ” لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗؕ” یعنی اتنی میعاد تک جتنی کہ (عورت اور ورثا کے درمیان ) “لکھی ہوئی  ہے”- (یہاں پھرخدا نے “چار ماہ دس دن” کیوں نہیں بولا؟)- مطلب یہی ہے کہ ایک بے آسرا اور بے ٹھکانہ بیوہ کو متعلقہ اتھارٹی یا خاوند کے ورثا وقبیلہ کچھ دن کیلئے سہارا دیئے رکھیں-کتنے دن؟ یہ ان دونوں کا باہمی ایگریمنٹ ہے- (مزید یہ کہ اس لکھے ہوئے ایگریمنٹ سے ورثا نہیں نکل سکتے تاہم عورت اگر نکل جائے تواسکو عورت ہونے کی وجہ سے اجازت ہے)-

لگے ہاتھوں اسی آیت 235 میں موجود ایک اور ہدایت کی تشریح بھی کرلیں جو کہ سوسائٹی کے مرد حضرات کیلئے بیان کی گئی ہے-
وہ یہ کہ عدت کے دوران اس عورت سے نکاح کی پکی گرہ مت باندھو- (وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗؕ)-

میں نے بیوگی کے ضمن میں چار سٹیک ہولڈرز کو ذکرکیا تھا- آیت 234 سٹارٹ ہوتی ہے خاوند سے خطاب میں کیونکہ اصل رابطہ کار وہی ہے- پھربیوی کوخطاب ہوتا ہے کہ گھرنہیں چھوڑنا- پھرخاوندکی فیملی کو خطاب ہے کہ عورت خود جانا چاہے تو آپ ذمہ دار نہیں مگرخدانیتوں کو جانتا ہے- اس سے آگے کی آیت 235 میں سماج کے مردوں کو خطاب ہے کہ اس دوران تم نے نکاح کا ایگریمنٹ نہیں کرنا- اس بات کو سمجھنے کیلئے بھی ایک سچویشن ملاحظہ فرمائیں-

جب عورت کو مخصوص مدت تک فری رہائش ومراعات دینے کیلئے کسی اتھارٹی نے اس کے ساتھ ایک معاہدہ کرہی لیا ( یہ اتھارٹی کوئی  ادارہ یا شخص ہوسکتا ہے)- تو ظاہر ہے عورت نے اسی مقررہ مدت میں اپنے لئے نیا ٹھکانہ تلاش کرنا ہے( یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ نیا خاوند تلاش کرنا ہوگا)- اگریہ عورت جوان ہے تو سوسائٹی کے مرد بھی اسکو اپنانے کی پلاننگ کریں گے-

دونوں طرف سے ایک دوسرے کو پرکھنا، اپنی طرف مائل کرنا وغیرہ اسی دورانیے میں ہی ہوگا- اب ایسے میں کوئ مرد اسکو ورغلاتا ہے کہ ہم نکاح کا ایگریمنٹ بھی آپس میں کرلیتے ہیں مگرمتعلقہ اتھارٹی کوفی الحال خبرنہیں کرتے تاکہ مدت معیاد کی مراعات مفت ملتی رہیں تو یہ کیا یہ متعلقہ اتھارٹی ( قبیلہ یا ورثاء) کے ساتھ بددیانتی نہیں ہوگی ؟-

پس صرف مرد حضرات کو منع کیا گیا کہ مقررہ مدت عدت میں ” ڈائرکٹ ” عورت کے ساتھ کوئ “لیگل بونڈ” نہیں کرنا( تاہم ورثا سے معاملہ کرسکتے ہوتاکہ وہ بھی عورت کے ساتھ اپنے معاہدے سے آزاد ہوجائیں)-

اس ہدایت کا سادہ لفظوں میں یہ مطلب ہے کہ عدت کے اس پیریڈ میں اس عورت کی کفالت، جو کوئی  بھی کررہا ہے تو ظاہر کے اسی کے ڈسپلن کو فالو کرنا ضروری ہے- اسکی بے خبری میں یہ عورت کسی اور جگہ فارمل کانٹریکٹ نہ کرے-

یہاں ایک عجیب نکتہ نوٹ کیجئے کہ اس بیوہ عورت کو خطاب نہیں کیا بلکہ سماج کے مردوں کو خطاب کیا ہے( کہ عدت کے دوران “فارمل نکاح کا ایگریمنٹ –عقد نکاح- مت کرو- تاہم پروپوزل بھیجنے/لینے میں حرج نہیں)- حالانکہ کوئی  مرد اگر فارمل نکاح کرنا چاہے بھی مگر عورت راضی نہ ہو تو بھلا کیسے کرسکتا ہے؟- چاہیئے یہ تویہ تھا کہ عورت کو خدا منع کردیتا تو کسی اور سے کہنے کی ضرورت نہیں تھی- مگرخلاق فطرت جانتا ہے کہ عورت کمزور ہے، اسکو سہارا چاہیئے- خاص طور پران حالات میں یہ کسی کے بھی جھانسے میں آسکتی ہے پس عورت کونہیں بلکہ سماج کے مردوں کوکہا گیا کہ اس عورت کے ساتھ “ڈائریکٹ” نہیں ہونا- البتہ ایک مخصوص مدت بعد، وہ عورت اپنا بندوبست کرلے گی تو درمیانی شخص کوانوالو کرنے کی ضرورت بھی نہ رہے گی-

6- وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ- (اور جو کچھ تم کرتے ہو اﷲ اس سے اچھی طرح خبردار ہے)-

تشریح: یہ آخری جملہ (خدا تمہاری نیت سے خبردار ہے،) قرآن میں جس حکم کے بعد بھی آتا ہے تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حکم کوئی  لفظی قانون کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس میں اصل چیز، آپکی نیت ہے –یہاں بھی بتایا گیا کہ آپ اس عورت کی خیرخواہی اور بہتری کیلئے جیسے بھی چاہومگرکوئی  اچھی ترتیب بنالو- ( بیوگی کے ضمن میں جواگلی آیت ہم پیش کریں گے، اسکے آخر میں بھی ایسی ہی بات کہی گئی ہے “اور اﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے”)-

خلاصہ کلام:

قرآن کی آیت کی جو تشریح اوپر عرض کی گئی ہے وہ خاکسار کی رائے ہے، جس میں عدت کی بنیاد” معاش” کو مانا گیا ہے- ظاہر ہے کہ آپ اس رائے کو ریجیکٹ کرنے کا حق رکھتے ہیں- امت میں زیادہ تریہ رائے چل رہی ہے کہ عدت کی بنیاد “حفاظت نسل” کی بنیاد پر ہے-( پس ڈی این اے وغیرہ کے بعد، اس میں بھی عدت کی ضرورت نہیں رہی)- البتہ ایک تیسری رائے بھی موجود ہے کہ” میرے استاد نے جو پڑھایا، بس وہی حتمی اورحق بات ہے”، تو اس رائے کے آگے ہم بے بس ہیں-

میرا جی چاہتا تھا کہ آیات کا جو مفہوم خاکسار نے بیان کیا، اسکو واضح کرنے ترجمہ کے آگے بریکٹ لگا کرچند الفاظ کا اضافہ کردوں-(جیسا کہ ہرمترجم قرآن نے کیا ہوا ہے)-

مثلاً  لفظ ” چھوڑ جانا “سے میں نے جومعنی اخذ کیا تو اسکو ترجمہ میں یوں لکھنا چاہتا تھا کہ :

” اور تم میں سے جو فوت ہو جائیں – اور(محتاج ) بیویوں کو چھوڑ جائیں”-

ویسے تو یہ بریکٹ والا لفظ آیت کے مفہوم سے متعلق ہی ہے مگرمجھے اندیشہ ہے مولوی صاحبان اس اضافہ سے ناراض ہوجائیں گے کیونکہ میں انکے طبقہ سے تعلق نہیں رکھتا( ورنہ سات خون معاف ہوتے)-

دیکھیے قرآن میں جناب رسول اکرم کیلئے لکھا ہوا ہے کہ ” قل انما انا بشرمثلکم “- مگراس ملک کے سواد اعظم کے سب سے بڑے اعلی حضرت صاحب کا خیال تھا کہ پیغمبراسلام ، بشر نہیں بلکہ نور تھے- پس موصوف نے اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے بریکٹ میں لکھ دیا کہ ” اے رسول انکو کہہ دومیں (ظاہری طور پر) تمہاری طرح کا بشر ہوں”- ترجمہ میں اتنی بڑی جسارت کرنے پر( حالانکہ اس لفظ کا کوئی جوڑ بنتا ہی نہیں) ، مولوی صاحبان ناراض نہیں ہونگے کیونکہ یہ لوگ پیٹی بند بھائی  ہیں-

آج کی قسط بہت ہی طویل ہوگئی ہے جسکے لئے معذرت خواہ ہوں- اگلی قسط میں بیوہ کی عدت بارے اس آیت پربات کریں گے جسے مولوی حضرات نے منسوخ کردیا ہے مگر ہمارے نزدیک خدا کے کلام کو منسوخ کرنے کی اجازت کسی کو حاصل نہیں ہے-

(جاری ہے)-

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *