کوئی بات نہیں۔۔مختار پارس

آ ج کل جو کچھ ارد گرد ہو رہا ہے، اس پر چاچا صدیق بات بات پر یاد آتا ہے۔ چاچا صدیق ہمارا خانساماں ہے اور اسکا تکیہ کلام ہے، ‘کوئی بات نہیں۔ ہم کہتے ہیں چاچا آج کھانے میں نمک زیادہ ڈال دیا تھا۔ وہ کہتا ہے” کوئی بات نہیں”۔ میں نے کہا، چاچا چھری تیز تھی، فروٹ کاٹتے وقت ہاتھ پر کٹ لگ گیا ہے۔ کہنے لگا، “کوئی بات نہیں”۔ ایک دن تو حد ہی ہو گئی ۔ ہم نے افسردہ ہو کر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے بزرگ چاچے کی رحلت کا سنا، بہت افسوس ہوا۔ گویا ہوئے،کوئی بات نہیں’ شروع شروع میں تو ہم نے اس تکیہ کلام کے مزے لیے۔ بات بات پر قہقہے نکلتے رہے۔ پھر ہمیں احساس ہونا شروع ہو گیا کہ کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے جو ‘کوئی بات نہیں’ کے فلسفے کے پیچھے پنہاں ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی بات نہ ہو اور یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی بات ہو اورکوئی پھر بھی کہے کہ کوئی بات نہیں۔

تھوڑا مغزماری کرکے اردگرد ہونے والے واقعات پر نگاہ ڈالی تو احساس ہوا کہ اس میں چاچے صدیق کا کوئی قصور نہیں۔ یہ تکیہ کلام تو در حقیقت پوری قوم کی نازک مزاجی کا عکاس ہے۔ چاچا صدیق یہ تین لفظ بولتا تو ہے، لوگوں پر تو ایسی خاموشی طاری ہے کہ اُف تک نہیں کرتے۔ لوگوں کو برداشت کرنے کی عادت نے بے حس بنا دیا ہے۔ چاہے کچھ ہو جائے ، انہیں فرق ہی نہیں پڑتا۔ کسی کی عزت تار تار ہو جائے ، کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ کسی کا حق مار لیا جائے ، کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔کوئی حادثہ درپیش  آ جائے ، کوئی زندگی سے ہار جائے ، کسی کی  اُمید مر جائے ، کوئی بھوک سے مر جائے ۔۔۔ کوئی بات نہیں۔ کوئی بات تو ہے کہ اس قوم کے یقین نے کبھی سر ہی نہیں اٹھایا۔ نہ کبھی آنکھ اشکبار ہوئی اور نہ جرات گفتار ملی، نہ کبھی یہ ہوا کہ لاٹھی کے وار کو اپنی کلائی پر روک لیا جائے ۔ مگر خیر ہے، کوئی بات نہیں۔

قصہ اصل میں یہ ہے کہ ہمارے قومی اور انفرادی طرز ِ عمل میں بڑا فرق ہے۔ قومی سطح پرہماری تہذیب و تمدن میں انکسار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر کوئی گال پر تھپڑ مار دے تو دوسرا گال بھی آگے کردو۔ صوفیوں نے ویسے ہی دھمالیں ڈال ڈال کر ‘میں’ کو مارنے کا درس دے رکھا ہے۔ استادوں نے بھی سوال نہ اٹھانے کی ریت ڈال رکھی ہے۔ صحا فی ویسے ہی جواب آں غزل سننے کے روادار نہیں۔ شاعر لوگ محبوب کی چوٹیں برداشت کرتے کرتے ویسے ہی ملیا میٹ ہو جاتے ہیں۔ ہماری تو دیومالائی داستانوں میں جن بھی ایسے ہیں جن کی جان طوطے میں ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ قوم’بےعزتی پروف’ چکی ہے۔ آپ کسی کے قومی تشخص پر تھوکتے رہیں، نام ونسب پر آوازے کسیں، جغرافیے کو آگے پیچھے کرتے رہیں، نظریے کو اپنی بنیان کی  طرح اُلٹا پہنتے رہیں۔۔۔ تسلی رکھیں، کوئی آپ کو کچھ نہیں کہے گا۔ آپ بےخوف و خطر   اس بھیڑوں کے ریوڑ کو ہانک کر کوہ مردار کی قربان گاہ میں لیٹ جانے کو کہیں، ساری بھیڑیں سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے گردنیں لمبی کر کے لیٹ جائیں گی کہ لے آؤچھریاں بسمل تڑپنے کےلیے تیار ہیں۔ مر جائیں گے مگر مزاحمت نہیں کریں گے۔ خون بہتا ہے تو بہے، کوئی بات نہیں۔

اب ذرا انفرادی کردار کی بات کر لیتے ہیں جس سے ہماری برداشت کا اندازہ لگانے میں آسانی ہو گی۔ کسی رشتہ دار کی لاٹری نکل آئے  توہمارے سینوں پر سانپ لوٹ جاتا ہے۔ ہمسائے کے گھر میں شاپنگ ہو تو اس دن ہمارے گھر میں سے برتن ٹوٹنے کی آوازیں آئیں گی۔ جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں ہو گی مگر ڈینگیں مار مار کر دوسروں کو احساس کمتری میں مبتلا کر دیں گے۔ کسی کا بچہ پڑھ لکھ جاۓ تو ہم یہ ثابت کرنے میں زمین آسمان ایک کر دیں گے کہ بچے کے باپ نے نمبر لگوائے  تھے۔ کسی کی اچھی فصل دیکھ کر ہم اسے آگ بھی لگا سکتے ہیں۔ سڑک پر کھڑی گاڑی کے بونٹ پر لکیریں بھی کھینچ سکتے ہیں۔ تلقین کرنے والے کو کافر بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ جو ہماری بات نہیں مانے گا، اسے غدار بھی کہا جا سکتا ہے۔ کسی کا دل ٹوٹے یا کسی کا جام، کسی کی آنکھ پھوٹے یا کوئی ہو بدنام، اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ سب تو دنیا میں تو ہوتا ہی رہتا ہے، کوئی بات نہیں۔

سوچتا ہوں کہ قومی اور انفرادی کردار میں اتنا تضاد کیوں ہے۔ یہ کیسی دوغلی دنیا میں ہم جی رہے ہیں۔ مردوں کا معاشرہ ہے جو لڑکیوں کو سنگسار کرتا ہے۔ مسلمان اکثریتی ملک ہے مگر ہر وقت مذہب کواقلیتوں سے ڈر لگا رہتا ہے۔ مسجدیں بے تحاشا ہیں مگر خدا کہیں اور ملتا ہے۔ اپنی ماں بہن کے علاوہ کوئی عورت انسان ہی نہیں لگتی۔ انبیاء سے محبت کے دعویدار گالی کے علاوہ بات نہیں کر سکتے۔ پڑھے لکھوں کا ملک ہے مگر جہالت کا راج ہے۔ جو جتنا عالی نسب ہے، وہ اتنا بےوقوف ہے۔ جس کا جتنا چوڑا سینا ہے، وہ اتنا ہی ڈرپوک ہے۔ جو جتنا خوبصورت ہے، اتنا ہی بیوفا ھے۔ جتنی عنایات، اتنی سرکشی۔ جتنی نوازشیں، اتنی احسان فراموشی۔ اس کے باوجود نہ کبھی آسمان ٹوٹ کر گرا ہے، نہ کوئی لال آندھی آتی ہے، نہ کوئی گرج چمک ہوتی ہے۔ ہر طرف راوی چین لکھتا ہے اور لکھتا ہی چلا جا رھا ہے۔

ابھی میں یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ چاچا صدیق کمرے میں آ گیا۔ کہنے لگا، ‘صاحب! آج سالن جل گیا ہے۔’ میں نے کہا، کوئی بات نہیں۔ اس نے مجھے غورسے دیکھا اور پھر بولا، ‘جو مرچیں ہم ایک سال سے کھا رہے ہیں، ان میں برادہ ملا ہوا تھا۔’ میں نے جواب دیا، کوئی بات نہیں۔ وہ ذرا آگے بڑھ کر میرے کان میں چیخا، ‘ہمارا گوالا پکڑا گیا ہے، وہ ہمیں نہر کے پانی میں واشنگ پاوڈر ملا کر پلاتا رہا ہے۔ میں نے کہا، کوئی بات نہیں۔ اس کے چہرے پر تشویش کے آثار پیدا ہوگئے ۔ کہنے لگا، ‘صاحب! آپ ٹھیک تو ہیں؟’میں نے فلسفیانہ لہجے میں اپنا دکھ اپنے لفظوں میں بھر کر کہا، ‘چاچا صدیق! مجھے لگتا ہے میں پاگل ہو جاؤنگا’۔ چاچا صدیق کھلکھلا کر بول اٹھا،”کوئی بات نہیں”۔

Avatar
مختار پارس
مقرر، محقق اور مصنف، مختار پارس کا تعلق صوفیاء کی سر زمین ملتان سے ھے۔ ایک عرصہ تک انگریزی ادب کے استاد رھے۔ چند سال پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک کرنٹ افیئرز کے پروگرام کی میزبانی بھی کی ۔ اردو ادب میں انشائیہ نگار کی حیثیت سے متعارف ھوئے ۔ان کی دو کتابیں 'مختار نامہ' اور 'زمین زاد کی واپسی' شائع ہو چکی ھیں۔ ادب میں ان کو ڈاکٹر وزیر آغا، مختار مسعود اور اشفاق احمد جیسی شخصیات سے سیکھنے کا موقع ملا۔ ٹوئٹر پر ان سے ملاقات MukhtarParas@ پر ھو سکتی ھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *