• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سید ناغوث اعظم شیخ عبدالقادرجیلانی الحسنی والحسینی ؒ۔۔۔حافظ کریم اللہ چشتی

سید ناغوث اعظم شیخ عبدالقادرجیلانی الحسنی والحسینی ؒ۔۔۔حافظ کریم اللہ چشتی

غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ درمیان اولیاء چوں محمدصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم درمیان انبیاء
سیداولیاء،امام الاولیاء،سلطان الاولیاء،امام شریعت وطریقت،قطب الاقطاب،محی الدین،غو ث الوریٰ، سرکاربغدادمحبوب سبحانی،قطب ربانی،غوث صمدانی، شہبازلامکانی،سردارالاولیاء حضورسیدناغوث الاعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کانام نامی ”عبدالقادر“ہے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمات و افکارکی وجہ سے شیخ عبدالقادر جیلانی کو مسلم دنیا میں غوثِ الاعظم دستگیر کاخطاب دیا گیاہے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاشمارناموراولیاء اللہ میں ہوتاہے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مادرزادکامل ولی تھے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاتعلق سادات گھرانے سے ہے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حسنی وحسینی سیدہیں۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاسلسلہ نسب والدماجدکی طرف سے حضرت سیدناامام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اوروالدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت سیدناامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہیدکربلاسے ملتاہے۔گویاآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والدماجدحسنی سادات سے اوروالدہ ماجدہ حسینی سادات سے تعلق رکھتے تھے۔اس طرح آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نجیب الطرفین ہوئے۔یوں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاسلسلہ نسب حضرت سیدناعلی المرتضی شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم سے جاملتاہے۔

 آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کااسم گرامی والدین

حضرت سیدناشیخ سیدمحی الدین ابومحمدعبدالقادرالجیلانی الحسنی والحسینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ولادت باسعادت یکم رمضان المبارک چاندرات ۰۷۴ہجری کوبغدادشریف کے قریب قصبہ”جیلان“میں ہوئی۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والدبزرگوارکانام حضرت سیدابوصالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہے۔جنکاشمارجیلان کے اکابرمشائخ میں سے ہوتاہے جبکہ والدہ ماجدہ اسم گرامی فاطمہ لقب ام الجباراورکنیت ام الخیررحمھااللہ تعالیٰ ہے۔

 آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاسلسلہ نسب
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ والد ماجد کی نسبت سے حسنی ہیں سلسلہ نسب یوں ہے۔سیّد محی الدین ابومحمد عبدالقادر بن سیّد ابوصالح موسیٰ جنگی دوست بن سیّد ابوعبداللہ بن سیّد یحیٰی بن سید محمد بن سیّد داؤود بن سیّد موسیٰ ثانی بن سیّد عبداللہ بن سیّد موسیٰ الجون بن سیّد عبداللہ محض بن سیّد امام حسن مثنیٰ بن سیّد امام حسن بن سیّدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین* اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی والدہ ماجدہ کی نسبت سے حسینی سیّد ہیں۔والدہ ماجدہ کی طرف سے سلسلہ نسب سیّد محی الدین ابومحمد عبدالقادر بن حضرت سیدتناام الخیرفاطمہ بنت عبداللہ صومعی بن سیدابوجمال الدین محمدبن سیدمحمودبن سیدابی العطاء عبداللہ بن سیدکمال الدین عیسیٰ بن سیدعلاؤالدین محمدالجوادبن امام علی رضابن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفرصادق بن امام محمدباقربن امام زین العابدین بن حضرت سیدنااما م حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہیدکربلابن حضرت سیدناعلی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم تک جاملتاہے۔ (بہجۃ الاسرار،معدن الانوار/ ذکر نسب۱۷۱)

 کرامات ِ غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مناقب غوثیہ میں حضرت شیخ شہاب الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ سرکاربغدادمحبوب سبحانی،غوث صمدانی،شہبازلامکانی،حضورسیدناغوث الاعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ولادت کے وقت مختلف کرامتوں کاظہورہواتھا۔شب ولادت آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والدماجدسیدابوصالح موسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوسرکاردوعالم نورمجسم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے خواب میں بشارت دی کہ ”اے ابوصالح“اللہ تعالیٰ نے تجھے ایک بیٹاعطافرمایاہے جوولی ہے اوروہ میر ااوراللہ پاک کامحبوب ہے اورا سکی اولیاء اوراقطاب میں ویسی شان ہوگی جیسی انبیاء واورمرسلین علیہم السلام میں میری شان ہے۔(سیرت غوث الثقلین ۵۵)

غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ درمیان اولیاء چوں محمدصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم درمیان انبیاء

حضرت ابوصالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوخواب میں شہنشاہ عرب وعجم،سرکاردوعالم،نورمجسم،جناب احمدمجتبیٰ حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے علاوہ جملہ انبیاء کرام علہیم الصلوٰۃ والسلام نے یہ بشارت دی کہ تمام اولیاء اللہ تمہارے بیٹے کے فرماں بردارہوں گے اورا ن کی گردنوں پران کاقدم مبارک ہوگا۔(سیرت غوث الثقلین ۵۵بحوالہ تفریح الخاطر)

جس کی منبربنی گردن اولیاء اس قدم کی کرامت پہ لاکھوں سلام

حضرت جنیدبغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشادفرماتے ہیں کہ مجھے عالم غیب سے معلوم ہواکہ پانچویں صدی کے وسط میں سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی اولاداطہارمیں سے ایک قطب عالم ہوگا۔جن کالقب محی الدین اوراسم مبارک عبدالقادر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہے اوروہ غوث اعظم ہوگا۔اوران کی جیلان میں پیدائش ہوگی۔ان کوخاتم النبین،شفیع المذنبین،محبوب رب العالمین صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی اولاداطہارمیں سے آئمہ کرام اورصحابہ کرام علہیم الرضوان کے علاوہ اولین وآخرین کے ہرولی اورولیہ کی گردن پرمیراقدم ہے کہنے کاحکم ہوگا۔(سیرت غوث الثقلین ۷۵)
جن مشائخ نے آ پ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی قطبیت کے مرتبہ کی گواہی دی۔”روضۃ النواظر“اورنزہتہ الخواطر“میں صاحب کتاب ان مشائخ کاتفصیلی تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پہلے اللہ پاک کے اولیاء میں سے کوئی بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کامنکرنہ تھابلکہ سب نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی آمدکی بشارت دی۔چنانچہ حضرت سیدناحسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے زمانہ مبارک سے لیکرحضورغوث اعظم شیخ عبدالقادرجیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے زمانہ مبارک تک تفصیل سے خبردی کہ جتنے بھی اللہ پاک کے اولیاء گزرے ہیں سب نے شیخ عبدالقادرجیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خبردی ہے۔(سیرت غوث الثقلین۷۵)
شیخ عبدالقادر جیلانی کی ولادت سے چھ سال قبل حضرت شیخ ابواحمد عبداللہ بن علی بن موسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ میں گواہی دیتاہوں کہ عنقریب ایک ایسی ہستی آنے والی ہے کہ جس کا فرمان ہوگا کہ ”قدمی ھذا علی رقبۃ کل ولی اللّٰہ“کہ میرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہے۔
حضرت شیخ عقیل سنجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا گیا کہ اس زمانے کے قطب کون ہیں؟ فرمایا، اس زمانے کا قطب مدینہ منورہ میں پوشیدہ ہے۔ سوائے اولیاء اللہ کے اْسے کوئی نہیں جانتا۔ پھر عراق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اس طرف سے ایک عجمی نوجوان ظاہر ہوگا۔ وہ بغداد میں وعظ کرے گا۔ اس کی کرامتوں کو ہر خاص و عام جان لے گا اور وہ فرمائے گا کہ”قدمی ھذا علی رقبۃ کل ولی اللہ“کہ میرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہے۔

سیدناعوث اعظم کے سوانح وحالات رقم کرنے والے تمام مصنفین وتذکرہ نگاروں کا اِس پر اتفاق ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ نے ایک مرتبہ بہت بڑی مجلس میں (کہ جس میں اپنے دور کے اقطاب وابدال اور بہت بڑی تعداد میں اولیاء وصلحاء بھی موجودتھے جبکہ عام لوگوں کی بھی ایک اچھی خاصی ہزاروں میں تعدادموجودتھی)دورانِ وعظ اپنی غوثیت کبریٰ کی شان کا اِس طرح اظہار فرمایاکہ”میرایہ قدم تمام ولیوں کی گردنوں پر ہے“تو مجلس میں موجود تمام اولیاء نے اپنی گردنوں کو جھکادیااور دنیا کے دوسرے علاقوں کے اولیاء نے کشف کے ذریعے آپ کے اعلان کو سنااور اپنے اپنے مقام پر اپنی گردنیں خم کردیں۔ حضرت خواجہ شیخ معین الدین اجمیری نے گردن خم کرتے ہوئے کہا کہ ”آقا آپ کا قدم میری گردن پر بھی اور میرے سر پر بھی“(بہجۃ الاسرار)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پورارمضان سحری سے شام تک والدہ ماجدہ کادودھ نہیں پیتے تھے۔شب معراج سرکاردوعالم نورمجسم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے کندھوں پرپاؤں مبارک رکھاتھاان قدموں کے نشانات آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے کندھوں پرموجودتھے۔حضرت ملاعلی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ گیلان آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاشہرولادت ہے جسے معرب کرکے جیلان بنایاگیااسی کی طرف سے نسبت جیلانی ہوئی اوراسکامخف جیلی ہے۔
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی مشہورتصنیف اخبارالاخیارمیں تحریرفرماتے ہیں۔”جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پیداہوئے تورمضان المبارک میں دن کے وقت اپنی والدہ محترمہ کادودھ نہیں پیتے تھے حتیٰ کہ لوگوں میں یہ بات مشہورہوگئی کہ سادات کے فلاں شریف گھرانے میں ایک ایسابچہ پیداہواہے جورمضان المبارک میں دن کے وقت دودھ نہیں پیتا۔(اخبارالاخیارفارسی۶۱)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی والدہ ماجدہ حضرت سیدتناام الخیرفاطمہ بنت عبداللہ صومعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا فرمایاکرتی تھیں کہ جب میں نے اپنے صاحبزادے عبدالقادرکوجناتووہ رمضان المبارک میں دن کے وقت میرادودھ نہیں پیتاتھا۔اگلے سال رمضان المبارک کاچاندغبار کی وجہ سے نظرنہ آیاتولوگ میرے پاس دریافت کرنے آئے تومیں نے کہاکہ آج روزہ معلوم ہوتاہے کیونکہ آج ”عبدالقادر“نے دودھ نہیں پیا۔بعدمیں شہادتوں سے تصدیق ہوگئی کہ آج یکم رمضان المبارک ہے۔(قلائدالجواہر۰۲،نزہتہ الخاطرالفاطر۵۴۱،بہجۃ الاسرار)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ چونکہ مادرزادیعنی پیدائشی ولی تھے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ابھی اپنی ماں کے پیٹ میں تھے اورماں کوجب چھینک آتی اوراس پرجب وہ الحمدللّٰہ کہتیں توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پیٹ ہی میں جواباًیرحمک اللّٰہکہتے۔(الحقائق فی الحدائق۹۳۱)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یکم رمضان المبارک صبح صادق کے وقت پیداہوئے اسوقت آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ہونٹ آہستہ آہستہ حرکت کررہے تھے اوراللہ اللہ کی آوازآرہی تھی۔(الحقائق فی الحدائق۹۳۱)
جس دن آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ولادت ہوئی اللہ کی قدرت سے اس رات گیلان میں کسی کے ہاں لڑکی پیدانہیں ہوئی بلکہ سارے نومولود لڑکے ہی پیداہوئے۔جن کی تعدادگیارہ سوتھی اوروہ سب کے سب ولی اللہ بنے۔(تفریح الخاطر۵۱)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پیداہوتے ہی روزہ رکھ لیااورجب سورج غروب ہوا اس وقت ماں کادودھ نوش فرمایااورسارارمضان المبارک یہی معمول رہا۔(بہجۃ الاسرار)
پانچ برس کی عمرمیں جب پہلی بار بِسمِ ا للّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ پڑھنے کے لئے کسی بزرگ کے پاس بیٹھے توتعوذاورتسمیہ پڑھ کرسورۃ فاتحہ،سورۃ البقرہ تااٹھارہ پارے پڑھ کرسنادیے ان بزرگ نے کہاکہ بیٹے اورپڑھیے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایابس مجھے اتناہی یادہے کیوں کہ میری ماں کوبھی اتناہی یادتھاجب میں اپنی ماں کے پیٹ میں تھااس وقت وہ پڑھاکرتی تھیں میں سن کریادکرلیاکرتاتھا۔(الحقائق فی الحدائق۰۴۱)
نہ کیوں ہومرتبہ اعلیٰ سے اعلیٰ غوث اعظم کا کہ ہے تصویرنورانی سراپاغوث اعظم کا

 آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بچپن ہی میں کھیل کود سے دوری
بچپن میں عام طور پر بچے کھیل کود کے شوقین ہوتے ہیں لیکن آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بچپن ہی سے لہو و لہب سے دور رہے۔جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لڑکپن میں کھیلنے کاارادہ کرتے غیب سے آوازآتی ”اے عبدالقادر“ہم نے تجھے کھیلنے کے واسطے پیدانہیں کیا۔بلکہ یہ سنائی دیتا”کلما ھممت ان العب مع الصبیان اسمع قائلا یقول الی یا مبارکترجمہ: یعنی جب بھی میں بچوں کے ساتھ کھیلنے کا ارادہ کرتا تو میں سنتا تھا کہ کوئی کہنے والا مجھ سے کہتا تھا اے برکت والے، میری طرف آ جا۔(الحقائق فی الحدائق۰۴۱)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کودس برس کی عمرمیں ولایت ملنا
ایک مرتبہ بعض لوگوں نے سید عبدالقادر جیلانی سے پوچھا کہ آپ کو ولایت کا علم کب ہوا؟ تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے جواب دیا کہ دس برس کی عمر میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مدرسے میں جب پڑھنے کے لئے تشریف لے جاتے تو ایک غیبی آواز آیا کرتی تھی جس کو تمام اہلِ مکتب بھی سْنا کرتے تھے کہ”افسحوا لولی اللّٰہ“ترجمہ: اللہ کے ولی کے لئے جگہ کشادہ کر دو۔(بہجۃ الاسرار)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ”میرے ہاتھ پرپانچ سوسے زائدیہودیوں اورعیسائیوں نے اسلام قبول کیااورایک لاکھ سے زائدڈاکو،چور،فساق وفجار،فسادی اوربدعتی لوگوں نے توبہ کی۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عالی مرتبت جلیل القدراوروسیع العلم ہونے کے باوجودکمزوراورغریبوں میں بیٹھتے۔ہمیشہ فقیروں کے ساتھ تواضع سے پیش آتے۔سلام میں پہل،بڑوں کی عزت اورچھوٹوں پرشفقت فرماتے۔طالب علموں اورمہمانوں کے ساتھ کافی دیربیٹھتے اوران کی غلطیوں سے درگزرفرماتے (بہجۃ الاسرار،اخبارالاخیار۷۱)
سیدنا غوثِ اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مدینہ منورہ سے حاضری دے کر ننگے پاؤں بغداد شریف کی طرف آرہے تھے کہ راستہ میں ایک چور کھڑا کسی مسافر کا انتظار کررہا تھا کہ اس کو لوٹ لے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب اس کے قریب پہنچے تو پوچھا ”تم کون ہو“؟اس نے جواب دیا کہ دیہاتی ہوں۔مگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کشف کے ذریعے اس کی معصیت اور بدکرداری کو لکھا ہوا دیکھ لیااور اس چور کے دل میں خیال آیا”شاید یہ غوثِ اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہیں۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اس کے دل میں پیدا ہونے والے خیال کا علم ہوگیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا”میں عبدالقادر ہوں“۔تو وہ چور سنتے ہی فوراًآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مبارک قدموں پر گر پڑا اور اس کی زبان پریَاسَیِّدِی عَبدَالقَادِرِشَیءًا للّٰہ (یعنی اے میرے سردار عبدالقادر میرے حال پر رحم فرمائیے) جاری ہوگیا۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اس کی حالت پر رحم آگیا اور اس کی اصلاح کے لئے بارگاہ الٰہی عزوجل میں متوجہ ہوئے تو غیب سے ندا آئی۔اے غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ! اس چور کو سیدھا راستہ دکھادو اور ہدایت کی طرف رہنمائی فرماتے ہوئے اسے قطب بنادو۔چنانچہ آپ کی نگاہ فیض رساں سے وہ قطبیت کے درجہ پر فائز ہوگیا۔(سیرت غوث الثقلین# صفحہ: ۰۳۱)

چالیس سال تک عشاء کے وضوسے نمازفجراداکرنا
شیخ عارف ابوعبداللہ محمدبن ابی الفتح ہروری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شیخ محی الدین سیدعبدالقادرجیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی چالیس سال تک خدمت کی۔ اس مدت میں آپ رحمۃ اللہ علیہ عشاء کے وضوسے صبح کی نمازپڑھتے تھے۔اورہمیشہ یہ معمول رہاکہ آپ رحمۃ اللہ علیہ جب بے وضوہوجاتے تھے تواسی وقت وضوفرماکردوررکعت نمازنفل پڑھ لیتے تھے۔(بہجۃ الاسرار۰۹۲)
سرکارِ بغداد حضور ِغوثِ پاک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب میں علم دین حاصل کرنے کے لئے جیلان سے بغداد قافلے کے ہمراہ روانہ ہوا اور جب ہمدان سے آگے پہنچے تو ساٹھ ڈاکو قافلے پر ٹوٹ پڑے اور سارا قافلہ لوٹ لیا لیکن کسی نے مجھ سے تعرض نہ کیا، ایک ڈاکو میرے پاس آکر پوچھنے لگا اے لڑکے! تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟میں نے جواب میں کہا”ہاں“ڈاکو نے کہا کیا ہے؟ میں نے کہا”چالیس دینار“اس نے پوچھا: کہاں ہیں؟میں نے کہا”گدڑی کے نیچے“ڈاکو اس راست گوئی کو مذاق تصور کرتا ہوا چلا گیا، اس کے بعد دوسرا ڈاکو آیا اور اس نے بھی اسی طرح کے سوالات کئے اور میں نے یہی جوابات اس کو بھی دیئے اور وہ بھی اسی طرح مذاق سمجھتے ہوئے چلتا بنا، جب سب ڈاکو اپنے سردار کے پاس جمع ہوئے تو انہوں نے اپنے سردار کو میرے بارے میں بتایا تو مجھے وہاں بلا لیا گیا،وہ مال کی تقسیم کرنے میں مصروف تھے۔ڈاکوؤں کا سردار مجھ سے مخاطب ہوا”تمہارے پاس کیا ہے“؟میں نے کہا”چالیس دینار ہیں“ڈاکوؤں کے سردار نے ڈاکوؤں کو حکم دیتے ہوئے کہا”اس کی تلاشی لو“ تلاشی لینے پر جب سچائی کا اظہار ہوا تو اس نے تعجب سے سوال کیا کہ تمہیں سچ بولنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟میں نے کہا”والدہ ماجدہ کی نصیحت نے“ڈاکوؤں کاسردار بولا”وہ نصیحت کیا ہے“؟میں نے کہا”میری والدہ محترمہ نے مجھے ہمیشہ سچ بولنے کی تلقین فرمائی تھی اور میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ سچ بولوں گا“۔ ڈاکوؤں کا سردار رو کر کہنے لگا”یہ بچہ اپنی ماں سے کئے ہوئے وعدہ سے منحرف نہیں ہوا اور میں نے ساری عمر اپنے رب عزوجل سے کئے ہوئے وعدہ کے خلاف گزار دی ہے“۔اسی وقت وہ ان ساٹھ ڈاکوؤں سمیت میرے ہاتھ پر تائب ہوا اور قافلہ کا لوٹا ہوا مال واپس کر دیا۔(بہجۃالاسرار۸۶۱)
نگاہِ ولی میں یہ تاثیر دیکھی بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

 آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاعلمی مقام ومرتبہ
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشادفرماتے ہیں کہ ایک روزمیں نے ظہرکے وقت سرکاردوعالم نورمجسم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کودیکھاآپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے مجھے فرمایا”اے بیٹے ًتم وعظ کیوں نہیں کرتے“میں نے عرض کیا۔یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم!”میں ایک عجمی ہوں عرب کے فصحاء کے سامنے کیوں کرزبان کھولوں“سرکارمدینہ راحت قلب وسینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا”منہ کھولو“میں نے اپنامنہ کھولاتوخاتم النبین شفیع المذنبین سرکاردوعالم نورمجسم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے میرے منہ میں سات مرتبہ اپنالعاب دہن مبارک ڈالااورفرمایاجاؤلوگوں کووعظ ونصیحت کرواورحکمت کے ساتھ انہیں نیکی کی دعادو۔پھرمیں نے ظہرکی نمازپڑھی اوروعظ کرنے کے لئے بیٹھ گیا۔لوگ میرے گردجمع ہوگئے۔میں ابھی دل ہی دل میں کچھ مرعوب ساتھاکہ حضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم تشریف لائے اورفرمایا”عبدالقادر“منہ کھولو۔میں نے منہ کھولاتوحضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے میرے منہ میں چھ مرتبہ اپنالعابِ دہن مبارک ڈالا۔میں نے عرض کیا۔اے علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم آپ نے سات مرتبہ لعاب دہن سے کیوں نہیں نوازا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔سرکاردوعالم نورمجسم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کاپاسِ ادب ہے یہ فرماکرحضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم غائب ہوئے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے وعظ کاآغازکیا۔فصاحت وبلاغت کے دریابہاکرحکمت کے وہ موتی پروئے کہ بڑے بڑے فصحائے عرب اپنے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکو”سلطان اولیاء“کے سامنے کمزورمحسوس کرنے لگے۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکے علمی کمال کا تویہ حال تھاکہ جب بغدادمیں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکی مجالس وعظ میں ستر، ستر (70,70) ہزار سامعین کا مجمع ہونے لگا تو بعض عالموں کو حسدہونے لگاکہ ایک عجمی گیلان کا رہنے والا اِسقدر مقبولیت حاصل کرگیاہے۔چنانچہ حافظ ابوالعباس احمدبن احمدبغدادی اور علامہ حافظ عبدالرحمن بن الجوزی جو دونوں اپنے وقت میں علم کے سمندر اور حدیثوں کے پہاڑ شمار کئے جاتے تھے آپ کی مجلس وعظ میں بغرض امتحان حاضرہوئے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ گئے جب حضور غوث اعظم نے وعظ شروع فرمایا تو ایک آیت کی تفسیر مختلف طریقوں سے بیان فرمانے لگے۔ پہلی تفسیر بیان فرمائی تو اِن دونوں عالموں نے ایک دوسرے کودیکھتے ہوئے تصدیق کرتے ہوئے اپنی اپنی گردنیں ہلادیں۔ اِسی طرح گیارہ تفسیروں تک تو دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ دیکھ کراپنی اپنی گردنیں ہلاتے اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتے رہے مگر جب حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے بارہویں تفسیر بیان فرمائی تو اِس تفسیر سے دونوں عالم ہی لاعلم تھے اِس لئے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دونوں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکا منہ مبارک تکنے لگے اِسی طرح چالیس تفسیریں اِس آیت مبارکہ کی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بیان فرماتے چلے گئے اور یہ دونوں عالم استعجاب میں تصویر حیرت بنے سنتے اور سردھنتے رہے پھر آخر میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایاکہ اب ہم قال سے حال کی طرف پلٹتے ہیں پھر بلند آواز سے کلمہ طیبہ کا نعرہ بلند فرمایا تو ساری مجلس میں ایک جوش کی کیفیت اور اضطراب پیداہوگیا اور علامہ ابن الجوشی نے جوش حال میں اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے (بہجتہ الاسرار) بغیر کسی مادی وسیلہ (یعنی ساؤنڈ سسٹم کے بغیر) ستر ہزار کے مجمع تک اپنی آواز پہنچانااور سب کا یکساں انداز میں سماعت کرنا آپ کی ایسی کرامت ہے جو روزانہ ظاہرہوتی رہتی تھی۔(اخبار الاخیار، شمائم امدادیۃ، سفینۃ اولیا، قلائدالجواہر، نزہتۃ الخاطر، فتاویٰ افریقی،کرامات غوثیۃ اعلی حضرت)
امام شعرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے قسم کھالی کہ وہ کوئی ایسی عبادت کرے گاجواس وقت دنیامیں کوئی بھی نہ کررہاہواگروہ اس قسم کوپورانہ کرسکاتواسکی بیوی کوتین طلاقیں،عجیب وغریب قسم کاسوال بغدادشہرکے علمی حلقوں میں گردش کرنے لگا۔اس شخص کویہی جواب ملتاکہ اس کی بیوی طلاق ثلٰثہ سے بچنے کی کوئی صور ت نہیں۔کیونکہ کسی بھی عبادت کے بارے میں بالیقین یہ نہیں کہاجاسکتاکہ کرہ ارض پرمعین وقت میں دوسراکوئی انسان یہ عبادت نہیں کررہا۔آخرجب یہ سوال حضورغوث اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں پیش کیاگیاآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فوراًیہ ارشادفرمایاکہ اس شخص کوحرم مکہ میں پہنچایاجائے اوراس کے لئے مطاف خالی کردیاجائے۔پھروہ طواف کرے تواس کی ایسی عبادت ہوگی جواس وقت دنیامیں کوئی دوسراانسان یقینی طورپرنہیں کررہاہوگا۔

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تصانیف
شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود طالبین ِ حق کے لئے گرانقدر کتابیں تحریرکیں، جوتشنگان علم کے لئے ایک گوہرنایاب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ذیل میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی چندکتب کے نام بیان کیے جارہے ہیں۔غنیۃ الطالبین،الفتح الربانی والفیض الرحمانی،ملفوظات،فتوح الغیب، جلاء الخاطرفی الباطن والظاہر،ورد الشیخ عبدالقادر الجیلانی،بہجۃالاسرار، الحدیقۃ المصطفویہ، الرسالۃ الغوثیہ،آدابِ سلوک و التوصل الی ٰ منازل الملوک،جغرافیۃالباز الاشہب،تحفۃ المتقین وسبیل العارفین، بشائرالخیرات، سرالاسرارومظہرالانوار، مراتب الوجود

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاوصال مبارک
حضور غوث اعظم کی حیات مبارکہ کا اکثر و بیشتر حصہ بغداد مقدس میں گزرا اور وہیں پر آپ کا وصال ہوااور وہیں پر ہی آپ کا مزار مبارک ہے۔یہ وہی جگہ ہے جہاں پرآپ رحمۃ اللہ علیہ نے مدرسہ کی بنیادرکھی اوردرس وتدریس کے لئے مسندارشادپرمتمکن ہوئے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دربارسے ملحقہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بے شمارمریدین اورارادت مندوں کے مزارات بھی ہیں۔جن کے گرد عام لوگوں کے علاوہ بڑے بڑے مشائخ اور اقطاب آج بھی کمالِ عقیدت کے ساتھ طوافِ زیارت کیاکرتے ہیں اور فیوض و برکات سمیٹتے ہیں۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاوصال۱۱ربیع الثانی کو۱۹سال کی عمرمیں ہوا۔
بندہ پروردگارم امت احمدنبی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم دوست دارچاریارم تابہ اولادعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
مذہب حنفیہ دارم ملت حضرت خلیل علیہ السلام خاک پائے غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ زیرسایہ ہرولی

Avatar
حافظ کریم اللہ چشتی پائ خیل
مصنف، کالم نگار، اسلامی سیاست کا طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *