بلیو وہیل گیم کیا ہے؟۔۔وقار عظیم

فیس بک یا سوشل میڈیا سائٹس استعمال کرنے والے بلیو وہیل کے بارے بہت کچھ پڑھ چکے ہوں گے۔۔یقینا یہ باتیں انھوں نے سوشل میڈیا سائٹس پر مختلف پیجز یا بلاگز سے پڑھی ہوں گی۔۔۔کہیں سے ایک بات پڑھ لی کہیں سے ایک واقعہ پڑھ لیا۔۔لیکن چونکہ یہ معلومات ایک جگہ طریقے سے مہیا نہیں کی گئیں ا سلیے بہت سے لوگوں کے پاس بہت سے سوالات ہیں۔،میں کوشش کروں گا کہ اس مختصر سے تحریر میں وہ جوابات دینے کی کوشش کروں۔۔
بلیو وہیل ایک قاتلانہ گیم ہے۔۔جس میں کھیلنے والے سے پہلے اس کے نام، والدین کے نام، گھر کے ایڈریس،روزہ مردہ زندگی کی عادات، میوزک کون سا پسند ہے، کیسی موویز پسند ہیں، کیا کھانا پسند ہے سمیت ہر قسم کی معلومات لی جاتی ہیں۔۔اس کے بعد اسے ہلکے پھلکے ٹاسک دیے جاتے ہیں جو بہت آسان اور فن ہوتے ہیں جیسا کہ گرما گرم کافی دو گھونٹ میں پی جانا۔۔صبح چار بجے اٹھنا، رات کو اکیلے میں ڈراونی فلم دیکھنا وغیرہ وغیرہ۔۔آہستہ آہستہ یہ ٹاسک خطرناک ہوتے جاتے ہیں جیسا کہ بلیڈ سے اپنے بازو پر ایک کٹ لگانا، لائیو کیمرہ چلا کر بلیڈ سے اپنی ران پر یس لکھنا، کسی اونچی عمارت پر سے ٹانگیں لٹکا کر بیٹھنا۔۔۔اس کے بعد آخری ٹاسک میں آپ کو خود کشی کرنے کا کہا جاتا ہے۔۔دنیا بھر میں اب تک بیس ممالک کے ڈیڑھ سو سے زیادہ لوگ اس گیم کی وجہ سے خود کشی کر چکے ہیں۔۔
پہلا سوال
کیا یہ موبائل گیم ہے؟
یہ موبائل یا لیپ ٹاپ کمپیوٹر گیم نہیں ہے۔۔یہ ایک نیٹ ورک ہے ۔۔ڈارک ویب ورلڈ کے بارے میں آپ کو بتا چکا ہوں جو کہ انٹرنیٹ پر جرائم کی دنیا ہے۔۔وہاں پر بیٹھے کچھ لوگ یہ نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔۔وہ اپنے آسان آسان سادہ سے ٹاسک دکھا کر لوگوں کو خاص کر ٹین ایجز کو بہلاتے ہیں کہ بلیو وہیل کھیلی جائے۔۔اسے بطور فن شروع کیا جاتا ہے لیکن آہستہ آہستہ احساس ہو جاتا ہے کہ ہم دلدل میں پھنس چکے ہیں۔۔
دوسرا سوال
تو موبائل پر جو ایپ اسٹور یا گوگل پلے اسٹور میں بلیو وہیل نام کی گیمز ہیں وہ کیا ہیں؟
اصلی بلیو وہیل کا چرچا سن کر ڈیویلپرز اس نام کو کیش کروا رہے ہیں۔۔اسمارٹ فونز کے دور میں ہر شخص یہی سوچ رہا کہ یہ موبائل گیم ہو گی لہذا تجسس یا شوق کے مارے وہ ایپ اسٹور اور گوگل پلے اسٹور کی جانب بھاگتے ہیں بلیو وہیل کے نام سے جو گیم ملے ڈاون لوڈ کر لیتے ہیں۔۔ لیکن وہ حقیقی بلیو وہیل نہیں ہے جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں بلیو وہیل نیٹ ورک ہے۔۔ایک سنڈیکیٹ یا مجرمانہ گروپ کی کارستانی ہے جو کہ اپنے ٹارگٹس کو سوشل میڈیا سائٹس سے گھیرتے ہیں یا ان کا ٹارگٹ خود ڈارک ویب میں ان کے پاس جا پھنستا ہے۔۔
تیسرا سوال
کوئی کیسے خود کشی کر سکتا ہے؟
آپ ایک ٹین ایجر کے دماغ سے سوچیں جس کی عمر چودہ سے اٹھارہ سال ہے۔۔بلیو وہیل کے شروع میں اس سے ایسے کام کروائے گئے ہیں جو اگر اس کے والدین کو علم ہوں تو اس کے لیے مشکل کھڑی ہو سکتی ہے جیسا کہ رات کو اکیلے ڈراونی فلم دیکھنا، بلیڈ کا استعمال، اونچی عمارت پر بیٹھنا وغیرہ وغیرہ۔۔خود کشی کے لیے پش کرنے کی سب سے بڑی وجہ بلیک مینگ ہے،،،ان کے پاس آپ کے والدین کی ساری انفارمیشن تو ہوتی ہے جو آپ دے چکے ہوتے ہو آپ کو بلیک کر کے ڈرا دھمکا کر آپ سے خود کشی تک کا ارتکاب کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔
دوسری بڑی وجہ نفسیاتی طور پر آپ کا تباہ ہو جانا ہے۔۔۔بلیو وہیل میں کل پچاس دنوں میں پچاس چلینجز ہوتے ہیں۔۔آخری اور پچاسواں چلینج خود کشی کا ہوتا ہے۔۔پچاسویں چلینج سے پہلے آپ کو مختلف چلینجز سے گزار گزار کر نفسیاتی طور پر اتنا ڈسٹرب اور تباہ کر دیا گیا ہوتا ہے کہ آپ کا ذہن مکمل طور پر مزاحمت کے قابل نہیں رہتا۔۔۔
تیسری بڑی وجہ ڈر
جیسا کہ بھارت میں کل ایک لڑکی نے دوسری بار خود کشی کی کوشش کی اسے بچایا گیا تو اس نے ایک ہی رٹ لگائے رکھی کہ مجھے مر جانے دو اگر میں نہ مری تو وہ میرے والدہ کو مار دیں گے۔۔والدین یا کسی پیارے کو قتل کرنے کی دھمکی دے کر ایسا کام کروایا جاتا ہے۔۔
چوتھا سوال
آخر کیوں؟
سب سے بڑا اور اہم سوال ہے کہ آخر کیوں ایسا کیا جا رہا ہے ان کو کیا فائدہ ہے؟
کچھ جرائم فائدہ نقصان کے لیے نہیں ہوتے یہ کسی پاگل یا نفسیاتی مریض کی ذہن کی کارستانی ہوتے ہیں۔۔حالیہ ایک ہفتے میں بلیو وہیل کے چرچہ کے بعد کل پہلی بار اس نیٹ ورک کے ایک شخص نے پیغام دیا ہے کہ وہ دنیا سے بے کار اور کچرا لوگوں کو کم کر رہا ہے۔۔اور کچھ نہیں۔۔۔
بلیو وہیل کے بارے اگر آپ کے پاس مزید سوالات ہیں تو ضرور پوچھئے گا۔

وقار عظیم
وقار عظیم
میری عمر اکتیس سال ہے، میں ویلا انجینئیر اور مردم بیزار شوقیہ لکھاری ہوں۔۔ویسے انجینیئر جب لکھ ہی دیا تھا تو ویلا لکھنا شاید ضروری نہ تھا۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *