دشمن، دروازے پر۔۔۔(قسط4)محمداقبال دیوان

امریکہ سے آئی ہوئی ایک بھارتی مہمان سے مکالمہ۔

ہمارے محترم محمد اقبال دیوان نے یہ طویل مضمون کچھ دوستوں کے اصرار پر لکھا ہے۔ یہ در اصل چند گھنٹوں پر محیط ایک مکالمہ ہے جسے بھارت نژاد، امریکہ میں مقیم ایک گجراتی خاتون کی بے لاگ اور بے باک گفتگو سے ترتیب دیا گیا ہے ۔اس سلسلے میں تفصیلی تعارف پہلی قسط میں موجود ہے۔

انعام رانا۔(ایڈیٹر ان چیف)

تیسری قسط کا آخری حصہ
جب سے مودی جی نے سینٹر میں سرکار کی لگام پکڑی ہے سب کے سب گجراتی بھارتی جنتا پارٹی کو سپورٹ کرتے ہیں۔جب سے اپن لوگ کے مرارجی بھائی ڈیسائی(سن1977 تا1979[) پردھان منتری بنے تھے ان لوگ کو بہت تکلیف ہے۔ان لوگ کا خیال ہے کہ ممبئی کا آکھا دھندا گجراتی، پنجابی اور سندھی بنیا لوگ کے کنٹرول میں ہے۔ممبئی میں مراٹھے کل چالیس فیصد ہیں اور گجراتی پندرہ، گجراتی لوگ دھندے میں چمپئین ہیں۔ہندوستان میں امبانی،ا ٓڈانی،
دلیپ سنگھوی، عزیز پریم جی، رتن ٹاٹا، سائرس پوناوالا، اودے کوٹک یہ سب لوگ اپن کے گجراتی ہیں، مراٹھے پیشہ ور ہیں،ڈاکٹر۔ ٹیچر،انجینئر۔ جب سے مودی جی نے شیو سینا کو 2014 کے لوک سبھا چناؤ میں گھاس نہیں ڈالی باپ کی طرح بیٹا اودھو ٹھاکرے بھی بی جے پی سے ناراض ہے(اودھو جی کانگریس کی مدد سے اب مہاراشٹرا کے نئے چیف منسٹر ہیں)
وہ گجراتی برتری سے بھی نالاں ہے جن کا مہاراشٹرا میں فلم اور ہیرے اور دوسری تجارتی سرگرمیوں پر ہولڈ ہے۔

 

چوتھی قسط کا آغاز
کامیا نے یہ مہربانی کی کہ ہم سے پوچھ لیا کہ نیند آتی ہو تو پھر کبھی مل لیں گے۔ہم نے چونکہ بابری مسجد، کانگریس اور مسلمان اور بھارت کے مشرقی ریاستوں اوڑیسہ جس کی 18 سول لائن کٹک کی بملا کماری کی بھٹکتی روح کا ذکر آپ نے ہمارے مربی قدرت اللہ شہاب صاحب کی سوانح عمری شہاب نامہ میں پڑھا ہے جہاں وہ سن 1941-42 میں تعینات رہے اس کے اردگرد ریاستوں سے جڑے ان پندرہ لاکھ قبائل کا بھی کچھ حال احوال نہ ہوا تھا جو سپریم کورٹ کے ایک آرڈر کی رو برسو ں سے پرکھوں کی زمین سے بے گھر ہوئے ہیں لہذا ہم نے گھڑی پر نگاہ ڈالی تو پونا ایک بجا تھا۔ کامیا کہنے لگی ان لوگ فجر پڑھ کر ناشتہ کرکے سوتے ہیں لہذا اس کے لیے دو گھنٹے بات کرنا مشکل نہیں۔اسے علم نہ تھا کہ فجر کی بجائے یہ پاکستان میں تہجد کا وقت ہے۔

دالان سے جڑے باہر والے برآمدے میں نوجوانوں میں کباب کی نئی کھیپ اور شیشے دہک گئے تھے ایک پلیٹ میں چکن ملائی بوٹی اور فش تکہ آیا تو کامیا مچل گئی اور ہمارے لیے لائے گئے شیشے کا کش لے کر کہنے لگی You guys here really splurge, but that is marriage scene every where in rich people(تم یہاں بڑی عیاشی کرتے ہوتے مگر ہر جگہ مالدار افراد کا ایسا ہی بود و باش ہے۔شادی میں ایسا ہی کچھ ہوتا ہے)۔

مرارجی ڈیسائی

ہم سے پوچھنے لگی ”مین (Man )جب یہ عمران خان تم لوگ کا پی ایم بنا تو ہم انڈین لوگ بولے ایک سالا ہمارا گدھیڑا (گجراتی میں گدھا) مودی ہے ایک ان لوگ کا یہ گریک گاڈ ..Saint(اولیا) لوگ کے دل جیسا پی ایم۔اس کا پاسٹ دیکھو۔اس نے تو مگر ملک کا نکھود نکال دیا(نکھود نکالناگجراتی میں بیڑہ غرق کرنا)۔ جس کا ماضی اس قدر رنگین اور بظاہر صاف شفاف تھا۔جس کو دیکھ کر سوائے امید اور بہتری کے کوئی اور خیال نہ آتا تھا۔جو چلتا اور بولتا تھا تو مغرب میں بھی اس کے قدموں کی چاپ اور آواز کی گونج سنائی دیتی تھی۔ہم لوگ سب انڈینز اودھر نیو جرسی میں بولتے تھے کہ پاکستان کو ایک نیلسن منڈیلا، ماؤزے تنگ اور چواین لائی مل گیا ہے with no trace of past sufferings مگر یہ کیاسب اس کو گالیاں دے رہے ہیں۔ دوبئی ائیرپورٹ پر امیگریشن لائن میں بھی لوگ اس کو برا کہہ رہے تھے۔اس کی نسبت مودی تو ایک بہت گمنام خونی تھا۔چھ بڑے گجراتی بزنس گروپس کا نوکر۔امبانی آڈانہ،متل، عظیم پریم جی،ٹاٹا، اور ہیرے والے شاہ گروپس کا گھر کا نوکر۔نہ بات کرنے کا ڈھنگ، نہ کپڑے پہنے کا۔سوچو جس ملک نے، نہرو، دلیپ کمار، امیتابھ، شاہ رخ جیسےDapper مرد پیدا کیے ہوں اس کا لیڈر مودی۔ ابھی عمران کے کپڑے دیکھ کر ہم لڑکی لوگ باہر بہت دکھی ہوئے۔ یہ تم لو گ کا عمران سالا میلا کرتا شلوار وہ ٹارزن کے زمانے کے چپل  پہن کر کدھر چل پڑتاہے۔کوئی Sense of Occasion نہیں۔بوبی میرے کو بولا یہ بہت کلچرل Thingy ہے۔اسلامک ہے۔مائی فٹ۔یہ مہاتر، اردگان، سیسی،مرسی سے بڑا مسلمان تمہارے ہاں پیدا ہوگیا ہے۔اس کو گریک پارئم منسٹر سپراس، کینیڈا والا ٹروڈو یا باراک اوباما جیسا سمپل ماڈرن اسٹائل رکھنا چاہیے تھا۔ بلیک گرے،بلو سوٹ سمپل ٹائی۔
تم لوگ کا عمران ابھی بھی کرکٹ کی گلیمر فینٹسی سے نہیں نکلا۔ دنیا اس کے ماونٹین ہاؤس فیشن(بنی گالہ) کی دیوانی ہے۔ہم نے کہا تم لوگ اپنے من موہن سنگھ، مودی، باجپائی اور لالو کو برانڈ سمجھ کر اپنا لیتے ہو۔ہمارے ہیرو کو دل سے نہیں مانتے۔اس کا کہنا تھا کہ من موہن سنگھ جیسا پڑھا لکھا پرائم منسٹر اور ہمارے اوّل فاکر عبدالکلام، ذاکر حسین اور رادھا کرسن جیسے پریڈیڈنٹ تم لوگ پیدا نہیں کرسکتے۔ تمہارا لاسٹ رئیل سینس میں تعلیم یافتہ لیڈر جناح تھا بعد میں تو سب یونیورسٹیوں سے دھکے دے کر نکالے ہوئے لیڈر تھے۔

مندیشوری دیوی کا مندر قدیم ترین
بھارت کے قدیم مجسمے جو کسی دیوی دیوتا یا بھگوان کے نہیں
موہنجو دوڑو کے مجسمے
ادی شنکر اچاریہ

تری مورتی
کیدار ناتھ پر چناؤ پوجا
پاک پتن میں سجدے اورچناؤ کی ضرورت

ہم نے پوچھ لیا کہ ڈاکٹر ذاکر حسین اور رادھا کرشن(بھارت کے دوسرے اور تیسرے صدر) میں کیا خاص بات تھی۔کہنے لگی ذاکر حسین جب کُل23 کے تھے تو چار دوستوں نے مل کر ایک کالج بنالیا جو بعد میں جامعہ ملیہ یونی ورسٹی دہلی کے نام سے مشہورہوا اور آج بھی قائم ہے۔انہوں نے جرمن زبان میں معاشیات میں پی ایچ ڈی کی۔دنیا بھر میں لیبر لاز اور غالب پر اتھارٹی مانے جاتے تھے۔ہمارے دوسرے راشٹرپتی(صدر)ڈاکٹر رادھا کشن دنیا بھر میں تقابلی مذہب پر اتھارٹی مانے جاتے تھے، آندھرا یونی ورسٹی کے وائس چانسلر تھے۔ہمارے ابوالکلام آزاد جیسا ایک منسٹر ایجوکیشن تمہارے ملک میں پیدا ہوا ہے۔اس وقت ہمیں اپنے جنرل مشرف کے قریبی ساتھی اور وزیر تعلیم جنرل جاوید اشرف قاضی یاد آگئے جن کی رو سے قرآن پاک میں چالیس پارے ہیں۔
ہمارے بارے میں میزبان بتاچکی تھیں کہ معلوم نہیں اس کی کونسی بال شعیب کا باؤنسر ہوگی سو بی ویرہم نے کہا”اس لسٹ میں دیوی گوڑا، مرارجی ڈیسائی لال بہادر شاستری، چرن سنگھ،نرسما راؤ کو ڈالنا بھول گئیں۔ہنس کے کہنے لگیں ”تمہارے ٹیسٹ ٹیوب پرائم منسٹروں میں سب کے پاس ملا کر بھی ان میں سے ایک کے برابر عوامی سطح کے جمہوری طرز حکومت کا تجربہ نہ تھا۔ان کے ٹوپی، دھوتی اور دکھی پریم نگری لکس پر مت جاؤ۔کانگریس راجیو گاندھی سے پہلے بہت عوامی جماعت تھی۔سینٹرل کمیٹی کی میٹنگ فرش پر چاندنی بچھا کر ہوا کرتی تھی۔یہ سب گراس روٹ پالی ٹیشن تھے۔مرارجی ڈیسائی نے بہت بڑی فارمر تحریک امول انڈیا کے نام سے چلائی۔
اسے لگا کہ عمران کے معاملے پر ہم کچھ دکھی ہوگئے ہیں تو کہنے لگی کہ ہندوستان میں مودی کو میڈیا اور کارپوریٹ سیکٹر بہت سپورٹ کرتا ہے کہنے لگی تم لوگ کا پاکستانی لبرل بھارت سے بہت impressed ہے۔اس کو الو لوگ کو پتہ نہیں نیا بھارت ایسا نہیں ابھی آر ایس ایس کا زور ہے کہ اس نریندر مودی کو اوتار بنادے۔ میں سیکولر اور agnostic (دہریہ)ہوں۔بارہ سال کی نیویارک آئی تھی۔نہ میرا دھرم نہ دیش۔میرا دیش میرا امریکہ سب سے مہان۔تم لوگ سمجھتے ہو بھارت ایک ملک ہے اور ہندوازم ایک ارگنائزڈ دھرم ہے۔ نہیں ایسا نہیں۔

عظیم پریم جی
بھارت کا بکاؤمیڈیا
ٹاپ تھری میڈیا ہاؤسز ان انڈیا
پنکج اوسوال
مشرف باجپائی
نواز شریف کے یار جندل
اروندھتی راے کی کتاب
نیتا اور مکیش امبانی

ہندوستان میں آج سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے کوئی ہندو دھرم نہیں تھا۔ہندو یہاں رہتے تھے۔انڈس ویلی کو سندھو کہتے تھے مگر یہ تو پشاور سے آگے سے چلتی تھی۔ہمارا سب سے پرانا مندر مندیشوری دیوی کا ہے جو بہار میں حضرت عیسیؑ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے ایک سو آٹھ سال بعد بنا تھا۔ ہڑپہ اور موہن جو دڑو کی تہذیبوں کے آثار قدیمہ جو ملے ہیں وہ کسی  دیوی دیوتاؤں کے نہیں رام شیوا کے نہیں۔ ایک پجاری ہے، ایک رقاصہ ایک بیل ہے۔اس طرح کے نمونے ملے ہیں۔ ہندو مت در اصل رسم و  رواج اور مقامی دیوی دیوتاؤں کے تصوارت تھے۔یہ کوئی منظم دھرم نہیں تھا۔
لو جی اس کے بعد ہمارے ایک شنکر اچاریہ آگئے۔آج سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے ادی شنکر آچاریہ جی۔ شنکر تو آپ جانتے ہی ہیں ہمارے ایک بھگوان تھے اور آچاریہ سنسکرت میں گرو یا استاد کو کہتے ہیں۔انہوں نے چار دشاؤں (سمت) میں بڑی پیٹھ بنائیں جنہیں متھ کہا جاتا ہے۔ان کو خانقاہ یا جامعہ سمجھ لیں۔ایک اڑیسہ کے پوری گاؤں میں گواردھنا کہلاتی ہے۔دوسری سری نگری سردھا پیٹھم۔ کرناٹک میں سری نگری کے علاقے میں ہے۔تیسری گجرات میں دوارکا میں کالی کا کے نام سے جانی جاتی ہے اورچوتھی جوشی متھ جو اتر کھنڈ میں جیوتی مت کے پہاڑی سلسلے میں واقع گاؤں میں ہے۔ یہ ہم لوگ کے ہندو بدری ناتھ مندر کے پاس ہے۔بدری ناتھ کا مطلب ہوتا ہے بھگوان کی بیری۔اس کو فارسی میں عناب بولتے ہیں عنابی یا برگنڈی رنگ اسی کو بولتے ہیں۔
بدری ناتھ کی یاترا ہمارے دھرم کے چار دھام یعنی چاروں پیٹھ کی یاترا کا ایک حصہ ہے۔ہر بارہ سال بعد یہاں بھی کھمب کی طرح بڑا میلہ لگتا ہے۔یہاں ہر سال چھ لاکھ یاتری آتے ہیں۔ ہمارا دھرم کے دو دھارے ہیں بھگوان شیو کے ماننے والے اور بھگوان وشنو کے ماننے والے۔اصل میں یہ ہمارا دھرم ایسا مشکل دھرم ہے کہ خود بہت سے بھگوان بھی بغیر ٹیوشن پڑھے اس کو نہیں سمجھ سکتے مثلاً ہمارے ہاں تین بھگوان ہیں شیو، وشنو اور برہما۔ ان کو تری مورتی کہا جاتا ہے یہ ایک ہی بھگوان کے تین روپ ہیں۔اس میں برہما خالق ہے، وشنو انتظام سنبھالنے والا اور شیوا برباد کرنے والا ہے۔ میں  تم کو یہ سب سمجھانے میں لگ گئی تو تمہارا بھیجا باربی کیو ہوجائے گا۔

بات یہ تھی کہ چناؤ میں جو مودی جی نے لمبا ہاتھ مارا ہے تو ہمارے مودی جی بدری ناتھ اور کیدار ناتھ تپسیا اور دعا مانگنے گئے تھے جیسے آپ کے پردھان منتری اور ان کی پنکی پیرنی کسی جگہ کی یاترا پر گئے تھے اور سجدے ٹھوکتے تھے۔ابھی سالے گدھیڑے لوگ کو کون سمجھائے کہ بھگوان کو راہول گاندھی بھی اچھا لگتا ہے۔چناؤ بھگوان نے نہیں امبانی کی ریلائنس، ٹاٹا گروپ ایسر گروپ کے روئیا بردارز۔انفو سس گروپ،آڈانی گروپ اور عزیز پریم جی کے ساتھ ساتھ برلا اور متل گروپس نے جتوایا ہے۔یہ مودی کا شروع سے لالن پالن کرتے چلے آرہے ہیں۔ان کی دولت کا چمتکار تھا کہ مودی گجرات سے نکلا اور بھارت پر چھا گیا۔ایل کے آڈوانی، وشونت سنہا، سشما سوراج، جسونت سنگھ جیسے پرانے اور مہان نیتا سب گھر بھیگی(گھر چلے گئے) ہوگئے۔اس نے ان لوگ کو مال کمانے کی چھوٹ دے رکھی ہے۔سرکار میں ان کی فائل بلٹ ٹرین بن کر دوڑتی ہے۔بھارت کے ٹاپ کے58 میڈیا آؤٹ لیٹس پر مکیش امبانی،مہندرا ناتھا،پن اوسوال گروپ کا ستر پریست کنٹرول ہے۔ابھے اوسوال کے مرنے کے بعد ہمارے ابھے سوال گروپ میں زبردست مارا ماری چل رہی ہے۔بیٹا ماں کے خلاف، بہن بھائی کے خلاف، اس کی بہن نوین جندل کی بیوی ہے اور یہ آسٹریلیا میں دنیا بھر میں سب سے بڑے ایمونیا پلانٹ کا مالک ہے۔یہ سب مل جل کر وہ تم لوگ کے شریف کے بزنس پارٹنرز ہیں۔

شیاما پرمود مکرجی بے جے پی کے بانی
بال ٹھاکرے اور اندرا جی
اندرا گاندحی کی تصویروں والے

اس میں گجراتی، مارواڑی اور ساؤتھ انڈین انفو سس والے ہیں۔ تم لوگ اروندھتی رائے کی Capitalism: A Ghost Story پڑھوگے تو پتہ چلے گا کا امریکہ کا کارپوریشن ماڈل کیسے ہندوستان میں کاپی ہورہا ہے۔ تعلیم اور صحت میں سے پبلک سیکٹر کو دھکا دے کر باہر نکالتے ہیں۔بھارت کی دولت پر سو مالدار گھرانوں کا قبضہ ہے۔اسی کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے جی رہے ہیں۔
ہمارے بھارت میں آج کل ایک جوک چلے لا ہے کہ نیتا اور مکیش امبانی نے ایک دن مندر میں بھگوان کو پوچھا۔ کوئی چیز کی ضرورت ہو تو ہم لوگ سے مانگ لینا شرمانا نہیں۔ اپنے پاس مودی کا دیے لا بہت کچھ ہے۔میری ایک دوست کی پاکستانی کشمیر ی لاہوری
مہمان نیویارک میں میرے کو پوچھنے لگی کہ ہماری نواز کی چھوکری مریم کے پاس زیادہ مال ہے کہ تم لوگ کی نیتا امبانی بین کے پاس زیادہ ہے۔میں بولی مریم کے پاس جتنی ویلتھ ہے اتنی تو نیتا بین برا میں لے کر گھومتی ہے۔

ہم نے اس موضوع پر آخری سوال پوچھ لیا کہ شیو سینا اور بی جے پی میں کیا فرق ہے؟
مائیکرو لیول پر تو کچھ نہیں۔ دونوں ہی ہندوتوا کے پرچارک (دعوے دار)ہیں۔بھارتی جنتا پارٹی راشڑیے(قومی) پارٹی ہے۔شیو سینا مہاراشٹرا کی پارٹی ہے اور مراہٹا سپریمسی میں یقین رکھتی ہے۔ ہم نے پوچھ لیا کہ ممبئی کے مسلمان شیو سینا کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ کامیا پاٹل کا گجراتی تعصب جو ہمارے معاملے میں ایسے ہی ماند پڑجاتا تھا جیسا پنجابیوں کا سکھوں اور سندھیوں کا سندھی ہندوؤں کے بارے میں پڑجاتا ہے۔وہ ان سندھی ہندووں کو اردو بولنے والے مہاجرین پر ترجیح دیتے ہیں۔کامیا کہنے لگی شیو سینا سالی ٹپوڑی پارٹی ہے۔پہلے بولے ہم پولیٹکل پارٹی نہیں پھر بولے ساؤتھ والے ہمارے دشمن ہیں۔ان کو ہراس کیا پھر گجراتی لوگ سے تکلیف شروع ہوگئی کہ دھندا باہر کے لوگ کے پاس ہے۔ ارے ہم منع بولے کہ دکان مت کھولو، فیکٹری مت ڈالو،سالے ایزی لوڈ گروپ۔گجراتی لوگ نے ان کو کس کے ٹھوکا تو پھر یہ بہاری اور یوپی والوں کے پیچھے پڑگئے۔90’s میں مسلمان لوگ کے پیچھے پڑگئے۔سارا ہندوستان اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کو بُرا بولتا تھا ٹھاکرے اندرا کو ممانی بنا کر بیٹھا تھا۔ابھی ٹھاکرے فیملی خود کو شیوا جی کا اوتار سمجھتی ہے۔ اور بی جے پی کیسی ہے ہم نے ہلکی سی چٹکی لی۔
بی جے پی، جن سنگھ پارٹی کا نیا ورژن ہے۔جن سنگھ جس کا اکھیل بھارتیا جن سنگھ کا نام تھا یہ آر ایس ایس کا پرانا پولیٹکل ونگ تھی۔ کانگریس کے خلاف اس نے دوسری پارٹیوں کے ساتھ 1977 میں گٹھ بندھن (سیاسی اتحاد) کرلیا۔تیس سال بعد پہلی دفعہ اپن کے گجراتی مرارجی بھائی ڈیسائی ،نان کانگریسی پردھان منتری بنے۔۔
ہم نے کہا وہ یو ڈی آئی۔Urine Drinking Indian(پیشاب پینے والا بھارتی)۔ہنس کر بولی آکھا امریکہ میں اس ایڈیٹ کی وجہ سے ہم کو امریکی یو ڈی آئی بولتے تھے۔تم لوگ کا وہ بدمعاش فراڈیہ جیا الحق جرنل ہنس کر کہنے لگی میرے کو ڈاکٹر تغاری یاد آرہا ہے۔
اب میں کورٹ میں بھی جنرل کو جرنل بولوں گی بھلے سب لوگ میرے کو بلڈی انڈین بولے۔ہم نے درست کیا کہ تغاری نہیں لغاری پردھان منتری مرارجی ڈیسائی کو رات کو فون کر کرکے پوچھتا تھا۔ پیشاب کب پینا چاہیے، کتنا پینا چاہیے روز پینا چاہیے کہ ہفتے میں ایک بار۔ ایک دن مرارجی بھائی نے اس کو چڑ کر بولا تو نے لوگوں کا کھون (خون)پینا بند کردیا ہے تو جب من میں آۓ پیشاب پی لے مگر اپنا پیشاب ہی پینا۔
اس پارٹی کا نام جنتا پارٹی تھا جو تین سال بعد ٹوٹ گئی۔اس کے پیٹ میں سے بی جے پی نکلی۔ہمارے کلکتہ کے ایک نیتا شیاما پرساد مکرجی ہوتے تھے۔یہ نہرو جی کے ادیوگ(صنعت) منتری تھے۔ کشمیر کے مدعے پر نہرو جی سے لڑائی ہوگئی تو اپنی پارٹی بناڈالی الگ ہوکر اپنی پارٹی بھارتی جن سنگھ بنائی۔1977 میں جب اندرا جی نے ایمرجنسی ختم کی تو چناؤ جیت کے مرارجی ڈیسائی پردھان منتری بن گئے۔اٹل بہاری واجپائی وزیر خارجہ اور ایل کے آڈوانی جی انفارمیشن منسٹر بن گئے۔ ہمارے واجپائی جی بہت کٹر ہندوتوا والے تھے۔میٹھی زہر میں بجھی چھری۔ان لوگ نے بھارت کا سیکولر آؤٹ لک بدل دیا۔مودی اور آڈوانی کی پالی ٹکس گلی کے غنڈے لوگ کی ہے واجپائی اصل برین تھا۔شیو سینا اور بی  جے پی کا جنم ایک سال میں ہی ہوا ساٹھ کی دہائی میں۔شیو سینا کچھ لوگ بولتے ہیں اندرا جی نے بنائی تھی۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *