پہلی جنگ عظیم۔ پہلی قسط (پہلا حصہ)۔۔۔۔آصف خان بنگش

SHOPPING

نوٹ: یہ تمام سیریز سر ہیو سٹران کی ریسرچ سے اخذ شدہ مواد پر مبنی پہلی جنگ عظیم پر بنی انگریزی سیریزThe First World War کا کچھ اختصار کچھ شد و مد کے ساتھ کیا طالبعلمانہ ترجمہ ہے۔ مقصد صرف لکھنے کی مشق ہے اور دوستوں کے ساتھ شریک کرنا بھی ہے۔ امید ہے کسی بھی کمی بیشی کو درگزر کر کے حوصلہ  افزائی فرمائیں گے۔

حرف آغاز و وجوہات

سربیا کے دارالحکومت بلغراد کے باہر مئی 1914 میں ایک بوسنوی طالبعلم Gavrilo Princip (گاوریلو پرینسپ) اپنی پستول لیکر نشانہ لگانے آیا۔ پرنسپ 19 سال کا تھا، اس کے انسٹرکٹر کے مطابق وہ ایک اچھا نشانہ باز نہیں تھا۔ باقی طالبعلم اس سے زیادہ پراعتماد تھے۔ اور جب پرنسپ نشانہ خطا کرتا تو اس پر ہنستے تھے، اور یہ منظر اسے رلا دیتا۔ جنگل میں اس نے درختوں پر نشانہ لگانا شروع کیا۔ اس کا مقصد اس سے بہت بڑا تھا۔ وہ موجودہ نظام کو دہشت گردی کے ذریعے اکھاڑنا چاہتا تھا۔ 1914 میں پرنسپ کی یہ خواہش پوری ہوئی۔

پہلی جنگ عظیم کی شروعات جیسے حادثاتی تھی ویسے ہی اسکا اختتام بھی عجیب تھا۔ لیکن اس دوران یہ تاریخ کی سب سے تباہ کن جنگ ثابت ہوئی۔ پہلی جنگ عظیم میں برطانوی، فرانسیسی اور اطالوی فوجیوں کے مرنے کی تعداد دوسری جنگ سے بھی زیادہ تھی۔ یہ پہلی خالصتاً عالمی جنگ تھی، جو نہ صرف فرانس اور فلینڈرز کے میدانوں میں لڑی گئی بلکہ پہاڑوں، صحراوں، سمندر اور فضاؤں میں لڑی جانے والی پہلی لڑائی تھی۔

پہلی جنگ عظیم نے نہ صرف دنیا کا نقشہ تبدیل کیا بلکہ اسی کے نتیجے میں روس میں انقلاب برپا ہوا، امریکہ ایک عالمی طاقت کے طور پر اُبھرا۔ اور اسی کے ناکام امن معاہدہ کے نتیجے میں دنیا کو دوسری جنگ عظیم دیکھنا پڑی جو اس سے 20 سال بعد شروع ہوئی، اور اس کے بعد سرد جنگ بھی اسی کا خمیازہ تھا۔ لیکن یہ انہی سپاہیوں کے مرہون منت تھا جو 1914 میں لڑے کہ دنیا کو وطن پرستی اور جمہوریت ملی، عالمی قوانین وضع ہوئے اور قوموں کو حقوق حاصل ہوئے۔ اب جب کہ یورپ سے اشتراکیت کا خاتمہ ہو گیا ہے تو یورپ کا نقشہ تقریباً  ویسا ہی ہے جیسا پہلی جنگ کے بعد تھا لیکن یہ مشرق وسطی اور بلقان میں تلخی بکھیر گیا اور آج بھی دنیا اسی کے ساتھ جی رہی ہے۔

آصف خان بنگش

اس سب کی شروعات آج سے سو سال پہلے بلقان سے ہوئی، جو اس زمانہ میں تین عالمی قوتوں کے سنگم پر واقع تھا۔ آسٹرو ہنگیرینAustro_Hungarian، رشین اور عثمانی سلطنت۔ کئی سو سال تک عثمانی ترکوں کوبرتری حاصل تھی اور سربیا، بوسنیا اور البانیہ ان کے قبضہ میں تھا۔ انہوں نے بلغرادمیں تقریبا 80 مساجد تعمیر کیں لیکن انیسویں صدی کے آخر تک صرف ایک بچی تھی۔ سربوں نے ترکوں کو مار بھگا کر اپنی سلاو (Slav) سلطنت بنا لی تھی۔ لیکن سربیا کے بارڈر پر ان کے لئے ایک اور بڑا خطرہ آسٹرو ہنگیرین کی شکل میں موجود تھا جو ترکوں سے زیادہ خطرناک معلوم ہوتا تھا۔
پرنسپ سربیا کے ایک پہاڑی علاقہ میں پیدا ہوا تھا، اسکا گھر بلقان Balkanکی جنگوں میں تباہ ہو گیا تھا اور ایک پتھر پر1909 میں اس کے دستخط وہ واحد نشانی ہے جو بتاتی ہے کہ وہ یہاں زندگی جیا تھا۔ اسی کے ایک سال بعد بوسنیا کا کنٹرول آسٹرو ہنگیرینز کے پاس چلا گیا اور یہی وہ دشمن تھا جسے پرنسپ تباہ کرنا چاہتا تھا۔ اسکا خاص نشانہ ولی عہد فرانز فرڈیننڈ (Franz Ferdinand) تھا جو کہ شاہی خاندان ہیپسبرگز Hapsburgsکا چشم و چراغ تھا۔ یہ وسیع و عریض سلطنت ایک بادشاہت کم اور ہیپسبرگز کی ذاتی ملکیت زیادہ لگتی تھی۔ اس سلطنت کا بادشاہ فرڈیننڈ کا چچا فرینز جوزف تھا جو بیک وقت آسٹریا کا شاہ اور ہنگری کا بادشاہ کہلاتا تھا۔ 1914 میں اس کو اقتدار میں آئے 66 برس ہو گئے تھے اور اس نے اس دور میں تبدیلی کے تمام دروازے بند کر رکھے تھے۔ ہمیشہ یونیفارم میں نظر آنے والے اس شاہ نے سیاسی ریفارمز سے ہمیشہ نفرت کی تھی۔

اس سلطنت کا یورپ کے تحفظ میں بڑا ہاتھ تھا۔ اسکا صدرمقام ویانہ شہر ایک عظیم بین الاقوامی شہر تھا جس نے فرائیڈ، مالر، کافکا اور سٹراس جیسی شخصیات پیدا کیں۔ اس میں تقریبا ًدس شہریتوں کے لوگ تھے جس میں آسٹریا، ہنگری، پولش، چیک، سلواک، رومانین، اطالوی، کروایٹ اور بوسنوی شامل تھے۔ 1905 میں ویانا میں قوم پرست جلوس ہوئے، 1912 میں بڈاپسٹ میں ہنگامے شروع ہوئے اور 1914 میں تقریبا تمام ملک میں نسلی فسادات شروع ہو چکے تھے۔ مقامی اسمبلیاں ختم کر کے فوج بلا لی گئی تھی۔ آسڑیا ہنگری کے داخلی معاملات نے اس کے دشمنوں کیلئے موقع فراہم کیا تھا۔ سربیا اس سلطنت کا خاتمہ چاہتا تھا۔ اس نے بوسنیا اور کروایشیا میں نسلی فسادات کو ہوا دی اور اس میں اسے سلاو رشیا کی پشت پناہی حاصل تھی۔ وہ تمام سلاویوں کو یکجا کر کہ یوگوسلاویہ بنانا چاہتے تھے۔

ڈراگوتن دمتریوچ Dragutin Dimitrijevicسربین فوج میں ایک افسر تھا۔ جو کہ آسڑیا سے ہر قسم کی دوستی کا مخالف تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ بادشاہوں کا قتل ہی تبدیلی کا موجب ہو سکتا ہے۔ 1903 میں بھی اس نے محل میں ایک بغاوت کی اور سربیا کے پرانے بادشاہ کو قتل کر دیا جو کہ آسڑیا سے دوستی کا خواہاں تھا۔ انہوں نے ایک نئے بادشاہ کو نامزد کیا لیکن باقی دنیا کے ممالک اس پیش رفت سے پریشان تھے۔ 1914 کی بہار میں پرنسپ بلغراد میں موجود دوستوں سے انقلاب کی باتیں کر رہا تھا جہاں اسے معلوم ہوا کہ فرینز فرڈیننڈ جون میں سراہیوو آنے والا ہے۔ یہ ان کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کا وقت تھا اور ان کی خوش قسمتی کہ ان کا یہ منصوبہ دمتریوچ کو معلوم ہو گیا۔ اس کا یہ ماننا تھا کہ فرڈیننڈ سربیا کو ہتھیانا چاہتا ہے اور جنگی مشقوں کا صرف بہانا ہے۔ اس لئے اس نے پرنسپ کامنصوبہ معلوم ہونے کے باجود اسے نہیں روکا۔ فرڈیننڈ کے بادشاہ بننے کی تیاریاں جاری تھیں یہاں تک کہ اس کا سرکاری پورٹریٹ بھی بن گیا تھا۔ وہ خیالات میں بالکل الگ تھا اور امن کی بات کرتا تھا۔ تبدیلی کا خوگر تھا۔ اور کسی بھی طرح بلقان میں جنگ کا مخالف تھا۔

SHOPPING

پرنسپ سرب میجر اور ان کے ساتھیوں کی مدد سے 6 بم اور پستولوں سے لیس اپنے 6 ساتھیوں کے ساتھ سراہیوو میں موجود تھا جہاں فرڈیننڈ بھی 25 جون کو پہنچ گیا۔ انہوں نے تین دن بعد حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا جب وہ ریلوے سٹیشن سے ٹاون ہال جانے والا تھا۔ فرڈیننڈ نے تاریخ چننے میں غلطی کی تھی 3 دن بعد سربین قومی دن تھا اور سراہیوو جھنڈیوں سے لدھا ہوا تھا۔ آسٹریا کے امبیسیڈر نے انہیں کہا بھی کہ یہ موقع مناسب نہیں لیکن اس کی چیتاونی کو ہنسی میں اڑا دیا گیا۔ وارننگ کے بعد بھی سکیورٹی ہلکی تھی صرف چند پولیس والے موجود تھے۔ شاہی کار نہایت ہی سست روی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ پل پر موجود ایک سازشی نے ان پر بم پھینکا مگر وہ کار سے لگ کر پیچھے  کو گیا جہاں کچھ افسر زخمی ہوئے۔ فرڈیننڈ حواس باختہ نہیں تھا اس نے کہا مجھے معلوم تھا کہ کبھی ایسا ہوگا۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھا مگر میئر کو اتنا ضرور کہا کہ میں یہاں امن کی بات کرنے آیا ہوں اور یہاں مجھ پر حملہ ہو رہا ہے۔ بوسنوی منصوبہ ناکامی سے دوچار ہوا تھا۔ پرنسپ ناکام ہو کر گھر کی طرف لوٹ رہا تھا کہ وہاں کونے پر ایک دکان سے سینڈوچ لینے رکا۔ سرکاری سیکورٹی اب ہائی الرٹ تھی۔ اسی نکڑ پر اس کی قسمت بدلی جب ڈرایور نے ایک غلط موڑ مڑا اور سیدھا اس طرف چلا گیا جہاں پرنسپ موجود تھا۔ وہ اس کے بالکل سامنے آگیا اور پستول نکال کر گولی چلا دی۔ فرانز فرڈیننڈ اور اس کی بیوی صوفی ہسپتال لیجاتے ہوئے رستے میں ہی دم توڑ گئے۔ کسے معلوم تھا کہ پستول سے چلی یہ گولی پوری دنیا کو راکھ کا ڈھیر بنا دیگی۔
(جاری ہے)

 

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *