ملزم جناح حاضر ہو۔۔عماد بزدار/تبصرہ۔صائمہ نسیم بانو

SHOPPING

ایک روز میری پیاری سہیلی اور از حد محترم بہن ثمینہ رشید صاحبہ کا پیام وصول ہوا کہ بانو آپ سے بات کرنی ہے ان ہی کی زبانی علم ہوا کہ عماد بزدار صاحب کی کتاب “ملزم جناح حاضر ہو۔” کی تقریب رونمائی لاہور پریس میں متوقع ہے اور عماد بزدار صاحب کی خواہش ہے کہ ولید اقبال صاحب کو بطور مہمانِ خصوصی دعوت دی جائے، ثمینہ نے ایسے مان اور محبت سے کہا کہ میرا سر فخر سے بلند اور دل خوشی سے سرشار ہو گیا۔ عماد بزدار صاحب سے تعارف اور گفتگو تو ہوتی ہی رہی تھی میں انہیں ایک کم عمر نوجوان سمجھتی تھی (خدا مجھے معاف فرمائے آمین) فیس بک پر موجود ہم سبھی خواتین کو وہ جس احترام اور عاجزی سے ادی کہا کرتے ہیں ان کی اس ادا پر میں ہمیشہ سے ہی انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتی رہی ہوں اور سمجھتی ہوں کہ خواتین کو ایسی عزت و احترام بخشنے والایہ انسان یقیناً  کسی عظیم ماں کی شفیق گود میں پروان چڑھا ہے اور کسی غیرتمند باپ کا خون ہے۔

میڈم ناصرہ جاوید میرے بڑے بھائی سید اسد کی استاد رہی ہیں میرے لئے یہ گھرانہ وقر و شوکت کا استعارہ رہا ہے، منیب بھائی ہر چند کہ مجھ سے عمر میں کئی برس بڑے ہیں لیکن انکساری کا یہ عالم ہے کہ مجھے باجی بانو کہا کرتے ہیں۔ قائد اعظم اور پاکستان سے میری محبت کا یہ قصہ ہے کہ میری پَر نانی صاحبہ نے بنا اپنے شوہر کی اجازت پاکستان ہجرت کی اپنے اکلوتے بیٹے یعنی میرے نانا جان اور ان کی اولاد کو غربت اور وضعداری کی گود میں پروان چڑھایا انہوں نے خود کو پاکستان سے جدا سمجھا نہ ہی جانا۔ ولید بھائی کی محبت اور احسان ہے کہ انہوں نے میری درخواست پر کتاب کی تقریبِ رونمائی میں نہ صرف آنے کی حامی بھری بلکہ میری درخواست پر عماد کی کتاب کا مطالعہ بھی کیا۔ اس روز عماد کی خوشی دیدنی تھی میری پیاری ثمو بھی خوش تھیں اور اپنے دوستوں کو خوش دیکھ کر مجھ جیسا حساس اور فقیر انسان کیسی تسکین محسوس کر سکتا ہے اس کا اندازہ تو شاید وہی شخص کر سکتا ہے کہ جس کے دل پر خدا نے درد اتارا ہو, احساسِ لطیف ودیعت فرمایا ہو, اخلاص انعام کیا ہو۔
اللہ اللہ کر کے رونمائی کا دن آیا تو عماد سے زیادہ میں ایکسائیٹڈ تھی میں نے جب تک بھائی ولید اقبال سے خود بات کر کے تسلی نہ کر لی کہ وہ کس وقت تقریب کے لیے نکلیں گے میں بے چین ہی رہی. عماد سے فون پر رابطہ رہا اور تقریب کے بعد رات گئے ان سے بات کی تو ان کی کھنکتی آواز اور خوشی و انبساط سے معطر لہجہ میرے لیے سکون کا باعث رہا, میری آنکھوں نے شکر کے آنسو چپکے چپکے بہائے تو دل مسرت اور بہجت کی لہروں میں ہچکولے لیتا رہا, میں شاید جذبات کے اظہار میں کسی حد تک پتھریلی ہو چلی ہوں لیکن اس شب میرے دل نے عماد بزدار کے لئے ان کہی اور بے پناہ دعائیں آسمانوں کے خدا تک پہنچائیں۔

عماد بزدار ایک ضدی بلوچ ہے کتاب بھیجنے کو روز پیام بھیجتا رہا اور میں شرمسار کہ بنا کسی ہدیے کے کیسے کتاب قبول کروں بہر طور ایک ضدی بلوچ سے یہ خاکسار ہار گئی اور اپنے سر تاج سے اجازت لے کر عماد کو ایڈریس وٹس ایپ کر دیا۔ عماد کی ایکسائٹمنٹ دیدنی تھی کتاب ارسال کرنے سے موصول ہونے تک وہ تسلسل سے فیڈ بیک لیتا رہا اور چاہ اور مان سے کہا کہ آپ کتاب کے حوالے سے ضرور لکھیں گی۔ ایسی محبت, مان اور تکریم پر تو شاید پتھروں کے دل بھی پگھل جائیں جبکہ میری ہستی تو رقیق سیال کی سی ہے بہتی چاندی جیسا دل اور چھوئی موئی جیسا احساس, اسی احساس نے مجھے ہمیشہ درد دیے ہیں اور اسی احساس نے مجھے اس درد کو ضبط کرنے کا ظرف عطا فرمایا ہے۔

کتاب گھر آئی تو بچوں نے تقریباً  چلاتے ہوئے بتایا کہ عماد انکل کی بک آ گئی ہے شام کو یہ خبر انہوں نے اپنے بابا جان کو دی تو انہوں نے عماد کے لیے دعائیں اور مبارکباد بھیجی, خیال تو یہ تھا کہ اسی رات کتاب پڑھ لوں گی لیکن اماں نے لفافے سمیت کتاب اٹھائی اور کہا پہلے میں پڑھوں گی میں نے ہنس کر سر جھکا دیا عماد نے پوچھا بانو جی کتاب پڑھی تو کتاب کی کڈنیپنگ کا قصہ انہیں بھی سنا دیا مسکرا کے کہنے لگے مما سے فیڈ بیک ضرور لیجیے  گا۔
آج صبح عماد سے بات ہوئی تو وعدہ کیا کہ کتاب ضرور پڑھوں گی ایک گھنٹے کے لیے مما سے کتاب مستعار لی ہے مشمولات کا مطالعہ کیا تو اظہار الحق صاحب کی رائے پڑھتے ہوئے احساس ہوا کہ اگرچہ ایڈیٹنگ میں کمی پیشی رہ گئی ہے لیکن کتاب انسپائرنگ ہے۔ پھر اپنی محبوب سہیلی اور بہن ثمینہ رشید صاحبہ کا فیڈ بیک پڑھا اور ہمیشہ کی طرح ان پر فخر محسوس ہوا کہ کیسی نپی تلی اور مدلل گفتگو و تحریر پر ملکہ رکھتی ہیں, تیسرا اور آخری ریویو یا تعارفی نوٹ نوجوان بلاگر سحرش عثمان کا تھا ان کے اسلوب اور متن سے معصومیت, سچائی اور جذبہ و جنوں کے رنگ جھانکتے رہے۔
اب کتاب اماں واپس لیجا چکی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ بیٹا تم رومی, خیام, شیرازی, ٹیگور, ورڈز ورتھ, بائرن, شیلے, کیٹس, ایملی, گلزار اور پروین شاکر پڑھنے والی ہو یہ کتاب تمہارے لئے ذرا ہیوی ڈوز رہے گی۔

SHOPPING

پیارے عماد بزدار آپ کو میری اور میری فیملی کی جانب سے اپنی پہلی کتاب اور اس کی کامیابی مبارک ہو اور میری امید و دعا ہے کہ ہمارے پیارے عماد ایسی درجنوں کتابیں لکھیں اور ہم انہیں یونہی پھلتا پھولتا, نیکی و خیر پھیلاتا, محبت و اخلاص بانٹتا, تکریم و تعظیم بخشتا, دعائیں اور نیک تمنائیں سمیٹتا ہوا دیکھیں۔
آمین ثمہ آمین

SHOPPING

صائمہ بخاری بانو
صائمہ بخاری بانو
صائمہ بانو انسان دوستی پہ یقین رکھتی ہیں اور ادب کو انسان دوستی کے پرچار کا ذریعہ مان کر قلم چلاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *