دشمن، دروازے پر۔۔۔(قسط3)محمداقبال دیوان

SHOPPING

امریکہ سے آئی ہوئی ایک بھارتی مہمان سے مکالمہ۔

ہمارے محترم محمد اقبال دیوان نے یہ طویل مضمون کچھ دوستوں کے اصرار پر لکھا ہے۔ یہ در اصل چند گھنٹوں پر محیط ایک مکالمہ ہے جسے بھارت نژاد، امریکہ میں مقیم ایک گجراتی خاتون کی بے لاگ اور بے باک گفتگو سے ترتیب دیا گیا ہے ۔اس سلسلے میں تفصیلی تعارف پہلی قسط میں موجود ہے۔

سرسا جہاں پرتھوی راج کوگرفتار کیا گیا
تھانےسر ہریانہ
زعفرانی
سید معین الدین چشتی کے مرقد فیض رساں پر
لیتھیم

انعام رانا۔(ایڈیٹر ان چیف)

ہندوتوا   آر ایس ایس۔وشوا ہندو پریسد۔بجرنگ دل اور شیو سینا

ہم نے پوچھا ہندوتوا اور آر ایس ایس کا آپس میں کیا تال میل ہے۔ایلمنٹری مائی ڈیر! دیوان صاحب! ایلمنٹری۔اس نے انگریزی زبان کے مشہور کردار شرلک ہومز کی نقل کرتے ہوئے جواب دیا،جو مشہور جاسوسی کردار شرلک ہومز ڈاکٹر جانسن سے کہا کرتا تھا۔
ہندوتوا ایک فلسفہ ہے۔ اس کی بنیاد ہندو دھرم اور کلچر ہے۔بھارت میں بہت سے ہندو یہ سمجھتے ہیں کہ پانچ ہزار سال پرانے اس دھرم اور جیون کے درشن شاستر (فلسفے) کو پہلے مسلمان حکمرانوں نے 711 میں محمد بن قاسم کے ذریعے برباد کیا۔ اس کے بعد غزنوی محمود نے1024 اور پھرمحمد غوری نے اس کو نشت(برباد) کیا۔اس نے 1192 میں پرتھوی راج چوہان کو جسے رائے  پتھورا بھی کہتے ہیں اس کو تراین نزد تھانیسر کی دوسری جنگ میں ہرا کر موجودہ ضلع سرسا ہریانہ کے نزدیک گرفتار کیا تھا۔یہ بادشاہوں کی حکمرانی کا آغاز تھا۔

کپل شرما شو
سشمیتا سین

کامیا کو کچھ کچھ حیرت تھی۔آنکھوں میں بے اعتباری کا زعفرانی بھارتی رنگ جس میں پسندیدگی کا تیس فیصد نیلا رنگ بھی شامل تھا وہ غالب آچکا تھا۔ہم نے جتایا کہ اس جنگ میں تو کشمیر کے وجے راجہ پنڈتوں اور راجھستان کے راجپوت سرداروں نے بھی مسلمان بادشاہ غوری کا ساتھ دیا تھا اور انہیں سیدنا معین الدین چشتی ؒ کی خصوصی دعا بھی تھی جن کے مرقد فیض رساں پر آج بھی تمہاری کرینہ،سونیا گاندھی، پریانکا چوپڑا، رانی مکرجی امیتابھ بچن،دیپکا بھی جاتے رہتے ہیں۔مسکراکر کہنے لگی اور تمہارے زرداری باپو بھی۔۔
ہم نے کہا جنگ کے اس پورے منظر نامے کو تم ہندوستانی دھرم کے ویلڈنگ گلاسز لگا کر  کیوں دیکھتے ہو۔

فرض کرو آج نیپال، گو ا اور سکم میں روہڈیم،روتھنیم ایریڈیم اور لیتھیم جیسی قیمتی دھاتیں بڑی مقدار میں نکل آئیں اور امریکہ ان جگہوں پر قبضہ کرلے ۔ تو کیا یہ ہندو۔ عیسائی دھرم کا جھگڑا ہوگا یا وسائل کی جنگ ہوگی۔یہ دھرم کا جھگڑا نہیں۔ یہ دھندہ اور دھن کمانے کا چمتکار ہے۔ بابر سمجھدار تھا۔ اس کے پاس رپورٹس تھیں کہ ابراہیم لودھی کا لاہور والا گورنر دولت خان لودھی اور ابراہیم بادشاہ کا کزن علاؤ الدین لودھی بادشاہ سے ناراض ہیں۔دونوں نے اس کو دعوت دی کہ لاہور میں بہت چانس ہے۔ٹیپوٹرنک،اخلاق گڈو پی ٹی آئی والے،مونی بٹ،عابد باکسر اور شہباز شریف سب سے سیٹنگ ہوگئی ہے، میری انگڑائی نہ ٹوٹے تو آجا۔ادھر آگئے تو کوئی روکنے والا نہیں۔دولت خان نے بولا بس میرے کو چودہری سرور کی جگہ گورنر مگر نیچے کوئی وسیم اکرم پلس نہیں رکھنے کا۔تونسہ شریف کے سردار لوگ کو تو ہم اچھے گھوڑے کے قریب نہیں جانے دیتے۔پنجاب تو ایک چراگاہ ہری بھری ہے کہیں۔

دوسرے اس کا جانی دشمن شیبانی خان اور اس کے کزن اس کو سمرقند اور کابل سے بھگانا چاہتے تھے۔ جب اس کو لاہور میں کوئی مشکل پیش نہیں تو وہ سرہند کے راستے دہلی آگیا۔تم جو یہ مسلمانوں نے لوٹ لیا یہ حکمرانی کا چورن بیچ رہے ہو۔ اب تمہاری فلموں میں دم نہیں رہا تو تمہارے بڑے بزنس گروپس نے مودی کو ماموں بنا کر نیا کپل شرما شو شروع کردیا ہے۔۔سچ بات کامیا ڑی بھگوان کی سوگند کھا۔مودی نے اپنے دوستوں کو کھنڈالا کی پورٹ   پر مسلمانوں کی زمین پر قبضہ کرکے نہیں بٹھانا تھا۔جس کی وجہ سے دنگا فساد اور قتل و غارت گری کی۔چھوٹے آدمی کا نیچ پن دکھایا۔وہی جس کی وجہ سے میرا بھی من تیرے کو دیکھ کر کرتا ہے کہ اے کیا بولتی تو آتی کیا کھنڈالا۔منہ  بنا کر کہنے لگی کہ اب یہ ٹپوڑی مت بنو۔ میرا من سیریس بات کرنے کو کرتا ہے۔
ہم نے کہا چل پھر شادی کرلیتے ہیں۔ ہنس کر کہنے لگی
اپن کو ریکھا سشمیتا اور تبو کی طرح ایک مرد دیر تک نہیں چلتا۔ سالا مینوفیکچرنگ ڈیفکٹ ہے۔نیویارک آ۔ ہوسکتا ہے کین کن یا ڈومینکن ری پبلک یا کریبئن کروز پر چلیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

ماسٹر تارہ سنگھ
جارج کلونی

اپنی اس فراخدلانہ پیشکش اور ہمارے ارادوں کی ہما ہمی دیکھ کر چپ ہوگئی تو ہم نے ایک شعر سنایا کہ
تیری باتیں تو پھول ہوں جیسے
باقی سارے ببول ہوں جیسے
شعر سن کر انگریزی میں کہنے لگی۔۔
Where were you when i was born?
(اس وقت کہاں تھے جب میں پیدا ہوئی؟)
Fruitlessly searching for a divorce attorney
(طلاق کے ماہر ایک وکیل کی تلاش میں مایوسی کا شکار )
Late on all counts
(ہمیشہ دیر کردیتے ہو ہر کام کرنے میں)
ہم نے کہا بیان جاری رہے۔ ارشاد ہوا کہ

اس وقت ہندوتوا کا فلسفہ پانچ بڑی تنظیموں کے نرغے میں ہے۔ ان سب کو سنگھ پریوار کہا جاتا ہے۔ ان کی مادرانہ تنظیمRashtriya Swayamsevak Sangh یا RSS کی ابتدا آج سے سو برس 17قبل ممبروں کے اس اجتماع سے ہوئی تھی۔اس کا آسان اردو رترجمہ مطلوب ہو تو قومی رضاکار تنظیم کہا جاسکتا ہے۔سنگھ ہندی میں گروپ، اور سوے ایم سیوک سچی خدمت کو کہا جاتا ہے۔
اس تنظیم کی ابتداء  اس کے بانی ڈاکٹر بالی کیشو رام ہیڈ گے ور ( Hedgewar )کے گھر سے ناگپور میں ہوئی تھی۔اس وقت یہ دنیاکی سب سے بڑی والنٹیر تنظیم ہے جس کے پچاس لاکھ ممبر ہیں۔
سی آئی اے نے ابھی تک آر۔ایس۔ ایس کو دہشت گرد تنظیم کا درجہ نہیں دیا مگر اس سے جڑی دو ذیلی تنظیموں کو وشوا ہندو پری سد اور بجرنگ دل کو وہ تمہاری لشکر طیبہ کی طرح آتنت واد کی پرچارک مانتی ہے۔ بھگوان لگتی پوچھو تو سالی سی آئی اے سے بڑی کوئی اتنت وادی نہیں۔مسلمانوں اور عیسائیوں پر بھارت میں حملوں کا الزام وہ ان دو ذیلی تنظیموں کو دیتے ہیں۔ان دونوں تنظیموں کے سربراہ موہن بھگت اور پروین توگڑیا ہیں۔پروین توگڑیا کینسر کے سرجن ہیں۔

بھارتی جنتا پارٹی اس آر ایس ایس کی سیاسی تنظیم ہے۔ یعنی پولیٹکل ونگ ہے ۔ آر ایس ایس کی بہترین مثال فلسطینوں کی حماس تھی یا اخوان المسلمین مگر اب یہ دونوں شنڈاکار یعنی Taper (معدوم)ہوگئی ہیں

گاؤ فساد کی جڑ
کھانڈلا گجرات

آر ایس ایس کے نیچے ایک وشوا ہندو پری شدھ VHP یعنی عالمی ہندو دھرم تنظیم ہے۔یہ ایک خالص مذہبی گروپ ہے۔اس کا کام دنیا بھر میں ہندو دھرم کو ماننے والوں کو دھارمک بنانا ہے۔ یوں سمجھو کہ سنگھ پریوار کی یہ ہندو آئیڈیالوجی کاؤنسل ہے۔آر۔ ایس۔ ایس اس کا سیاسی اور سماجی نظام ہے۔ ہم نے چھیڑا کہ عجب دھارمک کونسل ہے کہ آر ایس ایس تو 1925 میں بنی لیکن M.S. Golwalkar نے یہ تنظیم 1964. میں بنائی۔اس نے سترہ سال بعد مرگ درشک منڈل یعنی رہنما جماعت بنائی۔ ہندی میں مرگ درشک کا مطلب قطب نما، ناخدا یا پائلٹ ہوتا ہے۔اس نے مزی رہنمائی کے لیے دھرم سن سڈھ بنایا۔سن سڈھ ہندی میں پارلیمنٹ یا کونسل کو کہتے ہیں۔ وشوا ہندو پری شدھ (VHP)بدھ مت۔ جین اور سکھوں کو بھی ہندو دھرم کی شاخیں مانتی ہے اور جس وقت اس کا قیام پوائی بمبئی میں عمل میں آرہا تھا تو اس کے قیام میں سکھوں کے اہم رہنما ماسٹر تارہ سنگھ بھی شامل تھے۔

تم مجھ سے یہ سب کیوں پوچھ رہے ہو؟۔ کامیا کچھ الجھ سی گئی تب ہم کو اپنے امریکہ میں ایک پولیس افسر استاد باب لکونی یاد آگئے۔ وہ موساد کے تربیت یافتہ تھے۔ ایک اطالوی یہودی جو امریکہ میں آباد تھے اورجارج کلونی کے ماں جائے لگتے تھے۔بہت مصر تھے کہ ہم پاکستان واپس جاکر ایس ایچ کلاکوٹ اور ڈی ایس پی اورنگی کے ساتھ زندگی ضائع نہ کریں۔ پاکستان کی غیبت سفارش اور کرپشن میں لتھڑی بیوروکریسی سے نجات حاصل کرکے،یہاں اسکارس ڈیل نیویارک میں ہی آباد ہوجائیں۔مئیر صاحب نے بہت دبے الفاظ میں اس کی منظوری دے دی ہے۔وہ کہا کرتے تھے کہ دوران تفتیش کبھی یہ مت ظاہر کرو کہ تم مخاطب سے زیادہ جانتے ہو اور دوسرے مخاطب کی جارحیت کا جواب اس سے زیادہ طاقت رکھنے کے باوجود جارحیت سے نہ دو۔
ہم نے فلرٹ کیا کہ ہماری تو بھارت کے بارے میں ساری نالج ادھر اُدھر سے جمع شدہ ہے جب کہ وہ شدھ مل نواسی (دیسی) ہے۔وہ ہمیں نہیں سمجھائے گی تو کون بتائے گا۔ہم ایک چھاترا(طالب علم) ہیں۔ہم کو اسی آنکھ سے دیکھے۔شک سے پرے رہے۔ہم اب سرکار سے اتنا ہی دور رہتے ہیں جتنا ہمارے وزیر اعظم عمران خان اپنے انتخابی وعدوں سے۔سلسلہء تکلم وہیں سے جوڑے جہاں سے ٹوٹا تھا۔

بتانے لگی کہ 1984 میں پہلے دھرم سن سڈھ کے پہلے اجلاس میں تین ان مساجد کو گرانے کا فیصلہ کیا گیا جو ایودھیا۔ کاشی(وارانسی یا بنارس کا ایک اور نام) اور متھرا میں مسلمان لٹیرے حملہ آوروں نے بنائی تھیں۔ دھرم سن سڈھ کے تیس ہزار سادھو ممبرز ہیں جو ہندو دھرم کے ہر رنگ روپ کے نمائندے ہیں۔ اب یہی دھرم سن سڈھ ہندوتوا کا سب سے بڑا فکری رہنما ہے۔اسی نے آسام اور جھاڑکھنڈ میں بنگالی مسلمانوں کی بنگلہ دیش کے قیام کے دوران آمد اور وہاں بس جانے پر سب سے بڑا مدعا اٹھایا ہے۔اس کی وجہ سے حال میں بیس لاکھ باشندوں کی رجسٹریشن منسوخ کی ہے جب کہ تیس لاکھ سے اوپر باشندوں کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ ناگالینڈ،آسام اور دیگر ریاستوں میں سن 1971 سے پہلے سے قیام پذیر ہیں یاان کے خاندان کے بڑوں کا نام سن 1951 میں تیار شدہ رجسٹریشن لسٹ میں موجود ہے۔یہ فیصلہ سپریم کورٹ آف بھارت کا ہے جو ان دنوں متنازعہ اور اکثریت کی حمایت میں دھڑا دھڑ فیصلے کررہی ہے۔(مزید دو فیصلوں کا ذکر آگے آئے گا)۔وی ایچ پی نے اور دھرم سن سڈھ نے سن 1984 میں ہی ایک عسکری تنظیم بجرنگ دل بنائی اور اس کے علاوہ رام جنم بھومی مکتی یگنا سمیتی کی بھی بنیاد رکھی جو ایودھیامیں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر بنانے کی ذمہ دار ہوگی۔ بجرنگ دل یوں تو سارے بھارت میں موجود ہے اور ڈھائی ہزار اکھاڑے چلاتی ہے مگر اس کا اصل زور شمالی بھارت میں ہریانہ سے مغرب میں گجرات، اتر  پردیش،راجھستان،مدھیا پردیش،چھتیس گڑھ،جھاڑ کھنڈ کی گاؤ پٹی میں ہے۔
ہم نے پوچھ لیا کیسے لوگ ہیں؟

اندرا گاندحی کی تصویروں والے بل بورڈز
شیوا جی اور پختون سپاہی

”اڑے سالے حرامی غنڈے لوگ۔ ٹوٹل Low life (ڈشکرے) بھتہ ۔بھکاری۔دھارمک، تشدد پسند ایک دم ماردھاڑ سے بھرپور ان لوگ کو سب سے  زیادہ تکلیف گاؤ لانے لے جانے پر لو جہاد اور چھوکرے چھوکری کے ویلنٹائن ڈے پر کولہے جوڑ کر بیٹھنے سے ہوتی ہے۔ہجوم ہلاکت (Mob-Lynching) میں بھی یہ لوگ آگے ہیں۔ان لوگ کا خیال ہے کہ مسلمان چھوکرے خاص ٹارگیٹ کرکے رومیو جہاد میں ہندو چھوکری سے بیاہ کرتے ہیں۔ابھی سالے لوگ کو پوچھو کہ ہندوستان کے فیمس بادشاہ کون تھے تو لودھی سے بابر،ہمایوں، اکبر، جہانگیر، شیر شاہ سوری، ٹیپو سلطان کے نام پر ٹھیکڑے مارتے (گجراتی میں کودنا) ہیں۔ہندو بادشاہ کا پوچھو تو اشوکا اور شیواجی کے علاوہ کسی کا نام نہیں آتا۔سالے گدھیڑوں کو یہ نہیں معلوم کہ موریا خاندان کے بانی چندر گپت موریا کا پوتا اشوکا بدھ تھا،ہندو نہیں اور شیواجی کی بادشاہی مسلمان بادشاہوں سے بہت چھوٹی اور تھوڑے وقت کے لیے تھی۔ بیٹے سے سامبھو جی کی  بنتی نہیں تھی۔اس کو ایکزائل(جلاوطن) کردیا تھا۔خبردار نلگوڈا اور خمام تلنگانہ کے دور افتادہ علاقے چھوڑ کر بھینسا یا بھودان (مہاراشٹرا اور تلنگانہ کی سرحد پر واقع علاقے) میں آیا تو تیرا رائتہ بنادوں گا۔شیوا جی کی بیویاں بھی بہت تھیں اور دوسری بیوی سوریا بائی نے سستا زہر بھی دیا تھا۔جس سے باتھ روم جا جاکر مرگیا۔ رانی سوریا بائی کو شیواجی کے سامبوجی نے بعد میں بغاوت کے جرم میں ماردیا۔

SHOPPING

مرہٹوں اور شیواجی کا ذکر چلا تو ہم نے لگے ہاتھوں پوچھ لیا کہ شیو سینا کیا ہے۔ اس کا سنگھ پری وار سے کیا تعلق ہے۔کامیا کا خیال تھا کہ شیوا جی واحد ہندو حکمران تھا جو اپنی اورنگ زیب سے دشمنی کو ہندوتوا کا رنگ دے بیٹھا۔حالانکہ  اس کی  پاس پڑوس کے ہندو راجوں مہاراجوں سے بھی نہیں بنتی تھی۔اس کے سپہ سالار بھی پٹھان تھے۔وجے نگر کے عادل شاہ کی فوج کے سات سو پٹھان اس کے سپاہی تھے۔دریا درنگ اس کا نیول چیف اور سیدی ہلال اس کا آرمی چیف تھا بغیر ایکسٹینشن والا۔لائف ٹائم۔یو ڈائی آئی ڈائی والا۔ کامیا نے ایک مرتبہ پھر بھارتی کمینگی کا مظاہرہ کرکے تیر چلایا مگر سچ بولنا اچھا لگا۔
شیو سینا مہاراشٹرا اور اس میں بھی ممبئی تک محدود ہے اور وہ ہندوتوا اور مرہٹہ قوم پرست جماعت ہے مگر محدود لیول پر تشدد میں یقین رکھتی ہے جیسے آپ کی جماعت اسلامی ۔ اور ٹوٹل راج نیتی(سیاست) ٹھاکرے گھرانے نے سنبھال رکھی ہے موجودہ لیڈر کے دادا کیشو رام پربھود ہنکر ٹھاکرے نے سن پچاس میں مہاراشٹرا کی تقسیم کے خلاف سم یوکتا تحریک چلائی تھی۔ان کے بڑے صاحب زادے بالا صاحب ٹھاکرے نے سن1966 میں شیو سینا کی بنیاد رکھی تھی۔بہت لوگوں کا خیال ہے کہ اس کی ماسٹر مائنڈ اندرا گاندھی تھیں مگر یہ بات ٹھیک نہیں۔ وہ اس کی زبردست حامی ضرور تھیں مگر جب پارٹی بنی اس وقت گلزاری لال نندہ وزیر اعظم تھے۔بال ٹھاکرے جی مختلف اخبارات اور رسائل کے لیے سیاسی کارٹون بناتے تھے۔شیو سینا جس کا مطلب لشکر شیوا ہوتا ہے۔شیو سینا کو مہارشٹرا میں آپ ہم گجراتی لوگ سے بہت اُپرینا(نفرت) ہے۔جب سے مودی جی نے سینٹر میں سرکار کی لگام پکڑی ہے گجراتی سب کے سب بی  جے پی کو سپورٹ کرتے ہیں۔جب سے اپن لوگ کے مرارجی بھائی ڈیسائی(سن1977 تا1979[) پردھان منتری بنے تھے ان لوگ کو بہت تکلیف ہے۔ان لوگ کا خیال ہے کہ ممبئی کا آکھا دھندا گجراتی، پنجابی اور سندھی بنیا لوگ کے کنٹرول میں ہے۔ممبئی میں مراٹھے کل چالیس فیصد ہیں اور گجراتی پندرہ، گجراتی لوگ دھندے میں چمپئن ہیں۔ہندوستان میں امبانی،ا ٓڈانی،دلیپ سنگھوی، عزیز پریم جی، رتن ٹاٹا، سائرس پوناوالا، اودے کوٹک یہ سب لوگ اپن کے گجراتی ہیں، مراٹھے پیشہ ور ہیں،ڈاکٹر۔ ٹیچر،انجینئر۔ جب سے مودی جی نے شیو سینا کو 2014 کے لوک سبھا چناؤ میں گھاس نہیں ڈالی باپ کی طرح بیٹا اودھو ٹھاکرے بھی بی جے پی سے ناراض ہے(اودھو جی کانگریس کی مدد سے اب مہاراشٹرا کے نئے چیف منسٹر ہیں)
وہ گجراتی برتری سے بھی نالاں ہے جن کا مہاراشٹرا میں فلم اور ہیرے اور دوسری تجارتی سرگرمیوں پر ہولڈ ہے۔
جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *