کشمکش سسٹم میں توازن لائے گی؟۔۔اسلم اعوان

سابق وزیراعظم نوازشریف کی علاج کی غرض سے بیرون ملک روانگی اور مریم نواز کی سیاسی گوشہ نشینی کے بعد ہمارے سیاسی ماحول پہ چھانے والا اک گوناں سکوت قومی سیاست میں وسیع تر مفاہمت کے امکان کی خبر دے رہا ہے۔یوں لگتا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی روایتی شعلہ بیانی اور مولانا فضل الرحمٰن کے پلان بی اور سی کے تحت ملک بھر میں بڑے جلسوں کا انعقاد سیاست کے سمندر میں کوئی جواربھاٹہ پیدا نہیں ہو سکے گا۔ہرچند کے میڈیا میں پیشگویاں کرنے پیشہ ور تجزیہ کار اب بھی دسمبر میں”تبدیلیوں“کے اشارے دینے سے باز نہیں آئیں گے لیکن لگتا یہی ہے کہ مستقبل قریب میں پی ٹی آئی حکومت کے لئے سیاسی محاذ پہ کوئی بڑا چیلنج اُبھر نہیں سکے گا۔لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تغیرات کا وہ فطری عمل روک جائے گا جو اجتماعی حیات کی بقا کا ضامن اور زندگی کی یبوست کو تضادات سے مزّین کر کے پرکشش بنانے کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ایک ابدی سچائی یہ بھی ہے کہ فطرت ناتواں قوموں کےلئے پھلنے پھولنے کے امکانات ختم کرتی ہے نہ کسی طاقتور کو اس زمین پہ دائمی بالادستی قائم رکھنے کی مہلت دیتی ہے،لاریب،قدرت نے زندگی کے دوام کو فنا وبقا کے درمیان اس طرح متغیر رکھا کہ ایک طرف ہرعروج کو زوال آشنا کیا تو دوسری جانب امکانات کے نئے دریچے کھلے رکھ کے زندگی کے دھارے کو رواں دواں رکھا۔

بعینہ اسی طرح قدرت نے انسانی شعور کے ارتقاءکےلئے بھی اونچ نیچ اور دھوپ چھاؤں کا ایسا مسحور کن کھیل مرتب کیا جس کی معمورگردشیں ہردم انسانی فکر کو جِلا دیتی رہتی ہیں۔سورج اور چاند کی محوری گردشوں کی مانند حیات اجتماعی کا کبھی نہ تھمنے والا یہ سفر یونہی ازل سے ابد تک فطرت کے متعین کردہ دائروں میں محو خرام رہے گا۔بہرحال،اس نظام کائنات میں قدرت کا اٹل قانون یہی ہے کہ جو چیز ابھرتی ہے وہ گرتی ضرور ہے۔اس وقت ہمارے سسٹم میں زلزلوں کے جو جھٹکے محسوس کیے جا رہے ہیں،ان کا مرکز دراصل وہ سی پیک منصوبہ ہے جس نے پاکستان جیسی معلق مملکت کوایک ناگزیر ریاست میں بدل کے مغربی طاقتوں کو خوفزدہ کر دیا۔

امر واقعہ بھی یہی ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری نے ہمارے لئے کرہ ارض کا اقتصادی مرکز اورعالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بننے کے راہیں کھول دیں ہیں۔اقتصادی مقابلہ بھی جنگ کی ایک صورت رہا ہے لیکن اس پُرزور اور پیچیدہ عہد میں تو اقتصادیات ہی بین الاقوامی تعلقات کی نزاکتوں اور طاقتور مملکتوں کے مابین پیکار کے ممکنات کو ظاہرکرتی ہیں۔ہمارے خیال میں نوازشریف کی حکومت اگر سی پیک بنانے کی بھینٹ چڑھی تو اب عمران کی حکومت بھی سی پیک کی راہ روکنے کی کوششوں کا شکار ہوسکتی ہے۔تاہم امریکی ترجمان ایلس ویلزکے سی پیک پراجیکٹ بارے منفی تبصرہ سے دو باتیں تو عیاں ہو گئیں،پہلی یہ کہ موجودہ حکومت سی پیک کی بساط لپیٹ نہیں سکی اور دوسرے یہ کہ ملک میں برپا اس سیاسی کشمکش کی دبیز تہہ کے نیچے یہ عظیم منصوبہ اب بھی اپنی پوری آب و تاب سے رواں دواں ہے۔جس کی تصدیق یو ایس انٹیلی جنس ذرائع کر رہے ہیں کہ چین نے کسی نہ کسی طور اب بھی سی پیک منصوبہ پہ کام جاری رکھا ہوا ہے اور شاید یہی اطلاعات امریکی مقتدرہ کا اشتعال بڑھانے کا سبب بنےں۔مغربی طاقتیں اس گیم چینجر منصوبے  کی رخ گرادنی کی خاطر ہر حد تک جائیں گے لیکن پہلے مرحلہ میں وہ پاکستان کو اپنی پڑوسی مملکتوں،بالخصوص،بھارت،ایران اور افغانستان سے دست و گریباں کرنے کی کوشش ضرورکریں گی،یمن میں حوثی باغیوں کی مبینہ مزاحمت کو کچلنے کےلئے پاکستانی فورسیز بھجوانے کےلئے بلاواسطہ اور بلواسطہ امریکی دباؤ کو اسی تناظر میں دیکھا جائے گیا،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت بھی بادی النظری میں اسی پلان کا شاخسانہ نظر آتی ہے،جسے ہماری ریاست کی اجتماعی دانش نے صبر و تحمل کے ذریعے ٹال دیا۔صدر ٹرمپ کی طرف سے افغان امن مذاکرات میں تعطل کو بھی ہمیں پاک افغان تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا کرنے کی کوششوں کا جُز سمجھنا چاہیے۔

عالمی طاقتوں کی شاطرانہ چالوں سے قطع نظر،اس وقت پاکستان کی غیر اعلانیہ فارن پالیسی بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پہ لانے کے علاوہ برادر اسلامی ملک ایران سے سفارتی تعلقات بہتربنانے کی مساعی کے گرد گھومتی نظر آتی ہے،ابھی حال میں وزیراعظم عمران  خان کے بعد آرمی چیف کی ایران کے صدر سید حسن روحانی سے ملاقات بھی اہمیت کی حامل تھی۔اگرہم غور سے دیکھیں تو ہمارے سروں پہ منڈلاتے مصنوعی سیاسی بحرانوں کی طرح اُس ففتھ جنریشن وار کا ہدف بھی دراصل یہی پاک چین اقتصادی راہداری ہوگی جس میں بظاہر مقتدرہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے،اس لئے جُوں جُوں اس اہم پراجیکٹ پہ کام آگے بڑھتا جائے گا تُوں تُوں ریاست کے خلاف سیاسی شورشیں زور پکڑتی جائیں گی،مغربی طاقتوں نے پہلے ایم کیو ایم،بلوچ لبریشن آرمی اور پی ٹی ایم کی شوریدگی کے علاوہ سویلین بالادستی کی تحریک کو بھی ففتھ جنریشن وار میں بدلنے کی کوشش کی لیکن ہماری سیاسی و فوجی قیادت نے کمال تدّبر کے ساتھ ان سازشوں کو تحلیل کرلیا۔

اب ابھرتی ہوئی سٹوڈنٹ موومنٹ کو بھی نہایت احتیاط سے سنبھالنا پڑے گا،نوجوانوں کی رومانوی خواہشات کو طاقت کے ذریعے دبانے یا نفرت انگیز الزام تراشی کے وسیلے سے  اشتعال بڑھانے کی بجائے ان توانا جذبوں کو برداشت اور درگزر کی حکمت کے ذریعے ریگولیٹ کر لیا گیا تو نتائج اچھے ملیں گے،ہم توقع رکھتے ہیں کہ جس طرح ریاست نے افغان بارڈر پہ پنپنے والی غیرمعمولی کشیدگی اورکشمیر میں بھارتی اشتعال انگیزی کو خاموشی کی طاقت سے ناکام بنایا،اسی طرح وہ داخلی سطح پہ بھی ہرقسم کی نظریاتی اور سیاسی محاذآرائی کو محبت و اپنائیت کے روّیوں سے کند ن بنا دے گی۔ابھی حال میں ،دی اٹلانٹک،نے لکھا ہے کہ پاکستانی مقتدرہ ففتھ جنریشن وار لوز کررہی ہے،مغربی میڈیا کی یہ نفسیاتی یلغار اصل میں اعصابی جنگ کا حصہ ہوگی جسے مخالفین کے حوصلے پست کرنے کےلئے بروکار لایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی اداروں کی طرف سے کیے گئے ایک تازہ اکنامک سروے میں بتایا گیا ہے کہ مڈل ایسٹ کی مملکتیں اپنی ضروریات کی70 فیصد اشیاءیوروپ سے،کم و بیش 10 فیصد جاپان اور15 فیصد باقی دنیا سے درآمدات کرتی ہیں لیکن سی پیک کی تکمیل کے بعد مڈل ایسٹ کی 70 فیصد تجارت چین سے منسلک ہو جائے گی اورمستقبل قریب میں دنیا بھرکی کل آبادی کے چالیس فیصد کی حامل،چین اور بھارت کی ریاستیں،مشرق وسطہ کا تیل صرف کرنے والی سب سے بڑی مارکیٹ بن جائیں گی۔اگر ایسا ممکن ہوا تو دنیا کی معیشت کا پلڑا مغرب سے مشرق کی طرف جھک جائے گا اور شاید یہی اقتصادی الٹ پھیر امریکہ سمیت مغربی دنیاکی اُن خوشحال ریاستوں کو معاشی و تہذیبی زوال سے ہمکنار کردے گی،جنہوں نے تیسری دنیا کا استحصال کر کے یوروپ کے عدیم المثال عشرت کدے تعمیر کیے۔انیسویں صدی کے آغاز پہ جب یوروپی ممالک گراں بار چینیوں کے وسائل کے حصے بخرے کرنے کو لپکے تو نپولین نے کہا تھا”چین کو سویا رہنے دو اگر چینی جاگ اٹھے تو دنیا افسوس کرے گی“۔بلاشبہ کسی قوم کو اشیاءاور تہذیب کے تبادلہ کی اُس سہولت کو پانے کےلئے،جو قوموں کی زندگی میں زرخیزی اور تحرّک پیداکرتی ہیں،کسی اہم تجارتی شاہراہ سے وابستہ ہونا ضروری ہے۔اسی لئے چین کی گوادر کی بندرگاہ سے وابستگی دنیا پہ اقتصادی غلبہ پانے کی طرف موثر پیشقدمی ثابت ہو سکتی ہے۔شاید اسی لئے امریکہ نے چین کی معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی خاطر عرب،ایران کشیدگی کو ہوا دیکرخلیج عرب اور ابنائے ہرمز کی آبی گزرگاہوںکو بند کر رکھا ہے لیکن امریکہ سمیت دنیا کی کسی بھی طاقت کےلئے عالمی گزرگاہوں کو کسی بھی مملکت کےلئے زیادہ دیر تک بند رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔اس لئے امید واثق ہے کہ سی پیک اپنی تکمیل کے مراحل جلد عبور کر لے گا اور روس، ایران اور بھارت سمیت ترکی بھی بہت جلد اسی عظیم اقتصادی منصوبہ کے ساتھ جڑے نظر آئےں گے۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملہ کی عدالت اعظمی میں سماعت نے تقسیم اختیارات کے آئینی فارمولہ کی پرتیں کھول کے ہمارے سیاسی نظام میں طاقت کا توازن لانے کے جو کوشش کی،اس سے پارلیمنٹ سمیت ملک کا پورا ادارہ جاتی ڈھانچہ مرتعش ہو گیا۔بلاشبہ آج ہم سب اپنی عافیت اسی میں دیکھتے ہیں کہ عدالتیں ان مسائل کو نہ چھیڑتیں تو سیاسی نظام میں غیر معمولی تبدیلیوں کی وہ لہر نہ اٹھتی جس نے سیاسی اشرافیہ کے علاوہ طاقتور اسٹبلشمنٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ زندہ حقائق کو زیادہ دیر تک پوشیدہ رکھا نہیں جا سکتا،کسی نہ کسی دن ان گھمبیر مسائل نے ازخود ابھر کے سامنے آ جانا تھا،پھر اس وقت شاید ہم انہیں سنبھالنے کےلئے تیار بھی نہ ہوتے،عدالت اعظمی نے اس معاملہ کو قوم کی اجتماعی دانش کی مظاہر،پارلیمنٹ،کی طرف ریفر کرکے ہمیں اصلاح احوال کا بہترین موقع  فراہم کر دیا۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *