کچھ ڈاکٹر بہترین قصائی ہوتے ہیں۔۔رمشا تبسّم

انسان نے جتنی ٹیکنالوجی میں ترقی کی ہے اتنی ہی انسانیت میں پستی اختیار کی ہے۔دنیا چاند پر قدم رکھ کر اب دوسرے سیاروں پر آباد ہونے کے وسائل اور ذرائع تلاش کر رہی ہے اور انسان ہر صورت انسانیت کو فراموش کر کے ایک الگ ربوٹک زندگی جینے کی جد و جہد میں لگا ہے۔یہاں احساس کا اب گزر نہیں۔محبت کا کوئی نام نہیں۔درد کی کسی کو پرواہ نہیں۔یہاں اب دل نہیں سینوں میں پتھر بھری عجیب سی مخلوق نظر آتی ہے۔مثبت سوچ کی جگہ دماغ میں خود غرضی کا غلبہ ہے گویا کہ انسان جس کو درد دل کے واسطے پیدا کیا گیا ایک دوسرے کا سہارا بنایا گیا وہی انسان اب ایک دوسرے کی جڑیں کاٹنے ایک دوسرے کو ایذا پہنچانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔لہذا ہم ٹیکنالوجی کی صدی میں جینے والے گوشت کے لوتھڑے سے بنے صرف ربورٹ ہیں۔گوشت خاصا نرم ہوتا ہے مگر خود ساختہ بے حسی کا اثر ہے کہ ہم اب بظاہری گوشت کے مگر باطنی لوہے یا پتھر کے بن چکے ہیں۔ہم میں بے حسی کسی نے فیڈ نہیں کی۔بلکہ ہم نے خود کو بے حسی کی منزلیں طے کرتے کرتے اس نہج پر پہنچا لیا ہے کہ انسانوں کی لاشیں تڑپتے لوگوں کی سسکیاں موت کی آغوش میں سسک سسک کر جاتے اجسام اب گندگی کا ڈھیڑ لگتے ہیں یا دھرتی کا بوجھ۔

یہ عجیب سی بے حس مخلوق کی درجہ بندی کی جائے تو پہلا نام طب کے شعبے سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کا آتا ہے۔جن کے لئے آپ صرف ایک نمونہ ہیں تجربات کی غرض سے آپ پر نت نئے تجربے کیے جا سکتے ہیں۔آپ ایک ابجیکٹ ہیں۔آپ کی زندگی آپ کی تڑپ آپ کی تکلیف اور آپ سے جڑے آپ کے اپنوں کے احساسات اور دکھ انکے لئے صرف کھیل تماشا ہیں۔یہ خود کو مسیحا کہلوا کر فخر محسوس کرتے ہیں مگر ان میں تمام نہیں مگر اکثریت مسیحا نہیں بلکہ قصائی ہیں جو موقع پا کر یا موقع بنا کر آپ کو بے رحمی سے چھری پھیرنے میں ذرا تاخیر نہیں کرتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ ڈاکٹر واقعی قدرت کا عطا کردہ ایسا تحفہ ہیں کہ  محسوس ہوتا ہے جیسے خود قدرت ہماری مسیحائی کی خاطر انکے روپ میں موجود ہے۔اور ایسے ڈاکٹرز ,انکا اخلاق اور انکا کام واقعی قابل تعریف ہیں۔

مگر اسی شعبے سے تعلق رکھنے والی کچھ کالی بھیڑیں ایسی ہیں جو اب ایک ظالم مافیا بن کر لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔مختلف شہروں میں مشہور ڈاکٹرز جو کسی خاص مرض کے لئے واحد یا کم از کم ماہر معالج تصور کیے جاتے ہیں انکی فیس اس قدر ذیادہ ہے کہ عام آدمی بیماری سے کم اور انکی فیس ادا نہ کرنے کے دکھ سےزیادہ جلدی مر جاتا ہے۔لاہور میں جیل روڈ پر اور مخصوص جگہوں پر ایسے پرائیویٹ کلینک اور ڈاکٹرز دستیاب ہیں جن کا نام ایشیاء کے بڑے معالج میں آتا ہے جن کا طریقہ واردات یہ ہے کہ دس سے بیس ہزار ایک چیک اپ کی فیس ہے اور ادویات وہی جو انکے پاس دستیاب ہوں جن کی قیمت کم سے کم پچاس سے ستر ہزار آپ کو پندرہ دن کی دوائی کی ادا کرنا پڑے گی۔ایسے میں غریب آدمی انکے پاس آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔احساس اور انسانیت کی قبریں انہی ڈاکٹرز کے دروازے پر ملیں گی۔

گردے نکال کر بیچنے کا معاملہ کسی سے چھپا نہیں۔آپ کسی قسم کی تکلیف لے کر جائیں مگر یہ اکثر قصائی نما ڈاکٹر مافیا بہت آرام سے آپ کا گردہ نکال کر بیچ دیں گے اور آپ کو علم تک نہ ہو گا کہ آپ اپنے ہی ذاتی گردے سے کس طرح محروم کر دیئے گئے ہیں۔اسی طرح ہسپتالوں سے بچے اغوا ہونے کے معاملات میں بھی اکثر ڈاکٹر مافیا شامل ہوتا ہے۔اس طرح کےمعاملات تو بظاہری جرم ہیں۔مگر کچھ ایسے جرم بھی ہیں جو بظاہر جرم نہ نظر آتے ہوئے بہت آسانی سے سرانجام دیے جاتے ہیں یا ایسے جرائم کو منظم طریقے سے جائز بنا کر سرانجام دیا جاتا ہے۔اسی طرح کا ایک منظم جرم 2017میں سامنے آیا جب دل میں ڈالنے والے سٹنٹ کا اسکینڈل سامنے آیا۔ ایک کمپنی کوفائدہ پہنچانےکیلئےاسٹنٹ کی قیمت مقرر ہی نہیں کی گئی۔اور رجسٹرڈ اسٹنٹ چین سے2ہزار روپے میں منگوا کر2لاکھ تک فروخت کیا جاتا ہے۔پھر جن مریضوں کو سٹنٹ کی ضرورت تک نہ تھی انکو بھی ایمرجنسی سٹنٹ ڈالنے کے لئے یہ مافیا سرگرم رہا۔مریض اپنے معالج پر ہر ممکن اعتبار کرتا ہے یا یوں کہہ لیں اعتبار کرنا مجبوری ہے کیونکہ درد کی شدت سے نجات پانے یا مرض سے جان چھڑوانے اسکی تشخیص میں صرف ڈاکٹر ہی معاون ثابت ہوتا ہے۔اور ڈاکٹر پھر جو کہہ دیں ہمارے پاس اکثر اسکو ماننے کے سوا چارہ نہیں رہتا۔یا تو اکثریت ان پڑھ ہوتی ہے کہ انکو جانچ پڑتال کا علم نہیں ہوتا یا پھر معصوم ۔اور جو کوئی تھوڑا بہت پڑھے لکھے یا صاحب حیثیت لوگ ہوتے ہیں وہ کافی حد تک بچ جاتے ہیں۔مگر طب کے شعبے میں موجود یہ سازشی ڈاکٹر مافیا انکو بھی کسی نہ کسی حد تک پھنسانے میں ماہر کامیاب ہو ہی جاتا ہے۔

تجربہ کار ڈاکٹرز اکثر اپنے بنگلوں میں بیٹھ کر بھاری فیس وصول کر کے پرائیویٹ کلینک چلاتے نظر آتے ہیں۔ا ن کا کام آپ کو ادویات تجویز کرنا ہے اور کسی بھی منفی اثرات اور مرض میں اضافے پر یہ آپ کی فائلیں اٹھا کر پھینکنے میں ذرا شرم محسوس نہیں کرتے خواہ آپ لاکھوں کی فیس ادا کر چکے ہوں۔
اکثر ہسپتالوں کا حال یہ ہے کہ جہاں گورنمنٹ ہسپتالوں میں مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا نو بجے ڈاکٹر تشریف لاتے ہیں سب سے پہلے آ کر یہ ناشتہ اور چائے کا لطف اٹھاتے ہیں پھر اگر یاد آ جائے کہ ڈاکٹری کے کچھ فرائض ہیں تو مجبوری میں ایک آدھا چکر وارڈ  کا لگا لیتے ہیں اور اس میں بھی اگر آپ کی قسمت اچھی ہو تو آپ کا معائنہ ہو سکتا ہے ورنہ  ہزاروں کے ٹیسٹ لکھ کر اور نرسوں کے حوالے کر کے یہ غائب ہو جاتے ہیں۔آپ ایمرجنسی میں تشریف لے جائیں کوئی تجربہ کار ڈاکٹر آپ کو وہاں نظر نہیں آئے گا۔انٹرن شپ کرتے یا میڈیکل کے طالب علم وہاں آپ سینکڑوں نظر آئیں گے جن کے سامنے اگر خون میں لت پت مریض بھی آجائے تو یہ آپ کی بات تک سننا گوارا نہیں کرتے اور کوشش کرتے ہیں کہ کوئی اور آ کر مریض کو دیکھ لے۔ایسی صورت میں وقت گزاری کو اکثر یہ فضول سوالات میں وقت ضائع کرتے نظر آتے ہیں۔ایک بات بار بار پوچھتے ہیں اور فوری علاج شروع کرنے کی طرف نہیں آتے۔اور جب مریض آخری سانس کو آ جائے تو افراتفری کا عالم بنا کر یہ آپ کو بھاگتے دوڑتے اناؤسمنٹ کرتے نظر آئیں گے۔آپ بھاگتے دوڑتے ہاتھ جوڑتے انکے پیچھے پھریں مگر ان پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔کیونکہ آپ صرف ایک ابحیکٹ ہیں۔
یہ مختلف طالب علم جو نہ تجربہ رکھتے ہیں نہ ان کے ساتھ کوئی تجربہ کار ڈاکٹر موجود ہوتا ہے چلتے پھرتے الگ الگ بچگانہ مشورے دیتے نظر آئیں گے۔

گزشتہ برس میں ہسپتال میں موجود تھی جہاں دو دن پہلے ایک خاتون اپنے پاؤں پر چل کر آئی  اور دو دن کے اندر اندر خدا  کے پاس پہنچا دی گئی۔یہی انٹرن شپ کرتے ڈاکٹر اور طالب علم ان کو سکون پہنچانے کو نیند کی گولیاں دیتے رہے جسکے بعد وہ بالکل ہوش میں نہ آئی۔گھر والے تڑپ رہے تھے کبھی کوئی نوجوان طالب علم ڈاکٹر آتا اور کہتا ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرو گھر والے بھاگ دوڑ کر برف لاتے اور پٹیاں کرتے تو دوسرا طالب علم آ کر کہتا آپ کا دماغ خراب ہے پٹیاں بند کرو۔انکو کمبل دو۔اسکو ایمرجنسی شفٹ کرنے کا معاملہ آیا تو ایک طالب علم نے کہا آکسیجن لگا کر لے جانا ہے گھر والے اسکا انتظام کرنے لگے تو دوسرے نے آ کر کہا ایسے ہی لے جاتے ہیں اور ایسے لے جاتے ہوئے دو منٹ کے اندر اس بے ہوش خاتون کا سانس اکھڑنے لگا اور وہ فوت ہو گئی  پھر ایک طالب علم نے کہا آپ کا دماغ خراب ہے انکو بغیر آکسیجن نہیں لانا تھا۔جس پر اس مردہ خاتون کے اہل خانہ نے ڈاکٹروں پر حملہ کردیا اور شاید یہ پہلی بار تھا کہ مجھے لگا یہ ڈاکٹر واقعی قصائی اور بے حس ہیں اور شاید مار کے ہی قابل ہیں۔اب ہسپتال درحقیقت ایک قصائی خانہ ہے۔

آپ حاملہ خواتین کو صحت مند حالت میں لے جائیں نارمل ڈلیوری ہوتے ہوئے ایک دم افراتفری کا عالم بنا دیا جائے گا اور آپ کو خبر دی جائے گی کہ اب آپریشن کے علاوہ کوئی حل نہیں۔لہذا اکثر صرف آپریشن کی فیس زیادہ وصولنے کے لیے  عورتوں کو چیڑ پھاڑ دیا جاتا ہے زچہ و بچہ دونوں کی زندگی خطرے میں ڈال دی جاتی ہے۔
اسکے علاوہ پرائیویٹ ہسپتالوں کی یہ بدمعاشی الگ کہ مریض کے تمام ٹیسٹ صرف ہسپتال سے منسلک لیبارٹریز سے ہی کروائے جائیں خواہ یہی ٹیسٹ باہر سے جتنے بھی معیاری اور سستے کیوں نہ ہوں۔ اور پھر وہی ادوایات اسی کمپنی کی استعمال کی جائیں جن کا کمیشن وصول کر کے ہسپتال اور ڈاکٹرز اپنی آمدن میں اضافہ کرتے ہیں خواہ یہ ادویات کتنی ہی غیر معیاری اور مہنگی کیوں نہ ہوں۔
حال ہی میں ایک عزیزہ لاہور کے بہترین ہسپتال داخل ہوئی جن کو ڈاکٹرز نے کینسر تشخیص کیا ہے مگر ان کے مزید ٹیسٹ جو کروائے جانے ہیں وہ مشین فی الحال خراب ہے لہذا پانچ دن سے مریضہ ہسپتال میں موجود ہیں تڑپ رہی ہیں اور ڈاکٹرز ٹیسٹ ہر صورت اپنی لیبارٹری سے کروانے پر بضد ہیں ۔بصورت دیگر انکا کہنا ہے آپ نے ٹیسٹ جہاں سے کروانے ہیں مریض وہاں لے جائیں ورنہ کچھ دن ٹھر جائیں ہم خود ٹیسٹ کروا لیں گے۔

محلے میں بیٹھے ڈاکٹرز اب باقاعدہ اپنی کلینک پر ریٹ لسٹ لگا چکے ہیں۔جیسا کہ روزمرہ کی دوائی فیس 300, خاص مشورے 1000, گلوکوز 1500, گھر آ کر گلوکوز لگانے کی فیس2000, دوائی بمعہ انجیکشن 350 وغیرہ وغیرہ۔
اور یہ ڈاکٹر اپنی کسی دوائی کے غلط ری ایکشن پر کسی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے سے بری ہیں۔

آپ کے دانت کی ذرا سی تکلیف پر آپ کا دانت نکال کر آپ کے ہاتھ میں رکھنے,پیٹ کی تکلیف میں آپریشن کر کے گردہ غائب کرنے,آنکھ کے معمولی سے مرض میں آپریشن کر کے لینز ڈالنے,ہاتھ بازو یا ٹانگ میں نقص کی صورت میں ادویات یا پلاسٹر کی بجائے پلیٹیں ڈالنے وغیرہ جیسے اقدامات کرنے میں یہ اکثریت مسیحا نامی قصائی بہت ماہر ہیں۔
عوام مجبور اور بے بس ہے۔درد میں ہر صورت صرف ڈاکٹرز کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔اور ہمیں پھر بھیڑ بکریوں کی طرح جس طرف مرضی چاہیں یہ ڈاکٹرز اور ہسپتال ہانکتے رہیں ہم مجبور اور بے بس تکلیف سہتے روتے سسکتے بلکتے بس اسی سمت چلتے جاتے ہیں۔

حکومتوں نے کبھی اس مافیا کو قابو کرنے کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے لہذا اب اگر ان کو لگام ڈالنے کی کوشش بھی کی جائے تو یہ کام بند کر کے سڑکوں پر آ بیٹھتے ہیں اور مریض ہسپتالوں میں تڑپتے اور مرتے رہتے ہیں۔انکے کام کرنے سے بھی ہماری موت طے ہے اور انکے کام بند کرنے سے بھی۔فرق صرف اتنا ہے یہ علاج کرتے ہیں تو ہماری امید قائم رہتی ہےہماری آس بندھی رہتی ہے۔اور علاج بند کرتے ہیں تو سانسوں کی لڑی ٹوٹنے سے پہلے امید ٹوٹ جاتی ہے اور آخری سانس مزید تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔

حکومت پاکستان کو اس مافیا کو قابو کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ اقدام کرنے ہونگے۔ہسپتالوں کے لئے قوانین بنانے ہونگے ہسپتال سے منسلک لیبارٹریز کے ٹیسٹ کی پابندیاں ختم کرنی ہونگی۔ میڈیکل طالب علموں یا انٹرنیز کے ہاتھوں مریض کی زندگی سونپنے پر پابندی لگانی ہونگی اور ان کو ہر صورت کسی ماہر ڈاکٹر کی نگرانی میں کام کرنے کی ہدایت کرنی چاہیے۔ڈاکٹروں کے رویوں ان کے کام کاج کے طریقوں ان کے ادویات کی کمپنیوں سے معاہدے اور ان ادویات کا معیار چیک کرنا ہو گا۔ مریضوں کو تڑپتا چھوڑ کر شغل میں مصروف یا فون میں مصروف رہنے والوں ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے۔محلے میں بیٹھے ڈاکٹروں کی جانچ پڑتال کرنی ہو گی۔ ماہر اور قابل ڈاکٹروں تک رسائی آسان بنانی ہو گی۔عام آدمی کو ہر طرح کی معیاری میڈیکل سہولت فراہم کرنے کے لئے کچھ خاص قسم کے اقدامات ضروری ہیں۔جو بحیثیت پاکستانی ہر عام شہری کا حق ہے۔

اس تحریر کا مقصد طب کے شعبے کی خدمات کو نظر انداز کرنا ہرگز نہیں تھا۔بلکہ اس شعبے میں اخلاقیات اور انسانیت کا جنازہ نکالنے والی کالی بھیڑوں پر روشنی ڈالنا تھا جو روز بروز اپنی جڑیں نت نئے طریقوں سے مضبوط کرتی جا رہی ہیں اور انسانیت کی جڑیں کاٹتی جا رہی ہیں۔اس تحریر میں صرف انہی کرداروں پر بات کی گئی  ہے جو اس شعبے سے مخلص نہیں ۔ ورنہ اس بات میں کوئی  شک نہیں کہ طب کے شعبے سے منسلک کچھ افراد آج بھی انسانوں کی خدمت کو عبادت سمجھتے ہیں۔اور اپنے فرائض کو بخوبی ادا کرتے ہیں۔ اورکچھ انسانیت کا درد سمجھنے والے ڈاکٹرز, نرسوں اور بیشمار میڈیکل سٹاف کا کام واقعی قابل تحسین ہے۔اور انہی کی بدولت شاید کچھ انسانیت زندہ ہے۔خدا ہمیں اور آپ کو اپنی امان میں رکھے۔آمین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *