جا بیٹی’ گل سماء’ تیری قسمت۔۔۔منور حیات سرگانہ

صوبہ سندھ ،ضلع دادو اور علاقہ تھانہ واہی پاندھی،اس شخص کا نام علی محمد رند ہے،جس نے اپنے دوسرے رشتہ دار علی نواز رند اور دیگر دو کے ہمراہ اپنی ہی نو سے دس سالہ معصوم بیٹی ‘گل سماء’ کو بے دردی سے پتھر مار کر ہلاک کر دیا۔
خبر پھیل جانے پر،بد قسمت بچی گل سماء کی قبر کشائی کی گئی اور لاش کے پوسٹ مارٹم کے بعد یہ لرزہ خیز انکشاف ہوا کہ،بچی کی موت سر پر لگنے والی کسی بھاری شے کی چوٹ سے ہوئی۔بچی کی ناک کی ہڈی ،جبڑاً  اور پسلیاں ٹوٹی ہوئی ملیں۔چہرے پر شدید زخموں کے نشانات بھی پائے گئے ۔
ان سفاک قاتلوں نے اس معصوم کو ‘کاری’ قرار دے کر جان سے مار ڈالا تھا۔
اس بچی نے کتنی زندگی پائی؟
اور اس زندگی سے کیا پایا؟
وہ تو ابھی تک ننگے پاؤں انہیں پتھروں پر کھیلتی ہوگی،جن سے اس کا منحنی سا وجود کچل دیا گیا تھا۔

اس نے شاید ہی کبھی نیا جوڑا پہنا ہو۔شاید ہی کبھی سردیوں کا گرم لباس دیکھا ہو۔اسے تو اپنی ماں کے اترے ہوئے بوسیدہ کپڑے چھوٹے کر کے پہنائے جاتے ہوں گے۔
وہ تو جاڑے کی نامہربان صبحوں اور شاموں کو اپنے گھر کے کچے صحن کی کسی بوسیدہ دیوار کے ساتھ لگ کر اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں پر چپکائے،اپنی ننھی منی پسلیوں کو یخ بستہ ہواؤں کی شدت سے بچانے کی کوشش کرتی ہو گی۔شاید ہی کبھی چاؤ سے اس کی ماں نے اس کا منہ دھلایا ہو۔اس کے چہرے پر تو مٹی جمی رہتی ہو گی۔
شاید ہی اسے پیٹ بھر کر کبھی کھانا ملا ہو۔وہ تو اپنے باپ اور بھائیوں کا بچا ہوا جھوٹا سالن اور روٹی کی ‘ودھکیں’ کھا کر اپنا پیٹ بھر لیتی ہو گی۔
کیا اس نے کبھی کتابیں بھی دیکھی ہوں گی ؟
اسے معلوم ہو گا کہ  سکول کیسا دکھائی دیتا ہے ؟۔
شاید اسے تو سویرے سویرے ہی چند بکریاں اور بھیڑیں دے کر ہاتھ میں ایک چھڑی تھما دی جاتی ہو گی۔بکریاں سارا دن ویرانے میں چرتی رہتی ہوں گی،اور وہ اپنی آنکھوں میں انجانے دیسوں کے خواب سجائے،سارا دن زمین پر لکیریں کھینچتی ہو گی اور مٹاتی ہو گی۔
کہیں،ان کی جھونپڑی کے اندر رکھے پرانے گھڑوں کی ‘پالیوں’میں ہو سکتا آج بھی اس کی بوسیدہ کپڑوں کی دھجیوں سے بنی اور لیروں سے سجی گڑیاں ابھی تک اس کی راہ تکتی ہوں گی۔
ابھی تو وہ رات کو اپنے پھٹے پرانے بستر میں جھلنگا کھاٹ پر سوتے ہوئے،رات کو اچانک انجانی بلاؤں کو خواب میں دیکھ کر چیخ مار دیتی ہو گی۔
ابھی تو جب جب کہیں باہر جانا ہوتا ہو گا،تو ماں کی قمیص پیچھے سے پکڑ کر چلتی ہو گی،اور کسی انجان کو دیکھ کر ماں کے پیچھے چھپ جاتی ہو گی ۔
اس نے کبھی کوئی شہر بھی دیکھا ہو گا؟
وہ تو کسی ٹیلے پر بیٹھ کر دور نقطوں کی طرح نظر آنے والی گاڑیاں دیکھتی ہو گی۔
اس نے کبھی شہروں کی روشنیاں بھی دیکھی ہوں گی؟
وہ تو رات اپنے گھر کے کچے آنگن سے تاروں کی روشنی میں کھو جاتی ہو گی۔
اس کو کبھی باپ نے لاڈ سے اپنے سینے سے لگایا ہو گا؟
اگر سینے سے لگاتا ہوتا تو اتنی ننھی منی پسلیوں کو پتھروں سے کیوں توڑتا؟
کبھی بالوں میں ہاتھ پھیرا ہو؟
اگر پھیرتا ہوتا تو سر پر اتنا بھاری پتھر ہی کیوں پھینکتا ،کہ اس کی نحیف جان ہی اس کے لاغر جسم کا ساتھ چھوڑ کر ڈر سے سمٹ کر ایک کونے میں جا کھڑی ہو۔
وہ کبھی کسی میلے ٹھیلے سے اپنی بیٹی کے لئے بالیاں اور اس کی ناک کے لئے چھوٹا سا ‘کوکا’ تو لایا ہو گا؟
لگتا تو نہیں،ورنہ یوں پتھر مار کر اس کی چھوٹی سی ناک کی ہڈی ہی کیوں توڑتا،اس کے نازک سے کانوں پر اسی کے خون سے اسی کے بال کیوں چپکاتا۔
وہ کبھی اس کے کھانے کے لئے کوئی میٹھی چیز لایا ہو؟ کوئی مرونڈا کوئی مکھانے کوئی گجک؟
لگتا تو نہیں،نہیں تو اس کا چھوٹا سا جبڑا ہی کیوں توڑتا،بھلا ٹوٹے جبڑوں سے کوئی اس طرح کی چیز کھا سکتا ہے۔
اس نے پیار سے کبھی اس کے پھول سے رخساروں پر کوئی بوسہ دیا ہو؟
لگتا تو نہیں ،ورنہ اس کے ننھے سے چہرے پر اتنے زخم ہی کیوں ہوتے۔
‘گل سماء’ جب گھر سے اندھیری رات کو رخصت ہوئی ہو گی،تو اپنے پیچھے کتنی کائنات چھوڑ گئی ہو گی،؟۔
کوئی ٹوٹا ہوا جوتا، پھٹا ہوا دوپٹا،دھجیوں کی طرح دکھنے والے دو جوڑے اور بکریوں کو ہانکنے والی چھڑی ؟۔
گل سماء کی موت کی خبر،اور اس کی پھانسی لگی قبر کی تصویر تو کسی طرح اڑتی ہوئی شہروں تک پہنچ گئی، مگر اس جیسی سینکڑوں بچیاں،جن کو کئی نسلوں سے اسی طرح مار کر پھینکا جاتا رہا ہے، اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ان کی کہانیاں کب منظر عام پر آئیں گی؟
اور اگر آ بھی گئیں تو کیا ہو گا؟
چند دن شور شرابا، اور پھر بس؟ ۔
کوئی قاعدہ ،کوئی قانون؟
ان ظالموں کا ہاتھ روکے گا؟
یا سفاکی کا یہ کھیل جاری رہے گا؟
تو کیا بیٹیوں کی قسمت یہی رہے گی ؟
جب تک جہالت ننگا ناچ ناچتی رہے گی، معصوموں کی زندگیوں کے چراغ اسی طرح گل ہوتے رہیں گے۔اور اس سب کے ذمہ دار یہ ریاست،حکومتیں ،مذہبی و سیاسی رہنما اور یہ معاشرہ بلکہ ہم سب ہیں۔
جنہوں نے ان دور دراز اور نظر انداز کئے جانے والے خطوں میں علم کی ترویج اور شعور کی بیداری کے لئے کبھی کوئی کوشش ہی نہیں کی۔

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *