کٹ پیس۔۔ذیشان نور خلجی

SHOPPING

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی افتخار درانی نے کہا ہے۔ “وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ مشہور ترک ڈرامہ سیریل ‘ارطغرل غازی’ کو پی ٹی وی پر نشر کیا جائے۔” تاکہ عوام کچھ تاریخ سے بھی سبق سیکھ سکیں۔ ہم اپنے تئیں انہیں سبق سکھانے کی بہت کوشش کر رہے ہیں۔اور امید ہے کہ ہمارے دیے گئے اسباق سے انہیں افاقہ بھی ہوگا۔جو آئندہ انتخابات میں واضح نظر آئے گا۔
ڈرامہ سیریل ‘ارطغرل غازی’ کے بعد، 1992ء والا ورلڈکپ بھی دوبارہ سے نشر کیا جائے گا۔ تا کہ کرکٹ ٹیم بھی کچھ سبق سیکھے۔ گو کہ کرکٹرز کو سبق سکھانے کے لئے ہم نے کوچ مصباح الحق کا تجربہ کیا ہے۔ جو کافی کامیاب رہا ہے۔ اور اس کا بہترین اظہار حالیہ دورۂ آسٹریلیا سے بھی ہو گیا ہے۔ لیکن پھر بھی جو کمی رہ گئی ہے۔ اسے 92ء کے میچز دکھا کے رفع کیا جائے گا۔

ن لیگ کے راہنماء احسن اقبال نے کہا ہے ” اگر نوجوانوں کو روزگار نہیں ملے گا تو بے روزگاری پھیلے گی۔” یہ دراصل بلاول بھٹو زرداری کے بیان کی طرز پہ ایک بیان ہے۔کیونکہ عوام نے اسے کافی پسند کیا تھا اور میڈیا میں اس کی کافی پذیرائی ہوئی تھی۔اور اب میاں صاحب کے سدھار جانے کے بعد، چونکہ میرے پاس کرنے کو کچھ رہا نہیں, تو دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔
اور آپ میرے بیان کو انڈر ایسٹیمیٹ مت کریں ،ایسی راکٹ سائنس نہ تو ہماری حکومت کو پتہ چل سکی تھی اور نہ ہی حالیہ حکومت کو،بلکہ موجودہ حکومت تو ایسی سائنسی بصیرت سے بالکل ہی محروم ہے۔مجھے بھی پتہ نہ چلتا اگر میں انجیئنرنگ یونیورسٹی کا گریجوایٹ نہ ہوتا۔ یہ الگ بات ہے نئے انجینئرز کی طرح مجھے بھی آج کل ٹامک ٹوئیوں کے سوا ککھ سجھائی نہیں دے رہا۔

سابق صدر پرویز مشرف کی حمایت میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے۔ ” اگر یہ دیکھنا ہے کہ کس کس نے غیر آئینی کام کیے ہیں تو پھر ایسے لوگوں کی ایک قطار ہے۔” اور مجھے پوری امید ہے کہ اس قطار میں بندۂ ناچیز سب سے آگے ہو گا۔ایسے رفاہی کاموں میں، میں ہمیشہ سے پیش پیش رہا ہوں۔اسی لئے مجھے وزارت کے کام نمٹانے کی فرصت نہیں ملتی۔اور ریلوے زبوں حالی کا شکار رہتی ہے۔

تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے ” سارے ادارے تباہ تھے، مصروفیات کی وجہ سے عمران خان کرکٹ پر توجہ نہیں دے سکے۔”
ادارے تو ایک چھوٹی سی بات ہے۔اب چونکہ پورا ملک ہی ترقی کے رستے پہ دوڑ رہا ہے تو ایسے میں وزیراعظم، اب ساری توجہ کرکٹ پہ مرکوز کریں گے۔ اس لئے کبھی میرے ہم وطنوں کو، اپنا پیارا وطن، ترقی کی راہ پہ تھوڑا ہولا ہولا چلتا محسوس ہو,  تو پریشانی کی بات نہیں ہوگی بس یہ وزیراعظم صاحب کی ذرا نیٹ پریکٹس کی مصروفیت ہوگی۔ اور آپ کی اس شکایت کا ازالہ بھی جلد کر دیا جائے گا۔بس ایک عدد انگلی والے ایمپائر کی ضرورت ہے۔اس کے لئے ہم کافی کوشش کر رہے ہیں۔ ویسے ہمیں امید ہے ہماری حماقتوں کے طفیل، ایمپائر خود ہی شرم کھا کے اپنا چارج سنبھال لے گا۔

انہوں نے مزید کہا “اب تک کرکٹ کو جگاڑ پہ چلایا جاتا رہا ہے۔” اور تو اور ملک کو بھی جگاڑ پہ چلایا جارہا تھا۔ لیکن اب ‘میں ہوں نا’ کے مصداق”عمران خان ہے نا”۔

SHOPPING

تو آپ نے پریشان نہیں ہونا۔ویسے بھی ہم نے جگاڑ لگانے کی اپنی سی کوشش کی تھی، لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔اس لئے اب کوئی نیا حل تلاش رہے ہیں ۔
آسٹریلیا سے شکست پہ پی سی بی نے قوم کو صبر کی تلقین کی ہے کہ اگر آپ عمران خان کے ملک چلانے پہ صبر کا اظہار کرسکتے ہیں تو ہماری ناکامی پہ صبر کرتے کیا آپ کو موت پڑتی ہے۔ ویسے بھی یہ ہماری نوکریوں کا معاملہ ہے۔ آپ لوگ خواہمخواہ بیچ میں ٹانگ مت اڑایا کریں۔ آپ کا زور ٹی وی کے سامنے بیٹھ کے زیادہ لگ رہا ہوتا ہے۔
اور اطلاع کے لئے عرض ہے
کرکٹ شرفاء کا کھیل ہے، آپ کا نہیں، شکریہ !

 

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *