• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • انسانی یا حیوانی معاشرہ ،بچیاں کہیں بھی محفوظ نہیں۔۔بشریٰ نواز

انسانی یا حیوانی معاشرہ ،بچیاں کہیں بھی محفوظ نہیں۔۔بشریٰ نواز

یہ آج کا نوحہ ہے آئے  روز نئی نئی کہانیاں اخباروں اور میڈیا کی زینت بنی ہوتی ہیں جو کہ  انتہائی باعث شرم ہے، آخر ہمارا معاشرہ اس قدر انحطاط اور پستی کا  شکار کیوں  ہوتا جا رہا ہے، اس سوال کے سینکڑوں جواب ہیں اب ان جوابات میں سے ہر ایک نہ تو اپنے وزن میں کم اور نہ ہی جھوٹا اور غلط  ہے۔

ہم ایک مسلمان ملک کے باسی ہیں اور الحمداللہ مسلمان بھی، ہم روبہ زوال کیوں ہورہے ہیں، ہم انسان سے جانور کیوں بنتے جا رہے ہیں، ہماری دانست میں ان ساری باتوں کا ایک ہی مستند جواب ہے، اور وہ ہے اسلام سے دوری اور اسلامی اقدار سے نا واقفیت ، اس میں والدین کا بھی قصور   ہے لیکن اس میں سب سے زیادہ قصور وار میڈیا اور اسکی ترقی ہے ۔

پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا ملک ہے اور آبادی کے لحاظ اسلامی دنیا کا پہلا بڑا ملک ہے اب ذرا اس سے آگے چلیں، پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت    والا ملک ہے لیکن اس وقت اخلاقی پستی میں بھی پہلے نمبر پر ہے۔پورن سائٹس دیکھنے والے ممالک میں بھی پہلے نمبر ہے۔یعنی سب غیر اخلاقی کاموں میں ہم سرِ فہرست ہیں ۔

حالات اتنے بدتر کیوں ہیں ؟۔۔ یہود اپنے علاوہ پوری دنیا کے انسانوں کو انسان نہیں جانور سمجھتے ہیں اور انہیں گوئم اور جنٹائل کا نام دیتے ہیں ان کا ماننا ہے دنیا میں صرف یہودی ہی انسان ہے اور وہ افضل ترین قوم ہیں باقی سارے انسان نہیں انسان نما جانور ہیں اور انہیں جانوروں کی طرح رہنا چاہیے جس طرح ایک جانور اپنی شہوت پوری کرنے کے لیے کسی رشتے کا لحاظ نہیں کرتا انسانوں کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے جو دراصل یہ انسان نہیں انسان نما حیوان ہیں ۔۔

اسی سازش کے تحت انہوں نے سب سے پہلے عیسائیوں کو اخلاقی طور پر تباہ کیا اب مسلمانوں کی باری ہے اور یہود پوری طاقت کے ساتھ ففتھ جنریشن وار پاکستان پر مسلط کرچکا ہے یورپ جو اپنے آپ کو دنیا میں پُرامن اور مہذب معاشرہ گردانتے ہیں وہ اخلاقی طور پر تباہ ہوگئے ہیں وہاں اب حیاء اورغیرت کا اخلاقی طور پر جنازہ نکل چکا ہے زنا کوئی جرم نہیں ہاں اگر باہم رضامندی نہیں تو زبردستی اگر کسی نے ایسا فعل کیا تو قابل جرم اور قابل سزا فعل ہے وہاں اب عورت عورت سے اور مرد مرد سے شادی کرسکتا ہے جو کوئی جرم نہیں باہم رضامندی کے ساتھ دو افراد بغیر کسی قانونی تقاضے کو پورا کیے    رہ رہے ہیں۔حکومت کو کوئی اعتراض نہیں اور ان سے پیدا ہونے والے بچے بھی قانونا ً انہی کی اولاد ہیں  ۔۔۔

صدر بل کلنٹن نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ بہت جلد امریکہ کی آبادی حرامزادوں پر مشتمل ہوجائے گی اور ایسا ہی ہے اب یورپی اور مغربی ممالک میں حیوانوں کے ساتھ سیکس کرنے کو قانونی شکل دے دی گئی ہے گویا انسان تو درکنار جانور بھی انسانوں کی چیرا دستی سے محفوظ نہیں رہے یعنی کہ جو یہودی چاہتا  ہے وہ ہو رہا ہے۔

اسکی وجہ کہ یہودیوں کو پتہ ہے کہ مشرق سے ایک فوج اُٹھے گی جو یہودیوں کو نیست  و نابود کردے گی بس اسی ایجنڈے کے تحت وہ پاکستان کو پہلے اخلاقی طور پر تباہ کرنا چاہتا ہے اور جس کا ہم آسانی سے شکار ہورہے ہیں۔۔۔۔

بچے ہوں یا بچیاں ان کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے یقیناً یہ ایک بہت بڑی سازش ہے اور اس میں جہاں کچھ کمزور اور مجرمانہ ذہنیت کے لوگ شامل ہیں وہاں زیادہ تر بااثر لوگ شامل  ہیں جن کو اپنی عیاشی اور بدمعاشی کی غرض سے کمسن بچے اور بچیوں کو ٹارگٹ کر رہے ہیں ۔
نہایت افسوسناک باتیں ہیں جو باعث شرم ہیں آج سے تقریباً دو سال قبل یہ معاملہ قصور سے منظر عام پر آیا اور اب تو چار سو پھیل رہا ہے۔۔۔جس میں سارے ہی طاقتور لوگ شامل ہیں جن میں پارلیمنٹیرین کے نام بھی آرہے ہیں، ڈوب مرو تم لیڈر ہو، تم مسیحا ہو ،اس قوم کی  لعنت ہزار بار ان لوگوں پر جو اس مکروہ دھندے میں شامل ہیں ۔۔

بیٹیوں کو عرب زندہ درگور کیوں کردیا کرتے تھے اب سمجھ میں آیا ،بچیاں کہیں بھی محفوظ نہیں سکول کالج ہاسٹلز اور جو نئی خبر منظر عام پر آئی ہے وہ نہایت باعث شرم ہے کیا دارلاَمان میں بھی محفوظ نہیں ،ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں انٹرنیٹ کے حصول پر سب سے پہلے قانون سازی کریں اور اس غلاظت کے راستے میں بند باندھیں ۔
اور ان گندے انڈوں کو کہیں بھی ہیں باہر پھینک دیں اور ان کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے یا پھر بہت جلد سیالکوٹ میں جو ایک ماں نے کیا وہ ہر جگہ شروع ہوجائے گا،لوگ قانون کو ہاتھ میں لیں گے،جو کہ کسی طور قبول نہیں کیا جاسکتا ،ہم نے تو اپنا حق ادا کر دیا اب آگے ارباب اختیار کاکام شروع ہوتا ہے ۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *