• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • انسانوں کو انسانوں سےڈسوانے کا موسم ہے۔۔۔چوہدری عامر عباس ایڈووکیٹ

انسانوں کو انسانوں سےڈسوانے کا موسم ہے۔۔۔چوہدری عامر عباس ایڈووکیٹ

کل ایک کزن کیساتھ کھانا کھانے کیلئے جب ہوٹل جا رہے تھے تو راستے میں ایک دودھ کی دکان پر ایک بڑے بینر پر جلی حروف میں لکھا تھا کہ ایک کلو دودھ کیساتھ ایک کلو فری حاصل کریں اور خریدنے والوں کی لائن لگی ہوئی تھی۔ کیا دودھ اتنا سستا ہے کہ ستر روپے کلو دودھ کیساتھ ایک کلو دودھ مفت میں دے دیں؟ مطلب صرف پینتیس روپے لیٹر دودھ۔ ذرا سوچیں کہ بازار سے پینتیس روپے لیٹر تو منرل واٹر بھی نہیں ملتا تو دودھ اس قدر سستا کیونکر؟ دودھ کے حوالے سے تو ویسے بھی ہر روز نت نئے انکشافات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ پاؤڈر اور کیمیکلز سے کس طرح مصنوعی دودھ تیار کر کے فروخت کیا جاتا ہے۔ ایک فارماسسٹ دوست نے انکشاف کیا کہ وہ ایک دفعہ بازار سے دودھ خرید کر لایا تو اسے ذائقہ تھوڑا عجیب سا محسوس ہوا۔ جب اس نے اسے لیبارٹری سے چیک کروایا تو وہ دراصل قدرتی دودھ تھا ہی نہیں۔ اس کو خشک دودھ، کاسٹک سوڈا اور دیگر کیمیکلز سے تیار کیا گیا تھا۔ دوست چونکہ خود بھی فارماسسٹ تھا لہٰذا اس نے اپنے طور پر مزید ریسرچ کی تو معلوم ہوا کہ کاسٹک سوڈا دودھ میں ڈال دیں تو دودھ کی ناصرف خوشبو برقرار رہتی ہے بلکہ دودھ جلد خراب بھی نہیں ہوتا۔ اور بڑے شہروں میں کئی جگہوں پر ایسا کیمیکل زدہ کھلا دودھ ہی فروخت ہو رہا ہے جو بجائے فائدہ کے بچوں اور بڑوں کیلئے صحت کی بربادی کا باعث بن رہا ہے۔ حکومت بھی اب کافی سختی کر رہی ہے۔ روزانہ جگہ جگہ چھاپے مارے جا رہے ہیں لیکن اس کے خاطرخواہ نتائج محض اس وجہ سے برآمد نہیں ہو رہے کہ ہم خود اس میں تعاون نہیں کر رہے۔ ملاوٹ کو ہم نے اپنا معمول بنا لیا ہے۔ ہم اور ہماری نئی نسل یہی ملاوٹ زدہ اشیاء کھا کر مختلف خطرناک بیماریوں کا شکار ہو رہی ہے۔ یہ ہمارے نام نہاد مسلمان معاشرے کا المیہ ہے۔ ہمارے نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ “جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ہے” ۔ لیکن ہم من حیث القوم اس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ ہم چند روپؤں کی خاطر نہ صرف اپنی بلکہ اپنی آنے والی نسل کی بربادی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔

اگر گوشت کی طرف آ جائیں تو گدھے اور کتے کے گوشت والی بات اب پرانی ہو چکی۔ چند دن پہلے مشہور فوڈ ایکسپرٹ محسن بھٹی نے انکشاف کیا کہ ایک فوڈ انسپکٹر نے ایک جگہ ایک بڑی حویلی پر چھاپا مارا۔ وہاں ایک شخص لاغر، بیمار اور مردہ جانور انتہائی سستے داموں خرید کر انھیں ذبح کرتا تھا۔ پھر ایک ڈرم کو پانی سے بھر کر اس میں ایک دوا ملا کر ان جانوروں کا گوشت اس ڈرم میں چند گھنٹوں کیلئے رکھ دیتا تھا۔ اس سے اس گوشت کی رنگت صحت مند گوشت جیسی ہو جاتی تھی اور پہچان بھی بہت مشکل ہو جاتی۔ اور یہی گوشت مارکیٹ میں قصابوں کو فروخت کرتا تھا۔ اب یہ انتہائی مضر صحت اور زہریلا گوشت معدے اور جگر کی خطرناک بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔

اگر ہم بازار میں فروخت ہونے والے  مصالحوں   کی بات کریں تو ان کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔ مصالحوں میں اگر دیکھا جائے تو ہمارے کچن میں سرخ مرچ کا استعمال سب سے زیادہ ہے۔ محسن بھٹی صاحب کے بقول پہلے اینٹوں کو پیس کر مرچوں میں ملا کر فروخت کیا جاتا تھا لیکن وہ جلدی پکڑا جاتا تھا۔ اب تھوڑی مقدار میں مرچیں لے کر اس میں بھاری مقدار میں چاول کا چھلکا اور انڈسٹریل کلر مکس کرکے مرچیں بنا کر مارکیٹ میں فروخت کی  جانے لگی ۔ کلر دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک فوڈ کلر اور دوسرا انڈسٹریل کلر۔ کھانے پینے والی اشیاء میں فوڈ کلر استعمال کیا جاتا ہے جبکہ کپڑا وغیرہ رنگنے اور دیگر ایسے مقاصد کیلئے انڈسٹریل کلر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں المیہ یہ ہے کہ ان مرچوں میں ملاوٹ تو ہو ہی رہی تھی لیکن ستم ظریفی یہ کہ اس میں اکثر انڈسٹریل کلر استعمال کیا جاتا ہے جو کہ انسانی جسم میں جا کر کینسر اور گردوں کی خرابی جیسی خطرناک بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ جب فوڈ کنٹرول اتھارٹی کے چھاپوں میں مختلف دکانوں سے حاصل کیے گئے نمونوں میں یہ ملاوٹ اور خطرناک کلرز کا انکشاف ہوا تو حکومت نے فوری طور پر کھلے مصالحوں اور مرچوں کی فروخت پر پابندی عائد کر دی کہ پیکنگ والے مصالہ جات کی چیکنگ سے کم از کم یہ تو پتہ چل سکے کہ اگر ایک مصالحہ ملاوٹ شدہ ہے تو اصلی مجرمان تک پہنچا جا سکے۔ لیکن اب بھی بہت سے عاقبت نااندیش دکاندار اسی سے ملتے جلتے کھلے مصالحہ جات اور مرچیں فروخت کر رہے ہیں۔ اب اس سب کے خاتمے میں حکومت تو سنجیدہ ہے لیکن یہ سب اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتا جب تک ہم خود حکومت کیساتھ تعاون نہ کریں۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اور بھی بہت سی کھانے پینے والی اشیاء ہیں جو ہم تک خالص حالت میں پہنچتی ہی نہیں ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ ہم اس قدر بےحسی کا شکار ہیں کہ ایسا زہریلا گوشت فروخت کرنے والے اور ملاوٹ کرنے والے بھی ہم میں سے ہی ہیں جو نہ صرف ہمارے ساتھ بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کیساتھ یہ خطرناک کھلواڑ کر رہے ہیں۔ اس کیلئے ہمیں سنجیدہ ہونا ہو گا اور سب کو مل کر سدباب کرنا ہو گا۔ ایسے ظالم لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی۔ اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو ہمارے اپنے ایسی زہریلی اشیاء کھا کھا کر خطرناک بیماریوں کا شکار ہوتے رہیں گے اور ہسپتال یونہی بھرتے رہیں گے۔ کئی لوگ تو ایسی زہریلی اشیاء کھا کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ خدارا اس قوم پر رحم کیجیے۔ وقتی طور پر چند روپوں کی خاطر یہ لوگ ہاتھ دھو کر اپنے ہی پیاروں کی جانوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ ہم اکثر لوگوں کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔

چوہدری عامر عباس
چوہدری عامر عباس
کالم نگار چوہدری عامر عباس نے ایف سی کالج سے گریچوائشن کیا. پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی. آج کل ہائی کورٹ لاہور میں وکالت کے شعبہ سے وابستہ ہیں. سماجی موضوعات اور حالات حاضرہ پر لکھتے ہیں".

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *