• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کوئی چارہ ساز ہوتا،کوئی غمگسار ہوتا۔۔اسلم اعوان

کوئی چارہ ساز ہوتا،کوئی غمگسار ہوتا۔۔اسلم اعوان

ڈیرہ اسماعیل خان رینج کے نئے ڈی آئی جی سیدامتیازشاہ نے عہدہ کا چارج سنبھالتے ہی،بڑے پیمانے پہ ایرانی پٹرول اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے سمگلنگ کے دھندہ پہ ہاتھ ڈال کے سسٹم میں بھونچال برپا کر دیا،اگرچہ پولیس کےلئے جرائم کی بیخ کنی معمول کی کارروائی سمجھی جاتی ہے لیکن افسوس کہ  ہمارا انتظامی ڈھانچہ اس قدر فرسودہ ہو چکا کہ قرون وسطٰی کے بادشاہوں کی مانند اب قانون کے نفاذ و عدم نفاذکا معاملہ افسران کے شخصی رجحانات سے مشروط ہو گیا،جیسا کہ  پچھلے ڈی آئی جی سید فروزشاہ کے پیریڈ میں یہاں ایرانی تیل اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی غیرقانونی ترسیل کا کاروبارخوب پَھلا پُھولا اور اس بہتی گنگا میں صرف پولیس ہی نہیں بلکہ محکمہ ایکسائز اور صنعت و حرفت کے بعض اہلکاروں نے بھی خوب ہاتھ دھوئے۔

بہرحال پولیس کی ایما کے بغیرکسی بھی فرد یا ڈیپارٹمنٹ کےلئے یوں دیدہ دلیری سے کسی غیرقانونی دھندہ کو چلانا ممکن نہیں ہوتا۔مقامی اخبارات میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور ایرانی تیل کی سمگلنگ بارے خبروں کی اشاعت جب بے اثر ہو گئی تو پٹرول کی غیرقانونی ترسیل کے براہ راست متاثرین،فلنگ اسٹیشنز ایسویسی ایشن والوں، نے بھی احتجاجی مظاہرے کر کے ان قباحتوں کی جانب حکام بالا کی توجہ مبذول کرنے کی کوشش فرمائی لیکن کسی کے کان پہ جُوں تک نہ رینگی،اعلی حکام کی بے حسی سے تو یہی لگتا ہے کہ ملک کی جنوب مغربی سرحدوں  سے لیکر پشاور اوراسلام آباد تک پوری سرکاری مشینری اسی کار خیر سے استفادہ کرتی ہو گی۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ مرکزی دھارے سے دور خبیرپختون خوا اور بلوچستان کے پسماندہ اضلاع میں ریاستی ڈھانچے کا وجود فقط علامتی حیثیت کا حامل ہوتا ہے اس لئے یہاں قانون کی عملداری کا انحصار سرکاری افسران کی مرضی کے تابع رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قتل انسانی سے لیکرچوری،ڈکیتی،اغواءبرائے تاوان،جنسی حراسگی،تجاوزات،گراں فروشی،مضرصحت ادویات اورملاوٹ شدہ اشیاءخود و نوش کی خریدو فروخت جیسی مجرمانہ سرگرمیاں یہاں کے سرکاری ڈھانچہ میں رچ بس جاتی ہیں اورہمارا بیمار سماج ابھی باآسانی ان سب برائیوں کو گوارا کر لیتا ہے۔حیرت انگیز طور پہ ہم سب ان مفاسد کو بُرا بھلا کہنے کے باوجود،جی بھر کے ان سے استفادہ کرنے میں بھی حجاب محسوس نہیں کرتے۔

فی الوقت ہمارابنیادی مسئلہ یہ ہے  کہ وہ حکومت جو احکامات تو جاری کرے لیکن عوام کی مدد کرے نہ رہنمائی،تو ایسی گورنمنٹ میں فرد کو قانون کی متعابعت کی ترغیب کیسے دی جا سکتی ہے؟چنانچہ یہاں ریاست اور شہری،دونوں نے اپنی سہولت کے مطابق ایک قسم کی لاقانونیت کے ماحول میں جینا سیکھ لیا اور سرکاری افسران ہمیں اور ہم قانون کو جس طرح چاہیں استعمال کرسکتے ہیں۔حتٰی کہ سرکاری اہلکار قانون کو اپنی اصل روح کے مطابق نافذ کرنے کی بجائے حقائق کے اثبات کےلئے غلط طریقے اپنانے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے،گویا جب انتظامیہ چنداحمقوں پہ قابو نہیں پا سکتی تو وہ سب کو بیوقوف بنانے میں عافیت تلاش کرتی ہے۔

بہرحال،ان ساری لنترانیوں کے باوجود بھی یہ سوال جواب طلب رہے گا کہ وہ ریاست کہاں ہے،جسکی تشکیل کا اولین مقصد ہی سوسائٹی کو برائیوں سے بچانے کے علاوہ سماجی انصاف کی فراہمی کے ذریعے معاشرے کو منظم کرنا تھا۔

ابھی چند دن پہلے غالباً 23 نومبر کو ٹانک پولیس نے تیرہ بیگناہوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے گینگ کے ایک رُکن عامر خان کو مبینہ پولیس مقابلہ میں ہلاک کر دیا لیکن حیرت ہے کہ صوبائی حکومت نے اتنے بڑے سانحہ کی انکوائری کرائی نہ اسکے بعد مبینہ پولیس مقابلوں میں مشتبہ افراد کی ہلاکت کے ذریعے اس واقع سے وابستہ حقائق کو مسخ کرنے کی کوششوں کا نوٹس لیا حالانکہ ٹانک سے تعلق رکھنے والے جے یو آئی(ف)کے ایم پی اے محمودخان نے صوبائی اسمبلی کے فورم پہ اس معاملہ کو اٹھا کے حکمراں اشرافیہ کوانسانی المیہ کی تلخی کا احساس دلانے کی پوری کوشش کی۔

تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ17 اکتوبر کی صبح شربتی اماخیل روڈ پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے انعام مروت گینگ سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو قتل کر دیا جس کے ردعمل میں مروت گینگ کے چھ مسلح افراد نے اماخیل گاوں پہ یلغار کر کے پہلے پیٹرولیم ایجنسی پر بیٹھے دوافراد کو مار ڈالا پھر ایک چلتے موٹر سائیکل پہ فائرنگ کر کے باپ بیٹے کو نشانہ بنایا جس میں باپ موقع پر جاں بحق ،بیٹا شدید زخمی ہو گیا،بعدازاں اسی مسلح گروہ نے درہ بین روڈ پہ ٹانک سے عمرخیل جانے والی مسافر کوچ پر فائرنگ کر کے گیارہ مسافروں کو ہلاک اور خاتون سمیت پانچ کو شدید گھائل کر دیا،اس ناگہانی تصادم کے نتیجہ میں مجموعی طور پہ تیرہ بیگناہ انسان زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

پولیس کے مطابق پچھلے کئی ماہ سے انعام مروت(وار لارڈ) گروپ اور مقامی بھٹنی برادری کے مابین گروہی کشیدگی چلی آ رہی تھی اوراسی کشمکش میں فریقین پہلے بھی ایک دوسرے کے کئی افراد کی جان لے چکے ہیں۔تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ گروہوں کی سرگرمیوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چشم پوشی ہی اس سانحہ کی بنیادی محرک بنی،اس متوقع تصادم کو روکنے کی خاطر عمائدین شہر نے تو کئی بار فریقین میں صلح صفائی کرانے کی حتہ المقدورکوشش کی،تاہم کسی قانونی اتھارٹی کی حمایت نہ ملنے کی وجہ سے یہ مساعی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکی لیکن پولیس اور انتظامیہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔

عینی شاہدین کہتے ہیں کہ گاوں ملازئی اور اماخیل میں دونوں گروپوں کے درمیان فائرنگ اگرچہ روز کا معمول تھی اور میڈیا میں آئے روز کے ان خونی جھگڑوں کی بازگشت اور براہ راست عوامی شکایات کے باوجود پولیس نے انعام مروت گینگ کو غیر مسلح کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی،جس کے نتیجہ میں تیرہ بے گناہوں کی موت کا ایسا درد ناک واقعہ رونما ہوا جسے ٹانک کے شہری کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے۔لیکن اس سے بھی زیادہ اذیت ناک امر یہ ہے کہ اتنے بڑے انسانی المیہ کے باوجود صوبائی حکومت نے اب تک اس واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کرائی نہ کسی ذمہ دار افسر سے بازپرس کر سکی۔

سانحہ اماخیل کے 13بے گناہ افراد کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف 20 نومبر کوجے یو آئی کے ایم این اے مفتی عبدالشکور اور ایم پی اے محمودخان کی قیادت میں شہریوں کی بڑی تعداد نے ڈی سی آفس کے سامنے دھرنا دیکر پانچ گھنٹے تک احتجاجاً جنوبی وزیرستان جانے والی مین شاہراہ کو ہرقسم کی ٹریفک کے لئے بند رکھا،مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایم این اے مفتی عبدالشکور،ایم پی اے محمود احمد خان نے سوال کیاکہ آج جب تیرہ بیگناہ انسانوں کی موت پہ پورے سماج میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے تو ایسے میں پولیس ملزمان کی گرفتاری میں لیت ولعل سے کام لیکر کیا کسی نئے خونی تصادم کا انتظار کر رہی ہے؟۔ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود پولیس نے اب تک صرف ایک ملزم کو مبینہ مقابلہ میں ہلاک کر کے اس سانحہ کے بنیادی حقائق کو تلف کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ واقعات گواہی دے رہے ہیں کہ مقامی پولیس شہریوں کو جان و مال کا تحفظ دینے میں ناکام ہو گئی،بعد ازاں مظاہرین نے ایم این اے مفتی عبد الشکور کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیکر شہداءکے لواحقین کی موجودگی میں ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او سے مذاکرات کر کے مظلوموں کو انصاف کی جلد فراہمی یقینی بنانے کا ٹائم فریم مانگا،عوامی کمیٹی نے انتظامیہ پر واضح کیا،اگر سانحہ اماخیل کے مرکزی ملزم انعام مروت کی جلد گرفتاری ممکن نہ بنائی گئی تو شہری اپنے احتجاج کا دائرہ پشاور تک بڑھا دیں گے۔اب نئے ڈی آئی جی کو چاہیے کہ جیسے انہوں نے ایرانی پٹرول اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی سمگلنگ کے دھندہ کو روکنے کی مہم چلا کے پولیس کی ساکھ کو بہتر بنانے کی کوشش کی اسی طرح سانحہ اماخیل کے مرکزی ملزم کی گرفتاری کو یقینی بنا کے پولیس پہ عوام کے اعتماد کی بحالی بھی ممکن بنائیں۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *