طلبہ یونین ،طلبا کا حق ۔۔۔محسن علی

پاکستان میں طلبہ یونین کو بند ہوئے کوئی 35سال ہونے کو آئے ان35 سالوں میں جو کچھ دیکھنے میں آیا وہ انتہائی خوفناک منظر ہے مگر ہم ماضی بعید میں نہیں جاتے زیادہ ابھی موجودہ چند سالوں کے واقعات اُٹھا کر دیکھ لیں تو چیخیں نکل جائیں گی، مشال خان کیس جس نے مجھے چھ مہینے تک لرزائے رکھا، عجیب بے ہنگم حالت ہوگئی تھی جیسے کوئی مجھے ماررہا ہو ،دوستوں کی بدولت اُس ذہنی دباؤ سے نکلنے میں کامیاب ہوا، پھر اسکے بعد جنید حفیظ کا کیس ، مزید ڈاکٹر نمرتا کا کیس ، بلوچستان یونیورسٹی کا دل دہلانے والا واقعہ، جس نے بلوچستان کے سماج کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا مگر لوگ طلبہ یونین سے خائف ہیں ۔ لیکن مشال خان کیس میں جمعیت ، جماعت ، پی ٹی آئی اور اے این پی کے لوگ شامل تھے ۔مگر کیس میں آدھے  لوگوں  کو سزا ہوئی، آدھے بچ گئے ۔۔جو ہمارا عدالتی ڈھانچہ ہے اس نے اتنا کردیا شاید یہ اتنا ہی کرنے کے قابل تھے ۔

اسکی وجہ  جہاں لسانی و سیاسی فسطائیت ہے وہاں ریاست کی جانب سے بھی انہیں اس جانب دھکیلا گیا ،پہلے پہل جمعیت کی غنڈہ گردی پھر جب جمعیت کا سندھ میں کراچی یونیورسٹی پر غلبہ اے پی ایم ایس او نے توڑا تو کیونکہ سیاسی تنظیم میں وہاں سے لوگ پڑھَ لکھے جاتے تھے ،88  کے بعد اُس تنظیم کو ریاست نے ہتھیار کی جانب دھکیل دیا جب کہ پنجاب میں بھی جمعیت کو ریاستی سرپرستی پر تشدد کی کھلی چھوٹ دی گئی ۔

طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبہ پر جنونی دور کی سوچ کو خطرہ لاحق ہوگیا کیونکہ نئی نسل کم وحشی اور جنونی ہوتی چلی جائے گی، وقت کے ساتھ پھر اب نئی نسل میں لوگ سوچنے پر مجبور ہیں حُرمت رسول پر جان بھی قُربان کے بجائے کیوں نہ جانیں بچائی جائیں ، مگر کیونکہ خود کی متشدد ذہنوں والی سوچ پروان چڑھائی گئی تھی یا مولویوں کے دماغوں سے سوچتے رہے،  اب نئی نسل سیاست میں بھی مولویوں سے باغی ہے اور زندگی میں بھی مولویوں کا کردار کم کرنے پر اتفاق رکھتی ہے لہذا تشدد کا عنصر کم ہی ہوگا طلبہ یونین سے ۔۔۔

دوسرا مُدعا یہ بیان کرنا ہے کہ تعلیم جہاں ایسی ہو کہ کراچی یونیورسٹی کے ایڈمنسٹریشن میں بیٹھا شخص کہہ  رہا ہو کہ پرائیوٹ والے اصل کمائی کا ذریعہ ہوتے ہیں کیونکہ آگے نوکریاں نہیں اس لیے اُ ن کو فیل کردیا جاتا ہے آپ فیل ہونے کو دل پر نہ لیں  “یعنی سال برباد کردیتے ہیں یا پانچ سے دس سال میں کلیئر کرتے ہیں” اور پھر  کہہ رہے  ہیں کہ دل پر نہ لو، لوگوں کی زندگی ،کمائی سب داؤ پر لگا کر ایسی تسلیاں دیتے ہیں ۔ ایسے تعلیمی نظام کو تو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کی بات کرنی چاہیے جانے کتنے لوگ ان کی اس حرکت یا ریاست کی پالیسی کی وجہ سے خود کشی کرتے ہیں ۔ انہیں احساس بھی نہیں بس امتحان میں کاپیاں کالی کرواکر سمجھتے ہیں بچے کو ہم نے اعلیٰ  تعلیم دے دی ۔

اب کیونکہ یہ طلبہ کی یونین کی بحالی کا معاملہ ہے اور طلبہ ہی اپنے حقوق کے لئے ایک عرصہ سے جدوجہد کرتے رہے ہیں اب وہ منظم ہوکر متحرک ہوئے ہیں ۔ تو ہمیں طلبہ پر ہی یہ بات چھوڑ دینی چاہیے کہ وہ سُرخ انقلاب چاہتے  ہیں ،لال لہرانا چاہتے ہیں یا سبز یہ اُن کے درمیان کا مکالمہ یا اُن کی اکثریت کا فیصلہ ہے میں طلبہ سے پُراُمید کیوں ہوں ؟؟ اگر آپ پوچھیں گے تو میں کہوں گا میں اس بات سے پُر اُمید اس لئے ہوں کراچی لٹریچرفیسٹیول میں فہمیدہ ریاض نے کہا تھا کہ اب پہلے کے مقابلے میں   کتابوں کی فروخت میں 14 فیصد  اضافہ ہوچُکا ہے۔

لہذا اب جو نسل ہے وہ کسی حد تک کتاب کی طرف مائل ہے میری ملت دانشور اور لفظوں کے جادوگروں سے گُزارش ہے، اُن کی رہنمائی کیجیے راستہ نہ روکیے ہاتھ بٹائیے اُن کا ذہن بنیے کہ بہت طویل عرصہ بعد اس مُلک میں  ہر رنگ و نسل و مذہب کے نوجوان  اجتماعی طور پر ساتھ آئے  ہیں ا،پنے اختلافات کے باوجود یہ ایک ہوا کا جھونکا ہے اس کو محسوس کر  کے دیکھیں درست غلط فیصلے ان سے بھی ہوں گے   ۔

آپ انہیں  اپنی غطیوں سےسیکھنے کا   موقع دیں، تاکہ یہ ریاست کے اندر سیاست و دیگر شعبوں میں اپنے حقوق کی جنگ ہر جگہ لڑ سکیں اور جو سیاست میں گندی زبان کا چلن عام ہوچکا ہے اُسکو بھی بتدریج ختم کرسکیں  ۔۔کیونکہ دروازہ بار بار نہیں کُھلتا سول وار کی جانب بڑھنے سے بہتر ہے انکے ساتھ مل کر نئی راہیں ڈھونڈیں ۔

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *