بادبان!ٹمٹماتے چراغوں کی داستان(قسط15)۔۔۔۔محمد خان چوہدری

گزشتہ تحریر:

ابھی میری خوشی اور خواہش ہے میرا بیٹا میری طرح لاہور کے سب سے اچھے کالج میں پڑھے،یہ گھر کے کام کاج وقار پہ  چھوڑو،اس کے دو بڑے بیٹے ہیں بہوئیں ہیں بیٹیاں داماد ہیں ، تو میرا بچہ کیوں اپنا مستقبل ان پہ قربان کرے”
وہ صوفے پر بیٹھی تھی، اصغر اٹھ کے اسکے پاؤں میں بیٹھ گیا گودی میں سر رکھ کے زندگی میں پہلی بار کھل کے رویا۔
کافی دیر بعد زہرا بی بی نے اسے پیار سے اٹھا کے ، منہ دوپٹّے سے پونجھ کے پانی پلا کے صوفے پہ  ساتھ بٹھا لیا تو بولا،اماں جی آپ کا بیٹا پنجاب یونیورسٹی لاہور کے کامرس یا لا کالج میں داخلہ لینے جا رہا ہے، اب دعاء کریں ۔
آپ کو ہی اپنی مرحومہ آپا سکینہ کی جگہ لینی ہے ۔ ہمت کریں۔

نئی قسط:

اگلے چند ماہ میں گاؤں کی عام طور اور محلہ سادات کی خاص طور پہ  فضا ہی بدل گئی۔
مندرہ روڈ پر پنڈی سرگودھا روٹ کی بسیں مقابلے میں چلنے لگیں ۔ ویسے بھی ہنڈا 70- 110 ,سوزوکی اور یاماہا 100 بائیکس عام ہونے سے ساتھ پی ٹی وی رنگدار ہوا اور بوسٹرز سے نشریات ہر جگہ پہنچنے لگیں اوپر سے طارق عزیز شو میں واٹر کولر موٹر سائیکل بانٹے جانا دیکھ کے لوگ یہ خریدنے لگے، سائیکل، کھوتی، گھوڑی کی سواری کم ہو گئی، گھڑے صراحی اور دیگر مٹی کے برتن متروک ہونے لگے، بجلی تو گاؤں میں پہلے آ چکی تھی، آسودگی کی لہر بھی پہنچ گئی،وقار شاہ کی حویلی کی تزئین ہوئی ، اکبر شاہ اور میجر جعفر کے گھروں میں پارٹیشن وال بن گئی، پرانی حویلی ، بیٹھک ،مہمان خانہ اور کیٹل ہاؤس کی بھی نئی شکل نکل آئی ، دیکھا دیکھی کرم شاہ مرحوم کی فیملی نے بھی مربعے  کے بدلے لی چار کنال زمین پر گھر بنانے شروع کیے،کرنل صاحب نے اسلام آباد بلیو ایریا میں ایک پروفیشنل پراپرٹی ڈیلر کے ساتھ شراکت میں دفتر بنا لیا، جس کا شمار سر فہرست ڈیلر میں ہونے لگا ۔ انہوں نے اڈیالہ روڈ پر نیو لالہ زار کی اپنی زمین اور مرحوم سسُر کے لاہور کے پلاٹ بیچ کر اسلام آباد کے پوش سیکٹر میں ہزار گز پہ  بنا ڈوپلیکس اپنی بیگم اور سالی۔زہرا بی بی کے نام خریدا ، اپنے پورشن میں شفٹ ہو گئے اور زہرا والا گھر کرایہ پہ  دے دیا، گاؤں میں سسر کا پرانا گھر جہاں زہرا اور اسکی امی مقیم تھیں اپنے متصل آبائی  گھر میں شامل کر کے وہاں اپنا سیاسی دفتر ۔ڈیرہ بنایا۔ ان کو مین ہاؤس میں شفٹ کر دیا، سسر کے اثاثے بڑے حساب سے دونوں بہنوں میں برابر تقسیم کر دیئے۔ بنک ڈپازٹ انکی والدہ کے نام پر ہی بدستور رہے، زہرا بی بی اسلام آباد میں ایک کنال کے گھر کی مالکن بھی بن گئی۔

لاء کالج
شیزان ہوٹل

یوم شہادت حضرت علی علیہ السلام کی رمضان شریف میں مخصوص مجالس پر اس سال گاؤں میں ریکارڈ حاضری تھی،کرنل صاحب نے پہلے ہی دربار، مسجد، امام بارگاہ، قبرستان کا سارا ایریا ڈھوک سے نفری بلا کے صاف کرا دیا تھا،جھاڑ جھنکار کاٹے گئے، درختوں کی چھٹائی ، کنوؤں کی صفائی  ، راستے کے لیول، لائیٹس، لاؤڈ سپیکر غرض ہر شے فوجی  ڈسپلن کے طریق سیٹ کرا دی، لنگر اور نیاز پکانے کی جگہ مختص تھی، کھلانے کا بندوبست  تھا ۔روزہ افطاری پر ظاہر ہے سب حاضرین اکٹھے کھانا کھاتے، بیس اور اکیس کی شب ماتمی جلوس سحری تک چلے،بندوبست مثالی رہا، ذاکرین نے بھی مجالس درجہ بندی سے پڑھیں ، آخری سحری پر نماز فجر کے بعد دعاء اور زیارت باوا جی نے پڑھائی جس کے دوران اصغر شاہ نے تین سرائیکی بند پڑھے، حاضرین کی رائے میں تمام ذاکرین کی مقبول مجالس کے مقابل رقت اور گریہ اصغر کو نصیب ہوا۔

اصغر اب لا ء کالج میں تھرڈ ائیر میں سٹوڈنٹ تھا ہاسٹل میں کمرہ تھا، صوبیدار صاحب کا بیٹا احسن اور ٹھیکدار حق نواز چک والے کا بیٹا شفقت جو لاء کر کے لاہور میں ایک سینئر سے کام سیکھ رہا تھا دونوں اس کے سرپرست تھے، احسن کامرس کالج میں کلاسیں اٹینڈ کر کے لاء کالج ہاسٹل آ جاتا، شفقت بھی کچہری کے بعد ہاسٹل پہنچ جاتا، لنچ ہاسٹل میں کرتے، شام کو مال روڈ پہ  شیزان بیٹھتے، وہاں چائے کے دور چلتے اور دوست بھی آتے لیکن ان کی گراؤنڈ فلور پے ہال میں ٹیبل اور نشست مخصوص تھی۔

ہمارے علاقے میں یہ اونچی ذات ، راجہ، چوہدری، سردار ، ملک ، شاہ کہلانے والے بھلے زعم ذات میں رہیں لیکن زندگی کے امور و رموز میں یہ لوگ ،دستکار ذاتوں اور حرفت کا کام کرنے والوں کی عقل۔دانش اور مہارت میں انکے عشر عشیر کیا پاس کو بھی نہیں  ہوتے، اصغر کے سینئر دوست شفقت کا دادا چک کا مستری تھا باپ نے محنت کر کے ٹھیکیداری شروع کی اور اس نے لاء کر لیا، اصغر شاہ اور سردار احسن جب اسے داخلے کے لئے ملے تو اس نے اصغر شاہ کا لاء پارٹ ٹو میں نہ صرف داخلہ کرایا ہوا تھا بلکہ امتحان کی تیاری تھی، شفقت نے حیدرآباد سے اصغر کے کارسپانڈس کورسز سے بی اے کرنے ، لاء پارٹ ون پاس کرنے کی اصل سندیں بنوا لیں تھیں، لاہور پارٹ ٹو میں داخلہ اور حاضری سب مکمل تھا، ساتھ ہو کے امتحان دلوایا، پاس کرایا اب تھرڈ پارٹ کے امتحان کی تیاری کروا رہا تھا،کام کرانے اور نکلوانے کا ہنر ہوتا ہے۔

اس دوران اصغر اور شفقت ہر ویک اینڈ ملتان ہوتے، باوا جی بھی دو مرتبہ آئے، بنک کے افتتاح پر اور حاطے میں تعمیر شروع کرانے، بنک کی ٹوٹل کاسٹ چار لاکھ سے کم رہی، باوا جی نے شفقت کے والد کو ساٹھ ہزار دیئے،ٹیوٹا جیپ کی لاگت پینتالیس ہزار آئی  یوں بنک کے دیئے پیسوں سے لاکھ روپے بچ گئے، پرانی اینٹیں اور لکڑی بھی مل گئی،دونوں حاطے اور ڈنگر ڈیرے ملا کے ڈیڑھ کنال زمین تھی، جس کے سامنے گلی کی جگہ سڑک بنی تو پانچ چھ مرلے اس میں آگئی ،یہ شفقت کی آبائی  پیشے کی مہارت تھی کہ اس نے ڈبل سٹوری تین بیڈ روم کا بنگلہ، اس کا لان اور روڈ سائیڈ پہ  آفس
کا نقشہ بنا دیا، اس تعمیر پہ  خرچہ لیبر اور ریت سیمنٹ کا ہوا، شاید ساٹھ ہزار کے لگ بھگ، باوا جی نے پورا لاکھ دے دیا، گھر بنک مینیجر نے کرایہ پر لے لیا، اور دفتر شفقت نے تیار کروا کے ۔شاہ اینڈ شفقت ایسوسی ایٹس ،لاء چیمبر   کا بورڈ لگا دیا۔

طالب علمی کے زمانے میں ہم عصر اور ہم جماعت ہونے سے تعلق تو استوار ہوتا ہے لیکن دوستی کے لئے ہم خیال اور یکساں محرومی کا ہونا بنیاد بنتا ہے۔ شفقت، احسن اور اصغر میں قدر مشترک مادری شفقت سے محرومی تھی۔ شفقت کو اسکے دادا دادی نے پالا تھا اور وہ اب بھی انکے ساتھ رہتا۔ احسن کے گھر میں اس کی دوسری والدہ تھیں ۔اصغر آزاد پنچھی تھا ۔
لاہور جیسے شہر میں جہاں یونیورسٹی، کالج ، گرلز ہاسٹل لڑکیوں سے بھرے پڑے تھے، دن بھر لڑکیوں کے ڈار ان کے آس پاس منڈلاتے تھے ان تینوں کا کسی افیئر میں نہ ہونا اس وجہ سے تھا کہ وہ ہر لڑکی کو شہوت کی نگاہ سے نہیں ،عقیدت کی نظر سے دیکھتے ۔ ہر عورت میں وہ ممتا کی جھلک ڈھونڈتے، اصغر کی وقار شاہ اور زہرا بی بی میں قربت پیدا کرنے کی غیر روایتی کاوش، زہرا کو ماں کے روپ میں دیکھنے کی خواہش اسی احساس ِ محرومی کا شاخسانہ تھی۔

عید الفطر کے بعد کرنل صاحب نے ممکنہ الیکشن کی تیاری کی ابتدا گاؤں میں اپنے سادات قبیلہ کی دعوت سے کی،بچے ابھی چھوٹے تھے ورنہ اتنے خرچے میں ایک ولیمہ ہو سکتا تھا، خیر مردوں کا اجتماع کرنل صاحب کے اپنے ڈیرے اور سیاسی دفتر میں رکھا گیا، اور وہ خود اس کے منتظم تھے، خواتین کے لئے باوا جی کی حویلی اور بیٹھک پہ  بندوبست تھا،جہاں لا محالہ زہرا بی بی اور مسز اکبر شاہ میزبان تھیں ۔ سپروژن بھولے بھالے اصغر شاہ کے ذمہ لگی۔برادری میں عام تاثر یہ تھا کہ باوا وقار شاہ کے گھر کی چونا پالش اصغر کی شادی کے لئے کی گئی خاندان کی خواتین کا اصغر سے پردہ نہیں  تھا فیملی کا بچہ تھا۔ اب جن گھروں کی بچیوں سے اس کی نسبت ممکن تھی،سب نے ان کو خوب تیار کیا تھا ۔ہر ایک کی کوشش تھی کہ اصغر کے سامنے نمایاں رہے،مسز اکبر بچیوں کی ماں تھی وہ یہ سب سمجھتی تھی، دیور کے لئے موزوں لڑکی وہ بھی جانچتی رہی۔لیکن زہرا بی بی اصغر کو پل بھر بھی اوجھل نہیں  ہونے دے رہی تھی،مردوں کا کھانا، اور گپ شپ جلدی ختم ہو گئی، تو فیملی والے حضرات بھی باوا جی کی بیٹھک پہ  آ گئے کہ لیڈیز باقی ہر جگہ فرسٹ بھلے ہوتی ہوں دعوت میں وہ آخری سویٹ ڈِش کے آخری نوالے تک میدان نہیں  چھوڑتیں۔
حویلی میں مکس گٹ ٹوگیدر بن گیا، باوا جی بھی موجود تھے۔ اور ایک عرصے بعد ۔ خاندان کے سامنے ۔۔
وقار شاہ اور زہرا بی بی کا مکالمہ ہوا۔ دونوں طرف بلی تھیلے سے کودنے کو بیتاب تھی۔دیکھنے اور تاڑنے والی نظریں جان گئیں کہ زہرا بی بی جو اصغر پہ  جان چھڑکتی پھرتی تھی اس کے پیچھے کیا ہے
محفل کے چند لمحوں میں واقف ماضی شریکوں نے تصور میں زہرا کے والد کی جہاں پوسٹنگ ہوتی،وہاں وقار شاہ کا آنا جانا یاد کر لیا، مہینوں سے بنتے شک کہ کچھ خاص ہے کی تصویر سامنے تھی
لیکن دعوت کے بعد بھی چونکہ دونوں طرف بظاہر خاموشی تھی، خواتین میں کانا پھوسی ہوتی ۔ کسی کو کھل کے بات کرنے کا حوصلہ نہ تھا۔
زہرا کی والدہ  اور بڑی بہن مسز کرنل بھی موجود تھیں، اشارے کنائے میں تو ان کے گھر میں بات ہوتی ۔ اب یہ ایشو کسی طرف لگانا لازم ہو گیا، ذہنی طور پہ  تو سب تیار تھے لیکن برادری، خاندان،اکبر شاہ میجر جعفر،کرنل کے میجر بھائی  ، وقار شاہ کے داماد اور خاص طور پر “مرید ” انکے ردعمل کا خوف تھا۔
تھوڑی دیر میں کرنل صاحب کی آمد ہوئی ، وہ اپنے ڈیرے سے سامان اٹھوا کے ہر شے سیٹ کرا کے آئے،یہاں بھی سامان اٹھانے والے اور ریڑھے حویلی میں پہنچے تو خواتین رخصت ہونے لگیں دس پندرہ منٹ میں مہمان چلے گئے، کرنل صاحب کے ڈرائیور نے انکی بیگم، ساس اور زہرا کو واپس گھر چھوڑنے کو ڈیوڑھی میں کار لگائی ، باوا جی بھی انہیں خدا حافظ کرنے آئے، زہرا کے لئے اصغر نے کار کا دروازہ کھولا۔ ساتھ ہی باوا جی کھڑے تھے، زہرا کو سلام کیا تو اس نے مسکراہٹ بھرے لہجے میں کہا۔
“ وقار جی ۔ ماشااللّہ آپکی حویلی اور بیٹھک تو نئی نکور ہو گئی  ہیں”۔۔۔
اصغر بیچ میں بولنے لگا تو اس کے  گال پہ  چٹکی لیتے زہرا نے وقار شاہ کی آنکھوں میں دیکھتے اضافہ کیا۔۔
“ اس میں نئے مکین کب لا رہے ہیں ؟ یہ کہہ کے وہ تو کار میں بیٹھ گئی،
وقار شاہ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ سب انہیں دیکھ جو رہے تھے، سُن بھی رہے تھے
باوا جی نے اصغر کو سمائل دی، اور چاچے نورے سے چائے بنانے کا کہنے بھیج دیا کہ کہیں وہ سب کے سامنے کوئی  تبصرہ ہی نہ  کردے ۔ کرنل صاحب نے بتایا کہ وہ زہرا اور ساس کو ساتھ اسلام آباد لے کر جائیں گے، وہ خود راجن پور جا رہے ہیں ۔ملتان بھی آئیں گے، مربعے اور معاملات پہ  بات ہونے لگی۔ چائے آ گئی ۔ تو اصغر نے نئی پھلجڑی چھوڑ دی۔۔۔۔
کہنے لگا کہ اس کے دوست شفقت کا چھوٹا چچا احمد نواز کاظم جو باوا جی سے مل چکا ہے وہ پہلے شیعہ ہوا،اب اسے دس بندوں کا حج کوٹہ ملا ہے، وہ چاہتا ہے کہ پہلی بار پکے شیعہ بزرگ لے کے جائے، تو کرنل انکل آپ تو عمرہ کر آئے ہیں زیارات بھی تو آپ، اور آپکی مسز،باوا جی، آنٹی زہرا ، انکی امی ، پانچ بندے تو گھر کے ہو گئے، صوبیدار انکل اور ان کی بیگم بھی جانے کو تیار ہونگے احسن کہہ رہا تھے۔۔۔۔
چلیں ڈن کریں۔
کرنل صاحب کھلکھلا کے ہنس پڑے،تم بھی چلو گے ؟ اصغر نے کہا میرا تو ابھی کوئی  محرم ہی نہیں  ہے۔اس دعوت میں اصغر کے مردانہ قوی پہلی بار بیدار ہوئے ، خاندان کی ہم مرتبہ ، ہم عمر اور ہم نشین ہونے کی آرزومند لڑکیوں کے جوانی سے مہکتے بدن کی خوشبو اس نے محسوس کی، سمجھے بغیر اسے اپنے بدن میں آہٹ سی ہوتی لگی، یہ کیفیت بڑی کیف انگین تھی۔۔۔

پچھلے تین دن سے روزانہ شیزان ہوٹل کے ہال میں تین نوجوان ایکسپرٹ دو وکیل ایک اکاؤنٹنٹ ، شفقت اصغر اور احسن مسلسل اس پر غور کر رہے تھے کہ اصغر کی آنٹی نے یوں کھلے بندوں ، نئی مکین کی بات کر کے شادی پر رضامندی کا اظہار کیا، یہ مزاح تھا ! اصغر کی شادی کی فرمائش تھی یہ کیا بات تھی۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *