وفا جن کی وراثت ہو۔۔(قسط1)سید شازل شاہ گیلانی

شام کے دھندلکے بڑھ رہے تھے, یہاں سارا سال ہی موسم بہت اچھا رہتا ہے مگر آج خنکی کچھ زیادہ ہی تھی, شمال سے آنے والی سرد ہوائیں بہت تیزی سے درجہ حرارت کو نقطہ انجماد کی طرف لے جا رہی تھیں, چائے کا کپ ہاتھ میں لیے وہ باہر نکلا اور کرسی پہ جا بیٹھا, چائے کے گھونٹ لیتے ہوئے اس کا ذہن ماضی کی طرف لوٹ گیا جب وہ یونٹ میں نیا نیا پوسٹ ہوا تھا ۔۔۔

اکیڈمی اور اس کے بعد انفنٹری سکول کی تھکا دینے والی ٹریننگ کا خاتمہ ہو چکا تھا اور اسے اپنی یونٹ میں رپورٹ کرنے کا حکم ملا, آج بہت خوش تھا،بالآخر عملی طور پر وہ اپنے ملک و قوم کی خدمت کرنے کے قابل ہو چکا ہے, سکول سے نکلتے ہی بابا کو کال کر کے بتایا کہ سیدھا یونٹ جاؤنگا اس کے بعد گھر آؤنگا دعا کیجیے گا کہ سب ٹھیک رہے, سنا ہے کہ نئے آنے والے کے ساتھ بہت مذاق کیا جاتا ہے , بابا بھی چونکہ آرمی سے ریٹائرڈ تھے یہ سن کر بہت ہنسے کہ کچھ نہیں ہوتا خیریت سے پہنچو اور انٹرویو کے بعد جلدی آنے کی کوشش کرنا, ڈھیر ساری دعائیں دینے کے بعد کال بند ہوئی ۔
وہ سامان اٹھا کر اپنی منزل کی جانب نکل پڑا اور یونٹ میں کال کر دی کہ جیسے ہی وہ شہر کے قریب پہنچے گا , گاڑی بھجوا دیجیے گا ۔۔۔۔۔

بابا آج خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے کیونکہ ان کا خواب پورا ہو رہا تھا, بابا کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا پاک آرمی۔ جوائن کرے, بیٹے نے پہلے تو انکار کر دیا کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتا ہے اور سپیس اینڈ ٹیکنالوجی میں ماسٹرز کرنا چاہتا ہے مگر بابا نے اسے سمجھایا کہ “بیٹا بہت کم لوگ ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس یونیفارم سے نوازتے ہیں اور اس پاک وطن کی حفاظت کا فریضہ سونپتے ہیں, کفران نعمت مت کرو اور جوائن کرلو, میری خواہش تھی کہ میں اپنے وطن پہ اپنی جان قربان کرتا مگر اللہ نے یہ خواہش پوری نہیں کی , اب چاہتا ہوں کہ میں اپنے بیٹے کو شہید کے روپ میں دیکھوں اور فخر سے کہہ سکوں کہ میں ایک شہید کا والد ہوں” اپنے بابا کی شدید ترین خواہش کو عملی جامہ پہنانے کا لمحہ آ پہنچا تھا ۔ ان کا بیٹا انکی خواہش پہ سر تسلیم خم کرتے ہوئے ٹریننگ مکمل کر کے اپنی یونٹ کی طرف رواں دواں تھا ۔۔۔۔

سردی بڑھ رہی تھی وہ شال سنبھالتا ہوا کمرے میں آ گیا , ذہن میں مسلسل ماضی کے وہی لمحات ایک فلم کی صورت چل رہے تھے , کمرے کی لائٹ بند کی، شال اتاری اور کمبل اوڑھ کر بستر پہ دراز ہوگیا , اچانک دروازے پہ دستک ہوئی اور پوچھا گیا ” سر ؟ موسم بہت سرد ہو چکا ہے کسی چیز کی طلب ہو تو پلیز انٹرکام پہ بتا دیجیے گا لڑکا لے آئے گا”
اس نے جواب دیا ” نہیں یار، آرام کرو تم سب لوگ اور اپنا خیال رکھنا۔ اوپر پوسٹ والے سنتری کو چائے بھجوا دینا اور اسے الرٹ رہنے کا بول دینا ” دستک دینے والا ۔ “جی سر ” کہتے ہوئے واپس پلٹ گیا اور وہ دوبارہ اپنے ماضی کی یادوں میں گم ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ چار بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا, گھر کیا تھا جنت کا ایک ٹکڑا تھا جہاں ماں بابا نے اپنی محبت اور سلوک سے ایسا ماحول ترتیب دیا تھا کہ باہمی محبت اور ااحترام حد سے سوا تھا ، دو بڑی بہنیں تھیں اور دو اس سے چھوٹی, بابا آرمی سے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کر رہے تھے اور ماما شہر کے گرلز کالج میں پروفیسر تھیں ، بہنیں اپنی اپنی تعلیم مکمل کر رہی تھیں، بابا نے گھر میں سب کو بتادیا کہ “زین اپنی یونٹ پہنچ چکا ہے ۔ کچھ دن میں گھر آ جائے گا”

رمشاء بولی “بابا، بھیا یونٹ کیوں گئے ہیں ؟ عید سر پہ ہے ہم تو انتظار کر رہے تھے کہ وہ سیدھا گھر آئیں گے، اتنا عرصہ ہو گیا ہے ان کو دیکھے” وہ روہانسی ہو رہی تھی۔ بہنیں  اسے دیکھ کر ہی جیتی تھیں۔ اسے دیکھ کر آنکھوں کی جوت بڑھ جاتی تھی۔ بابا نے مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور بولے ” بیٹا اس نے کہا ہےکہ وہ ایک بار یونٹ سے ہو آئے تو پھر ہی گھر آئے گا، دعا کیا کرو اپنے بھائی کے لیے کہ اللہ تعالی اسے اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔۔۔۔۔” بابا نے آنکھوں کی نمی اس سے چھپائی۔ جس میں فخر سا جھانک رہا تھا۔
وہ جیسے ہی شہر کے قریب پہنچا, صوبیدار عامر صاحب کی کال موصول ہوئی ” کب تک پہنچنے والے ہیں آپ، ہم کافی دیر سے بس اسٹینڈ پہ آپکا انتظار کر رہے ہیں”
اس نے انہیں بتایا ” بس پانچ منٹ اور لگیں گے سر”

کچھ ہی دیر میں وہ اپنے سٹاف کے سامنے تھا، عامر صاحب نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگایا اور ایک لڑکے سے سامان لینے کو کہا, سامان گاڑی میں رکھ کر یونٹ کی طرف رواں دواں ہوئے تو راستے میں عامر صاحب نے یونٹ سٹاف اور لوکیشن کا تعارف کروایا اور باتوں باتوں میں ہلکا پھلکا انٹرویو بھی کر لیا۔
کچھ دیر میں گاڑی یونٹ کے گیٹ سے ہوتی ہوئی کار پارکنگ میں جا رکی, سامنے ایڈجوٹینٹ کیپٹن فواد اور کوارٹر ماسٹر لیفٹیننٹ بلال استقبال کے لیے کھڑے تھے, سلام دعا کے بعد وہ ایڈجوٹینٹ آفس میں جا بیٹھے، ٹی بریک تھا ،ویٹر ٹی لے آیا، فواد سرکی مذاق کی عادت تھی۔ بولے ،” یار زین تجھے مرنے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں  ملی جو سیدھا یہاں آ گیا ہے ؟ اللہ کے بندے پہلے گھر والوں سے تو مل آتا اتنی جلدی بھی کیا تھی؟” اس پہ سب کا زوردار قہقہہ بلند ہوا۔

بلال بولا “سر میرا خیال ہے اب چلا جائے کافی سفر کر کے آیا ہے، تھکا ہوا ہوگا اب اسے کمرہ دکھا دیتے ہیں تاکہ فریش ہو جائے۔ کل تو ویسے بھی اس نے بَلی کا بکرا بن جانا ہے ۔۔۔ ” ساتھ ہی منہ نیچے کر کے ہنسنے لگا۔ جیسے اپنے ہی مذاق سے لطف اندوز ہورہا ہو۔
فواد سر بولے” ایسے تو مت کہویار بلال ، کیوں بچے کو ڈرا رہے ہو؟ چلو اب چلتے ہیں باتیں تو ہوتی رہیں گی۔۔۔۔۔۔”

رات پرسکون نیند لینے کے بعد صبح نماز کے وقت اٹھ کر اس نے غسل کیا اور نماز ادا کر کے تلاوت کی, یونیفارم استری ہو کر آچکی تھی۔ وہ زیب تن کی , ناشتہ کیا اور یونٹ کی طرف چل پڑا، راستے میں دعا کرتا رہا کہ اللہ کرے سی او سر سے پہلی ملاقات بہت اچھی ہو, سنا تھا بہت ڈسپلنڈ آدمی ہیں اور کوئی بھی کوتاہی برداشت نہیں کرتے۔
جاری ہے ۔۔۔۔

سید شازل شاہ گیلانی
سید شازل شاہ گیلانی
پاسبان وطن سے تعلق , وطن سے محبت کا جذبہ اور شہادت کی تڑپ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *