علامہ اقبال اور کشمیر(ایک سرسری مطالعہ)۔۔۔۔رحمان حفیظ

علامہ اقبال کے کلام میں کشمیر کا ذکر خصوصی اہمیت کا حامل ہے بلکہ ڈوگرہ راج کے حوالے سے توکشمیریوں کی مظلومیت کا ذکر بڑےہی اہتمام کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ تویہ ہے کہ علامہ ایک انصاف پسند شخص تھے اور ہر ملک و ملت کے لئے آزادی اور خود مختاری کے قائل تھے۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ کشمیر ی متاثرین میں غالب اکثریت مسلمانوں کی تھی اور اقبال دنیا بھر میں مسلمانوں کی آواز بن کر اُبھرے تھے لیکن ان کے علاوہ ایک تیسری وجہ بھی اہم ہے۔ وہ یہ کہ خود علامہ نسلاً کشمیری تھے ۔

کہا جاتا ہے کہ اقبال کے پردادا آج سے کئی صدیاں پہلے کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکوٹ میں آ باد ہوئے تھے۔ اس زمانے میں کشمیر کوافغانسان سے کنٹرول کیا جا رہاتھا۔ ہجرت کی وجوہات واضح نہیں ہیں ممکن ہے روزگار کے معاملات ہوں ۔ خیر اقبال کے دادا کی شادیاں یہیں ہوئی اور ان کی اولاد پروان چڑھی۔ باقی تین بھائیوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ملتیں۔ بہر حال اقبال کشمیر کو اپنا وطن سمجھتے تھے اس لئے ایک جگہ یوں لکھا ہے

کشمیر کا چمن جو مجھے دلپذیر ہے
اِس باغِ جاں فزا کا یہ بلبل اسیر ہے
ورثے میں ہم کو آئی ہے آدم کی جائیداد
جو ہے وطن ہمارا وہ جّنت نظیر ہے
موتی عدن سے، لعل ہُوا ہےیمن سے دور
یا نافہ غزال ہوا ہےختن سے دور
ہندوستان میں آئے ہیں کشمیر چھوڑ کر
بلبل نے آشیانہ بنایا چمن سے دُور

ان کے ایک فارسی شعر میں کشمیر کا تذکرہ دیکھیے

تنم گلے زخیابانِ جنت کشمیر
دلم ز خاکِ حجاز و نواز شیراز است

مفہوم : میرا جسم گلشن کشمیر کا ایک گلاب ہے ، دل سر زمین حجاز سے آیاہے اور میری آواز کا تعلق سعدی و حافظ کے شہر شیراز ( ایران) سے ہے ۔

اقبال کے بارے میں جا بجا مذکور ہے کہ وہ کشمیر اور کشمیریوں کے معاملات میں بے حد دلچسپی لیتے تھے اور کشمیر کی تاریخ و مسائل سے مکمل طور پر آگاہ تھے۔ ۔ واضح رہے کہ کشمیری بادشاہ شاہ میر 1339 میں تخت نشیں ہُوا جس کے بعد پانچ صدیاں یہ خطہ مقامی یا غیر مقامی مسلمان حکمرانوں کے پاس رہا جن میں مغلوں اور درّانیوں کا لگ بھگ اڑھائی سو سالہ دورِ اقتدار بھی شامل ہے۔ اس کے بعد سکھا شاہی کا دور آیا اور مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کشمیر کو بھی اپنی عنانِ اقتدار میں لے لیا تا وقتیکہ انیسویں صدی کے وسط میں انگریزوں نے سکھوں کو شکست دے کر کشمیر پرقبضہ کر لیا۔ بعد ازیں معاہدہء امرتسر کے تحت انگریزوں نے پچھترلاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض کشمیر کا سودا ڈوگروں سے کر لیا اور کشمیر اور ذیلی ریاستیں اور ملحقہ علاقےراجہ گلاب سنگھ کے حوالے کر دئیے گئے۔ کشمیری سلطنت کا ایک چھوٹا سا شمالی حصہ انگریزوں کی عملداری میں بھی رکھا گیا اور غالبا کچھ حصہ ایسا بھی تھا جس پر کسی کا کنٹرول نہ تھا۔ تحریک پاکستان کے دوران کشمیریوں نے کھل کر مسلمانوں کی نئی مملکت کی حمایت کی اور اس میں شامل ہونے پر کمر بستہ ہوئے لیکن ڈوگرہ راج نے رائے شماری میں بھارت کے حق میں ووٹ دے دیا جس پر آزادئ کشمیر کی جنگ شروع ہو گئی جو آج تک کسی نہ کسی صورت جاری ہے۔ حال ہی میں کشمیریوں کے مصائب میں بے پناہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب بھارت نے اپنے مقبوضہ حصے میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی اور عملا ًمقبوضہ وادی کے مکینوں کو محصور کر کے رکھ چھوڑا۔ لیکن حقیقیت یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی ، ڈوگرہ راج سے لے کر آج تک، کشمیری کسی اچھی صورت حال سے دوچا رنہیں رہے۔ وادی میں مظالم کا سلسلہ جاری ہوئے لگ بھگ پونے دو سو سال ہونے کو ہیں اور ظلم کی سیاہ رات ڈھلنے میں نہیں آ رہی۔

اس صورت حال نے اقبال کو بھی خون کے آنسو رلایا اور وہ عمر بھر کشمیر اور کشمیریوں کے لئے آواز بلند کرتے رہے۔ علامہ اقبال کے ایما پر1931ء میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں آیا جس کے مقاصد میں مجبور کشمیریوں کی مدد اور ان کی آزادی میں تعاون شامل تھا۔ یہ کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کے آغاز کا زمانہ تھا۔ اقبال خو دبھی اس کمیٹی کے صدر رہے اور کشمیریوں کی حریت کے لئے جد و جہد کرتے رہے ۔ اقبال نے اس سے پہلے 1921 میں میں کشمیر کا دورہ بھی کیا تھا۔ وہ اس وقت کے کشمیری حکمران مہاراجہ پرتاپ سنگھ کی پیش کش کے باوجود سرکاری مہمان نہیں بنے اور عوامی رابطوں میں شریک رہے۔
اقبال نے اپنے مکتوبات میں جا بجا کشمیر کا ذکر کیا ہے ۔ وہ کشمیر کی آزادہ پر غیر متزلزل ایمان کے حامل تھے چنانچہ ایک خط میں لکھتے ہیں

“میرا عقیدہ ہے کہ کشمیر کی قسمت عنقریب پلٹا کھانے والی ہے”

صوفی تبسم کے نام ایک خط میں لکھا

“کشمیر کے سلسلے میں اس کی ضرورت نہیں کہ میں واقعات کے اس پس منظر کو بھی بیان کروں جو اس ملک میں حال ہی میں وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ ایسی قوم کا بظاہر اچانک قیام جس کا شرار خودی قریباََ مردہ ہو چکا تھا، باوجود ان مصائب کے جو اس قیام کا لازمی نتیجہ ہیں۔ ہر اس شخص کے لیے مسرت کا باعث ہے، جس کی نگاہ آزادی کے محرکات پر ہے”

جہاں تک کلامِ اقبال تعلق ہے تو وہ کشمیر یوں کے حقوق کا سب سے بڑا ترجمان رہا ہے۔” جاوید نامہ” میں اقبال نے کشمیر پر نہایت اہتمام اور توجہ کے ساتھ لکھا۔ “جاویدنامہ “ویسے بھی ایک ایسی کتاب ہے جسےآزادی نامہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ اس میں کشمیریوں کا خون گرمانے کا اہتمام بھی تھا، جاوید نامہ کی ایک نظم میں کشمیر کا تذکرہ آتا ہے ۔ علامہ نے اقوا م عالم کو کشمیر کے حوالے سے جس طرح شرمندہ کیا اس کی مثال شاید پوری ادبی تاریخ میں نہ ملتی ہو۔ ان کے یہ اشعار اب ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں

بادِ صبا ! اگر بہ جنیوا گزر کنی
حرفے زمابہ مجلس اقوام بازگو
دہقان و کشت و جو و خیاباں فروختند
قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند

مفہوم : اے بادِ صبا ! اگر تو کبھی جنیوا سے گزرے تو مجلس اقوام عالم ( اس وقت کی اقوام متحدہ) کو بتا دینا کہ یہاں (کشمیر میں ) میں مجبور لوگ اپنی باغوں اور کھیتیوں کے ساتھ اونے پونے داموں بیچ دئیے گئے ہیں ، حیف ایک پوری قوم کا سودا کر دیا گیا ہے اور صد حیف کہ ایک شرمناک نرخ پر کیا گیا ہے

اقبال نےاپنے ایک اور مجموعے “ارمغان حجاز” کا ایک حصہ ”ملا زادہ ضیغم لولابی کشمیری کا بیاض ” کے عنوان سے مرتب کیا جس میں کشمیر کے حوالے سے کئی نظمیں شامل تھیں۔
ایک جگہ لکھتے ہیں

آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر
سینہ افلاک سے اٹھتی ہے آہ سوز ناک
مردِ حق ہوتا ہے جب مرعوبِ سلطان و امیر
کہہ رہا ہے داستاں بیدردی ایام کی
کوہ کے دامن میں وہ غم خانہ، دہقانِ پیر
آہ! یہ قوم نجیب و چرب دست و تر دماغ
ہے کہاں روزِ مکافات اے خدائے دیرگیر؟
ہے کہاں روزِ مکافات اے خدائے دیرگیر؟

ایک جگہ خالص شاعرانہ انداز میں کشمیر کو عرش سے یوں متعلق کیا

سامنے ایسے ، گلستاں کے کبھی گھر نکلے
حبیب خلوت سے ، سرطور نہ باہر نکلے
ہے جو ہر لحظہ تجلی گر مولائے خلیل
عرش و کشمیر کے اعداد برابر نکلے

علامہ کشمیر کے بارے میں اقبال انتہائی رجائیت کے علم بردار تھے جیسا کہ اوپر کےکچھ مکتوبات سے ظاہر ہے۔ اقبال کا پورا کلام اور خاص طور پر یہ شعر درج ذیل شعر ہمیشہ آزاد ئ کشمیر کے متوالوں کے دلوں گو گرماتا اور رُوحوں کو جگمگاتا رہے گا

جس خاک کے خمیر میں ہے آتش چنار
ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *