بْرے پھنسے۔۔عزیز خان/قسط3

SHOPPING
SHOPPING

تعارف:میرانام عزیز اللہ خان ہے۔میرا تعلق ضلع بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ سے ہے۔میں نے 1982میں محکمہ پولیس میں بطور T/ASIملازمت کی یہ وہ دور تھا جب ملک میں جنرل ضیاع الحق کا مارشل لاء تھا۔شاید اسی وجہ سے محکمہ پولیس میں کی گئی بھرتیاں شفاف اور میرٹ پر ہوئی تھیں۔بطور پولیس آفیسر میری زندگی میں بہت سے ایسے واقعات ہوئے جو ناقابل فراموش ہیں میں نے ان کئی اندھے مقدمات کی تفتیش کی۔میں نے کئی ڈکیتیاں ٹریس کیں۔ زندگی میں اچھے اور برے حالات سے بھی گزرا۔کئی دفعہ موت کوبھی قریب سے دیکھا۔ اس محکمہ میں رینکرز اور پی ایس پی افسران کی طبقاتی کشمکش کا بھی شکار ہوا۔لیکن پھر بھی اللہ کے فضل و کرم سے بطور DSPریٹائرڈ ہوا ہوں۔کچھ دوستوں نے مجھے مشورہ دیا کہ کیوں نہ اپنے تجربات ومشاہدات پر مبنی زندگی کے حالات قلم بند کروں۔میں نے یہ کوشش کی ہے اب پسند یا نہ پسندقارئین زیادہ بہتر بتا سکیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

SHOمہر عبدالرحمن سیال کا تبادلہ ہوچکا تھا اور نئے SHOظفر اللہ وڑائچ آچکے تھے۔ نئے SHOکی طبعیت بڑی عجیب سی تھی ہر بات میں کڑھنا اور عیب نکالنے ان کی عادت تھی۔کیونکہ سیاسی طور پریزمان میں جٹ اور آرائیں کی آپس میں شدید کشیدگی پائی جاتی تھی جو اب بھی ہے اس لیے SHOظفر اللہ وڑائچ جٹ ہونے کے ناطے آرائیں برادری میں ناپسندیدہ تھے۔ آرائیں برادری ان سے خوش نہ تھی قصبہ یزمان میں نقب زنی کی وارداتیں اچانک بہت زیادہ ہوگئیں تھیں۔اسی طرح چھت پر سوئے ایک شخص کو بھی نقب زنی کی واردات کے دوران سر میں کوئی نوک دار چیز مار کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے قصبہ میں خاصہ خوف وہراس پایا جاتا تھا۔

چوہدری یوسف ہیڈ کانسٹیبل بھی میرے ساتھ تھا اس نے اسلم ڈبہ کوا یک تھپڑمارا تو وہ زمین پر گرپڑا اور بیہوش ہوگیا۔اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی لیکن وہ ہوش میں نہیں آرہا تھا۔ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ بہانہ کررہاہے۔میں نے فقیرحسین کانسٹیبل کو تحصیل ہسپتال یزمان بھجوایا کہ وہاں سے ڈاکٹر آفاق کو لے کر آئے۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر آفاق بھی آگیا۔اسلم ڈبہ کامعائنہ کرنے کے بعد بولا بہانہ کررہا ہے ابھی ہوش میں آجاتا ہے۔اپنے ساتھ آئے ڈسپنسر کو بولا ہسپتال سے(امونیا بائی کارب) لے کر آئے کچھ دیر بعد ڈسپنسر واپس آیا جس کے ہاتھ میں ایک بوتل تھی ڈاکٹر آفاق نے وہ بوتل اسلم ڈبے کے ناک سے لگائی اور منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔چند لمحہ بعداسلم ڈبہ اُٹھ کر بیٹھ گیا۔ہم سب ہنسنے لگے۔

یہ اکتوبر 1984ء کا واقعہ ہے محرم کا مہینہ شروع ہوچکا تھا چھ تاریخ تھی میں نے SHOسے گھر جانے کی اجازت مانگی چوہدری یوسف کو کہا کہ وہ ان لڑکوں سے مزید تفتیش کرے اور میں احمد پور شرقیہ چلا گیا۔یزمان سے احمد پور شرقیہ تقریباََ 50کلو میٹر دور ہے رات میں نے گھر گزاری اگلے روز میں واپس تھانہ یزمان پہنچا تو تھا نے کا ماحول کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔

تھانہ میں کافی رش تھا میں نے چوہدری یوسف سے پوچھا تو اس نے مجھے بتایا کہ آپ کے جانے کے بعد اسلم ڈبہ کو آپکے کمرہ میں بند کردیا تھا کیونکہ اسکی طبعیت ٹھیک نہیں تھی جبکہ باقی ملزمان کو حوالات میں بند کردیا۔دروازہ باہر سے بند تھا اور سنتری کو بتادیا تھا کہ اس کا بھی خیال رکھے۔رات کے پچھلے پہر سنتری کی آنکھ لگ گئی کیونکہ آپکے کمرہ کی کھڑی میں سلاخیں نہیں ہیں صرف جالی لگی ہوئی تھی اسلم ڈبہ موقع کا فائدہ اٹھا کر جالی توڑ کر فرار ہوگیا۔تھانہ یزمان کی کوئی سرکاری عمارت نہ تھی بلکہ تھانہ ریلوے کے کواٹرز میں بنایا گیا تھا اور اسکی دیواریں بھی چھوٹی تھیں جس سے کوئی بھی شخص با آسانی پھلانگ کر باہر جاسکتا تھا۔تھانہ پر اسلم ڈبہ کا والد مشتاق چیمہ اور اسکا چچا شبیر چیمہ بھی موجود تھا جس کو ہم سب نے یقین دلایا کہ اسلم ڈبہ واقعی بھاگ گیا ہے مل جائے گا۔

ہم سب اپنے طور پراسلم ڈبہ کو تلاش کرتے رہے لیکن اسکا کچھ پتہ نہ چلا۔حالات دن بدن کشیدہ ہو رہے تھے اور اسلم ڈبہ کا والد اس بات پر بضد تھاکہ ان کا لڑکا جس حال میں بھی ہے واپس کیاجائے۔کیونکہ آرائیں برادری SHOظفرا للہ وڑائچ کی تعیناتی کے خلاف تھی چوہدری اقبال آرائیں المعروف شیر یزمان کے علاوہ انسپکٹرملک نصیراعوان کا بھائی ظفر اعوان بھی چیمہ برادری کیساتھ مل کر اس مسئلہ کو ہوا دینے لگا۔ اسلم ڈبہ کے وراثاء اس وقت زیادہ شک میں پڑگئے جب انھیں ڈاکٹر آفاق کے تھانہ پر آنے اور اسلم ڈبہ کو چیک کرنے کے بارے میں پتہ چلامگر SHOاس بات سے صاف انکاری ہوگیاکہ کوئی ڈاکٹر تھانہ پر آیا تھااس بات کی تصدیق انھوں نے ڈاکٹر آفاق سے کی تو اس نے بتایا کہ وہ واقعی تھانہ پر گیا تھا اور اسلم ڈبہ کا علاج بھی کیا تھا کیونکہ داکٹر آفاق بھی جٹ برادری سے تعلق رکھتا تھااس لیے اس نے یہ بات نہیں بتائی کہ اسلم ڈبہ مکر کررہا تھا۔

اب ورثاء مزید تشویس میں مبتلاہو گئے کہ اسلم ڈبہ دوران تفتیش پولیس کے ہاتھوں ہلا ک ہوگیا ہے۔ایک ہفتہ بعد شام تقریباََ4بجے میں یزمان بازار میں موجودتھا کہ مجھے اطلاع ملی کہ ہیڈراجکاں پل پر نہر سے ایک لڑکے کی لاش ملی ہے جسکا سر اور بازو کٹاہوا ہے۔ کچھ لوگوں نے لاش اٹھا کر سڑک پر رکھ دی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ لاش اسلم عرف ڈبہ کی ہے جسے کچھ یوم قبل پولیس نے تشددکرکے مار دیا تھا۔ اس کا سر اور بازوبھی کاٹ دیا تاکہ شناخت نہ ہوسکے۔میں ابھی بازار میں ہی موجود تھا کہ خبر ملی کہ بہت سے لوگ اکٹھے ہوگئے ہیں اور تھانہ کا گھیراو کرلیا ہے۔تھانہ میں موجود پولیس ملازمین پر تشدد کررہے ہیں اور لوگوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے

میں نے تھانہ سے چار کلومیٹر دورچک نمبر56میں اپنے ایک دوست عبدالمالک جوکہ بلدیہ میں ملازمت کرتا تھاسے گھر کرائے پر لے رکھا تھا۔ میں فوری طور پر اپنے گھر چلا گیا۔عبدالمالک میرے گھر آیا تو کافی پریشان لگ رہا تھا جس نے مجھے بتایا کہ مشتعل ہجوم نے تھانہ کو آگ لگا دی، ملازمین نے بڑی مشکل سے اپنی جان بچائی ہے تھانہ کا ریکارڈ اور سارا سامان جل گیا ہے سب سے زیادہ نا م آپکا آرہا ہے کیونکہ اسلم ڈبہ کو آپ نے گرفتار کیا تھا لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ نے ہی اسے قتل کردیا ہے۔میں نے تھانہ کی طرف جانا چاہا تو عبدالمالک نے مجھے روکا اور کہا کہ حالات اچھے نہیں ہیں آپ تھانہ پر مت جائیں۔ اسلم ڈبہ کے ورثا ء اور ہجوم بہت زیادہ مشتعل ہے وہ کہیں آپکو نقصان نہ پہنچا دیں۔میں اسکے کہنے پر تھانہ نہ گیااورگھر پر ہی موجود رہا عبدالمالک وقتاََ فوقتاََ مجھے تمام حالات بتاتا رہا۔

رات تقریباََ10بجے اس نے مجھے بتایا کے حالات بہت کشیدہ ہوچکے ہیں فوج آچکی ہے لیکن لوگ ابھی بھی مشتعل ہیں۔DIGاور SSPبہاولپور بھی موقع پر موجود ہیں اور یہ ہدایت کی گئی ہے کہ تھانہ میں حاضر تما م ملازمین کو گرفتار کرلیا جائے۔ آپ یہاں نہ رہیں اور کہیں چلے جائیں۔مجھے یاد ہے تین دن پہلے میں نے نیا ہنڈا 125سواری کے لیے لیا تھا میں اپنے ہنڈا پر بیٹھا اور اپنے آبائی گھر احمد پور شرقیہ پہنچ گیا۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہو گیاہے۔ایک ایسا کام جو میں نے نہیں کیا تھا نہ میں نے کسی کوقتل کیا تھا اور نہ ہی لاش نہر میں پھینکی تھی۔گھر پہنچ کر میں نے تمام حالات اپنے بڑے بھائی حفیظ خان کوبتائے وہ ان دنوں سی ایس ایس کی تیاری کر رہے تھے۔سارے گھر والے پریشان ہوگئے۔

اگلے دن مختلف اخبارات میں شہ سرخیاں لگی ہوئی تھیں جس میں پولیس کے ظلم و ستم کی داستانیں تحریر تھیں اور اخبارات میں یہ بھی درج تھا کہ پولیس والوں نے کس طرح بے دردی سے مقتول اسلم ڈبہ کی گردن وبازو کاٹااور کس طرح اس کے دل، گردے، جگر بھی نکال لیے۔غرض جتنے منہ اتنی باتیں تھیں کوئی میری بات پر یقین کرنے کو تیار ہی نہیں تھاکہ پولیس ملازمین نے اسلم ڈبہ کو تشدد میں نہیں مارا۔اخبار میں سب سے زیادہ میرا نام تھا۔

میرے بھائی اور گھر والے بھی مجھ پر شک کررہے تھے وہ یہ کہتے تھے کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ نے اسے نہیں مارا لیکن اگرباقی پولیس ملازمین نے مارا ہے تو آ پ ہمیں سچ سچ بتا دیں۔میرے پھوپھی زاد بھائی ڈاکٹر اقبال بلو چ بھی سول ہسپتال احمد پور شرقیہ میں ہی ملازمت کرتے تھے۔اسلم ڈبہ کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے احمد پور شرقیہ ہسپتال لائی گئی کیونکہ یزمان میں پوسٹ مارٹم نہیں ہوسکتا تھا بھائی اقبا ل نے بتایا کہ لاش کا پوسٹ مارٹم ہو رہا ہے۔اسلم کے ورثاء کا فی غصے میں ہیں ہسپتال میں یہ باتیں بھی ہورہی تھیں کہ سب پولیس ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ہوسکتا ہے آپکی گرفتاری کے لیے بھی پولیس ریڈ کرے۔

کیونکہ میرا گھر علاقہ تھانہ سٹی احمد پور شرقیہ میں آتا تھا۔ ان دنوں مہر عبدالرحمٰن سیال جویزمان سے تبادلہ ہوکر احمد پور شرقیہ تعینات ہوئے تھے۔انھوں نے بھی بڑئے بھائی کو کہا کہ عزیز خان کو پیش کردیں۔ان حالات میں،میں پیش نہیں ہونا چاہتا تھا جب تک تمام صورت حال واضح نہ ہوجاتی یا اسلم ڈبہ زندہ حالت میں مل جاتا۔میں نے اپناپاسپورٹ ساتھ لیا اور اپنے دوست محمود بھٹی کیساتھ احمد پور لمہ تحصیل صادق آباد ضلع رحیم یار خان بڑے بھائی حفیظ خان کے ایک دوست ڈاکٹر مقبول کے پاس چلا گیا۔ وہاں رہتے ہوئے میں نے انگلینڈ جانے کے لیے کوششیں شروع کردیں۔

بذریعہ اخبارات و ٹیلی فون مجھے حالات سے آگاہی ہو رہی تھی۔حالات دن بدن خراب ہو رہے تھے میں نے اپنے گھر ٹیلی فون پر بات کی تو پتہ چلا کہ اگر میں پیش نہ ہوا تو شاید میری جگہ میرے بڑے بھائی حفیظ خان کو گرفتار کرلیں۔

میری غیرت کو یہ بات گوارا نہ تھی کہ میرے بڑے بھائی کو گرفتار کیا جاتا۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں انگلینڈ نہیں جاتا اور واپس جا کہ حالات کا مقابلہ کروں گا کیونکہ مجھے یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ گرفتار شدہ پولیس والے سارا الزام مجھ پر ڈال رہے ہیں۔میں اسے روزاحمد پور لمہ سے واپس احمد پور شرقیہ کے لیے روانہ ہو گیا۔صبح سویر اپنے گھرپہنچا والدہ اور فیملی سے ملابڑے بھائی نے پولیس کو میرے آنے کی اطلاع کردی۔مہر عبدالرحمٰن سیال جو کہ میرے پہلے SHO بھی تھے گھر پر ہی آگئے انھوں نے مجھے ساتھ لیا اور ہم SSPہاؤس بہاول پورپہنچ گئے۔تھوڑی دیر بعد SSPخواجہ خالد فاروق اپنے کیمپ آفیس میں آگئے۔میں نے انھیں اپنی تمام آپ بیتی سنائی اور انھیں یقین دہانی کروائی کہ اسلم ڈبہ واقعی تھانہ سے بھاگ گیا تھا کسی بھی ملازم نے اسے قتل نہیں کیا۔لیکن مجھے SSPکے چہرے کے تاثرات سے صاف معلوم ہو رہا تھا کہ وہ میری کسی بات پر یقین نہیں کررہے۔انھوں نے انسپکٹر مہر عبدالرحمٰن کو کہا کہ اس کو لے جا کر SHOتھانہ کوتوالی بہاول پور کے حوالے کریں۔مہر صاحب نے مجھے اپنے ساتھ لیا اور تھانہ کوتوالی بہاولپور آگئے جہاں انھوں نے مجھے SHO کے حوالے کردیا، SHO نے تھوڑی دیر تو مجھے اپنے ساتھ کرسی پر بیٹھایا اور اسکے بعد محرر تھانہ کو بلوا کر کہا کہ خان صاحب کو حوالات میں بند کر دیں۔ جہاں میرے ساتھ تعینات تھانہ یزمان کے بقیہ ملازمین پہلے سے ہی بند تھے۔مجھے دیکھتے ہی ملازمین نے اطمینان کا سانس لیا کہ میں بھی آگیا۔

چار دن تک مجھے بغیر گرفتاری کے حوالات میں رکھا۔ رات کو کئی دفعہ SSPخواجہ خالد فاروق خود آکے چیک کرتے تھے کہ ملازمین حوالات میں بند ہیں یا نہیں۔چار دن بعد ایک نئی FIR ظفراللہ انسپکٹر،بقیہ چار ملازمین اور مجھ پر درج کردی گئی اس FIRمیں صرف وہی ملازمین تھے جنھوں نے اسلم ڈبہ کو گرفتار کیااور اس سے تفتیش کی وہ سنتری بھی شامل تھا جسکی رات کوڈیوٹی تھی اس FIR میں مشتا ق چیمہ جو اسلم ڈبے کا والد تھامدعی تھا اور اسلم ڈبے کیساتھ چوری میں ملوث تین ملزمان گواہ تھے۔اسی روز مجسٹریٹ تھانہ کوتوالی آیا جس نے ہم چھ ملزمان نامزد FIRکا اکٹھا 14دن ریمانڈجسمانی پولیس کو دیا۔اسی روزہمیں معلوم ہوا کہ مقدمہ کی تفتیش کرائمز برانچ پنجاب لاہورکے حوالے کردی گئی ہے۔اس وقت کرائمز برانچ پنجاب کے DIGغلام اصغر خان المعروف ہلاکو خان تھے۔ہم چھ ملازمین کے علاوہ بقیہ ملازمین متعینہ تھانہ یزمان کو چھوڑدیا گیا۔

حوالات میں گزارے وہ اٹھارہ دن میں کبھی نہیں بھول سکتا۔جن میں چار دن بغیرگرفتاری اور بقیہ چودہ دن ریمانڈجسمانی کے تھے۔ بھائی حفیظ اپنے سی ایس ایس کے امتحان چھوڑ چکے تھے چھوٹا بھائی جبیب اپنی پولیس کی ملازمت سے غیر حاضر ہو چکا تھا۔میں احمد پور شرقیہ کے ان دوستوں اور عزیزوں کو بھی نہیں بھول سکتاجنھوں نے اس مشکل گھڑی میں میرا ساتھ دیا۔صبح بھائی حفیظ اور اقبال بلوچ تمام دوستوں کو اکٹھا کرتے انھیں احمد پور شرقیہ سے بہاولپور لے کرآتے مختلف دفاتر میں افسران کے پاس جاتے۔میری بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کرتے پھر تھانہ کوتوالی آکر مجھ سے ملاقات کرتے۔حوالات کی سلاخوں کو پکڑ کر ان سے ملنا بھی میرے لیے بہت اذیت ناک تھا دوستوں اور عزیزوں کی نظروں کا سامنا کرنا بھی بہت مشکل تھا جس کی آنکھوں میں میرے لیے ہمدردی تو ہوا کرتی تھی لیکن ساتھ بے یقینی بھی تھی کہ جیسے واقعی اسلم ڈبہ کو میں نے قتل کیا ہے۔

تفتیش مقدمہ کے لیے پہلے دن سلیمان قریشی SSPکرائمز تھانہ کوتوالی آئے۔ مجھےSHOکے کمرہ میں ہتھکڑی لگا کرپیش کیا گیا میں نے تمام حالات ان کو بتائے اوران کے تمام سوالات کے جوابات دیتا رہا۔ میں پوری طرح مطمئن تھا SSPصاحب نے مجھ سے سوال کیا کے” آپ نے اتنا بڑا جرم کیا ہے اور آپ مطمئن ہیں “,میں نے انھیں جوا ب دیا،”سر! میں پولیس میں ابھی نیا ہوں اگر میں نے یہ جرم کیا ہوتا تو اس سے کبھی انکار نہ کرتا اب بھی خود پولیس کے پیش ہوا ہوں “۔

کرائمز برانچ اپنی تفتیش کر رہی تھی ان کے مخبر اور افسران اپنا اپنا کام کر رہے تھے لیکن کہیں سے بھی کوئی بات نہیں نکل رہی تھی۔

اس دوران کرائمز برانچ پولیس نے محمد صدیق نامی ویگن ڈرائیور کی ویگن قبضہ میں لی اور اسکی سیٹوں کے کور اتار اکر فورنزک سائنس لیبارٹری لاہور بھجوادئیے۔اسی طرح ارشاد ججہ ایڈوکیٹ جوکہ ممتاز ججہ کا عزیز تھا کی کار کے سیٹ کورز بھی اتار کر فورنزک سائنس لیبارٹری بھجوادیئے۔کرائمز برانچ پولیس کو یہ شبہ تھا کہ ہم نے لاش ان گاڑیوں کے ذریعے لے جاکرنہر میں پھینکی تھی۔

ایک دن شام کومیں حوالات تھانہ میں موجود تھا کہ اچانک کرائمز برانچ کے ایک انسپکٹرنے مجھے حوالات تھانہ سے نکال کر ہتھکڑی لگائی اور تفتیش کے لیے تھانہ سے باہر لے جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھایا۔ ظفر اللہ وڑائچ انسپکٹر (مرحوم) غصے میں آگئے اور کرائمز برانچ والوں کو گلیاں دیں کے اس بچے کو کہاں لے کہ جا رہے  ہو؟ مجھے لے کرجاؤ مجھ سے تفتیش کرو میں تمہیں بتاتا ہوں۔ انسپکٹر کرائمز مجھے لے کر سیدھا سرکٹ ہاؤس بہاول پورپہنچاجہاں غلام اصغر خان ہلاکو خان DIG باہر لان میں ٹہل رہے تھے۔ مجھے ان کے سامنے لے جاکر کھڑا کردیا گیاSSPسلیمان قریشی بھی وہاں موجود تھے۔

صاحب کا رویہ مجھے سے بہت اچھا تھامجھے سے کہنے لگے کہ آپ لاش کا سر اور بازو برآمد کرواں دیں اور عدہ معاف گواہ بن جائیں، ابھی نوجوان ہو ساری زندگی جیل میں کٹ جائے گی بہتر ہے سچ سچ بتادو۔وہ مجھ سے سوالات کرتے رہے اور میں ان کے جوابات دیتا رہا۔ میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ میں اس معاملہ میں بلکل بے قصور ہوں اسی روز بھائی حفیظ مجھے میڈیکل بورڈ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ دیکھا چکے تھے جس میں نہر سے ملنے والی لاش کی عمر ڈاکٹرز نے چودہ سال لکھی تھی اور رپورٹ میں یہ بھی درج تھا کہ لاش کے جسم پر کسی جلدی بیماری کے نشان نہیں پائے جاتے جبکہ اسلم ڈبہ کے چھوٹے بھائی کی عمر 18سال تھے اور اسلم ڈبہ کے چہرے اور جسم پر (برص)کے نشانات تھے۔

میں نے DIGصاحب کو مزید بتایا کہ اگر ہم نے لاش پھینکنی ہی تھی تو کیا اسے اُس نہر میں پھینکتے جو یزمان سے ہوتے ہوئے ہیڈراجکاں پہ نکلتی؟۔ اسی طرح مقتول کا سراور بازو کاٹنا یا جسم کے مختلف حصے نکال لینے سے ہمیں کیا فائدہ ہوسکتا تھا؟۔ پہلی بار مجھے DIGصاحب کے چہرے سے اندازہ ہوا کے انھیں میری بات سمجھ میں آئی ہے اور وہ پہلے سے ہی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور بیانات سے ہماری بے گناہی کا یقین کر چکے ہیں۔DIGصاحب نے مجھے کہا کہ یہ مان بھی لیاجائے کہ آپ لوگ بے گناہ ہولیکن جب تک اسلم ڈبہ زندہ سلامت نہیں مل جاتا تب تک ہم آپکو بے گناہ نہیں کرسکتے۔

اسلم ڈبہ کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل رہی تھی البتہ کچھ باتیں نکلنا شروع ہوگئیں تھیں جن میں ایک افواہ یہ بھی تھی کہ اسلم ڈبہ جس دن تھانہ سے بھاگا وہ احمد پور شرقیہ گیا تھا اور اس کے بارے میں کچھ لوگوں کو علم بھی ہے مگر کیونکہ پولیس ملازمین پھنسے ہوئے تھے اس لیے کوئی بتانے کو تیار نہ تھا۔جیسے تیسے 14دن ریمانڈجسمانی مکمل ہوا ہمیں عدالت میں پیش کیا گیاکیونکہ ہمارے خلاف پولیس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھاہمارے وکلاء نے ایک درخواست سیشن جج کو دی تھی کہ پولیس 14دن میں نہ تو ان سے سچ اگلوا سکی ہے اور نہ ہی ان سے کسی قسم کی کوئی برآمدگی ہوئی ہے۔ابھی تک یہ بھی ثابت نہیں ہو سکا کے ملنے والی لاش واقعی اسلم کی ہے۔لہٰذا ان کا مقدمہ میں گرفتار رہنا نہیں بنتا ان کو ضمانت دی جا ئے مگر اُسی روز سیاسی اور عوامی پریشر پر ہمارا کیس ملڑی کورٹ کو بھجوا دیا گیا۔ اس طرح ہماری ضمانت کی اُمیدیں ختم ہو گئیں کیونکہ ریمانڈ جسمانی 14 دن مکمل ہو چکا تھا اس لیے ہم 6پولیس ملازمین کو ریمانڈجوڈیشل پر ڈسڑکٹ جیل بہاول پور بھجوادیاگیا۔

جیل کی دنیا بھی بڑی عجیب ہے۔باہر کی دنیا سے بالکل مختلف!وہاں پر یا توجیلر کاحکم چلتا ہے یا پھر پیسے کا۔ ہمیں اند ر ڈپٹی سپریٹینڈینٹ جیل کے پیش کیا گیا۔جس نے ہمیں قصوری چکی میں بند کرنے کا حکم دیا۔قصوری چکی جیل کے اندر ایک سب جیل ہوتی ہے جس کے اند ر 10 x 10کی کوٹھریاں بنی ہوتی ہیں۔ جس میں یا تو ایک قیدی رکھاجاتا ہے یا تین۔اس میں وہ قیدی رکھے جاتے ہیں جو جیل میں حکم عدولی کرتے ہیں انھیں سزا کے طور پر اس چکی میں بند کیا جاتا ہے۔ وعدہ معاف گواہان کو بھی اسی چکی میں بند کیا جاتاہے۔مجھے،ظفر اللہ وڑائچ انسپکٹر اور ہیڈ کانسٹیببل یوسف کو ایک کوٹھر ی میں بند کردیا گیا۔جبکہ باقی تین کانسٹیبلز کو الگ کوٹھری میں بند کیا گیا۔ ہمیں یہ بتایا گیا کہ آپ پولیس ملازمین ہیں اس لیے آپکوقصوری چکی میں رکھا جا رہا ہے کیونکہ جیل میں کئی ایسے قیدی موجود ہوں گئے جن کو آپ نے گرفتا ر کیاہولہٰذاہوسکتا وہ آپ سے بدتمیزی کریں یا آپکے لیے تکلیف کا باعث بنیں۔

صبح آٹھ بجے ہمیں کوٹھری کھول کر آزاد کر دیا جاتاتھا۔ جبکہ شام پانچ بجے پھر اسی کوٹھری میں بند کردیا جاتاتھا۔ سار ا دن ہم لوگ قصوری چکی کے صحن میں موجود ہوتے تھے جبکہ خطرناک قیدیوں کو کوٹھری سے باہر نہیں نکالا جاتا تھا۔جیل کے مینول میں ایک لفظ”اُڑدی ” بھی ہے۔ اُڑدی میں شام کو روزانہ تمام قیدیوں کی بیرکس اور کوٹھریاں تبدیل کردی جاتی ہیں تاکہ قیدی ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات نہ بڑھائیں۔جیل میں حوالاتیوں کو الگ رکھا جاتا ہے اور قیدیوں کا الگ رکھا جاتا ہے۔ہمارے ساتھ یہ رعایت ضرور کی گئی تھی کہ ہمیں گھر کے کھانے کی اجازت مل گئی تھی۔والدہ صاحبہ نے اپنی رہائش بہاول پور ہی رکھ لی تھی روزانہ اپنے ہاتھ سے کھانا بناکر بھجواتیں تھیں اور یہی کھانا ہمارے خط و کتابت کا ذریعہ بھی تھا۔ میں نے گھر سے اپنا ٹریک سوٹ اور جوگر بھی منگوا لیے تھے میں اور چوہدری یوسف باقاعدگی سے ورزش کیا کرتے تھے،اور میں سارا دن قصوری چکی کے خطرناک ملزمان سے بات چیت کیا کرتا تھااور ان سے ان کی زندگی کے حالات سنا کرتاتھا۔ جیل میں ایک اور بات بھی محسوس کی کہ شاید خانہ کعبہ کے بعد سب سے زیادہ عباد ت جیل میں ہی ہوتی ہے۔ قصوری چکی کے ملحقہ موت کے سزا یافتہ قیدیوں کی کوٹھریاں تھیں وہاں سے دن رات با آواز بلندقرآن پاک پڑھنے کی آوازیں آیا کرتی تھیں۔

دو دن بعد ہمارا کیس ملٹری کی عدالت میں لگ گیا یہ عدالت ریسٹ ہاؤس یزمان میں بنائی گئی تھی۔ ہمیں پولیس کی پریزن وین میں بیٹھا کر سخت حفاظت میں ہمیں یزمان لایا گیا ہم سب کو ہتھکڑیاں لگی ہوئیں تھیں ہمیں ملٹری کورٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔جسکی سربراہی میجر صولت کررہے تھے اور ان کیساتھ دونوجوان کیپٹن بھی تھے۔ان کے رویے سے ہمیں یوں لگ رہا تھا کے شاید دس، بارہ دن میں ہمارا ٹرائل کرکے یزمان کے کسی چوک میں پھانسی پرلٹکا دیا جائے گا۔اسلم ڈبہ کے ساتھی ملزمان بھی عدالت میں بطور گواہ موجود تھے اورباری باری ہمارے خلاف گواہیاں سے رہے تھے۔ہماری موجودگی میں عدالت کوبتا رہے تھے کہ ہم نے کس طرح اسلم ڈبہ پر تشدد کیاجس سے وہ قریب مرگ ہوگیا۔بعد میں انھیں حوالات میں بند کردیا گیاجبکہ اسلم ڈبہ کو اُٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئے اورہم ان کا جھوٹ سن رہے تھے۔

کچھ دن بعد شام کے وقت اچانک ہماری قصوری چکی میں ارشاد ججہ ایڈوکیٹ کی آمد ہوئی جس نے بتایا کے اسے بھی یزمان قتل کیس میں گرفتار کر کے بھجوایا گیا ہے کیونکہ اسکی کار کی بجھوائے گئے سیٹ کورزپر فرنزک سائنس لیباٹری کے مطابق انسانی خون کالگناپایا گیاہے۔ارشاد ججہ کو 201ت پ میں گرفتار کیا گیا تھا۔کیونکہ پولیس کے مطابق اس نے قتل کے ثبوت کو ضائع کرنے میں ہماری معاونت کی تھی۔جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ ارشاد ججہ کاتعلق جٹ برادری سے تھا اور اس کی ممتاز ججہ سے قریبی شتہ داری تھی۔ ممتاز ججہ اسی کیس کی وجہ سے بعد میں 1985ء کے انتخابات میں MNA بنا اور 2008ء میں نون لیگ کی ٹکٹ پر MPAمنتخب ہوا۔

ارشاد ججہ کی گرفتاری ہمارے لیے امیدکی ایک کرن بن گئی۔ ارشاد ججہ کو اصل حقائق کے بارے میں کافی کچھ معلوم تھا۔ اب ہمیں ارشاد ججہ نے بتایاکہ اسلم عرف ڈبہ زندہ ہے اور اسے پہلے دن ہی معلوم ہوگیا تھا جب لاش سول ہسپتال احمد پور شرقیہ پڑی تھی۔ اس نے مزیدبتایا کہ اسلم ڈبہ تھانے سے بھاگنے کے بعد احمد پورشرقیہ اشرف شوگر ملز کے دفتر میں گیا تھااور بعد میں وہاں سے اپنے بھائی جو سیالکوٹ رینجرز میں ملازم ہے کے پاس چلا گیا تھا۔اب اطلاعات یہ ہیں کہ اسلم ڈبہ کا بھائی اسے ملک سے باہر بھیجنے کی کوشش کررہا تھا۔DIGغلام اصغر عرف ہلاکوخان بہت سمجھدار پولیس آفیسر تھے انہیں کچھ ایسے ثبوت مل چکے تھے کہ نہ صرف اسلم ڈبہ زندہ ہے بلکہ اسے اسکے رشتہ داروں نے کہیں چھپا رکھا ہے۔یہاں یہ بات بھی آپکو بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ تھانہ کو آگ لگانے، قومی پرچم جلانے اور ملازمین کے سامان کی ٹوڑ پھوڑ اور لوٹنے کے الزام میں ملک ظفر اعوان، محمد اقبال عرف شیر یزمان، اسلم ڈبہ کے قریبی عزیزوں اور باقی لوگوں کے خلاف مختلف دفعات میں مقدمہ درج ہوچکا تھا وہ اگر یہ بات مان لیتے کہ اسلم ڈبہ زندہ ہے اور انھوں نے تھانہ کو غلط آگ لگائی تو وہ سارے اس مقد مہ میں چالان ہوتے لہذا انھوں نے یہی بہتر سمجھا کہ اس بات کو چھپا دیا جائے کہ اسلم عرف ڈبہ زندہ ہے اور اپنے بھائی کے پاس سیالکوٹ ہے۔

اس بات کا میجر صولت کو بھی اندازہ ہو چکا تھا چنانچہ اب ان کا رویہ ہمارے ساتھ کافی بہتر ہوگیا تھا۔ اب عدالت بھی یزمان کی بجائے بہاو لپور میں لگا نی شروع کردی تھی جہاں ہمیں روزانہ پیش کیا جاتا تھااب بھی ہمارے خلاف یزمان کے لوگ جھوٹی گواہیاں دے رہے تھے۔جیل میں ہمیں تقریباََ بیس دن ہوچکے تھے۔۔ممتاز ججہ پرارشاد ججہ کی گرفتاری کے بعد برادری کا بہت زیادہ پریشر تھااسے اطلاع ملی کے اسلم ڈبہ کو اس کا بھائی ایران بھجنے کی تیاری کررہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ ایک دو دن میں اسے ایران بھیج دیا جائے۔کیونکہ ارشاد ججہ بھی ہمارے ساتھ قتل کے مقدمہ میں گرفتار ہوچکاتھا۔ اسکے ورثہ بھی مدعی مقدمہ مشتاق چیمہ اور اس کے بھائی شبیر چیمہ پر پریشر ڈال رہے تھے کہ اسلم ڈبہ کا بتائیں کہ اسے کس جگہ چھپا کر رکھا گیاہے لیکن مشتاق چیمہ اس مقدمہ میں ملوث پولیس ملازمین سے زیادہ سے زیادہ پیسے لیناچاہتاتھا۔ نہ توہماراکوئی قصور تھا،نہ ہی ہم نے کسی پر تشدد کر کے قتل کیا۔۔۔۔۔ تو ہم پیسے کیوں دیتے؟

پولیس کے اعلیٰ افسران کا رویہ ہم سے بہتر نہ تھا۔میرے اور بقیہ پولیس ملازمین کے ورثاء ممتاز ججہ کے ساتھ DIGعبدالرواف اور SSPخواجہ خالد فاروق کے پاس گئے کہ ہمیں اسلم ڈبہ کے بارے میں اطلاعات ہیں کے وہ اپنےبھائی کے پاس سیالکوٹ چھپا ہوا ہے اگر وہاں ریڈ کرکے اسے برآمد نہ کیا گیا تو ہوسکتا ہے وہ ایران بھاگ جائے۔ہمیں پولیس کی نفری دیں تاکہ اسلم ڈبہ کو برآمد کیا جاسکے۔ DIGعبد الرواف بولے کہ اب یہ ہمارا کیس نہیں ہے بلکہ یہ کیس ملٹری کورٹس میں ہے لہذا آپ ان سے ملیں پولیس اس میں مداخلت نہیں کرے گی۔یہ انتہائی شرمناک بات تھی مجھے پہلی دفعہ اندازہ ہوا کہ مشکل وقت میں ان افسران کا رویہ چھوٹے پولیس ملازمین کے ساتھ کیسا ہوتا ہے۔ ممتاز ججہ میرے کزن اقبال بلوچ و دیگر ورثاء نے یہ پروگرام بنایا کہ خود ہی سیالکوٹ جائیں گے اور اسلم ڈبہ کو برآمد کر کے لے آئیں گے۔تین دن بعد ہمیں شام کو جیل میں ہی اطلاع ملی کے ہمارے ورثاء اور ممتاز ججہ اسلم ڈبہ کو سیالکو ٹ سے برآمد کرکے بہاولپور لے آئے ہیں اگر اس دن وہ سیالکوٹ نہ جاتے تو شاید اسلم ڈبہ کو ایران بھیج دیا جاتا۔کیونکہ پولیس آفسران نے اسلم ڈبہ کی گرفتاری کے لیے کوئی مدد نہ کی تھی لہذا DMLA(ڈیپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹر ئیٹر)محمد اقبال کے پیش کیا گیا۔جن کو اُس نے اپنی تمام رودادسنائی اور بتایا کہ اس سے قتل کے شبہ میں تفتیش کی جا رہی تھی کیونکہ یہ قتل واقعی اس نے اور اسکے ساتھیوں نے کیا تھا لہذا س نے یہ مناسب سمجھا کہ بے ہوشی کاڈرامہ کرے تو شاید اس کی جان بچ جائے۔ ڈاکٹر آفاق کے آنے پر مجھے یہ ڈرامہ ختم کرنا پڑگیا۔رات کو مجھے کمرہ میں بند کردیا گیا جبکہ میرے ساتھی ملزمان کو حوالات تھانہ میں بند کیا گیا۔کمرہ کی کھڑکی میں سلاخیں نہیں تھیں صرف لوہے کی جالی لگی ہوئی تھی میں نے وہاں سے دیکھا تو سنتری سویا ہوا تھا میں نے جالی کو اپنا پاؤں مارا تو جالی نکل گئی۔کھڑکی سے نکل کر ساتھ میں چھوٹی دیوار پھلانگ کر میں اپنے گھر چھپتا چھپاتا56الف کیا۔گھر والوں نے مجھے سیٹلائیٹ ٹاؤن اشرف شوگر مل کے دفتر احمد پور شرقیہ بھجوا دیا۔ کچھ عرصہ وہاں رہنے کے بعد حالات کے پیش نظر میں سیالکوٹ چلا گیا۔مجھے وہاں اطلاع ملی کہ نہر سے ایک لاش ملنے پر عوام نے تھانہ کو جلا دیا ہے میں اور ڈر گیا میرے بھائی نے مجھے ایران بھجنے کاپروگرام بنایا۔اگر آج پکڑا نہ جاتا تو میں نے ایران چلے جانا تھا۔

DMLAمحمد اقبال نے اسلم ڈبہ کا بیان سننے کے بعد تمام پولیس ملازمین اورارشاد ججہ کو فوری رہا کرنے کا حکم دیالیکن اب DIGعبدالراوف اور SSPخواجہ خالد فاروق اس بات پر ناراض ہوگئے کہ اسلم ڈبہ کو پہلے ان کے سامنے پیش کیوں نہیں کیا گیا۔ اب ہم تصدیق کے بعد ہی ملوث پولیس ملازمین کو رہا کروائیں گئے ان کے اس رویہ پر ہمارے ورثاء نے شدید احتجاج کیااور دوبارہ DMLAمحمد اقبال سے ملے انھوں نے DIGکو فون کرکے برہمی کا اظہار کیا تو موصوف ہماری رہائی پرآمادہ ہوئے اسی دن ہی عدالت سے ہماری رہائی کے احکامات جاری ہوگئے اور شام کوہمیں جیل سے رہا کردیا گیا۔

رہائی کے بعد میں اپنے گھر احمد پور شرقیہ آگیا جہاں تمام عزیزواقارب موجود تھے۔جو اب میری اس بات کایقین کر رہے تھے کہ میں نے اسلم ڈبہ کو قتل نہ کیا تھا۔میرا اب نوکری کرنے کو بالکل دل نہیں کر رہا تھاچھوٹا بھائی حبیب بھی نوکری سے غیرحاضر ہو چکا تھا۔پورے خاندان نے یہ دن جس اذیت میں گزارے اس کا اندازہ وہی کرسکتاوہ جو خود اس اذیت سے گزرا ہو۔

ایک مہینہ گزر گیا میں گھر میں ہی تھا مجھے باربار محکمہ سے کالز آرہی تھیں کہ نوکری پر حاضرہوجاؤں لیکن میں نوکری پرجانے کو بالکل تیار نہیں تھا۔ایک دن مجھے گھر پہ ٹیلی فون آیا کہ DIGغلام اصغر عرف ہلاکو خان مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے مجھ سے فون پر بات کی میں نے ان کا شکریہ ادا کیا کہ اگر وہ ارشاد ججہ کو گرفتار نہ کرتے تو شاید ہم آج پھانسی پر چڑھ چکے ہوتے۔انھوں نے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ ملازمت سے بھاگے ہوئے ہو میں نے اس لیے فون کیا کہ آپ ایک بہادرنوجوان ہیں آپ جیسے پولیس آفیسر کی محکمہ کو ضرورت ہے۔آپ کل سے ہی اپنی حاضری کریں یہ میرا حکم ہے۔اب مجھ سے ان کی حکم عدولی نہ ہوسکتی تھی اگلے دن میں بہاولپور SSPکے دفتر میں گیااور حاضری کی رپورٹ کیSSPنے میری خواہش کے مطابق میری پوسٹینگ سکیورٹی برانچ بہاولپور کردی جہاں میاں عرفان SIمیرے انچارج تھے۔

تھانہ جلانے،توڑ پھوڑ کرنے پر کافی لوگ گرفتار ہوئے۔مہر نبی بخش لک انسپکٹر جو بعد میں SPریٹائرڈ ہوئے کو تھانہ یزمان SHOلگایا گیا۔ لک صاحب انتہائی سخت مزاج SHOتھے انھوں نے تھانہ جلانے کے مقدمہ میں ملوث ملزمان کوگرفتار کیا اور چالان عدالت کیاابھی اس کیس کی سماعت شروع ہوئی ہی تھی کہ یہ کیس سیاست کی نظر ہوگیا۔1985ء کے الیکشن میں ممتاز ججہ MNAبن چکا تھاکیونکہ اس کیس میں ریاست مدعی تھی۔لہذا حکومت نے اس کیس سے دستبردار ہونے کا حکم صادر کر دیااس طرح وہ افراد جنھوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا، تھانہ کو جلایا، ملازمین کو زدوکوب کیا انھوں نے اس بات کی تصدیق نہ کی کہ نہر سے ملنے والی لاش اسلم ڈبہ کی ہے یا کسی اور کی اس طرح وہ صاف بچ گئے۔لیکن اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے اسلم ڈبہ لاہور میں ایک گھرمیں واردات کرتےمارا گیا اور اُسی روزاسلم کے باپ مشتاق چیمہ نے بھی خود کشی کر لی۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس طرح کے مقدمات کے ملزمان کبھی سزا نہیں ہوتے جسکی وجہ سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور آئندہ بھی وہ اس طرح کے جرم بے خوف وخطر کرتے ہیں۔۔

ان تمام حالات و واقعات سے مجھے ایک بات ضرور سمجھ میں آئی کہ کسی بھی بے گناہ شخص کے گرفتار ہونے کے بعدکیا احساسات و جذبات ہوتے ہیں۔ قتل میں بے گناہ ملوث ہونا، 18دن حوالات تھانہ میں بند رہنااور 24دن جیل کی قصوری چکی میں میں گزارنا میرے لیے بہت بڑا سبق تھا اور میں نے اپنی بقایا پوری ملازمت میں اس بات کی کوشش کی کہ خاص طور قتل کے مقدمہ میں میرے قلم سے کوئی بے گناہ شخص چالان نہ ہو۔

SHOPPING

دوہرا قتل۔۔۔عزیز خان/قسط2

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”بْرے پھنسے۔۔عزیز خان/قسط3

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *