دشمن، دروازے پر۔۔۔(قسط2)محمداقبال دیوان

امریکہ سے آئی ہوئی ایک بھارتی مہمان سے مکالمہ۔

ہمارے محترم محمد اقبال دیوان نے یہ طویل مضمون کچھ دوستوں کے اصرار پر لکھا ہے۔ یہ در اصل چند گھنٹوں پر محیط ایک مکالمہ ہے جسے بھارت نژاد، امریکہ میں مقیم ایک گجراتی خاتون کی بے لاگ اور بے باک گفتگو سے ترتیب دیا گیا ہے ۔اس سلسلے میں تفصیلی تعارف پہلی قسط میں موجود ہے۔

انعام رانا۔(ایڈیٹر ان چیف)

امریکہ میں نیو جرسی کا جرنل اسکوائر
سڑک کنارے مطالعہ
انگریزی کے قدر دان
تغاری
کنگنا رناوت،اور سِدھ گُرو
بھارتی سرکاری زبانیں
ستر فیصد بھارت

تیرا ملنا خوشی کی بات سہی

میزبان نے مکالمے کا آغاز خوش گوار انداز میں کرنے کے لیے اس کو اکسایا کہ ”کامیا ڑی (گجراتی میں ڑی کے لگانے کا وہی سواد ہے جو پنجابی میں نی کا ہے۔جیسے سئیونی ) آئی۔ ڈی کو وہ
ڈاکٹر والا جوک سنا۔ اتنا سننا تھا کہ اس کا ہنسی کا فوارہ چھوٹ گیا ۔ہم نے پوچھا کیا ہوا۔ میزبان نے بتایا کہ کامیا میرے بھائی بابی بنگو کے ساتھ کسی دعوت پر گئی تھی ۔۔کون تم لوگ کو انگلش پڑھاتا ہے۔ تم لوگ کے پڑھے لکھے لوگ بھی بولتے وقت جنرل اور جرنل کا فرق نہیں سمجھتے۔ میرا گھر نیوجرسی میں جرنل اسکوائر کے پیچھے ہے۔ابھی لنچ پر پوچھتا تھا کہ آپ جرسی سٹی میں کہاں   رہتی ہیں؟میں نے بولا جرنل اسکوائر تو سالا گدھیڑا (گجراتی اور میمنی میں گدھا) ڈاکٹر تگاری جنرل سمجھا۔میرے کو پوچھا ادھر بھی جنر ل لوگ کا اتنا جور ہے کیا؟ میرے کو پتہ نہیں سالا ٹرمپ بھی سلیکٹیڈ صدر ہے۔ہم نے جتایا کہ اصل میں لفظ تگاری نہیں لغاری ہے۔تگاری تو ہمارے کراچی میں اس برتن کو کہتے ہیں جس میں سیمنٹ اور ریت کا پلاسٹر بناتے ہیں۔

سونی ٹی وی
بالی ووڈ کا بھارت

اس کا جام اور ہمارا شیشہ چلا تو بات بھی چلی ۔ کامیا چونکہ ڈاکٹر لغاری کی انگریزی سے ناواقفیت سے تاحال بہرہ مند و مسرور ہو رہی تھی لہذ ہمارا پہلا سوال اس کی کھنک دار اور ایک عام ہندوستانی کی انگریزی کی مشاقی پر تھا۔۔مدراس(چنائے) کولکتہ میں آپ کو روڈ سائیڈ حجام اور چائے والے آرام سے انگلش اخبار و رسائل کے مطالعے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔

آپ نے نوٹ فرمایا ہوگا کہ دلیپ کمار ہوں یا ان کی پریانکا،، کنگنا رناوت یا ان کے مولانا طارق جمیل یعنی سدھ گرو، انگریزی بولیں تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں۔ ہم نے اس کی انگریزی کا لطف تو لیا مگر امریکی شہریت کے باعث اسے کچھ غیر معمولی کارنامہ نہیں مانا۔ کہنے لگی اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ ہندوستان میں آٹھ سو زبانوں کو سرکاری تسلیم کیا گیا ہے۔انگریزی ہماری رابطے کی زبان ہے۔ہماری آئین کی زبان بھی یہ ہے(وہ تو ہماری بھی ہے) ہمارے پہلے اور دوسرے صدر راجندرپرشاد،رادھا کرشن، ابوالکلام ٓزاد، نہرو، گاندھی جی اور شیخ عبداللہ سب آپس میں انگریزی بولتے تھے۔ ہماری 29 ریاستوں (صوبے) میں سے صرف 9 میں ہندی بولی جاتی ہے یعنی بہار،مدھیا پردیش، یوپی، چھتیس گڑھ، اتاراکھنڈ، ہما چل پردیش،ہریانہ اور جھاڑ کھنڈ میں بہت
مختلف لہجوں کی ہندی بولی جاتی ہے۔ باقی بیس صوبے تو ہندی کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔سرکاری طور پر ہماری بائیس زبانیں ہیں۔اس میں انگریزی کو بھی شامل کرلیں یہ سب سے اہم اضافہ ہوگا یوں ہم کل ملا کر 23 زبانوں کی سرکاری حیثیت مانتے ہیں جن میں آپ کی اردو بھی شامل ہے۔

اس نے مزید یہ گرہ لگائی کہ انگریزی جاننے والی یہ بات اتنی درست نہیں۔بالی وڈ کی فلموں اور سونی ٹی وی میں جو ہندوستان دکھائی دیتا ہے وہ اصلی ہندوستان نہیں۔ ان علاقوں میں جہاں انگریز پہلے آئے وہاں تجارت تعلیم ترقی نے پہلے قدم جمائے۔ جیسے گجرات، کلکتہ اور مدراس۔یہی وجہ ہے کہ سورت۔گجرات کی تجارتی کوٹھیاں اگست 1608 میں اور پہلی فیکٹری اس کے سات سال بعد قائم ہوئی اسی زمانے میں وجے نگر مدراس میں اور بیس سال بعد کلکتہ میں بھی پہنچ گئے۔ہمارا ستر پرتی شت(ہندی میں فی صد) بھارت گاؤں اور چھوٹی بستیوں میں رہتا ہے۔وہ مقامی بولی بولتے ہیں۔ بہت جگہ تو وہ ٹھیک سے ہندی بھی بول نہیں پاتے۔ ہماری بھارت کی پیکجنگ اور شو کیسنگ(دکھاوا) اچھے ہیں اسی لیے دنیا ہم کو فلم اور انڈین آئیڈل کی نظر سے دیکھتی ہے۔

اس دوران دوجوان عمر رشتہ دار مرد وں کو بھی اسٹڈی میں دھکیل دیاگیا۔بعد میں علم ہوا ایک صاحب بینکر ہیں اور دوسرے کا چین کی موٹر سائیکلیں بیچنے کا کاروبار ہے۔ میزبان عنبر صدیقی کی دو عدد نوجوان رشتہ دار لڑکیوں کے شوہر۔ دونوں اپنی بیگمات کو لے جانے آئے تھے مگر وہ سر دست مہندی والیوں کے ہتھے چڑھی ہوئی ہیں۔ تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ شہود صاحب بینکر ہیں اور تعارف میں پہل شہود نے کی تھی اور اپنا بزنس کارڈ بھی نکال کر کامیا کو پکڑا دیا تھا۔گاہکوں کو رجھانے کے کام پر بینک نے انہیں لگا رکھا تھا اور ریجنل لیول کے بینکار تھے۔کامیا کو بھی بطور گاہک ٹارگیٹ کیا تھا۔

ہمارے ابھینندن جی
مولانا کا دھرنا
مودی جی لال قلعے پر

کامیا نے نوجوانوں کو شراب کی جانب اشارہ کرکے انگریزی میں کہا Dudes help yourself۔شہود میاں باریش اور متشرع تھے۔ مئے نوشی کی ا س دعوت گناہ پر لہجے میں برہمی کے انگارے دہکا کر کہنے لگے کہ No wine.We are Muslims
کامیا نے بھی شرارتی لہجے میں طنز کیا کہ In the first place its malt -whiskey and not wine
And I don’t think Banks are Islamic
ہم نے انگلی ہونٹ پررکھ کر چپ رہنے کا مشورہ دیا،شہود میاں نے ضبط کرلیا۔چپ رہے۔کامیا نے گہرا وار کیا تھا۔ان کی انگریزی اور پیشہ وارانہ تضاد دونوں کو ہدف بنایا تھا۔ ان کو چڑانے کے لیے کامیا نے ہماری طرف اشارہ کیا کہ Can i do you the honour Sir? (کیں  نا آپ کی خدمت میں پیش کی جائے) ۔ہم نے مسکراکر کر اسے یہ کہہ کر ٹال دیا
I would construe it as an insult to your charms
(مئے نوشی کو ہم آپ کے دلفریب نشہ آور وجود کی توہین سمجھیں گے)
Now this Soft-Muslimvata
this is how a man should handle a good offer from a bad woman like me.
(جی یہ تو بہت نرم سی مسلم وتا(بہ وزن ہندوتا ہے)۔میری جیسی بری خاتون کی اچھی پیشکش سے مرد کو اس انداز میں نمٹنا چاہیے)
ہندوتا۔۔۔۔

شہود صاحب کہاں دبک کے رہنے والے تھے اعتراض لگا بیٹھے کہ soft Muslimvata تو میں جب پوچھوں گا جب آپ مجھے Hindutva اور soft. Hindutva- سمجھائیں گی۔جس پر کامیا تلک گئی کچھ تلخ سے لہجے میں جتانے لگی کہ وہ یہاں نامحرم ملاؤں کو پولیٹکل سائنس پڑھانے نہیں آئی۔ اس کے ساتھ ہی بہانہ کرکے کامیا اپنے کمرے کی جانب باتھ روم بریک کی اجازت لے کر چلی گئی۔ ہم نے شہود کو اشارہ کیا۔ سمجھایا کہ بڑی مشکل سے ہم لوگ نے  سکواڈرن لیڈر ابھی نندن ورتھا من کو ساٹھ گھنٹے میں ہی چائے پلانے کے بعد اور نئے کپڑے پہنا  کر واپس کردیا۔اس سے بھی بڑھ کر مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کی رام لیلا بھی رچا کر پردھان منتری مودی جی کا کشمیر پر غصہ ٹھنڈا کیا ہے ورنہ اس رت۔ پے پاسو( ہندی میں خون کے پیاسے) نے تو ٹھان رکھی کی تھی کہ چھبیس جنوری کی یوم جمہوریہ والی تقریر لال قلعہ دہلی کی بجائے نوجوت سنگھ سدھو کو بوزدار کی جگہ برابر میں کھڑا کر شاہی قلعے لاہور سے کرے گا۔ ۔ ہماری تضحیک سے کامیا کی آمد سے قبل ہی سبکی محسوس کرکے گھر کے کسی اور حصے کی جانب چلے گئے۔

دلت سے بھارت میں نفرت

ماحول ذرا پر سکون ہوا۔کامیا کے دماغ اور گردوں کا دباؤ کم ہوا تو ہم نے کہا۔اس کو نہ سہی ہم جیسے بھگتوں (درویشوں) کو ہی ہندوتا اور سوفٹ ہندوتا کا فرق سمجھادو۔
ظالم نے پھر انگریزی کا ریشمی تھان کھولا اور ادھوار جام اور نیا سگریٹ ہونٹوں میں دبا کرکہنے لگی۔
ٓAh asking a born Hindu in the country of Pak-pure enemies to explain Hinduvata
(آہا۔پاک پیور دشمن کی سرزمین میں آپ مجھ جیسی پیدائشی ہندو سے ہندوتوا کا بھید بھاؤ پوچھ رہے ہیں)
ہم نے بھی دبے الفاظ میں جتایا کہ
That is how we in Pakistan make our enemy feel at home. We only fight in bed or battle field. But never in studies and guest rooms.
(ہم دشمن کو اپنا بنانے کے لیے ایسا ہی کچھ کرتے ہیں۔ ہماری جنگ یا تو بستر میں ہوتی ہے یا میدان جنگ میں۔سٹڈی اور مہمان خانوں کو ہم اس کام کے لیے غیر موزوں مانتے ہیں)
وہ کہنے لگی کہ اچھا ہے ہم جیسے انسانوں کے ذریعے پڑوس کی کچھ غلط فہمیاں دور ہوجائیں۔جس طرح مغرب میں ہر مسلمان کو اتنک وادی او ر اسلام کو انسان اور ناری دشمن دھرم سمجھا جاتاہے شاید آپ کے دیش میں ہندوتا کو ویسا ہی مانا جاتا ہو۔ اصل میں لفظ ہے ہندو توتا ( Hindu + Tatva ) یعنی ہندو فلسفہء حیات۔ ہم اکھنڈ بھارت میں رہنے والے لوگ کو ایران کے آتش پرست زرتشت کو ماننے والے جنہیں پارسی کہا جاتا ہے وہ لوگ ہندو پکارتے تھے۔ بعد میں دوسرے لوگ بھی اسی نام سے بلانے لگے۔ ہم نے اس موقعے پر مداخلت کرنا مناسب سمجھا۔اس دوران چائے پکوڑے بھی آگئے تھے۔ پوچھ لیا کہ کیا پٹیل بھی برہمن ہیں۔ کامیا کہنے لگی پٹیل یا پٹی دار گاؤں کے چوہدری کو کہا جاتا ہے ہمارا تعلق تیسرے درجے کی ذات پات سے ہے یعنی کاشتریا اور ویشیا گوترے(ذات) سے ہے۔کچھ لوگ ہم کو دلت یا شودرز بھی بولتے ہیں اس کی وجہ حسد زیادہ ہے۔کیوں کہ پٹیل لوگ کی جو کمپنیاں ہیں ان کا اسٹاک مارکیٹ میں لسٹیڈ سرمایہ ایک لاکھ کروڑ روپے ہے۔دنیا بھر میں جتنے ہندو ہیں اس میں ہم سب سے سکھی گروپ ہیں۔ابھی ہم لوگ کے اپنے کچھ چریے ینگ لو گ اس چکر میں ہیں کہ برہمن لوگ ہم کو شودر اور دلت بولتے ہو تو ہم کو سرکار میں کوٹا دو جیسا آپ Other Backward Class (OBC) کو دیتے ہو۔ ہمارا دل نہ تھا کہ ہم اتنے بڑے علمی مباحثہ کو پٹیل گروپ تک محدود کردیں۔
سو اعتراض لگا کر اس کی اپیل سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی طرح مسترد کردی کہ ااس پٹیل پاڑے کو(پٹیل پاڑہ کراچی کا مشہور محلہ) چھوڑو اور ہم کو ہندوتوا سمجھاؤ۔ یہ بتاؤ کہ مودی کس ذات گوترے کے ہیں ۔ ابرو کا خم لہرا کر فرمایا ’جب ہمارا بھارت دیش آزاد ہوا(ہم نے کہا ہمارا بھی دیش اس سے ایک دن پہلے آزاد ہوا تھا تو بے اختیار ہنس پڑی اور کہنے لگی “O Really”)
مگر ہمارے چہرے کے تاثرات پڑھ کر توبہ توبہ کرتے ہوئے کہنے لگی پاکستانی گجراتی، امریکی گجراتی سے ناراض ہوگا تو اگلے جنم میں ہم پھر سے ایک کیسے ہوں گے۔
تم کو نہیں پتہ ہم گجراتی لوگ کا فیورٹ سانگ کونسا ہے سو بار جنم لیں گے، سو بار فنا ہوں گے۔ گجراتی کہیں بھی ہوں ہرگز نہ جدا ہوں گے۔یہ دیش ریکھا کو جل ریکھا (پانی پر لکیر) مانو۔
چلو تم کو اس کے بدلے میں ایک مزے کی بات بتاؤں گی مگر اپنی مرضی سے As a fine for
being bad girl۔ہم نے کہا ٹھیک ہے۔

بیان دوبارہ یوں جاری ہوا کہ جب ہمارا بھارت دیش آزاد ہوا ،دیش بھر میں ایک پرتی بندھ(ہندی میں قانونی بندش) بھی لگا اور آئین میں affirmative action(وہ اقدامات جس سے ماضی کی زیادتیوں کا ازالہ ہو) بھی رکھا گیا کہ تیس کروڑ سے اوپر بھارت میں دلت لوگ ہیں ان کو اوپر لانے کے لیے ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں کوٹا بھی رکھا جائے گا دلت لوگ کا انگلش میں مطلب ہے “suppressed” or “crushed.”۔ ہوتا ہے۔گاندھی جی ان لوگ کو ہری جن یعنی بھگوان کے بچے بولتے تھے جن کو اروندھتی رائے Children of Lesser God بولتی ہے۔۔

مودی خاندان
وڈانگر گجرات میں مودی جی کےوالد کا ٹی سٹال

پاکستانی مرد
کرتار پور

بھارت کا آئین ذات پات کو نہیں مانتا۔ ایک آنکھ دبا کر ہمارے مہان دیش کا مہان سنوی دھان(ہندی میں آئین)سیکولر ہے۔سب انسان برابر ہیں۔گائے البتہ مسلمان، کرسچین اور دلت سے زیادہ برابر یا سمجھ لو زیادہ اوپر ہے۔kidding yar.۔سالی تم لوگ کی وہسکی بھی تم لوگ کے ایمان کی طرح کمزور ہے۔ہم نے کہا لگتی تو اصلی والی ہے۔عنبر کے بھائی بوبی بنگو کے پاس رائل سلیوٹ بھی تھی۔ میں بولی ابھی دولہا دلہن کا مال تو میرے کو مت پلا۔
ہم نے جتایا کہ دوا دارو چھوڑ کر اصلی موضوع پر لوٹ آنے میں بہتری ہے۔وہ سمجھانے لگی کہ  ہماری مانو سمریتی(ہندووں کامیں ذات پات کے دھرم سے جڑے احکامات) میں لکھے لا ہے کہ سب کا کرم(کام) اور دھرم(فرض) بھگوان کی طرف سے مقررہے۔اس میں چھیڑ چھاڑ نہیں ہوسکتی۔ ہمارے 80 پری ست بھارت میں ہندو بستے ہیں اور وہ چار ورنوں ( varnasذات پات) میں بٹے ہوئے ہیں۔ٹاپ پر برہمن اور سب سے نیچے شودر یا دلت لوگ۔اس میں 70% بھارتی جنتا گاؤں میں رہتی ہے اور وہ تو ورنا کے بغیر پانی پینے کا بھی نہیں سوچ سکتی۔میں بتاؤں کہ اگر ہمارا برہمن کسی شودر کے ہات کا پکا ہوا کھانا کھالے تو وہ اگلے جنم میں سور پیدا ہوگا۔ہمارے بھارت میں چار بڑے گوتروں میں تین ہزار ذاتیں اور ان کے اندر مزید 25,000 ذاتوں کا ایک نظام ہے۔

پاکستان کے پھکڑ مذاق والے شوز
کپل شرما اور کرن جوہر
عالیہ بھٹ

ہمارے گاندھی جی۔مکیش امبانی اور نریندر مودی جی تینو ں کا تعلق ایک ہی ذات سے ہے۔ ہماری شدھ مانوسمریتی میں ان کو مڈھ ۔سری۔ ویش۔ ناوا ۔ویشیا، ونیکا۔ بنیا۔ کہا جائے گا۔ جو ہمارے دوسرے کاشتریا گوترے یعنی سپاہیوں اور پہلے نمبر یعنی برہمن سے نیچے کی ذات ہے یوں مودی جی تیلی خاندان کے فرد ہیں۔
مودی کو دنیا کے کامیاب ترین سیلف میڈ لیڈرز میں سے  کہا جاسکتا ہے کیوں بہت عام سے گھرانے میں دور دور تک کسی بڑے آدمی کا نام و نشان نہیں ملتا۔چھ بھائی بہن ہیں تین بھائی اور دو بہنیں۔باپ دومودرداس مولچند کا ووڈانگر گجرات کے ریلوے اسٹیشن پر چھوٹا سا ٹی  سٹال تھا۔وہ وہاں اپنے والد کی ہیلپ کرتے تھے۔

ہم نے پوچھا ”پاکستان کے بارے میں ہندوستان میں کیا سوچا جاتا ہے؟“۔”بھارت میں؟“۔ ایک ام ام کے الاپ کچھ دیر جاری رہا۔ ہمارے چار پانچ بڑے گروپ ہیں سب کی سو چ ایک دوسرے سے جدا  ہے۔لڑکوں کو پاکستانی ناری بہت سندر لگتی ہے۔ تمہاری پنجابن اور پٹھان چھوکری ایک دم چکاس ہے۔دہلی کی چھوکری کو پاکستانی مرد بہت ہینڈسم اور کول لگتے ہیں۔ممبئی والیوں کو lagging(پیچھے)۔برہمن اور آر ایس ایس والے پاکستان کو ٹوٹا انگ سمجھ کر دوبارہ جوڑ کر اکھنڈ بھارت بنانا چاہتے ہیں۔ ابھی کرتار پور کھولا ہے تو سکھ لوگ کے ساتھ ابھی پاکستان کا نیا ہنی مون شروع ہوا ہے۔ ہمارے بھارت میں بولتے ہیں ع
یکم جنوری ہے نیا سال ہے
دسمبر میں پوچھیں گے کیا حال ہے

بھارت کے مسلمان لوگ کو پاکستان سے ہمدردی تو بہت ہے مگر امید زیرو۔بے نظیر کے بعد سے تو ایک دم پاکستان کا ڈر ختم ہوگیا۔ایک زمانہ تھا تم لوگ کا پی ٹی وی ہم کو ڈپیریس کرتا تھا۔ میرے ڈیڈ ونود پٹیل اور ماتا جی گائتری پٹیل تو آج بھی یوٹیوب پر ہات میں ہات ڈال کر انکل عرفی، تیسرا کنارہ،ان کہی،ایک محبت سو افسانے، سخن ور،الف نون، ٹال مٹول، دیکھتے ہیں۔ فریدہ خانم،امانت جی کو سن سن کر دماغ خراب کرتے ہیں۔ابھی تم لوگ کے چینلز کیسا مذاق دکھاتے ہیں۔امریکہ میں ہوں تو سالے لوگ پر میں کیس ٹھوک دوں کہ ایسی Body Shaming۔ہم نے کہا برا نہ مانو تو یہ جو تم لوگ کے ٹاپ ایوارڈز شوز میں کپل شرما،انوش کھرانہ،ادیتی نارائن، اور سب سے بڑھ کر وہ سالی فرح خان اس کا بھائی اور وہ سالا چھکا کرن جوہر جو ہیومر کے نام پر کرتے ہیں ان پر بھی تو ایک مقدمہ ٹھوکو نا۔
کامیا کہنے لگی ”ارے بابا ہم لوگ کے پاس کوئی ماڈل نہیں تھا کہ کاپی کرتے تم لوگ کے پاس تو بیسٹ اسٹنیڈرڈ 70s میں پی ٹی وی نے سیٹ کردیے تھے کہ ہاؤ ٹو سنگ، ٹاک،ایکٹ اینڈ جوک۔آج بھی ہم لوگ کے دیش میں کوئی پی ٹی وی ہیروز عابد علی،فردوس جمال،شکیل کے اسٹائل میں بولے تو لڑکی تو آدھی ادھرج  Melt ہوجاتی ہے۔اپن کا بھی ابھی وہی ج حال ہے۔ آپ کے ول یو میری will u marry me بس بولنے کی دیر ہے۔دونوں کی انگوٹھی کا خرچہ میرا۔عنبر جو چپ چاپ آن کر بیٹھ گئی تھی اس کی طرف دیکھ کر کہنے لگی ولیمہ اس گدھیڑی کے گھر پر۔عنبر کہنے لگی کہ ان کو شادی سے زیادہ ہنی مون اچھا لگتا ہے۔

دلیپ کمار صاحب گورنر ہاؤس میں احمد فراز کو سُنتے ہوئے
احمد فراز دلیپ صاحب والے مشاعرے میں

ہم نے کہا اس نے کیا محسوس کیا کہ ہندوستان کو پاکستانی کس نگاہ سے دیکھتے ہیں تو کہنے لگی عالیہ بھٹ اور سونی ٹی وی کی نظر سے۔بھارت کے سائز اور نالج بیس کا انہیں کچھ پتہ نہیں۔ سب نے دماغ میں بسا رکھا ہے کہ ہندو ڈرپوک ہے۔ ابھی بھیGhaznavi Syndrome سے نکلے نہیں۔ سارا زور مسل پاور پر ہے۔انگریز کو دوسری جنگ عظیم میں سستے کرائے کے فوجی چاہیے تھے تو اس نے تم لوگ کے کچھ علاقوں میں مارشل ریس کاڈھول بجادیا اور تم لوگ آج تک ناچتے ہو۔ ساڑھے چھ فٹ کے امریکی فوجی کو پونے پانچ فیٹ کے ویٹ کانگ فوجی نے مار مار کر بھرکس بھردیا۔تم لوگ ابھی بھی وہیConventional Large Size Armies(روایتی بڑے سائز کی فوج) کو اصلی وار مشین سمجھتے ہو۔بابر ادھر آیا تو ابراہیم لودھی سے لڑنے کے لیے اس کے پاس بریگڈیئر جتنی فوج تھی کل آٹھ ہزار۔اس نے پہلے دولت خان لودھی گورنر پنجاب کو اپنے ساتھ ملایا۔لودھی کے چچا علاؤ  الدین کو کہا تیرے کو اتنا کچھ دوں گا اور پھر پانی پت۔ہریانہ میں ابراہیم لودھی کو ہرادیا۔

شیواجی ستنم

ہم نے کامیا کویہ کہہ کر چیک کیا کہ کیا ان سب ممالک میں جہاں ٹیکنالوجی اور دولت کی فراوانی ہے اس کی روایتی فوج میں کمی ہوئی ہے۔خود بھارت نے جموں اور کشمیر میں ایک کروڑ پچیس لاکھ اڑتالیس ہزار نو سو پچیس افراد پر سات لاکھ فوجی دستے تعینات کرکے Book of Record:Guinness میں نام ڈال لیا ہے۔یہ ہر بارہ افراد جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ ایک سپاہی کا تناسب ہے۔That exact. You work for the farishtas(اتنا درست۔۔کیا تم فرشتوں کے ساتھ کام کرتے ہو)عنبر ڑی ولیمہ کینسل۔ یہ شادی نہیں ہوسکتی۔ہم نے کہا اور کہو نا کہ ہم پاکستانی کتنے برے ہیں۔سب خرابی ہمارے پاکستان میں ہے۔آپ کے ہات سے بلڈ باتھ (لہو کا غسل) اچھا لگتا ہے۔ہم نے کہا اجازت ہو تو ایک شعر ٹھوکیں۔ ہنس کے کہنے لگی زور سے مارو ع

اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا
اتنے دن کے بعد مجھ کو آئینہ اچھا لگا

ارے واہ کیا قیامت ہے ایک تو سالے تم لوگ کے شاعر لوگ ایک دم ہم ہندوستانی لوگ کو برباد کردیتے ہیں۔ہم نے کہا یہ ہماری زہرہ نگاہ صاحبہ کا شعر ہے۔ جس پر اس نے کہا وہ ایک لفنٹر فراز تھا۔مین۔ جب وہ سنا ہے لوگ اس کو آنکھ بھر کے دیکھتے والی غزل پڑھتا ہے یو ٹیوب پر اس کو دیکھ کر تو میرا باپ میری ماں گائتری پٹیل کو بولتا ہے۔سالی یہ گجل والی چھوکری میرے کو آج بھی ملے تو میں اس سے شادی بھی کرلوں اور دھرم بھی بدل ڈالوں۔ہم نے پوائنٹ سوکرنگ کی کہ دلیپ کمار جی بھی اس غزل کو سن کر دم بخود رہ گئے تھے۔ چل مسلمان مردوں کا پیچھا چھوڑ اور واپس اپنی بات پر آجا۔

کراچی کا پٹیل پاڑہ
ہنک بمعنی زور آور خان جی

 

وینا ملک اور امیت پٹیل

بتانے لگی کہ پاکستان میں بہت کم لوگوں میں سیاسی اور ثقافتی بلوغت ہے۔بھارت کے بارے میں پاکستان میں سمجھ کو اگر میں نمبر پری ست میں بیان کروں تو کل 5%۔پاکستان میں دہلی ممبئی سے زیادہ ہندوستان کی کوئی خبر نہیں۔ایک عام پاکستانی تو چھوڑو بہت جان کاری رکھنے والے پاکستانی جن کو یہ سب پتہ ہوگا کہ کنگنا رناوت کی تازہ ترین فلم کون سی ہے، سونی ٹی وی کا سی آئی ڈی سیریل کے اے۔ سی۔ پی پردیومان کا اصلی نام شیواجی ستنم ہے۔ عالیہ بھٹ سے پہلے رنبیر کپور کی گرل فرینڈ شورتی حسن اور ماہرہ خا ن بھی ہوا کرتی تھی مگر یہ معلوم نہیں ہوگا کہ ہماری29 اسٹیٹس اور نو یونین ٹیریٹریز دو ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کا دار الحکومت ایک ہی ہے یعنی حیدرآباد۔دار العلوم دیوبند میں داخلہ صرف میرٹ پر ہوتا ہے۔ پندرہ سولہ ہزار امیدواروں میں سے مشکل سے سات سو،آٹھ سو طالبان سلیکٹ کرتے ہیں۔ تبلیغی جماعت کے بانی مولانا الیاس کاندھیلوی اور شیخ الہند مولانا محمود الحسن دونوں ہی دیوبند کے فارغ التحصیل تھے اور بنگلہ دیش میں کمیونسٹ تحریک کے بانی مولانا بھاشانی بھی وہیں کے پڑھے ہوئے تھے جب کہ اس کو بنانے کا حکم ایک صوفی انقلابی بزرگ امداد اللہ  صاحب نے دیا تھا۔خود تم کو پتہ نہیں ہوگا کہ ہماری ایک ریاست سکم کا  دارالحکومتGangtok ہے۔

کامیا کو کہ لگا کہ وہ زیادہ ہی بول گئی تو ہم سے پوچھنے لگی ”بائی دے وے آ پٹیل پاڑہ سوں چھے (یہ پٹیل پاڑہ کیا ہے)۔کیا وہاں اپن کے گجراتی رہتے ہیں۔ لیٹس گو۔بنگو کے گن مین لے کر چلتے ہیں۔
ہم نے ٹالا کہ پٹیل پاڑے میں اب صرف پٹھان رہتے ہیں۔جس پر کامیا مچل گئی کہ You mean those real Taliban hunks
(ہینڈسم مرد جس کو دیکھ کر ہیبت طاری ہوHunk ) ہم نے کہا ایک تو وہ محنت کش افراد کا علاقہ جہاں مزدور اور گیرج رکشہ والے رہتے ہیں اور کراچی میں اس کا ایسے علاقے میں جانا کم از کم اس وقت دانشمندی نہیں۔ اگلی دفعہ آئی تو ہم اس کو عبایا پہنا کر سیر کرائیں گے۔ وہ تو ہر چھ مہینے بعد براستہ دوبئی ممبئی آتی ہے۔اگلی باری پھر زرداری مگر اتنے لمبے پھیرے کے بعد وہ یہ تو بتادے کہ ہندوتوا اور سوفٹ ہندوتوا میں کیا فرق ہے۔

فرمانے لگی ہندوتوا کو کو بھارت کا Religious – Nationalism سمجھ لیں۔۔اس کی مثال آپ کا پولیٹیکل اسلام ہے یا دھرم کا وہ رنگ روپ جو اور ایرانی اور افغانی طالبان یا سعودیہ کی صورت میں دکھائی پڑتا ہے۔soft. Hindutva- اس سے ہٹ کر صرف کلچرل شناخت پر زور دیتی ہے جیسا ہمارے ہندوؤں میں آپ کو فجی،بالی انڈونیشیا، آپ کے مسلمانوں میں ملائشیا، مراکش اور انڈونیشیا میں مسلمان لوگوں میں دکھائی دیتا ہے۔اب کیا ہے کہ میں ہوں نا آپ کے پاکستان میں شلوار قمیص پہن کر یا عبایا ڈال کر یا جینز کُرتی میں کہیں بھی چلی جاؤں آپ کے پاکستانی مجھے پہچان نہیں سکتے جب کہ آپ کی کسی بھی رنگ روپ کی لڑکی یا لڑکا ایک منٹ میں بھارت میں سپاٹ ہوجائے گا۔ہماری پریانکا بھی امریکہ میں تلک لگاتی ہے، ایشوریا مانگ میں سیندور ڈالتی ہے۔دنیا میں کوئی
سیلی بریٹی ایکٹر ایکٹریس لوگ دکھاوے میں کبھی اتنے مذہبی کہیں نہیں ہوتے سوچو تمہاری وینا ملک جو بھارت میں بکنی پہن کر امیت پٹیل کا آئٹم بن کر رہتی ہو وہ جب شادی کرے تو سیندور اور تلک لگائے۔
مجھے کسی مسلم کراؤڈ میں مکس ہونا ہو تو میں نے برقعہ، حجاب اور عبایا پہننا ہے۔ ہم کو آپ کا اسٹائل کاپی کرنے میں کوئی مشکل نہیں آئے گی۔ہم نے ذکر نہیں کیا مگر فوری طور پر سن 1989 میں لیاقت آباد۔ کراچی میں فوجیوں کے ساتھ مل کر ایک سلیپر سیل کی گرفتاری کی کاروائی یاد آئی۔حاجی اور حجن تھے۔بھارت کا ویزہ لگوانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔
جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *