مرغی یا انڈہ؟۔۔۔۔دانش بیگ

مرغی یا انڈہ پہلے کون آیا؟ اس سوال نے بہت عرصے تک انسان کو پریشان کیے رکھا۔ یہ سوال اس مشاہدے سے جنم لیتا ہے کہ تمام مرغیاں انڈے سے نکلتی ہیں اور تمام انڈے بھی مرغیاں ہی دیتی ہیں (نوٹ: یہاں پر چکن ایگ کی بات ہو رہی ہے)۔
اسے کسی ایسے مسئلے کے لئے بطور استعارہ بھی استعمال کیا جاتا ہے جس کے دو واقعات میں سے یہ سمجھ نہ آئے کہ کاز کیا ہے اور ایفیکٹ کیا یعنی ہر عمل دوسرے پر ڈیپینڈ کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
ارسطو نے چوتھی صدی قبل از مسیح میں اس پر لکھتے ہوئے یہ نتیجہ نکالا کہ کہ یہ لامحدود تسلسل ہے جس کا کوئی صحیح اوریجن نہیں۔
اس کے بعد مختلف فلسفیوں نے اس پہ طبع آزمائی کی جن میں Plutarch اور macrobius وغیرہ شامل تھے انہوں نے اسے ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔

سولہویں صدی میں بائبل میں بیان کی گئی آغاز کی کہانی کی وجہ سے یہ مشہور مسئلہ عیسائی دنیا میں تقریباً حل ہو چکا تھا۔ جانوروں کی تخلیق کے تناظر میں یہ ممکن تھا کہ ایک پہلی مرغی بغیر انڈے کے زمین پر آ گئی ہو۔
تاہم بعد میں کچھ روشن خیال فلسفیوں نے اس حل پر کافی سوالات اٹھائے۔

سائنسی جواب:

آج سائنس کی بدولت ہم اس سوال کا درست جواب دینے کے قابل ہو چکے ہیں۔ ڈارون کے اصولوں کے مطابق ایک جاندار آہستہ آہستہ ارتقاء پذیر ہوتا ہے اسی طرح مرغیوں کے بھی کچھ اجداد تھے جو کہ مرغیاں نہیں تھیں اس سے ملتا جلتا ایک آئیڈیا یونانی فلسفی anaximander نے اس مسئلہ پر بات کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔

سوال کو دو طرح سے لیا جا سکتا ہے کہ سوال میں انڈے سے مراد عمومی انڈہ ہے یا اس سے مراد مرغی کا انڈہ ہے۔

اگر سوال میں انڈے کو عمومی معنوں میں لیا جائے تو جواب ہے کہ انڈہ پہلے آیا۔
پہلا amniote egg جو کہ ایک سخت شیل کا حامل انڈہ تھا اور amphibians اور مچھلیوں کے انڈوں کے برعکس خشکی پر بھی دیا جا سکتا تھا تقریباً 312 ملین سال پہلے ظاہر ہوا جبکہ مرغیاں تقریبا 8 ہزار سال پہلے red junglefowl
سے ارتقاء پذیر ہوئیں۔

اگر سوال میں انڈے سے مراد مرغی کا انڈہ ہے تو پھر بھی جواب یہی ہے کہ انڈہ پہلے آیا تاہم اس کی وضاحت کچھ پیچیدہ ہے۔
جس عمل کے تحت junglefowl کی مختلف سپیشیز کی آپس میں بریڈنگ اور ڈومیسٹکیشن کے تحت مرغیوں کا ارتقاء ہوا وہ عمل بہت کم سمجھا گیا ہے اور جس پوائنٹ پر ارتقاء کرتے ہوئے یہ جاندار مرغی بنا وہ بھی صوابدیدی( arbitrary) ہے۔
جدید مرغی سے ملتے جلتے ایک جاندار جو کہ مرغی نہیں تھا (پروٹو چکن) نے ایک انڈہ دیا جس میں سپرم ایگ یا زائیگوٹ میں ہونے والی میوٹیشنز کی وجہ سے جدید مرغی نے جنم لیا۔ Neil degrasse Tysonکے الفاظ میں ” کون پہلے آیا مرغی یا انڈہ؟ انڈہ جو اس پرندے نے دیا جو کہ مرغی نہیں تھا”۔

یہ بھی تجویز کیا جاتا ہے کہ ماڈرن مرغی کے انڈے میں موجود ایک مخصوص پروٹین کی وجہ سے جواب مختلف ہو سکتا ہے۔ مرغیاں یوٹرس میں ovocleidin-17 (OC-17) نامی ایک پروٹین بناتی ہیں جس کی وجہ سے انڈے کے گرد کیلشیم کاربونیٹ کا سخت شیل بنتا ہے۔
چونکہ OC-17 مرغیاں بناتی ہیں نہ کہ انڈے اس وجہ سے یہ تجویز کیا جاتا یے کہ پہلی مرغی ایک ایسے انڈے سے آئی ہو گی جس میں OC- 17 نامی پروٹین موجود نہیں تھی پہلا ٹرو چکن ایگ جس میں OC-17 موجود تھی مرغی نے دیا ہو گا یوں مرغی انڈے سے پہلے آئی ہو گی۔ تاہم پرندوں کی دوسری سپیشیز جیسا کہ فنچز وغیرہ میں OC-17 کی موجودگی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انڈے کو سخت کرنے والی یہ پروٹینز پرندوں میں عام پائی جاتی ہیں۔ یوں یہ ثابت ہوتا ہے کہ OC-17 مرغی کے ارتقاء سے پہلے ہی وجود میں آ چکی تھی۔
نتیجہ:
انڈہ پہلے آیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *