دشمن، دروازے پر۔۔۔(قسط1)محمداقبال دیوان

SHOPPING

امریکہ سے آئی ہوئی ایک بھارتی مہمان سے مکالمہ۔

ہمارے محترم محمد اقبال دیوان نے یہ طویل مضمون کچھ دوستوں کے اصرار پر لکھا ہے۔ یہ در اصل چند گھنٹوں پر محیط ایک مکالمہ ہے جسے بھارت نژاد، امریکہ میں مقیم ایک گجراتی خاتون کی بے لاگ اور بے باک گفتگو سے ترتیب دیا گیا ہے ۔وکیل صاحبہ سال کے چاہ ماہ لازماً  بھارت میں گزارتی ہیں۔ نیویارک ،ممبئی اور دہلی میں ان کے بچپن کے کچھ دوست مسلمان ہیں۔
اس مضمون میں ، وزیر اعظم مودی، بھارت کی سپریم کورٹ کا بحران ،بابری مسجد ا ور پاکستان ہندوستان کے Power Groups وہاں ہونے والی،ہجوم ہلاکتوں (Mob-Lynching)، اندرا گاندھی پر دو جُدا جُدا دیش بھگتوں (محب الوطن) اجنبی ملاقاتیوں کے نشترانہ تجزیے شامل ہیں۔ مزید برآں دو اور قدرے ناآشنا موضوعا ت بھی اس میں شامل ہیں۔ایک سائیں بابا شردھی کی سمادھی پر ان کامیا بی بی  کی یاترا ہے ۔ دوسرا موضوع ان کے ضلع بستر۔ریاست چھتیس گڑھ کے آدی واسیوں میں گزارے ہوئے چند ایام کا احوال ہے ۔چند کلمات ان کے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بارے میں بھی ہیں جن کو ماننے میں ان کو مداحین کو شاید کچھ تامل ہو، اردو زبان میں ہلکے پھلکے انداز میں ان موضوعات پر کوئی تحریر ہماری نگاہ سے نہیں گزری۔
یہ مہمان بمشکل تین رات اور چار دن اس مملکت پاکستان میں شادی کی ایک تقریب کے حوالے سے مقیم رہیں۔میزبان گھرانے سے ان کے نیوجرسی امریکہ میں بہت گہرے سمبندھ ہیں۔
دوران مطالعہ اس نکتے پر توجہ رکھیں کہ اس نیک دل خاتون کا رویہ ہم سے لاکھ مہذب سہی مگر اسے ہمدردانہ اور فراخدلانہ ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔ اس کی کاٹ اور چھبن پر ایک Introspective Reflection (اندر جھانکنے والا مراقبہ) بنتا ہے۔مکالمہ چاہتا ہے کہ پاکستان کو اپنی راہ مل جائے، ہم چین، امریکہ اور ماسکو کی عداوت کے بکھیڑے میں کیوں پڑیں۔ہماری تعلیم،صحت اور روزگار بہتر ہوجائے تو سیدنا معین الدین چشتی کے تکیہ کلام کی کی روشنی میں فقیر کو”ہادی“ نام کافی ہے۔
دیوان صاحب نے انہیں گفتگو میں الجھا کر راز دروں کھولے۔اس کا سہرا ان کی گجراتی اور پرکھوں کی وطنیت (Nativity)کو جاتا ہے۔ یہ ایک اچھا تجربہ ہے۔اردومیں ان موضوعات کو پاکستانی قارئین کی سہولت کی خاطر کم ہی چھیڑا جاتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ دلبروں کی اس عنایت کا لابھ لینے کی جسارت اور اہتمام ہمارے محترم مصنف ہی کرسکتے ہیں۔
مکالمہ نے کوشش کی ہے کہ دشمنی لاکھ سہی مگر دشمن کو سمجھنا ضروری ہے ۔گاڈ فادر میں کہا گیا ہے کہ دوست کو قریب مگر دشمن کو قریب تر رکھا کرو،بنا سمجھے دشمنی اور قربت دونوں ہی ضرر رساں ثابت ہوسکتے ہیں۔ شفقت و رسائی کےباجود دریافت کی جسارت نہ ہوئی مگر ہم آپ کو وثوق سے جتلا دیتے ہیں کہ اس پورے بیانیے کا سیندور آپ تنہا کامیا پٹیل صاحبہ کی مانگ میں نہیں ڈال سکتے اس سوئمبر میں مصنف کا وسیع مطالعہ  اور اکتساب علم بھی شامل ہے۔یہی وجہ ہے کہ بیانیہ اختلاف کا تو حق آپ کو دیتا ہے مگر اس سلسلہ ہائے مضامین میں بھارت سے متعلق حقائق جس دلچسپ اور عمدگی سے ہنستے کھیلتے  بیان کیے گئے ہیں ،وہ تحسین نہ سہی توجہ کا ضرور طالب ہے۔

موضوعات کی اس رنگولی میں   اگر کسی مقام پر تشنگی محسوس ہو تو اس کا الزام آپ اس تنگی ء  وقتِ  ملاقات کو دیں جس نے رونے نہ دیا ۔مزید کچھ جاننے کا اشتیاق اگر برقرار ہے تو  اس کے لیے آپ خلائی مخلوق کے Joint Counterintelligence Bureauسے رابطہ کریں۔شناخت اور مقامات کو مہمان اور میزبان کی مشترکہ درخواست پر مصنف کی جانب سے بدل دیا گیا۔

انعام رانا۔(ایڈیٹر ان چیف)

یار کو ہم نے جابجا دیکھا۔۔حریم شاہ
یار کو ہم نے جابجا دیکھا۔۔حریم شاہ
مودی جی
دستِ عمران
تبو

قسط نمبر۔۱
۱۔کیسے کہہ دوں کہ ملاقات نہیں ہوتی ہے!
پاکستانی معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہاں مادی جھوٹ (Material Lies) ہمارے جیسے درویشوں کے غیر مادی سچ (Non -Material Lies) پر غالب آگیا ہے۔عنبر صدیقی کی اچانک دعوت ملنے پر ہمارے انکار کا جواز تو یہ غیر مادی سچ ہوتا کہ ہمیں نیند آرہی ہے یا  ہمارا دل نہیں چاہ رہا۔ عنبر کو یہ سچ مگرہضم نہ ہوتا۔ ہم کہتے کہ نیند آرہی ہے تو جواب ملتا سال میں چار سے پانچ ماہ سو کر بھی تمہارا دل نہیں بھرتا۔ویسے بھی مسلمان سو رہے ہیں تم ایک نہیں سو ؤگے تو کیا قیامت آجائے گی۔ ہم اگر کہتے دل نہیں چاہ رہا تو خدشہ تھا کہ ان کی جانب سے ملنے والی آئندہ ہر دعوت معطل ہوجائے گی۔
تعلقات کے حوالے سے ہماری بے چارگی اب اس مقام پر آگئی ہے کہ ہمیں پچیس سال پرانا دشمن نہیں ملتا تو ایسی رنگ رنگیلی، وسیع القلب اور عنبر صدیقی جیسی مزاج دار رمز آشنا دوست کہاں ملے گی۔ سو نہ جانے کا ہم نے یہ بہانا تراشا کہ ہمارا ڈرائیور فقیر محمد آف کالا باغ ہفتے کی شام مصروفیت نہ ہونے کی وجہ سے چھٹی کرچکا ہے۔انہیں پتہ ہے ہم بہت اُوبر پرست (Uber)ہیں۔ ہم نے پھر بھی بہانہ کیا رات میں اوبر؟! تو کہنے لگیں ’اللہ تم کون سے حریم شاہ ہو کہ تمہیں اوبر والا میرے گھر کے علاوہ کہیں اور لے جائے گا۔شرم کرو۔۔ ایک وہ نیم خواندہ پانچ فیٹ کی فربہ اندام عورت ہے ۔ سکیورٹی کے کولہوں پر جوتیاں بجاتی اور دفاتر کی سنجیدگی، منصب و مقام کا لحاظ کیے بغیر ہر جگہ چھچھورا پن کرنے اداروں کی بہن دی سری کہہ کر پہنچ جاتی ہے۔ ایک تم ہو کہ سوا چھ فیٹ اور مودی جیسے باون انچ کا سینہ رکھنے اور عمران خان جیسی فاسٹ بالروں والی چوڑی ہتھیلیاں اور بے رحم محتسب طبیعت رکھنے والے مرد ہوکر رات میں گھر سے نکلنے سے کنی کترا تے ہو۔ ضد پکڑی کہ آجاؤ ڈراپ کرادوں گی ۔ پک بھی کرادیتی مگر مسئلہ یہ ہے کہ آوک جاوک میں ٹائم نکل جائے گا۔

جینتی بھائی پٹیل موٹیلز والے
کامیا پآٹل جیسے لوگ
چشم ڈالر
امریکہ میں نیو جرسی کا جرنل اسکوائر
امریکہ کے گجراتی باڑے
گجراتی محلے امریکہ کے
گجراتی دولہا دلہن نیویارک
جی چاہے تو شیشہ بن جا

اپنی دعوت میں یہ ترغیب گناہ اور انڈیل دی کہ کامیا پٹیل ممبئی سے آتی ہے او ر واپس ٹرمپ دیس نیویارک جاتی ہے۔ تین دن دو رات کا قیام ہے۔ ایک جام گھٹکا چکی ہے۔کیا کمال عورت ہے۔۔ نہ صرف تمہاری شدھ گجراتی بولتی ہے بلکہ گورے کالے دونوں کے لہجے میں وکیل والی انگلش بولتی ہے۔تمہاری تبو جب نیویارک میں ہوتی ہے اس کے پاس ضرور تھالی کھانے آتی ہے۔جاؤگے تو ملاقات کرادے گی ڈیپر کے چھوکرے(ہمارے سسرالی بھتیجے اور  ان کے بیٹے کا مشترکہ پڑوسی دوست ہے۔ اس کو فون کردیا تھا۔ شیشہ بھی آگیا ہے۔ بہت چکاس محفل جمے گی۔
ہم مان گئے اور اوبر والے کو فون ٹھوک دیا۔ اوبر والا رات کی تنہائی میں نو بجے سمندر کی لہریں گنوانے   سمندر کنارے بدین کے کسی سندھی جوڑے کو لایا تھا ۔ انہوں نے اسے تین گھنٹے کا وقفہ دیا تھا۔ چار منٹ میں ہمیں لینے پہنچ گیا ۔

ہم آپ کو امریکی گجراتیوں کے بارے میں بتادیں ۔نیویارک سے جڑی ریاست نیوجرسی اور نیویارک میں مل ملا کے سوا لاکھ کے قریب گجراتی آباد ہیں۔سن 1965 میں جب پاک بھارت جنگ ہوئی تو گجراتیوں کو بہت Rude -Shock ہوا ۔ ان کا خیال تھا کہ دونوں ملکوں کے گجراتی لیڈروں گاندھی اور جناح صاحب نے انگریز سے مل ملا کر اپنا اپنا دھندہ علیحدہ کرلیا ہے۔ اب مزید کوئی دنگا فساد نہیں ہوگا۔ دونوں اپنا اپنا کھائیں گے کمائیں گے۔ جنگ ہوئی تو ان لوگ نے کہا۔اب ہندوستان میں بھی نہیں رہناسیدھا امریکہ چلو۔ بیچ میں کہیں نہیں رکنا۔ یہ بدمعاس  لوگ کو چین نہیں آنے کا۔اسی کا نتیجہ ہے کہ “chain migration”کا ایک سلسلہ چلا۔گجراتی بڑی تعداد میں نیویارک میں ویسے ہی پہنچ گئے جیسے مسلمان گجراتی اور میمن کراچی آئے تھے۔امریکہ کی hospitality industry جس میں سستے مہنگے سبھی طرح کے ہوٹل شامل ہیں ان پر گجراتی پٹیل خاندانوں کی تجارتی اجارہ داری ہے۔ وہاں ڈاکٹر، انجینئردیسی شاپنگ  سٹوروں۔ امریکہ کے آدھے موٹلز ان ہی گجراتیوں کی ملکیت ہیں جس میں جیانتی بھائی پٹیل کے بارہ موٹلز ہیں اسی وجہ سے ان سستے ہوٹلوں کو مذاق میں Patel Motel Cartel. کہا جاتا ہے

کامیا پٹیل (کامیا بولے تو آرزو) نے سادہ سی کاٹن کی سبز ساڑھی اور گہرا سبز بلاؤز پہنا تھا۔ ہماری آمد کے وقت گیٹ کی اوٹ میں کھڑی کسی سے بات کررہی تھی۔ اس وقت میزبان عنبر وہاں موجود نہ تھی۔ یہ وجہ بنی کہ وہ ہمیں پہچان نہ پائی ۔ہم نے بھی اس عالم ناآشنائی میں اس کے پیٹ کو سب سے پہلے دیکھا۔بلاؤز کی کاٹ چھانٹ، قامت کی زیبائی، مزاج کا دھیما پن اور قیام میں احتیاط دیکھ کر ہم سمجھ گئے کہ یہی  کامیا پٹیل صاحبہ ہیں۔

جس طرح دریائے راوی نے پچھلے بیس برسوں میں امرتسر،گورداسپور اور پٹھان کوٹ میں اپنے کنارے پرانی بستیوں سے پر ے کرلیے ہیں۔یہی عالم کچھ اس کا جم (Gym)کے پلے ہوئے پیٹ پر مسلسل اوپر سرکتے بلاؤز کا تھا جس پر ہندوستانی کھانوں سے جمع شدہ اندرونی چربی نے ایک دل فریب چمک اور ابھار پیدا کردیا تھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ ڈالر کی پشت پر موجود اہرام سے جھانکتی آنکھ کی طرح سے اس جنگل گرین بلاؤز سے ایک آنکھ جیسی ناف بھی ہر آنے جانے والے کی نگرانی کرتی تھی۔یہ وہ واحد بے پردگی تھی جو ہم سے درویش صفت، اہل نظر سے ہوئی۔

ہمیں پشاور کی سول سروس اکیڈیمی میں (جس کی ضد میں ہم نے سندھ میں ایک اکیڈیمی یہاں پہلی دفعہ اپنی کار کی ڈگی سے ریٹائرمنٹ کے بعد قائم کی) وہاں دوران تربیت اسلامیات پڑھانے پشاور یونیورسٹی کے شعبہء اسلامیات کے پروفیسر قاضی مجیب آتے تھے۔ سن ساٹھ کی دہائی میں ہپیوں کے زمانے میں جوان ہوئے تھے۔ اس لیے اسلام سے وابستگی میں دھکم پیل سے زیادہ ہم آغوشی کا غلبہ تھا۔جاوید احمد غامدی کی طرح ضدی مسلمانوں کے لیے عقیدے میں نرمی کی گنجائش نکال لیتے تھے۔انہیں پریکٹکل اسلام سے زیادہ لگاؤ تھا۔

چشم سامع
گجراتی محلے امریکہ کے

ہمارے کسی ساتھی نے پوچھا کہ اگر کسی یورپی ملک یا امریکہ میں کسی غیر مسلم خاتون سے یارانہ، چوما چاٹی والا سمبندھ (تعلق) ہو تو اس دین دشمن بے راہ روی پر اس غریب الوطنی کے عالم میں بھی کیا مسلم مر د  پر اسلامی سزاؤں کا اطلاق ہوگا۔وہ کہنے لگے چونکہ اس معاشرے کا قانون اس طرح کی سزاؤں کو روا نہیں رکھتا لہذا غیر مسلم خاتون سے اس قربت کو میچ  پریکٹس سمجھ کر نظر انداز کرنا بہتر ہوگا۔ ہم نے چائے پر اس نکتے پر ان کی توجہ دلاتے ہوئے جتایا کہ باہر تو مسلم خواتین بھی تحصیل علم اور دیگر امور کے سلسلے میں قیام پذیر ہوتی ہیں۔کیا یہ دینی کشادگی اورمیچ پریکٹس کی سہولت انہیں بھی یکساں اور فوری طور پر میسر ہوگی۔جھینپ کر کہنے لگے تم’کراچی کے میمن لوگ بہت شیطان ہو‘۔

آئیے کامیا کی جانب لوٹ چلیں۔جب وہ  سٹڈی میں ہماری میزبان کی رفاقت میں داخل ہوئیں تو گدرائے ہوئے پُرآب چمکیلے ہونٹ اور وشال (آسمان کے سے پھیلے ہوئے) نینوں سے ہمارا واسطہ دوران گفتگو پڑا۔ ہم انہیں تا دیر دیکھتے تھے جب وہ سریلی آنکھیں بڑی لگاوٹ سے ہماری بات سن رہی ہوتی تھیں۔ خود ہماری دیدہ وری میں بچوں کی سی معصومیت ہے۔ہم بھی نگاہوں سے خد و خال کی جے آئی ٹی نہیں کھولتے۔کچھ لوگوں کو اس لیے اس کا چس بھی آتا ہے۔ عورت دکھاوے کی دنیا ہے مگر دید بانی ہر کس و ناکس کی بات نہیں۔یہ مردوں کی گمشدہ میراث ہے۔اطالوی اور فرینچ مردوں کے ہاں یہ ہنربکثرت پایا جاتا ہے۔

ایسا لگا جیسے کامیا آنکھوں سے بھی سنتی ہو جو توجہ کا ایک جان لیوا مرحلہ ہوتا ہے جس میں فرار کی راہیں مسدود ہوتی ہیں۔ امریکہ میں یہ طریقہ واردات اکثر لوگوں کے ہاں ہے۔وہ بہت غور سے آپ کی بات سنتے ہیں اور دیر تک یاد بھی رکھتے ہیں۔  سٹڈی میں جب وہ عنبر صدیقی کے ساتھ داخل ہوئی تو ہمیں مولانا فضل الرحمن کے لہجے میں اسلام وعلیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ کہا جواباًٍ ہم نے بھی نمستے اور جے شری کرشنا کے ساتھ اگلی سانس میں کیم چھو (کیسی ہو) کہا۔وہ خوش دکھائی دیں کہ ہم پہلے امتحان میں کامیاب ہوئے۔عنبر چونکہ شادی والا گھر تھا لہذا ہمیں اس کے ساتھ بٹھا کر خود کہیں چلدیں۔ ملازم کو کہہ دیا کہ کباب والے کی انگیٹھی سے چولہا لا کر رکھنا ہے۔ صاحب شیشہ میں کیمیکل والا کوئلہ نہیں پیتے۔

گجراتیوں کا ایک مسئلہ ہے جس طرح پنجابی کچھ بھی ہوجائے اسی تسی سے باز نہیں آسکتے اس طرح ان کا بھی کیم چھو بند نہیں ہوتا۔آپس میں مل بیٹھیں تو گجراتی ضرور بولتے ہیں اس کے علاوہ اسی زبان میں چاراور موضوعات پر بھی لازماً گپ شپ ہوتی ہے۔ پہلا موضوع شردھا یا شیو نو راتری،(دیوی درگا کا جشن فتح کا نو رات اور دس دن کا تہوار ہے۔اسی کا آخری دن دسہرہ کہلاتا ہے۔) اس کے گربے، دوسرے ڈھوکلے جو گجراتیوں کی اور مودی جی کی پسندیدہ ڈش ہے ۔یہ بیسن اور چاول کی لذیز ڈش ہے اس کے ذائقے  پر بھی لازمی بات ہوگی اور تیسرے مودی جی بھارت کے پردھان منترًی جو مسلمانوں پر ہلاکو خان بن کر ٹوٹے ہیں ان کا تیا پانچا ضرور ہوگا۔ چوتھا دھندہ۔یہ چار موضوع مسٹ ہیں۔ہم آپ کو بتادیں کہ اسماعیلی،پارسی، جناح صاحب والے اثنا عشری(بارہ امامی) کچھی اور میمن سب کے سب گجراتی ہیں۔اس میں کچھ کا عقیدہ اور کچھ کی زبان مختلف ہے مگر یہ سب ثقافتی رنگ ڈھنگ میں ایک جیسے ہیں۔ جس طرح پنجاب کے سکھ، قادیانی،شیعہ، دیوبندی سبھی رہن سہن میں ایک جیسے ہیں۔میمن البتہ سو فیصدی سنی اور ہمارے سمیت تیس فیصدی لازمی طور پر ایب نارمل ہوتے ہیں۔

لستھ ملنگا سری لنکا کے فاسسٹ بالر
کاما سوترا
مجسمون کا کاماسوترا

جس طرح فوج کے بارے میں سن گن لینی ہو تو پاکستان میں پنجابی دوست سے کوئی بہتر اور نہیں۔ایم کیو ایم کے بھید بھاؤ سمجھنے ہوں تو لالو کھیت یا شکاگو کے مہاجر پر نظر رکھیں اور یہ جاننا لازم ہو کہ سندھ میں بھٹو آج کل زندگی کے کس مرحلے پر ہے تو کراچی یا حیدرآباد کے سندھی کے ساتھ مکالمہ بہت اوپر کے لیول پر چلاجاتا ہے۔یہی حال ہمارا اور کامیا کا ہوا۔بات چلی تو آپ سے تم، تم ُسے توُ ہونے لگی۔۔۔
کامیا پٹیل امریکہ میں نیویارک سے جڑی ریاست نیو جرسی کے شہر جرسی سٹی میں لٹل انڈیا یا لٹل گجرات کے قریب رہتی ہے ۔عمر تیس اور چالیس کے درمیان دوڑتی بھاگتی انگڑائیاں لے لے کر احمد فراز کے مصرعے کی تفسیر مجسم بنی کہ ع اب کے انگڑائی نہ ٹوٹی تو بدن ٹوٹے گا۔۔ کبھی جیتتی تو کبھی ہارتی ہوئی۔ جسم و اطوار سے مرد آسودہ مگر ایک دم پیٹی۔پیک رویوں کی مالک۔آپ اس سے لبرٹی نہیں لے سکتے۔نہ چاہے تو اس سے رامائین پر بات کرتے ہوئے ڈر لگے ،مان جائے تو وت سیانا ملنگا۔۔(Vatsyayana Mallanaga) (جن کا سری لنکن فاسٹ بالر لس ستھ ملنگا سے شاید کوئی دور دراز کا رشتہ ہو ) کی تحریر کردہ”کاما۔ سوترا “ جسے عرب کتاب۔ الحیات سمجھ کر آج بھی ممبئی خراب عورتوں سے پڑھنے آتے ہیں) اردو پنجابی میں دو کا پہاڑا دو ایک دو، دو دونی چار لگے۔کامیاامریکہ میں Divorce – Attorney ہے۔
امریکہ میں کراچی اور لاہور کی طرح چالیس سے پچاس فیصد شادیوں کا انجام طلاق ہے۔فرق اتنا ہے کہ وہاں طلاق یافتہ فریقین کو عدالت کے ذریعے رقم مل جاتی ہے اور یہاں گالیاں۔یہاں طلاق ہو تو عورت رنڈی اور بد زبان کام چور اور بد مزاج اور مرد سو فیصد گے، نامرد، ماں کا پرنس چارلس،ایسے میں بھی اگر شادی تیری بہن میرے بھائی والا وٹہ سٹہ ہو تو مزید طلاقیں اور مزید گالیاں۔ ایسے میں وہاں کامیا کا دھندا بہت زوروں پر چلتا ہے۔خود نے شاید اسی خوف سے شادی نہیں کی مگر تا دم رخصت مرد دشمنی کا کوئی شائبہ ان کی گفتگو سے ظاہر نہ ہوا۔ عنبر  صدیقی ہمیں براجمان کرکے جانے لگیں تو بتادیا کہ بوبی بنگو (ان کے بھائی)کی کالج کی دوست اور پڑوسن ہے۔ ہم سب نیویارک میں آدھے اس کے گھر میں تو آدھے اپنے گھر میں رہتے ہیں۔

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *