اَخ تھو

چھ ستمبر آیا اور گزر گیا۔کوئی ارادہ نہیں تھا اس موضوع پر لکھنے کا،زیادہ ہنگامی او رہنگامہ خیز مضامین جَھڑ کی طرح چھائے ہوئے تھے لیکن سوشل میڈیا پر۔اور آج الیکڑا نک میڈیا پر۔”محبِ وطن “عناصر کی زہریلی زبانوں کی نوکیلی لمبائی دیکھ کر خیال آیا کہ یوں تو فرمایا گیا ہے کہ “واذا مرو ابا للغو مرو اکراما”۔
جب لغو کے پاس سے گزرو تومتانت سے گزر جاؤ۔مگر کبھی کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے کہ عف عف کے جواب میں پتھر پھینکنا پڑ ہی جاتا ہے،اور کبھی کبھی تو وہی سعدی والی بات یاد آتی ہے کہ” پتھروں کو باندھ دیاہے اور کتوں کوکھلا چھوڑ دیا ہے”،سگ را کشادہ اندوسنگ رابستہ!
انسان حیرت میں گم ہوتا ہے جب سوچتا ہے کہ یہ ملک،یہ دھرتی،یہ سرزمین کس قدر کشادہ دل ہے،اس کا ظرف کتنا وسیع ہے،اس کا حوصلہ کتنا بلند ہے،کتنے ہی طوطا چشم اس سرزمین سے کھا کر اس کی تھالی میں چھید کر رہے ہیں۔اس کی ہوا کے معطر اور دلنشیں جھونکوں سے مست ہوکر اس کی برائی کر رہے ہیں،اس کی چاندنی،اس کی دھوپ،اس کی بارش،اس کی برف،اس کے ٹھنڈے پانی،اورا س کی شیریں گندم سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔اس دھرتی سے نکلنے والے سیب انگور اور بے شمار میوہ جات ہائے شیریں کھا رہے ہیں۔اس کے موسموں سے حظ اٹھا رہے ہیں۔مگر ساتھ ساتھ اس ملک کی ہر شئے میں کیڑے نکالے جارہے ہیں۔ کھا رہے ہیں اور تھو تھو کیے جا رہے ہیں۔ گز گز زبانیں اس ملک کی تنقیص میں باہر آتی ہیں۔ اور واپس اندر جانے کا نام نہیں لیتیں۔

یہ وہ بدقسمت بیٹے ہیں جو ماں کا دودھ پی کر ماں کی حرمت کے درپے ہو رہے ہیں۔یہ جس چھت تلے رات بسر کرتے ہیں صبح اس کی کڑیوں میں انہیں دیمک نظر آنے لگتی ہے۔مگر یہ ملک پھر بھی اپنی ہوا،اور اپنی چاندنی،اپنی بارشیں،اپنی نعمتیں انہیں دے جا رہا ہے۔مانا کہ مسائل بہت ہیں خرابیاں ہر شعبے میں ہیں،جن حکمرانوں سے امیدیں تھیں وہ خود غرض نکلے۔مگر خدا کے بندو!گھر تو تمھارا یہی ہے،کبھی ماں بھی بدل سکی ہے؟کبھی ولدیت بھی تبدیل ہوئی،کبھی اپنی جنم بھومی سے کسی نے انکار کیا؟دھرتی یہی ہے جس نے قدم قدم ہمیں چلایا،ہمیں بڑا کیا،ہمیں دودھ پلایا،اسی مٹی میں اجداد کی مٹی شامل ہے،ہمارے بادل وہی ہیں جو اس دھرتی پر آتے ہیں،اور برستے ہیں،ہمارا تو غرناطہ یہی ہے اور سسلی بھی یہی ہے، ہمارا تو قرطبہ بھی یہی ہے اور بلخ بخا را بھی یہیں ہے۔جو عف عف کررہے ہیں،وہ دنیا تو دنیا آخرت بھی خراب کر رہے ہیں۔

ایک ایوب خان،ایک ضیا الحق،ایک یحییٰ خان اور ایک پرویز مشرف کی طالع آزمائی کا مطلب یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ سار ی فوج خراب ہے،فوج تو ایک ادارہ ہے جو قائم ودائم ہے،اس سے غلطیاں ہوئیں،اس نے خمیازہ بھی بھگتا،اپنی اصلاح بھی کی،مگر جو کچھ بھی ہے،ہے تو ہماری فوج،۔اور یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ ایک فوج ہر ملک میں ہوتی ہے،خدا نخواستہ خدانخواستہ میرے منہ میں خاک،اپنی فوج نہ ہو تو دوسری فوج آجاتی ہے۔۔
ایک وارث ہمیشہ ہوتا ہے
تخت خالی نہیں رہاکرتا!

گز گز لمبی،زہر بھری زبانوں سے سوشل میڈیا پر تھوک اڑاتے،تھوتھنیوں سے غلاظت ٹپکاتے،سیاہ مشکوک پس منظروں کے مالک،الوؤں جیسے دیدے گھماتے،دانشور،کبھی وزیرستان کے بے آب و گیاہ بنجر پہاڑوں پر جا کر دیکھیں،کبھی کارگل،کیاری،سیاچن کے قاتل برفستانوں پر چڑھنے کی ہمت کریں۔اور دیکھیں،کس طرح نیم تاریک خیموں میں ٹمٹماتے چراغوں کے ساتھ ہمارے جوان وہاں راتیں گزارتے ہیں،اور کس طرح بینائی چھیننے والے یخ طوفانوں میں ہاتھ پاؤں منجمند کرکے بد ن کاٹ دینے والی سردی کیساتھ دن بسر کرتے ہیں۔اینٹیں ان کا تکیہ ہیں،پتھر اور مٹی ان کا فرش ہیں،کہرے کی تہیں ان کے لحاف ہیں، سرکتے پھسلتے،اندھی گھاٹیوں میں گرتے گلیشئر ان کی زمین ہے اور نہ نظر آنے والا خلا ان کاآسمان ہے۔

یہ قلمکار جو پاکستان کے ایک حصے میں پیدا ہوا او ر پلا بڑھا،جوعسا کر کو جانفروش سپلائی کرتا ہے،ہر تیسرے گھر سے ایک شخص گیا،بھارت میں چھاتہ بردار بن کر اترا،پھر کبھی واپس نہ آیا،زمین کی چھت کارگل پر چڑھا پھر وہاں سے اس کی میت آئی،ان کے گھر جا کر دیکھو، کچے کوٹھے،کچے فرش،دھواں دھار کمروں میں اپلوں لکڑیوں اور خشک جھاڑیوں پر کھانا پکتا ہے، کھانستے ہوئے بوڑھے باپ،کیچڑ بھری گلیوں میں پاؤں دھپ دھپ کرتے چلتے ہیں، سردیوں میں سوتی کھیس اور گرمیوں میں کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی دستی پنکھیاں بے مہر موسموں کے مقابلے میں واحد سہارا ہوتی ہیں، مائیں چھپروں تلے زندگیاں گزارتی ان دور دیسوں کے گئے بیٹوں کے لیے دعائیں کرتی ہیں،پھر جب شہید بیٹے کی میت آتی ہے تو اسے صبر اور شکر کے ساتھ دفنا دیتی ہیں، کسی کو کیا معلوم کہ پاکستان کی بنیادوں میں جن کا لہو بھرا ہے وہ دور افتادہ بستیوں،خاک اڑاتے قریوں میں گمنام زندگیاں گزار رہے ہیں۔

جس حاطب اللیل نے الیکڑانک میڈیا پر منہ سے جھاگ اڑا کر کہا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ پر کوئی تھوکتا بھی نہیں،اسے یہ گندگی بکھیرنے کا موقع یہ پاکستان ہی دے رہا ہے، کسی اور ملک جا کر ایسی غلاظت پیپ بہاتی تھوتھنی سے نکال کردکھائے۔ جوتے ایک ہاتھ میں اور نیکر ایک ہاتھ میں پکڑ کر بھاگنا پڑے گا۔اس پاکستان نے ہی تمھیں اس قابل بنایا ہے کہ بات کرسکو،اتنی نفرت ہے تو یہاں سے چلے جاؤ،خس کم جہاں پاک،پہلے چھید کرتے ہو،پھر اسی تھالی میں کھاتے ہو،پھر دوبارہ چھید کرتے ہو،تم سے تو وہ جانور بہتر ہیں جو مالک کے وفادار ہیں،اس لیے کہ مالک کا نمک کھایا ہے اور شیرینی بھی،افسوس،افسوس،ہیہات ہیہات،ہیہات،تم نے دھرتی ماں کو گالی دی،قدرت کا دستِ انصاف یقیناً تمھارے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو تم اپنی دھرتی ماں کے ساتھ کر رہے ہو،۔

ہاں!ہمیں کوئی احساسِ کمتری نہیں،ہمارے لیے یہی پاسپورٹ ارم کا پروانہ ہے،ہمارے لیے یہ خاک زرِ خالص ہے، ہمارے لیے یہ پاکستان مقدس چار دیواری ہے، شر م آنی چاہیے اس پاکستان کی توہین کرتے، کیا تمھیں نہیں معلوم سرحد پار ہمارے مسلمان بھائیوں کے معصوم بچے سکولوں میں بند بندے ماتر م کے ترانے گانے پرمجبور ہیں، مسلمان لڑکیاں ملازمت حاصل کرنے کے لیے ہندو نام اپناتی ہیں،مڈل کلاس مسلمان زیریں ترین طبقے کی طرف سمٹ رہے ہیں۔جو پہلے ہی زیریں طبقے میں تھے وہ معدوم ہوئے جاتے ہیں،گائے تو گائے،بکرے کا گوشت کھانے یا بیچنے پر بھی مسلمانوں کو یوں مار دیا جاتا ہے جیسے وہ کیڑے یا کاکروچ ہوں،آج تم نام نہاد سلیبرٹی بنے پھرتے ہو،تو اسی ملک کی مہربانی ہے،جس کو دیکھ کر تمھارے پیٹ میں قولنج کا درج پڑ رہا ہے۔

نہرو سے لے کر پٹیل تک اور باچا خان سے لے کر جی ایم سید تک کس نے اس ملک کے بارے میں زہر نہیں اگلامگر یہ ملک قائم و دائم ہے،اور قائم و دائم رہے گا۔ یہ وہی وسیع الظرف اور کشادہ دل دھرتی ہے جس پر وہ بھی حکمرانوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں جو اسے بنانے کے “گناہ” میں اپنے بقول شکریک نہیں تھے۔قائداعظم کے ملک کی مراعات بھاتی ہیں لیکن قائداعظم کا نا مل لیتے ہوئے زبان گنگ ہوجاتی ہے۔یہ سب اس ملک کا کچھ نہیں بگاڑ سکے تم بھی اس قبیح فعل میں اپناحصہ ڈال کر دیکھ لو،تم بھی جھاگ اڑا لو،تم بھی گلے کی رگیں سرخ کر لو،تم بھی دہن سے مارو کثر دم نکال لو،ان شا اللہ اس ملک کا تم بال بھی بیکا نہیں کرسکتے،تم کہتے ہو اس ملک کے پاسپورٹ پر کوئی تھوکتا نہیں،خلقِ خدا جس کے منہ پر تھوک رہی ہے اسے بھی سب جانتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *