بادبان!ٹمٹماتے چراغوں کی داستان(قسط14)۔۔۔۔محمد خان چوہدری

گزشتہ قسط:

باوا جی سٹپٹا گئے ۔ پوچھا ، اصغر کیا کہنا چاہتے ہو ؟ ۔ کہہ دو ۔۔
اصغر نے اتنا کہا ، ابا جی صوبیدار انکل نے دوسری شادی کر لی تھی ناں ۔ وہ آنٹی ان کے ساتھ رہتی ہے ۔۔
جو یہ سب کچھ اتنی ترتیب سے بن گیا اور اتنی شان و شوکت سے چل رہا ہے ۔ ۔۔
بابا کا گھر اسکی گھر والی بساتی ہے
بہوئیں تو اپنے گھر بنا لیتی ہیں میری بھابھی کی طرح “ ۔۔۔ باوا جی کسی گہری سوچ میں تھے،
اصغر نے روانی میں تڑکہ لگایا۔۔ بابا جانی جب آپ صوبیدار انکل کے نوکروں کو انعام دے رہے تھے ناں
میں نے انکل سے پوچھا کہ یہ بلڈنگ کس نے ذیزائن کی تھی ؟ انہوں نے کہا۔۔ ان کی بیگم نے۔۔۔۔
آئیڈیا اس کا تھا ۔ شہر کے ڈرافٹس مین نے نقشے کھینچ دیئے تھے ، باوا جی آپ سن رہے ہیں ؟
باوا جی نے فرمایا ،ایک تو یہ صوبیدار بھی ابھی تک بڑا بڑبولا ہے۔
میں سب کچھ سمجھ گیا ہوں۔ تم زہرا بی بی سے بات کر کے اس سے پوچھ لو ۔۔۔۔

نئی قسط:

وقار شاہ یہ تم نے اپنی کیا حالت بنائی ہوئی ہے ۔ تم فوج میں رہتے تو ابھی نوکری کر رہے ہوتے۔ صوبیدار میجر بن چکے ہوتے۔ جوان ہوتے بلکہ آنریری کپتان ہوتے۔ یہ بناوٹی بڑھاپا کس لئے اوڑھ رکھا ہے۔ یار گدی نشین ہونے کا مطلب یہ تو نہیں کہ بندہ قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھ جائے “
“ اور اس معصوم بیٹے کو کس جھنجٹ میں ڈال رکھا ہے۔ اسکے تو کھیل کود اور پڑھائی کے دن ہیں۔ اسے لاہور کے کسی بڑے کالج میں داخل کراؤ۔ وہاں ہاسٹل میں رہنے دو۔ کن بکھیڑوں میں اسے پھنسا دیا ہے”
باوا جی کو یہ باتیں کوئی دیرینہ ہمدم اور سینئر ہی کہہ سکتا تھا۔ اور صوبیدار صاحب نے کھڑکا کے کہہ دیں ۔۔
رہی سہی کسر بیٹے اصغر نے نکال دی، ان بجلی کے جھٹکوں نے انہیں ڈیپریشن اور ذہنی غنودگی سے باہر نکال لیا۔

اتوار کو ان کے ڈیرے پے جشن کا سماں تھا، چاچی کی کمانڈ میں تین نائن کھانے پکا رہی تھیں، چاچا نورا بیٹھک سیٹ کر رہا تھا، برآمدے میں کھانے کی بڑی میز اور کرسیاں اور صحن میں چارپائیاں بچھائی گئیں ،باوا جی خود سپروائز کر رہے تھے۔ اصغر کو ڈھوک سے دودھ اور تازہ سبزی سلاد لانے بھیج دیا تھا۔
مسز اکبر شاہ نے اپنے ماموں توقیر شاہ کو دعوت دی تھی، وہ اپنے سمال ڈیم آفس کے سر ویئر اور سائٹ انجینئر کو ساتھ لے کے آئے، پنڈی سے میجر جعفر صبح سویرے اپنی فوکسی پر کرنل صاحب کے ہمراہ پہنچ چکا تھا، ڈھوک سادات جس پٹواری کے حلقے میں تھی وہ باوا جی کی دعوت پر اپنے ساتھ اپنا بستہ ، گرداور اور نائب تحصیلدار صاحب کو بھی لایا ۔
باوا جی کی صدارت میں ڈھوک کی ساری زمین ، بنجر رقبہ ، بارشی نالے لٹھے پر عیاں تھے، ماہر موجود تھے ،
کرنل صاحب اور اکبر شاہ نے آگے کام چلانے کی ذمہ داری لی، ابتدائی  طور تین کلورٹس ساتھ ٹیرس بنانے ، اور ڈیم کی سائیٹ تجویز کی گئی، زراعت والوں سے لیول کرنے کی مشین کا ذمہ بھی کرنل صاحب نے لیا، فارمل پروپوزل کے لئے فائل کی تیاری بھی ہو گئی، کرنل صاحب ریٹائر ہونے کے بعد پنڈی اور گاؤں میں پراپرٹی کا بزنس کرنا پلان کر چکے تھے ، اور اس کی بنیاد پر سیاست میں آنے کا ارادہ بھی تھا۔ انکے لئے یہ ایکٹیوٹی سود مند تھی اور خاندان کے مفاد میں تو ہر حال میں تھی، ساری کاروائی  میں باوا جی کی رہنمائی  نمایاں تھی، انکی اس طرح عملی زندگی میں بھرپور واپسی پر سب کو حیران کن خوشی تھی، لیکن اس کے پس منظر سے آگاہ نوجوان اصغر شاہ بھابھیوں، بھانجوں بھتیجوں کے ساتھ بڑی حویلی کے صحن میں رونق لگائے بیٹھا تھا۔
کھانا لگنا شروع ہوا تو اس نے بیٹھک پہ  کاروائی  سنبھال لی، دعوت تو شاندار تھی اصغر کی کار گزاری خوب تھی،مہمانوں نے بھی باوا جی کو بہت مبارک اور دعائیں پیش کیں ۔توقیر شاہ جی کو چھوڑ کے باقی سرکاری مہمان رخصت ہوئے تو فیملی گٹ ٹوگیدر بیٹھک کے صحن میں شفٹ ہو گیا، فوکس گھوم گھما کے اصغر شاہ پر ہی رہا۔

باوا جی اور کرنل صاحب بیٹھک کے اندر چلے گئے، ملتان کے پراجیکٹس اور ڈیم بنوانے کے لئے خاندان کے دیگر اہم افراد کو شامل رکھنے پر مشاورت ہوئی، مخصوصی کی مجالس پر بات ہوئی، باوا جی عندیہ دیا کہ وہ اس کے بعد ملتان جا رہے ہیں کرنل صاحب نے بھی بتایا کہ راجن پور والی زمین کے گاہک ہیں وہ بھی ملتان آئیں گے، رات ان کا خالہ اور ساس ، زہرا کی امی کے ہاں قیام تھا، باوا جی نے اصغر کو بلا کر ان کو وہاں چھوڑ آنے کو ساتھ بھیج دیا۔
وہاں خالہ نے اصرار کر کے اصغر کو روک لیا، کرنل صاحب کے لئے ڈنر کا اہتمام تو پہلے سے تھا۔۔
کرنل صاحب کے مرحوم سسر بھی انکے والد کے کزن اور فوج میں افسر تھے، دو بیٹیاں تھیں، سادات کی یہ شاخ بچیوں کی تعلیم کی داعی تھی، وہ کرنل صاحب جب کپتان بنے تو بڑی بیٹی ایف اے میں تھی، دونوں بہنوں نے شادی کرا دی۔ زہرا کے لئے کرنل کے چھوٹے بھائی  میجر کا رشتہ بچی کی تعلیم مکمل ہونے تک لیٹ ہوا، میجر نے خاندان سے باہر شادی کر لی، زہرا نے لاہور کینئرڈ سے بی ایس کیا، والد کی ایکسیڈنٹ میں وفات کے بعد ساری ذمہ داری کرنل صاحب پے آ گئی، انہیں محفوظ ترین جگہ گاؤں میں شفٹ کیا۔
پنشن اور فنڈز سیونگ اکاؤنٹ میں جمع کرائے، مالی طور پہ ماں بیٹی خود کفیل تھیں ۔ والدہ صبح بچیوں کو کلام پاک پڑھاتی اور درس دیتی۔ دن میں گاؤں کی عورتیں سلائی کڑھائی سیکھنے آتیں ۔ شام کو زہرا بچیوں کو فری ٹیوشن پڑھاتی بدلے میں ان کو گھر کے کام کاج سے سودا سلف لانے تک کی سروس میسر ہوتی، گاؤں میں ان کا مقام بہت تھا۔
اصغر نے دعوت دی کہ انکل کے ساتھ ملتان آئیں، زہرا نے فوری حامی بھر لی، کہا کہ میں کب سے بھائی  جان سے کہتی ہوں کہ لاہور اور ملتان کا وزٹ کرائیں ، کالج دیکھوں ، زیارات پر  سلام کریں،
کھانے کے دوران بھی زہرا کی مادرانہ شفقت ، پیار بھرے جملے اصغر کو حوصلہ افزا لگے، وہ کرنل صاحب سے ملتان ان کو ساتھ لانے کا حتمی وعدہ لے کے واپس ہوا۔
جعفر فیملی بھی دن کی چھٹی لے کے آئی، اپنی انیکسی میں عرصے بعد قیام کیا۔
صبح جعفر باوا جی اور چاچے نورے کو ساتھ فوکسی پر ڈھوک پہ دودھ اٹھانے لے گیا۔
واپس آئے تو باوا جی نے ملتان بنک کے وی پی صاحب سے بات کی، تعمیر کی پراگرس رپورٹ پوچھی، جیپ بارے بھی معلومات لیں اور کنفرم کیا کہ یہ خریدنی ہے، چند دنوں میں وہاں آنے کی تسلی دی
تینوں بیٹوں کو ساتھ بٹھایا، اکبر شاہ سے دربار، ڈھوک کے حساب پوچھے، چڑھاوے عطیات اور مجالس و نیاز کی مد میں وصولی اور اخراجات کا باقاعدہ کھاتہ موجود تھا، اکبر شاہ کے جملہ اخراجات منہا کر کے باوا جی کے حساب میں کتنی رقم موجود تھی۔
مقصد بچوں کو سسٹم سے آگاہی اور ممکنہ شک و شبہ کا تدارک تھا۔

اکبر شاہ کی معرفت ٹھیکیدار کو بلوایا گیا، بیٹھک، پرانی حویلی اور مویشیوں والے حاطے کی مکمل مرمت، لپائی، رنگ روغن کا تخمینہ لگایا گیا، باوا جی نے فوری کام شروع کرنے کا کہا، اور پندرہ بیس دن میں مکمل کرنے کی ہدایت کی، اگلے مرحلے میں ڈھوک کے آستانہ اور کیٹل شیڈ سمیت تعمیر کا عندیہ دیا۔
اکبر اور جعفر اس کایا پلٹ سے حیران تھے، لیکن باوا جی کے مزاج میں جلال کی جھلک تھی، سوال کرنا ممکن نہیں  تھا۔

کچھ چہروں پے نقاب رہنے دو ۔

کچھ باتوں میں حجاب رہنے دو

انسانی معاشرے میں مسابقت ترقی کا زینہ ہے تو باہمی معاونت اس کی سیڑھی ہے۔۔
بارانی علاقے میں تعلقات ، دوستی اور گرائیں پن اس وجہ سے اہم ہوتے ہیں کہ مسابقت منافرت تک چلی جاتی ہے۔۔
آڑے وقت میں رشتہ داری سے زیادہ یاری کام آتی ہے۔ باوا جی کی مزاج پرسی کے وزٹ کے جواب میں صوبیدار صاحب ان کو باقاعدہ پہلے پیغام بھیج کے اطلاع دے کے ان کے گاؤں ملنے آئے، اپنا سب سے چھوٹا بیٹا احسن جو اصغر سے تھوڑا بڑا ہو گا اسے بھی ساتھ لائے، وہ پنجاب یونیورسٹی کے کامرس کالج میں بی کام کر رہا تھا ۔کینٹ میں اپنے بہنوئی  میجر کے ساتھ مقیم تھا۔باوا وقار شاہ تو پہلے ہی زمام کار مکمل اپنے ہاتھ لے چکے تھے، ان کو اتنی ہائی سپرٹ میں دیکھ کے صوبیدار صاحب بہت خوش ہوئے ۔ شاباش دی کہ ان کی تادیب کارگر ہو گئی۔
بیٹھک پہ محفل سجی، حویلی میں مرمت شروع تھی، شفیق ڈرائیور کو باوا جی نے روک لیا تھا اور اصغر شاہ کو جیپ چلانے کی ڈیوٹی سے فراغت مل گئی۔ جعفر شاہ کو پنڈی واپس جاتے ہدایت کر دی گئی کہ وہ باقاعدگی سے چھٹی گاؤں میں گزارے گا اور اکبر شاہ کا ہاتھ بٹائے گا۔ کرنل صاحب بھی یقین دلا کے گئے کہ ڈیم اور مجالس کے انتظام میں شریک رہیں گے،احسن اور اصغر مل بیٹھے، لمحوں میں سالوں کی واقفیت کا سفر طے ہو گیا۔
صوبیدار صاحب نے ضابطہ جاری کیا کہ اصغر بھی کامرس میں یا لا کالج داخلہ لے گا ،احسن اس کا اتالیق ہو گا۔ کالج میں داخلہ ،ہاسٹل میں رہائش سب بندوبست وہ کرا کے دے گا، دو دن بعد دونوں لاہور جائیں گے۔ اصغر کے سرٹیفکیٹ وغیرہ تو پہلے سے لا کالج کے داخلے کے لئے لاہور میں اسکے دوست شفقت پاس موجود تھے۔تین چار گھنٹے کے قیام کے دوران صوبیدار صاحب نے بزرگ ہوتے اصغر کو اسکا بچپن اور سٹوڈنٹ لائف لوٹا دی۔
وہاں موجود تمام اہل خانہ کو پابند کر دیا کہ یہ باوا جی باوا جی کا خطاب واپس اور وقار حسین شاہ جی کو بچے،ابا جی اور باقی سب ، شاہ جی ، پکاریں گے، باقی تعمیراتی کام پے بھی مشورے دیئے،ویسے بھی تو وہ علاقے کے سردار تھے۔
ٹھیکیدار تو ان کو جانتا تھا ، اسے بتایا کہ حویلی اور بیٹھک کے برآمدوں کی فرنٹ پے چکوال سٹون لگائے،باقی بیرونی دیواروں سے پرانی درزیں کھرچ کے نیلی دھار والی ڈنڈا ٹیپ کرے، سارے فرش چپس کے بنائے،ڈھوک پر جانے کا پروگرام اگلی دفعہ پر رکھا گیا کہ صحت ابھی اتنی اجازت دیتی تھی،وقار شاہ جی نے عرصے بعد اپنے سے بڑے بزرگ کی موجودگی سے خود کو دوبارہ شوخ جوان محسوس کیا۔

ویسے اس کایا پلٹ کے کوئی مخفی اسباب بھی تھے ۔۔۔اصغر کی ان دنوں میں آنٹی زہرا سے دو بار تفصیلی بات ہوئی ۔ وہ بھی آخر میں بات یہ کہہ دیتی کہ وقار شاہ سے پوچھو لو ۔ اور شاہ جی بھی یہی کہہ دیتے ۔ زہرا بی بی سے پوچھ لو ۔۔
لگ رہا تھا کہ ان کے درمیان کوئی  پرانا لنک تھا جو بحال ہو چکا، کوئی رابطہ ضرور تھا، خط ہو سکتے تھے ۔۔یا کوئی معتمد پیغام رساں بھی ممکن تو تھا۔ٹیلیفون پر ڈائرکٹ ڈائیلنگ کی سہولت آ چکی تھی، شاہ جی نے پہلے اکبر شاہ کے گھر سے فون بیٹھک پے شفٹ کرایا،اور اب نیا نمبر بھی لگ چکا ۔ ملتان کے سارے امور اب روزانہ شاہ جی فون کر کے خود دیکھتے ،اصغر کو بڑے غیر محسوس طریقے سے اس کی غیر ضروری سنجیدہ ذمہ داری سے ریلیف بھی دے رہے تھے۔
لیکن سب سے بڑا گفٹ تو اصغر کو زہرا بی بی نے ہی پیش کیا۔پچھلی ملاقات بہت طویل تھی،زہرا بی بی نے شروع میں اپنے لاہور کالج کی باتیں سنائیں ۔
سہیلیوں کو یاد کیا، ماحول جب خاصا جذباتی ہو گیا تو بہت پیار سے اصغر کو کچھ یوں سمجھایا۔
“اصغر ! غور سے سُنو، تم مجھے کوکھ کے جنے سے زیادہ پیارے ہو۔
تم پنڈی سی ایم ایچ آفیسرز فیملی وارڈ میں میرے ہاتھوں میں پیدا ہوئے ۔ میری امی وہاں داخل تھی، جب آپ سکینہ کو وقار وہاں لائے، تم پیدا ہوئے تو میں ڈیلیوری روم میں ان کے ساتھ تھی، وہ بے ہوش تھیں۔
نرس نے تمہیں نہلا کے تولیہ لپیٹ کے میری گودی دیا تھا، اُفف آپا کو تین گھنٹے ہوش نہیں  آیا تم روتے تو میں کتنی بے چین تھی، وقار گیلری میں تھے، اسے کہہ کے گائنی ڈاکٹر کو بلوایا ۔ اس نے آپا کی بے ہوشی میں  تمہیں پہلی فیڈ دلوا دی۔ تم جھولے میں سو گئے، میں اور ڈاکٹر گیلری میں ساتھ نکلے تو وقار نے ڈاکٹر سے بات کی، بڑے پیار سے کچھ پوچھا، مجھے عجیب سا غصہ لگا کہ مجھ سے پوچھ لیتا، جب آپا کو اور تمہیں روم میں شفٹ  کیا تو میں اپنی امی پاس وارڈ میں گئی تھی “
آپا کی وفات کے بعد “ہاں ‘ میں نے تمہیں گود لینے کی آفر کی تھی، لیکن وقار نہں ی مانے ۔خاندان کی بندشیں آڑے آئیں ،تو تم میرے بھی بیٹے ہو ۔۔ جو تمہیں لگتا ہے ایسا ہی ہے، اب کیا ہو گا اسے چھوڑو ، وقار کو مجھ سے بات کرنی ہو گی۔۔

ابھی میری خوشی اور خواہش ہے میرا بیٹا میری طرح لاہور کے سب سے اچھے کالج میں پڑھے،یہ گھر کے کام کاج وقار پہ  چھوڑو،اس کے دو بڑے بیٹے ہیں بہوئیں ہیں بیٹیاں داماد ہیں ، تو میرا بچہ کیوں اپنا مستقبل ان پہ قربان کرے”
وہ صوفے پر بیٹھی تھی، اصغر اٹھ کے اسکے پاؤں میں بیٹھ گیا گودی میں سر رکھ کے زندگی میں پہلی بار کھل کے رویا۔
کافی دیر بعد زہرا بی بی نے اسے پیار سے اٹھا کے ، منہ دوپٹّے سے پونجھ کے پانی پلا کے صوفے پہ  ساتھ بٹھا لیا تو بولا،اماں جی آپ کا بیٹا پنجاب یونیورسٹی لاہور کے کامرس یا لا کالج میں داخلہ لینے جا رہا ہے، اب دعاء کریں ۔
آپ کو ہی اپنی مرحومہ آپا سکینہ کی جگہ لینی ہے ۔ ہمت کریں۔۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *