• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • چیف آف آرمی سٹاف مدت ملازمت توسیع، سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اور میرا نقطہ نظر۔۔۔چوہدری عامر عباس ایڈووکیٹ

چیف آف آرمی سٹاف مدت ملازمت توسیع، سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اور میرا نقطہ نظر۔۔۔چوہدری عامر عباس ایڈووکیٹ

بالآخر کچھ دیر قبل سپریم کورٹ نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مشروط طور پر چھ ماہ کیلئے توسیع اور متعلقہ قوانین میں ترامیم کا حکم دیتے ہوئے اپنا مختصر فیصلہ سنا دیا ہے، تفصیلی فیصلہ چند روز بعد آئے گا۔

گزشتہ تقریباً تین روز سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت کو لے کر ملک بھر میں ایک شدید ہیجان کی سی کیفیت تھی سوشل میڈیا پر الگ سے طوفان برپا تھا کچھ دانشور حضرات تو یہاں تک کہہ رہے تھے کہ حکومت کو شدید خطرات لاحق ہیں پاکستانی میڈیا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کا میڈیا اس معاملہ کو کور کر رہا تھا آج بالآخر سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلہ میں مشروط طور پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو چھ ماہ کی مشروط طور پر توسیع دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ افواج پاکستان کے قوانین میں ترمیم کرے اور تمام قانونی سقم اور ابہام کو ان چھ ماہ کے اندر اندر دور کرے اگرچہ وقتی طور پر یہ بحران ٹل گیا ہے لیکن ابھی تفصیلی فیصلہ آنا باقی ہے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں ہی پتہ لگ پائے گا کہ معزز عدلیہ نے کیا کیا سوالات اٹھائے ہیں اور کن کن قوانین کی نشاندہی کی ہے جن میں ترامیم کیا جانا ہے ۔

اب یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کچھ بھی کہنا قبل از وقت یو گا اگر تو عدلیہ نے آرمی ایکٹ میں ترامیم کا حکم دیا پھر تو شاید حکومت کیلئے اتنا مشکل نہ ہو گا کیونکہ اس کیلئے پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ حکومت کے پاس پہلے سے موجود ہے اس طرح حکومت بہت آسانی سے اس میں ترامیم کرنے کی پوزیشن میں ہے لیکن اگر سپریم کورٹ نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 243 جو کہ چیف آف آرمی سٹاف اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی تقرری سے متعلق ہے اس میں ترمیم کا کہا تو پھر حکومت کیلئے مشکلات ہونگی کیونکہ آئین پاکستان میں ترمیم کیلئے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ پاکستان تحریک انصاف کے پاس اس وقت نہیں ہے اس کے لئے حکومت کو دیگر جماعتوں کی حمایت بھی درکار ہو گی جو کہ تھوڑا مشکل ہے لیکن ابھی چونکہ سپریم کورٹ نے اپنا تفصیلی فیصلہ نہیں جاری کیا لہذا ابھی کوئی بھی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔

فی الحال ہم صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ عدالت نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے عدالت نے گزشتہ دو دنوں کی سماعتوں کے دوران اپنے ریمارکس میں آرمی قوانین کے متعلق مختلف سوالات اٹھائے ہیں لیکن وہ ایک زبانی کارروائی تھی عدالت اب اپنے تفصیلی تحریری فیصلے میں ان مختلف قانونی ابہام یا سقم کی نشاندہی کرے گی جن کا سلجھایا جانا ضروری ہے اور ان قوانین کی نشاندہی کرے گی جن میں ضروری ترامیم کیا جانا ہیں گویا دونوں صورتوں میں بات اب پارلیمنٹ کی کورٹ میں آ گئی ہے عدالت نے چونکہ قانونی ترامیم کیلئے حکومت پاکستان کو چھ ماہ کا وقت دیا ہے لہذا امید ہے کہ مکمل تحریری فیصلہ اگلے ایک ہفتے کے اندر اندر سنا دیا جائے گا تاکہ حکومت ترامیم کے متعلق اپنا کام شروع کر سکے اس طرح مکمل صورت حال اگلے چند روز میں واضح ہو گی ایک بات تو طے ہے کہ عدالت نے بال اب حکومت کی کورٹ میں پھینک دی ہے۔

چوہدری عامر عباس
چوہدری عامر عباس
کالم نگار چوہدری عامر عباس نے ایف سی کالج سے گریچوائشن کیا. پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی. آج کل ہائی کورٹ لاہور میں وکالت کے شعبہ سے وابستہ ہیں. سماجی موضوعات اور حالات حاضرہ پر لکھتے ہیں".

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *