ٹیکسی سروس اور عوام کی مشکلات۔۔۔ حسام درانی

کوئی چھ ماہ پہلے پاکستان میں چلنے والی اوبر اور کریم آن لائن ٹیکسی سروس استعمال کرنے کا تجربہ کیا اور کافی خوشنما رہا، کم خرچ ،صاف ستھری ایئرکنڈیشنڈ کاریں، مہذب ڈرائیور۔
اس تجربہ کے بعد بارہا اس سروس کو استعمال کیا اور کافی دوستوں رشتہ داروں کو روشناس بھی کروایا، لیکن نا جانے کیوں پچھلے چند ماہ سے اس سروس کا معیار دن بدن گرتا ہی جارہا ہے، چند چیزیں جو کہ ایک سواری کی کوفت کا باعث بنتی ہیں جن کا کہ مجھے ذاتی تجربہ ہوا وہ آپکے علم میں لانے کی کوشش کرتا ہوں۔
1- لوکیشن سروس:
جیسے ہی آپ کوئی کار بک کرتے ہیں تو آپکی پن لوکیشن قریب ترین ڈرائیور جو کہ اس کال کو پک کرتا ہے کو پہنچ جاتی ہے لیکن الحمداللہ پچھلے دو ماہ سے جتنی بھی بکنگ کیں سب ڈرائیور مطلوبہ مقام سے کم از کم ایک ڈیڑھ کلومیٹر دور ہی پائے گئے۔اور جواب ملتا ہے کہ جی آپ کی لوکیشن پر ہی کھڑا ہوں آپ ہی ادھر نہیں ہیں، یا پھر گوگل میپ ایپلیکیشن میں مسئلہ ہے اس لیے پن پوائنٹ نہیں ہوتا۔

2- راستہ سے انجان ڈرائیور:-
اس وقت لاہور شہر میں لاتعداد گاڑیاں اس مقصد کے لیے سڑکوں پر رواں دواں ہیں اور ان کے ڈرائیور حضرات، الحمداللہ سواۓ اپنے گھر کے کسی اور راستہ سے بالکل اسطرح انجان ہیں جیسے کہ دودھ پیتا بچہ صرف ماں کو پہنچانا ہے۔

3- انتہائی سست ڈرائیونگ:-
ایک اچھی بات ہے کہ لاہور جیسے بے ہنگم ٹریفک والے شہر میں گاڑی احتیاط سے چلاتے ہیں جو کہ سواری اور گاڑی دونوں کی حفاظت کا باعث ہے لیکن اتنا سست کہ سائیکل سوار آسانی سے کراس کر جائے، کیونکہ جتنے پیسے کل طے شدہ فاصلے کے نہیں بنتے، جتنے کے دوران سفر میں وقت کے لگ جاتے ہیں۔

4- کند ذہن ڈرائیور:-

جیسا کہ پہلے ذکر کیا کہ لوکیشن پر کبھی نہیں پہنچ پاتے تو اس کے لئے بار بار آپ کے رابطہ نمبر پر بیل کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں۔ آپ جتنا مرضی سمجھا لیں مگر ان کا حال بھینس کے آگے بین بجانے والا ہوتا ہے۔ اور اگر انکو کہا جائے کہ بھائی کسی سے جس جگہ بھی ہو کسی مقامی آدمی سے راستہ پوچھ لو لیکن گاڑی سے اترنا توہین سمجھتے ہیں۔

5- بلنگ سسٹم:-

ان کے بلنگ سسٹم میں پچھلے چند ماہ سے انتہائی سرعت کے ساتھ تبدیلیاں آ رہی ہیں جس کی وجہ سے سواری کا بل کافی بڑھ جاتا ہے، ان کا بل جو کہ آپ کے پاس آپکی مہیا کردہ ای میل پر موصول ہوتا ہے جس میں  بل کی تمام تفصیلات درج ہوتی ہیں لیکن وہ بھی بنک یا کسی سوفٹ ویر کی Terms & Conditions کی طرح ہی ہوتی ہیں۔ جن کو  ہر حال میں قبول کرنا ہوتا ہے، فی کلومیٹر کا ایک ریٹ طے ہے جو کہ 9 روپے ہے لیکن بکنگ پر 75 روپے اور دوران سفر جتنا بھی وقت لگتا ہے اسکا بل بھی اس میں ڈالا جاتا ہے، مثلا ًاگر 10 کلومیٹر کا سفر ہو تو اصولی طور پر 90+75= 165 بننا چاہیے لیکن آپ کا بل کم از 250 روپے بنتا ہے، دوسرا اس میں Mutilpy peak factor بھی بل بڑھانے کا ایک آسان اور خفیہ طریقہ ہے جسکا میکانیزم سمجھ ہی نہیں آتا اور بل بڑھتا جاتا ہے، جوں جوں رات بڑھتی ہے peak factor بڑھتا جاتا ہے۔ (ایک بل کی تصویریں آخر میں  ملاحظہ کریں ،)

6- بکنگ کینسل کرنا:-
بعض دفعہ ڈرائیور حضرات بکنگ کینسل کر دیتے ہیں اور اس کا جرمانہ بھی سواری کو ہی پڑتا ہے، جو کہ سراسر ناانصافی ہے، کیونکہ قصور ڈرائیور کا ہے اور سواری نا چاہتے ہوئے بھی اس جرمانے کو ادا کرنے کی پابند ہو جاتی ہے کیونکہ جب بھی وہ کوئی اگلی کار بک کرے گی اسکے بل میں وہ 150 روپے جمع ہو جاتے ہیں۔

7- کھلے پیسے نا ہونا:-
اکثر و بیشتر ڈرائیور حضرات کے پاس کھلے پیسے (چینج) نہیں ہوتا، اگر آپ کا بل 580 روپے بنا اور آپ اگر 1000 کا نوٹ دیں تو جواب آتا ہے کہ سر کھلے پیسے نہیں ہیں ،باقی پیسے آگے اکاونٹ میں جمع کروا دوں۔

8- ٹریفک کا رش-:
لاہور شہر میں اوبر اور کریم سروس کے تحت کم و بیش 1500 گاڑیاں سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔ اور یہ وہ گاڑیاں ہیں جو کہ اس سے پہلے گھروں میں استعمال ہوتی تھیں اور بوقت ضرورت ہی سڑک پر نکلتی تھیں لیکن ان سروسز کی وجہ سے بہت سارے لوگوں کو جہاں روزگار کا ذریعہ ملا وہاں رش اور فضائی آلودگی میں بھی اضافہ ہوا۔

جہاں اس سروس سے لوگوں کو اچھی اور صاف ستھرے سفر کی سہولیات مل رہی ہیں اور سروس استعمال کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے وہیں پر اس سروس کی ترجیحات سہولت سے بدل کر منافع کمانا رہ گیا ،جو کہ ایک المیہ ہے، اگر عوام ان گاڑیوں کو استعمال کرتی ہے تو اسکے پیسے بھی دیتی ہے، خدارا اس ٹیکسی سروس کو موبائل کمپنیوں کی طرح مت چلائیں جن کا کام صرف اور صرف منافع کمانا رہ گیا ہے۔اور آخر میں حکومت وقت سے ایک گزارش ہے کے اب سروسز کے لیے ایک روڈ میپ ڈیزائن کیا جائے اور چیک اینڈ بیلنس بھی ضروری ہے تاکہ یہ اپنی مناپلی بنا کر عوام کو اور تنگ نہ کر سکیں اور سروس کا معیار اسی مقام پر لے جائیں جہاں  سے انہوں نے اس سروس کو شروع کیا تھا۔

 

حسام دُرانی
حسام دُرانی
A Frozen Flame

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *