بابے کو پروٹوکول پسند ہے

چوتھی دفعہ کا ذکر ہے ہمارے دیس میں ایک بہت بڑا گاؤں تھا، اس گاؤں کا بڑا چوہدری عمر رسیدہ گھاگ اور خرانٹ قسم کا انسان تھا ، بڑا ٹہکا تھا اس کا، کہیں وارد ہوتا لوگ بڑھ بڑھ کر سلام پیش کر تے ، جہاں جاتا محافظوں کی فوج ظفر موج دائیں بائیں آگے پیچھے ہوتی ، انہیں جب ساتھ لے کر چلتا اس کی جھکی کمر سیدھی ہو جاتی ،سینہ تن جاتا، آخر کیوں نہ ہو۔ تربیت یافتہ چھ چھ فٹ لمبے ،ہاتھوں میں آتشین اسلحہ تھامے طاقتور گبرو جوان جو دائیں بائیں ہوتے ہو تے تھے ۔ وہ اکیلا نہیں تھا اُس کے کافی سارے ایڈیشنل چوہدری تھے ، ان کا حال بھی بڑے چوہدری جیسا ہی تھا ،کسی طور وہ بڑے چوہدری سے کم نہ تھے، ان کا ٹہکا بھی بڑے چوہدری جیسا تھا۔

اس کی قلمرو میں ایک بہت بڑا گاؤں تھا ،میلوں تک پھیلا ہو ا ، اس گاؤں کے بے شمار محلے تھے ،وہ ایک محلہ سے دوسرے محلہ تک گاڑی میں جاتا بلکہ گاڑیوں میں جاتا ، وہ جہاں جاتا لوگ جی سائیں جی سائیں کرتے اس کے آگے پیچھے گھوما کرتے ۔

وہ پنچائت کیا کرتا تھا لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے اس کے پاس عرضی لے کر آتے لیکن بہت کم ایسا ہوتا کہ کوئی غریب فریادی اس تک پہنچ پائے، اور اگر شومئی قسمت پہنچ بھی جائے تواس کا مسئلہ حل نہ ہو تا، البتہ لمبی لمبی گاڑیوں والوں کی اس تک رسائی آسان تھی اور ان کے کام بھی آسانی سے ہو جاتے امراء کا اس کے ہاں تانتا بندھا رہتا ۔ حقیقت میں وہ ایک بے ضرر انسان تھا اس کی ذات سے کسی غریب فریادی کو کم کم ہی فائدہ پہنچتا۔

وہ اکثر پنچائیت میں سو جایا کرتا تھا ،شاید کمزوری کے باعث باعث ایسا ہو۔وہ شیدے کو مبار ک باد دیتا ، ‘‘شیدے ’’ تمھارے بیٹے کی شادی ہوئی ہے بہت بہت مبارک ہو ، اس کا ایڈیشنل چوہدری اسے چٹکی کاٹتا ،اوہو سائیں شادی نہیں ہوئی اس کا بیٹا مر گیا ہے ، بعض دفعہ وارثوں سے کسی زندہ آدمی کی تعزیت کر بیٹھتا ۔

یوں تو وہ کمزور نحیف لاغر بوڑھا دکھا ئی دیتا تھا لیکن الیکشن کے دنوں میں اس کی پھرتیاں دیدنی ہو تی تھیں ، اس کے انگ انگ میں گویا بجلیاں بھر جاتیں ،وہ جلسے میں نوجوانوں کو طعنے دیا کر تا ‘‘بوڑھے ہو گئے ہو کیا ؟ ارے ناچو، ناچتے کیوں نہیں ؟’’ اور انہیں ناچ کر دکھاتا ۔

کم و بیش گاؤں کے ہر محلے میں گندگی کے ڈھیر تھے ، بد امنی عروج پر تھی، لوگ دن دیہاڑے قتل کر دیئے جاتے ،لوٹ لئے جاتے ، آئے دن غیرت کے نام پر بیٹا ں قتل ہو تیں، کرپشن عروج پر تھی ، روزگار مفقود تھا ، اس کی قلمرو میں لوگ غربت سے تنگ آآکر خود کشیاں کرنے پر مجبور تھے، بچے بھوک سے مر رہے تھے ، لیکن چوہدری ان سب سے بے نیاز اپنی دنیا میں مست تھا ۔ جہاں جاتا اس کے لیئے راستے بند کر دیے جاتے ،چوہدری کے راستے میں آنے والی کوئی سرخ بتی اس کے قدم نہ روک سکتی تھی ،لوگوں سے کہا جاتا ‘‘وی آئی پی ’’ موومنٹ ہے ہٹو ہٹو دور ہٹو ،دور رہو نزدیک مت آؤ ، ایک عورت رکشہ میں چلا رہی تھی اسے میٹرنٹی ہوم پہنچنا تھا لیکن راستہ بند تھا مجبور ا رکشہ میں ہی بچہ کی ولادت کروانا پڑی، ایک باپ چلا رہا تھا اس کے ہاتھ میں چند ماہ کی بچی تھی ، اسے راستہ نہ ملا ،وہ رکشہ سے اتر ا اور پیدل ہاسپٹل کی طرف بھاگا اس کی آنکھوں سے آنسو روان تھے وہ خدا رسول کے واسطے دے رہا تھا چلا رہا تھا گڑ گڑا رہا تھا ‘‘ خدا کا واسطہ ہے دیکھو میری بچی مر جائے گی مجھ راستہ د و ، مجھے ہاسپٹل جانے دو ’’ وہ وقت پر ہاسپٹل نہ پہنچ سکا، ہاسپٹل اور اس کے راستے میں چوہدری کا پروٹو کول حائل ہو گیا ، اس کی معصوم بچی کی زندگی کا سفر تمام ہو گیا ،بچی نے اس کے ہاتھوں میں ہی دم توڑ دیا تھا،اس کا غم بانٹنے اس سے افسوس کرنے بچی کے جنازہ پر نہ بڑا چوہدری آیا نہ کوئی ایڈیشنل چوہدری ۔

اس کے گاؤں کا ایک اور محلہ تھا بہت دور پار کا محلہ ، دور افتادہ بے آب و گیا ہ دوسرے محلوں سے الگ تھلگ ، باقی محلوں کی حالت تو خراب تھی ہی لیکن اس دُور کے محلہ کی حالت تو مزید ناگفتہ بہ تھی ،اس محلہ کے اکثر لوگ ان پڑھ اور غریب تھے ،قحط تھا جابجا مرے ہوئے جانوروں کے ڈھانچے اس محلہ میں نظر آتے تھے ،وہاں اسکول نہ تھے ہسپتال نہ تھے میٹرنٹی ہوم نہ تھے ، سڑکیں نہ تھیں روز گار نہ تھا بجلی نہ تھی غرض زندگی کی تمام سہولیات سے وہ محلہ محروم تھا ، وہاں کے لوگوں کو گندی عادت تھی اتنی آبادی ہو نے کے باجود بچے پیدا کر تے تھے ، اور پھر وہ بچے بھوک سے مر جاتے تھے، لوگ چوہدری سے سوال کرتے تھے چوہدری ناراض ہو تا ۔حکم دیتا ‘‘وہاں دو چار گندم کے ٹرک بھجوا دو’’ حالانکہ پہلے ہی وہاں سینکڑوں ٹن گندم محلے کے گوداموں میں پڑی پڑی خراب ہورہی تھی ،چوہدری قحط زدہ محلہ کے حالات کا جائزہ لینے خود روانہ ہو ا، جاہ و جلال کے ساتھ،اس کے قافلہ میں 92 گاڑیاں تھیں 30 سکیورٹی 40 لینڈ کروزر اورباقی چم چم کرتی چھوٹی بڑی گاڑیاں تھیں ،اس قحط والے محلہ میں چوہدری کی رہائش اور کھانے پینے کا اعلیٰ انتظام تھا،چوہدری نے جائزہ لیا پریس کانفرنس کی اور فرمان جاری کیا یہاں بچے بھوک سے نہیں مر رہے ۔

عجیب معاملہ تھا لوگ چوہدری سے نالاں تھے لیکن جہاں جاتا اس کے نام کے نعرے بلند ہو تے جئے جئے کار ہوتی،ان محلوں کے رہنے والے ایک پلیٹ بریانی کے بدلے اسے اپنا چوہدری منتخب کرنے کے لئے کاغذوں پر انگوٹھے بھی لگاتے ۔

بالآخر چوہدری کو جانا پڑا، اُس کی جگہ ایک چاک چوبند ہ نسبتا جوان آدمی چوہدری منتخب ہوا،اس نے پروٹوکول والے وی آئی پی کلچرکو ختم کرنے کی ٹھانی، بابے نے چوہدراہٹ چھوڑنے کے بعد اپنی پارٹی کے بانی کے مزار پر جانے کی خواہش کی ، لیکن ، یہ کیا۔؟ بابے کی عالی شان لینڈ کروزر گاڑی کے آگے پیچھے وہی گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں وہی وی آئی پی موومنٹ وہی راستے بند ‘‘کیونکہ بابے کو پروٹوکول جو پسند ہے ’’ چوہدراہٹ گئی لیکن پروٹوکول نہ گیا ۔

یہاں سے ہزاروں میل دور بھی ایک دیس تھا ،وہا ں بھی ایک چوہدری تھا ، وہ ان دونوں چوہدریوں سے کہیں زیادہ طاقت ور اور اختیارات کا مالک تھا ، اس کی قلمرو میں بھی ایک بہت بڑا گاؤں تھا , اس گاؤں کے بھی بہت سارے محلے تھے ،وہ بھی محلوں میں لوگوں کی خبر گیری کرنے جاتاتھا ،وہ ٹرین میں اکیلا سفر کرتا ، وہ سرخ بتی دیکھ کر رک جاتا سبز بتی پر چل پڑتا، اس کے لیئے راستے بند نہ ہوتے ، وہ اکثر سائیکل پر سفر کرتا نظر آتا ،اس کے آگے پیچھے اس کی حفاظت کے لئے چھ فٹے گبرو جوان نہ ہو تے تھے ، پولیس اور جی حضوری کرنے والے خوشامدیوں کی گاڑیوں کی یہ لمبی لمبی قطاریں نہ ہوتی تھیں ،پنچائیت وہ بھی کیا کرتا تھا ، اس کا کوئی محلہ جاہل ان پڑھ غریب قحط زدہ نہ تھا ،بچے ایڑیا ں رگڑ رگڑر کر بھوک سے نہ مرتے تھے، اس کے گاؤں میں لوگ بے روز گار نہ تھے ، سڑکوں پر دن دیہاڑے لوگ قتل نہ ہوتے تھے ،لڑکیاں پسند کی شادی پر ذبح نہ ہوتی تھیں ، باپ کے ہاتھوں میں چند ماہ کی بچی دم نہ توڑتی تھی ، مائیں سڑکوں پر رکشوں میں بچے نہ جنتی تھیں ، لوگ خوشحال تھے اور چوہدری کو دعائیں دیتے تھے ۔

حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے ،حالات نے کروٹ بدلی اور اس چوہدری کو بھی جانا پڑا،چوہدراہٹ چھوڑنا پڑی، کچھ ایسا ہوا کہ گاؤں کے سب لوگوں نے ایک فیصلہ کیا ، چوہدری کو لگا کہ میری رائے ان لوگوں سے الگ ہے جنہوں نے مجھے اتفاق رائے سے اپنا چوہدری چنا ہے ، چناچہ اس نے چوہدراہٹ سے الگ ہو نے کا فیصلہ کر لیا ۔وہ چوہدریوں کو دیئے جانے والے عالی شان گھر سے اپنے ذاتی گھر میں منتقل ہو گیا، اس نے خود اپنا سامان ڈھویا ،وہ اپنی فیلمی کے ساتھ بازاروں میں پھرتا ، فٹ پاتھ پر بنی دیوار پر بیٹھ کر Hot Dogکھاتا تھا ، لوگ اسے دیکھ کر چہ مگوئیاں کرتے ‘‘ارے ارے یہ دیکھو ،یہ پہلے ہمارا چوہدری ہو ا کرتا تھا ’’۔

لیکن اب وہ چوہدری نہ تھا اب وہ ایک عام آدمی تھا بالکل ایک عام ساآدمی، جسے پروٹوکول بالکل بھی پسند نہ تھا۔ چوہدری تھا تب بھی ایک عام آدمی کی طرح تھا،چوہدراہٹ چھوڑنے کے بعد بھی وہ ایک عام آدمی ہی رہا ،شاید یہی وجہ تھی کہ اس کی عوام خوشحال اور اس سے راضی تھی ۔

گندم امیر شہر کی ہوتی رہی خراب
بیٹی مگر غریب کی فاقوں سے مر گئی

مدثر ظفر
مدثر ظفر
فلیش فکشن رائٹر ، بلاگر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *