کیا ہم سیکولرزم کی جنگ ہرحال میں ہارجائیں گے ؟۔۔سلیم جاوید

ایک معاصر ویب وسائٹ پرمحترم غامدی صاحب کے بیان کوپبلش کیا گیا جس کا عنوان تھا ” سیکولرزم: یہ جنگ آپ ہر حال میں ہار جائیں گے”-

خاکسار کی کوشش رہتی ہے کہ”شخصیات” کی بجائے”نظریات” پہ گفتگو رہے- بالخصوص کسی بندےکے رد میں مضمون نہ لکھا جائے کیونکہ ہمارا مشرقی مزاج ابھی تک شخصیت پرستی کے جال سے باہرنہیں نکل سکا- بظاہرمعتدل نظر آنے والے لوگ بھی اپنی کسی آئیڈئل شخصیت کی کسی بات سے اختلاف کرنا، گمراہی سمجھتے ہیں- تاہم غامدی صاحب چونکہ خود ایک وسیع الظرف عالم ہیں اورسوال اٹھانے کی حوصلہ افزائی فرماتے رہتے ہیں تو گاہے بگاہے، ان سے اختلاف کی جرات کرلیا کرتا ہوں- زیرنظر مضمون بھی انکے بیان کا ایک الزمی جواب سمجھا جائے-

غامدی صاحب نے نہ جانے کیوں “سیکولرزم” کو آڑے ہاتھوں لیا ہے-خاکسار چونکہ خود کو سیکولر اسلام کا داعی کہتا ہے تواس بیان پر تبصرہ کرنا بھی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے-ان کے بیان کےچھ چیدہ نکات بمع خاکسار کے تبصرہ کے ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں-

1- سیکولرزم اپنے آخری مفہوم میں یہ ہے کہ اجتماعی زندگی کے بارے میں انسانی تجربے نے بتایا کہ مذہب فردی معاملہ ہے اورریاست کو سیکولر ہونا چاہیے- یہ لوگ ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں۔

تبصرہ: جی ہاں- ہم یہ فکر پیش کرتے ہیں کہ مذہب، ہرفرد کا ذاتی معاملہ ہے-البتہ دین اسلام نے اجتماعی زندگی کیلئے بعض بہترین اصول دیئے ہیں تاہم گلوبل ورلڈ میں ان اصولوں کومنوانے کیلئے صرف وہی دلیل مہیاکی جائے گی جو آجکی عقل عام سمجھ سکے- آپ اس بنیاد پہ اپنی بات دنیا سے نہیں منوا سکتے کہ چونکہ قرآن وحدیث کا یہ حکم ہے تو اسے مانو-( خودمسلمانوں سے بھی نہیں منوا سکتے کیونکہ قرآن کی درجنوں تفاسیرباہم مختلف موجود ہیں)- پس ایک دینی بات بھی ایسی مروجہ دلیل کے زور پرمنوانی پڑے گی جو نارمل بندے کے فہم میں آسکتی ہو-

ہم مسلم سیکولرزیہ دعوی کرتے ہیں کہ قرآن کے احکام کو ہم مروجہ دلیل ومنطق کے زورپرثابت کرسکتے ہیں( اوریہ کہ جس دینی ایشوکو منطقی دلیل سے ثابت نہ کرسکیں گے، اسکے نفاذ کے مطالبہ کا حق نہیں رکھیں گے)- محترم غامدی صاحب کی طرح، ہم بھی سماج میں اپنی فکر پروموٹ کرنے کی کوشش رہے ہیں-

سوال یہ ہے کہ کیا اپنی فکرپیش کرنا، ایک جنگ لڑنا ہواکرتا ہے؟ اگر ایسی بات ہے تو ہماری طرح ایک جنگ غامدی صاحب بھی لڑرہے ہیں اور خطامعاف، یہ جنگ غامدی صاحب خود ہار چکے ہیں کیونکہ بقول لوگوں کے وہ اپنا ملک چھوڑ کربھاگ گئے ہیں- ہجرت تب کی جاتی ہے جب آپکے علاقے میں آپکی فکرکواپنانے کے کوئی آثار نہ پائے جائیں ( جان کے خوف سے ہجرت نہیں کی جاتی)- اس ملک میں ایسے علماء موجود ہیں جن کو فکری اختلاف پرشہید کیا گیا، ان پرخود کش دھماکے کئے گئےلیکن وہ ملک چھوڑ کرنہیں بھاگے- آپ کو تواس ملک کی اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن تک بنایا گیا پھرآپ کیوں ملک سے فرار ہوئے؟- اب بتایئے کہ یہ جنگ کون ہار رہا ہے؟-میرا نہیں خیال کہ غامدی صاحب ہمیں قبل ازوقت ہاری ہوئی جنگ کا طعنہ دیں گے، اس لئے کہ نظریاتی جنگ وجودی جنگ نہیں ہواکرتی- (الزامی گستاخی کی معذرت- غامدی صاحب بڑے آدمی ہیں مگراپنا موقف دینے کیلئے سوال اٹھانا پڑرہا ہے)-

2- سیکولرازم اور لبرل ازم کے تصورات مغرب میں پروان چڑھے تو ان کی مخاطب مذہبی لحاظ سے مسیحیت تھی۔ ہمارے ہاں کے اس جدید طبقے کا نفسیاتی پس منظر یہ ہے کہ وہ وہاں سے چیزوں کو دیکھ رہا ہے۔

تبصرہ: آج کی گلوبل ورلڈ میں سب انسان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں توکیا مغرب اور کیا مشرق، کسی بھی خطہ کے لوگ دوسرے خطہ سے اثر لیتے رہتے ہیں (چاہے سیاسی ہو-عرب سپرنگ کی طرح یا فکری ہو-سیکولرزم کی طرح )- خود جناب غامدی صاحب، جمہوریت کو سپورٹ کرتے ہیں تو یہ تصور بھی تو مغرب سے ہی آیا ہے نا- اس میں کیا عجیب ہوگیا اگر پاکستانی سیکولرزنے یہ تصور مغرب سے لے لیا(جبکہ ہمارا دعوی ہے کہ اصلا” یہ ہماری چیز تھی جسکو انہوں نے نئے نام سے مارکیٹ کیا)- بہرحال، غامدی صاحب کی یہ بات مبہم ہے کہ ہم لوگ، مغرب کی نگاہ سے اپنی چیزوں کو دیکھ رہے ہیں- ہمارے معاشی اور معاشرتی اشاریئے پیش کرنے والے ماہرین بھی تو “ورلڈ سروے” کی رینکنگ کا حوالہ دیا کرتے ہیں-کیوں ایسا کرتے ہیں؟- کیا یہ مغرب کی نگاہ سے دیکھنا نہ ہوا؟-

لیکن ہم واضح کردیں کہ اپنے مسائل کو ہم اپنی ہی نگاہ سے دیکھنے اور ڈسکس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں- ہمیں اس معاملے میں کسی مغرب کی عینک کی ضرورت نہیں ہے اورنہ ہی مغرب والے ہمارے لوکل مسائل کو سمجھ سکتے ہیں-اہل مغرب کو کیا معلوم کہ ہمارے سماجی نظریات میں ” پین دی سری” اور” آیا جے غوری” کا کیا مطلب ہے؟-

مغرب کے سیکولرزم کامقابلہ بھی عیسی کی مسیحیت سے نہیں تھا بلکہ پادری کی مسیحیت سےتھا اور یہاں بھی وہی صورتحال ہے- فرق یہ ہے کہ اہل اسلام میں ایسے علماء بھی موجود ہیں جوسیکولرزم والا بدیسی نام نہ لینےکے باوجود، ایک مکمل سیکولر فکرکے حامی ہیں-

3- وہاں انجیل کی ایک تاویل کر لی گئ۔ یہاں قرآن ہے۔ قرآن مجید ترجموں کی صورت میں نہیں ہے۔ یہ اپنی اصل صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ اس کو ہر مسلمان اپنے گھر میں پڑھ رہا ہے-

تبصرہ: غامدی صاحب کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ اصلی انجیل میں بھی سب کچھ واضح نہیں تھا (اورآج اسکے جعلی نسخے موجود ہیں )جبکہ قرآن میں سارے احکام واضح موجود ہیں اور اصلی قرآن بھی موجود ہے لہذا ہمارے پاس ایک خدائی نظام کا واضح خاکہ موجود ہے-

جو بات غامدی صاحب نے فرمائی ہے، یہ وہ بات ہے جو ایک ہزاراسلامی فرقوں کا ہرمولوی، دوسرے فرقہ کواسلام سے خارج کرتے وقت کہا کرتا ہے لہذا اس پہ مزید تبصرے کی حاجت نہیں ہے کہ ہمارے پاس قرآن اصلی صورت میں موجود ہونے سے کیا فائدہ ہوا؟-

4- ترکی میں ریاست کی طاقت سے سیکولرازم کو ریاست کا مذہب بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس میں مکمل ناکامی ہوئی۔ جہاں بھی یہ کوشش کی جائے گی ناکامی ہو گی۔

تبصرہ: سیکولرزم ہو یا انٹی سیکولرزم ہو، جب آپ طاقت سے کسی ریاست میں نافذ کرتے ہیں تو وہ سیکولرزم رہ کہاں گیا جناب ؟ وہ تو فاشزم ہوا- ترکی کو سیکولرریاست کہنے سے اگر اسکو سیکولرریاست کا ماڈل قراردیا جائے توپھر پاکستان کو بھی ماڈل اسلامی ریاست مانا جائے کیونکہ آئین میں اسکا نام بھی اسلامی ریاست ہے- ظاہر ہے کہ فاشسٹ رویہ ، وقتی طور پر ہی کارآمد ہوگا، ورنہ جہاں بھی یہ کوشش کی جائے گی، ناکام ہی ہوگا-لہذا ترکی میں اتاترک نے سیکولرزم کے نام پرفاشزم کیا تھا جیسا کہ ایران میں اسلام کا نام استعمال کیا گیا ہے- اور یہ کہ فاشزم، سیکولرزم کی ضد ہوتی ہے- اس فرق کو سمجھا جائے-

5- سیکو لر ازم کا لفظ بولتے ہوے سوچ لیجیے کہ آپ کیا کرنے جا رہے ہیں۔ آپ کے مقابلے میں قرآن کھڑا ہے۔

تبصرہ: سیکولرریاست، اپنے معنی میں تھیوکریٹک ریاست کی ضد ہے یعنی سیکولرریاست کی آئین سازی، کسی مذہبی صحیفہ کی بنیاد پہ نہیں ہوگی بلکہ دلیل کی بنیاد پہ ہوگی-تو کیا قرآن دلیل سے خالی کتاب ہے جو آپ فرما رہے ہیں کہ سیکولرزم کے مقابل قرآن کھڑا ہوگا؟- بطور مسلم سیکولرز، ہمارا دعوی تو یہ ہے ریاستی امن وترقی کی بہترین دلیل ہم قرآن سے مہیا کرکے دکھائیں گے- تو قرآن بھلا کیوں سیکولرز کے مقابل کھڑا ہوگا؟-

قرآن تو چھوڑیئے، مولوی بھی سیکولرز کا مقابل نہیں ہے- صرف کٹھ ملائیت، سیکولرزم کے مقابل ہے- شہنشاہ اکبر، ایک سیکولرحکمران تھا تو کیا اسکے وزیرابوالفضل اور فیضی، مولوی نہیں تھے؟- انہوں نے تو قرآن کی بے نقط تفسیر لکھ رکھی تھی- (آپ یہ کہہ سکتے ہیں یہ تفسیر، فقط اپنے مطلب کو قرآن سے ثابت کرنے لکھی تھی –کیا یہی بات باقی مولوی صاحبان کیلئے نہیں کہی جاسکتی؟)-

برسبیل تذکرہ، اورنگزیب کی تھیوکریٹک ریاست میں سگے بھائیوں کو قتل کردیا گیا تھا جبکہ اکبرکی سیکولرریاست میں اسکے سب سے بڑے مخالف( مجدد الف ثانی) کو بھی قتل نہیں کیا گیا- دونوں بادشاہوں نے نصف صدی برابرحکومت کی تھی –اس زوایے بھی سوچنا مفید ہوگا کہ سیکولراکبرکی چوتھی پشت میں جاکراورنگزیب عالمگیر جیسے بادشاہ وجود میں آئے جبکہ مولوی اورنگزیب کی چوتھی پشت میں محمد شاہ رنگیلا جیسے بادشاہوں کو تخت ملا( خاکسار بہرحال، اورنگزیب کا مداح ہے-اسکے لئے دلائل رکھتا ہوں اورمیرا سیکولرزم مجھے یہ حق دیتا ہے- دلائل ہی کی بنیاد پراورنگزیب سے نفرت کرنے والا بھی سیکولر ہی کہلائے گا)-

6- اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ریاست کو مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، تو پھر میں یہ سوال کروں گا کہ پھر جہاد میں بھی مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

تبصرہ: غامدی صاحب یاد دلا رہے ہیں کہ جب انہوں نے کہا تھا کہ جہاد کا فیصلہ، کسی مولوی کو نہیں بلکہ ریاست کا کرنا چاہیئے تو اس وقت،پاکستان سیکولرز خوش ہوئے تھے- مگریہ کہ اگر ریاست بھی جہاد کا فیصلہ کرے تو یہ بھی تو گویا ، ریاست کی طرف سے مذہبی معاملات میں مداخلت ہے-

عرض یہ ہے کہ افغان گوریلاجنگ کو “جہاد” وغیرہ کا نام مذہبی طبقات نے دیا تھا( مذہبی طبقہ میں سے مولانا شیرانی اسکو فساد بھی کہتے رہے)- خیر، اصل مدعا اس وقت یہ تھا کہ پاکستان سے باہر، دوسرے ملک میں جاکر، پاکستان کے لوگوں نے گوریلا جنگ لڑنا تھی- اگر کوئی ریاست، اپنے مفاد کی خاطرکسی اور ریاست میں گوریلا وارکا کرنا چاہے تو سیکولرز کو اس پہ کیا اعتراض ہے؟- مزید یہ کہ وہ ریاست، اپنی فوج کو اخلاقی حوصلہ دینے کیلئے، اس جنگ یا مشن کا کوئی خاص نام مقررکردے (ہولی وار، جنگ آزادی، وطن کی جنگ، ضرب عضب وغیرہ وغیرہ) تویہ بھی ایک جنگی داؤ ہے اور اس سے سیکولرزکو کیالینا دینا؟- سیکولرز یہ تو نہیں کہتے کہ کسی ملک کو اپنی عسکری پالیسی بنانے کا حق ہی ںہیں- وہ تو صرف یہ کہتے ہیں کہ خارجہ محاذ پرپالیسی بنانا،ریاست کی اتھارٹی ہونا چاہیئے-

جس دورکا اشارہ غامدی صاحب سے دے رہے ہیں، اس وقت ایک غیرملک میں جاکرگوریلا جنگ لڑی جارہی تھی مگراس جنگ کا اعلان واجازت، ایک غیرسرکاری گروہ کررہا تھا-غامدی صاحب نے چونکہ اس بات پراعتراض کیا تھا تو اسی تناظر میں غامدی صاحب کی تائید کی گئی تھی-

مگراسی پالیسی کو اگرجمہوری ریاستی اتھارٹی کے ساتھ لاگو کیا جاتا تویہ اہل پاکستان کا مشترکہ فیصلہ قرار پاتا اوراس فیصلے کی تائید میں سیکولرز کو کوئ ایشو نہ ہوتا- البتہ اسکو جہاد کا نام دینا ایک الگ فکری بحث ہے جو ظاہر ہے کہ زمانہ امن میں بھی جاری رہے گی- امن عامہ کو متاثر نہ کرتے ہوئے، دلائل کی بنیاد پرکسی بھی موضوع کوزیربحث لانا ہی تو سیکولرزم ہے- جہاد افغانستان کی اصطلاح تو ایک طرف رہی، اس پہ بھی بحث ہوسکتی ہے کہ خود”مسلح جہاد” اس زمانے میں اسلام کی شرعی ضرورت ہے یا نہیں؟-

غامدی صاحب کا تفصیلی بیان آپ اسلامسٹ حضرات کی وال پہ ملاحظہ فرماسکتے ہیں- میرا گمان یہ ہے کہ غامدی صاحب نے رواروی میں ایک لائیو انٹرویو دے دیا جس میں وہ جو کچھ کہنا چاہتے تھے اسکو درست الفاظ میں واضح نہ کرپائے- چونکہ اس بیان سے سیکولرزم کی مخالفت کا تاثر مل رہا تھا تو ہمارے “اسلامسٹ حضرات” نے بغلیں بجاتے ہوئے اسکو وائرل کرنے کی کوشش کی- دیکھیے، غامدی صاحب ہوں یا کوئی اور، اگر کوئی بھی بندہ، کسی دلیل ومنطق کی بنیاد پرہمارے “سیکولرزم” کا رد کرے تو یہ بھی ایک”سیکولررویہ” ہے اورہمیں بسروچشم قبول ہے-

غامدی صاحب کے بیان پرخاکساریہ تبصرہ ہرگزپیش نہ کرتا مگر”اسلامسٹ” حضرات کی پھرتیاں دیکھ کر، یہ کڑوا گھونٹ نگلنا پڑا- اس سے کسی کی دلآزاری ہوئ ہو معذرت خواہ ہوں-والسلام

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *