دوہرا قتل۔۔۔عزیز خان/قسط2

تعارف:میرانام عزیز اللہ خان ہے۔میرا تعلق ضلع بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ سے ہے۔میں نے 1982میں محکمہ پولیس میں بطور T/ASIملازمت کی یہ وہ دور تھا جب ملک میں جنرل ضیاع الحق کا مارشل لاء تھا۔شاید اسی وجہ سے محکمہ پولیس میں کی گئی بھرتیاں شفاف اور میرٹ پر ہوئی تھیں۔بطور پولیس آفیسر میری زندگی میں بہت سے ایسے واقعات ہوئے جو ناقابل فراموش ہیں میں نے ان کئی اندھے مقدمات کی تفتیش کی۔میں نے کئی ڈکیتیاں ٹریس کیں۔ زندگی میں اچھے اور برے حالات سے بھی گزرا۔کئی دفعہ موت کوبھی قریب سے دیکھا۔ اس محکمہ میں رینکرز اور پی ایس پی افسران کی طبقاتی کشمکش کا بھی شکار ہوا۔لیکن پھر بھی اللہ کے فضل و کرم سے بطور DSPریٹائرڈ ہوا ہوں۔کچھ دوستوں نے مجھے مشورہ دیا کہ کیوں نہ اپنے تجربات ومشاہدات پر مبنی زندگی کے حالات قلم بند کروں۔میں نے یہ کوشش کی ہے اب پسند یا نہ پسندقارئین زیادہ بہتر بتا سکیں گے۔

قلعہ گجر سنگھ کا گوگی بٹ۔۔۔عزیز خان/قسط1

دوہرا قتل:

میری تھانہ یزمان کی تعیناتی کو 2ماہ گزر چکے تھے۔ مئی کا مہینہ تھا۔ میں تھانے میں ہی سو رہا تھا کہ اچانک نائب محر ر سجاد نے میرے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ دروازہ کھلنے پر سجاد شاہ نے مجھے بتایا کہ ایک آدمی آیا ہے وہ بتا رہا ہے کہ  چک نمبر 65میں ایک میاں اور بیوی کا قتل ہو گیا ہے۔ قتل ہونے والا چک کا نمبر دار تھا جو اپنی بیوی کیساتھ صحن میں سویا ہوا تھا کہ کسی نامعلوم قاتل نے اسے اور اسکی بیوی کو کلہاڑیوں کے وار کر کے قتل کر دیا ہے۔ SHOصاحب بھی تھانہ پہنچ رہے   ہیں۔ آپ بھی تیار ہو جائیں۔ میں نے وردی پہنی اور تیار ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد SHOصاحب بھی آگئے۔ جام تاج ASIنے تھانہ سے ضروری کاغذات لیے اور ہم SHOصاحب کی پرائیویٹ کار میں موقع پر روانہ ہوگئے۔ ان دنوں تھانہ میں کوئی سرکاری گاڑی نہیں ہو ا کرتی تھی۔ چاچا اللہ وسایابھی اپنی موٹر سائیکل پر ہمارے ساتھ تھا۔ تقریباََ آدھا گھنٹہ کی مسافت کے بعد ہم چک نمبر65پہنچ گئے۔ جس جگہ پر لاشیں پڑی تھیں۔ وہ حویلی نما عمارت تھی۔اندر داخل ہوئے تو سامنے صحن میں چارپائی پرایک آدمی کی لاش پڑی تھیں۔ جس کی عمر 40/45سال ہوگی۔ جو سیدھا پڑاہواتھا اور اسکی آدھی گردن کٹی ہوئی تھی۔ میں پہلی بار کسی قتل ہوئے بندے کی لاش کو دیکھ رہاتھا۔ چارپائی سے تقریباََ 20-25فٹ کے فاصلے پر ایک عورت کی لاش پڑی تھی جسکی عمر 35-40سال تھی اس کے سر، گردن اور کمر پر شدید زخم تھے۔دیکھنے میں وہ چھٹے ماہ کی حاملہ محسوس ہو رہی تھی۔ عورت کے ہاتھ بھی زخمی تھے۔ لگتا تھا کہ وہ اپنے بچاؤ کی کوشش کر تی رہی تھی۔ اچانک چاچااللہ وسایا نے مجھے اشارہ کیا اور میں نے سامنے دیکھا تو دیورا پر ایک کوا بیٹھا تھا جسکی چونچ میں انسانی انگلی تھی۔ کوا ہمیں اپنی طرف متوجہ دیکھ کر اڑا تو اس کی چونچ سے انگلی گر گئی۔ یہ انگلی اسی عورت کی تھی۔ جو کہ اپنے بچاؤ میں کسی تیز دھا ر آلہ کو روکتی رہی۔ جس سے اسکی انگلی کٹ گئی۔ میرا جی متلانے لگا میں نے SHOصاحب سے باہر جانے کی اجازت مانگی تو انھوں نے مجھے سختی سے روکا اور کہا کہ یہیں  رکو۔

جام تاج ASIنے نقشہ صورت حال مرتب کرنا شروع کردیا۔نقشہ صورت حال اس فارم کو کہتے ہیں جس میں قتل، زہر خورانی یا مرگ اتفاقیہ کی صورت میں کسی بھی انسان کے بارے میں اس کے جسم پر لگنے والی ضربات و دیگر کوائف کا اندراج کیا جاتا ہے۔ میں SHOصاحب کے ہمراہ حویلی سے باہر آگیا۔ جہاں کافی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ قتل کون کرسکتا ہے؟ صرف اتنا معلوم ہو سکا کہ نمبردار نے اپنے پہلی بیوی کو چھوڑ کر اپنے مزراع کی بیوی سے پہلے تنسیخ نکاح کا دعوی کروایا اور نکاح ڈگری ہونے کے بعد اس سے شادی کرلی۔ مزید پتہ چلا کہ اس عورت کا میاں اور اسکا 14سالہ بچہ تھانہ مسافر خانہ کے علاقے میں اپنے آبائی گھر واپس چلے گئے تھے۔جبکہ یہ عورت اب نمبردار کے پاس رہتی تھی اور پانچ ماہ کی حاملہ تھی۔

لاشیں سول ہسپتال یزمان بھجوا دی گئیں جہاں ان کا پورسٹ مارٹم ہوناتھا۔ مجھے اور ایک ASIکو SHOصاحب نے حکم دیا کہ آپ تھانہ مسافر خانہ عورت کے سابقہ خاوند کے گھر جائیں اور پتہ کریں کیا یہ قتل انھوں نے تو نہیں کیا یا کروایا۔چنانچہ ہم لوگ پرائیویٹ ویگن میں مسافرخانہ کی طرف روانہ ہوگئے۔کیونکہ عورت کے سابقہ خاوند کے بارے میں کوئی ایسی معلومات نہ تھی کہ اس کے گھر کا پتہ معلوم ہوتا۔ بڑی مشکل سے عورت کے پہلے خاوند کو تلاش کیا جو اپنے گھر میں موجود تھا۔ پولیس کو دیکھ کر کافی لوگ اکٹھے ہو گئے جنھوں نے بتایا کہ یہ شریف آدمی ہے اور گزشتہ ایک ماہ سے کہیں بھی نہیں گیااورہر وقت اپنے گھر یا زمینوں پر موجو د ہوتا ہے۔اسکی ہر طرح کی صفائی دینے کو تیار ہیں۔

جب اس سے بیٹے کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتا یا کہ وہ ایک مدرسہ میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔وہ تو 14سال کا ہے۔اس وقت وہ مدرسہ میں ہی ہوگا۔ہم اس کے باپ کو لے کر اس بچے کے مدرسہ میں گئے۔ مذکورہ مدرسہ میں سویا ہوا تھا۔ مدرسہ سے بھی یہی پتہ چلا کہ یہ کہیں نہیں گیا۔ چنانچہ ہم مقتولہ کے سابقہ شوہراسلم کو لے کر یزمان روانہ ہوگئے کیونکہ موبائل کی سہولت موجود نہ تھی اس لیے واپس پہنچ کر SHOکو تمام صورت حال بتائی۔

لڑکے کے بارے میں بھی بتایا کہ وہ بھی مدرسہ میں موجود تھا۔ شام تک تفتیش ہوتی رہی۔ دیگر مشکوک افراد کو بھی شامل تفتیش کیا گیا۔ مقتول نمبردار محمد دین کی پہلی بیوی کے بھائیوں کو بھی بلایا گیا کہ کہیں انھوں نے تو اپنی بہن کی طلاق کا بدلہ لینے کے لیے ان دونوں کو قتل تو نہیں کردیا؟رات تک کوئی صورت حال واضع نہ ہو سکی دوہرا قتل تھا۔ ASPصدر سلیم اے۔ صدیقی بھی موقع پر آئے۔جنھوں نے ملزمان کوگرفتار کرنے کی ہدایت کی۔

اگلے دن مجھے SHOصاحب نے اپنے کمرے میں بلایا اور مجھے کہا کہ آپ جا کر محمد اسلم کے 14سالہ بیٹے کو لے آئیں۔ چنانچہ میں دوبارہ مسافرخانہ پہنچا۔رفاقت اپنے مدرسہ میں موجود تھا۔ میں نے اسکو ساتھ لیا اور واپس یزمان پہنچ گیا۔شام تقریباََ 7بجے کا ٹائم تھا SHOصاحب باہر تھانے کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے جا کر لڑکے کو SHOصاحب کے سامنے کھڑا کر دیا اور خود اپنے کمرے میں چلا گیا کہ تھوڑا رتازہ دم ہوجاؤں۔ میں نے ابھی اپنی یونیفارم اتاری ہی تھی کہ نواز کجلا بھاگتاہوا آیا اور بولا” سر! مبارک ہو قاتل پکڑا گیا”۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ کون ہے؟ بولا وہی لڑکا جو آپ لے کر آئے ہیں۔میں جلدی سے اپنے کمرے سے باہر نکلا اور صحن کی طرف لپکا۔ سامنے دیکھا تو SHOصاحب نے رفاقت کو اپنے سامنے کرسی پر بیٹھایا ہوا تھا مدعی مقدمہ مقتول نمبردار کا بھائی بھی ساتھ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں بھی ساتھ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ مہرصاحب بولے کہ “خان صاحب آپ قاتل نہیں ڈھونڈسکے پر میں نے ڈھونڈلیا”۔ میں نے کہا سر آپ مجھ سے زیادہ تجربہ کار ہیں۔

رفاقت کے چہرے پر اطمینان تھا۔ مجھے اس کے چہرے پر کہیں بھی کوئی خوف یا پشیمانی محسوس نہ ہوئی۔ رفاقت نے اپنی کہا نی سنانی شروع کی اور بولا ہم دو بہن بھائی ہیں۔ بہن مجھ سے چھوٹی ہے۔ میرا والد گذشتہ5-6سال سے مقتول نمبردار کے پاس مزارع تھا۔کچھ عرصہ قبل نمبردار نے میرے باپ کو زمین سے بے دخل کر دیا لیکن میری ماں نمبردار کے گھر ہی رہ گئی۔میرا والد مجھے اور میری چھوٹی بہن کو لے کر مسافر خانہ آگیا۔ مجھے میرے والد کے ذریعے معلوم ہوا کہ میری ماں نے نمبردار کیساتھ شادی کرلی ہے۔مدرسے کے تمام بچے مجھے طعنے مارا کرتے تھے کے تمہاری ماں تمہارے باپ سے طلاق لیے بغیر نمبردار کیساتھ رہ رہی ہے اور زنا کر رہی ہے جسکی مجھے بہت تکلیف ہوتی تھی۔ میر ی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں ان کی باتوں سے کیسے پیچھاچھڑاؤں۔

چنانچہ میں نے ان طعنوں سے تنگ آکر یہ سوچا کہ میں اپنی ماں اور نمبردار کو کیوں نہ قتل کر دوں۔ میرے پاس کچھ پیسے جمع تھے۔ میں نے ایک کلہاڑی لی اور رات کو عشاء کی نماز کے بعد مدرسہ والے بچوں سے چھپ چھپا کے یزمان چک نمبر65روانہ ہوگیا۔رات کو تقریباََ ۲ بجے میں نمبردار کے گھر کے باہر پہنچا۔دیوار سے چڑھ کردیکھا تو میری ماں اور نمبردار ایک ہی چارپائی پر سوئے ہوئے تھے۔میں چارپائی کے پاس پہنچ گیا۔ نمبردار کی گردن پر کلہاڑی سے وار کیا۔ کلہاڑی اتنی تیز کر چکا تھا کہ ایک ہی وار میں اسکی گردن آدھی کٹ گئی۔ اتنی دیر میں میری ماں کی آنکھ کھل گئی اوراس نے اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی میں نے اس پر بھی کلہاڑی سے وار کیا۔ اس نے اپنے بچاؤ میں اپنے ہاتھ آگے کیے لیکن میں نے اس کو نہ تو شور کرنے کا موقع دیا نہ بھاگنے کا۔ہوا کافی تیز چل رہی تھی۔ میں دروازہ کھول کر باہر نکلا اور نماز فجر کے وقت واپس مسافر خانہ پہنچ گیا۔ کلہاڑی میں نے راستے میں جھاڑیوں میں پھینک دی تھی۔

رات کافی ہو چکی تھی لیکن مہر صاحب بولے” خان صاحب اٹھیں کلہاڑی کی برآمدگی کرنی ہے”۔ میں نے کہا سر!”اندھیرا ہوچکا ہے، اس وقت کیسے تلاش کریں گے”۔ تو وہ بولے “آلہ قتل کی برآمدگی میں کبھی دیر نہیں کرنی چاہیے”۔چنانچہ ملزم رفاقت کو ہتھ کڑی لگا کر ساتھ لیا اور جائے وقوع پر پہنچ گئے۔ وہاں سے پیدل ملزم رفاقت کی نشاندہی پر مسافر خانہ کی طرف روانہ ہوئے۔ روشنی کا معقول انتظام کیا گیا تھا۔ چک نمبر 65سے 7کلومیٹر دور خون آلود کلہاڑی برآمدہوگئی اور ہم سب واپس تھانہ آگئے۔میں سوچ رہا تھا ایک 14سالہ بچے نے صرف اس لیے اپنی ماں کو قتل کر دیاکے مدرسے کے لڑکے اسکو طعنے مارا کرتے تھے کہ اس کی ماں زنا کر رہی ہے۔وہی ماں جس نے اسے دس ماہ اپنے پیٹ میں رکھاانتہائی تکلیف سے پیدا کیااسی بیٹے کے سامنے وہ ہاتھ جوڑتی رہی اور خود کو بچاتی رہی لیکن بیٹے نے ترس نہیں کھایا۔

اگلے روز ملزم رفاقت کو جوڈیشل ریمانڈپر بہاولپور بچوں کی جیل بجھوا دیا گیا۔مقدمے کا چالان مرتب کیا گیا اور اس طرح یہ دوہرے قتل کی اندھی واردات ٹریس ہوگئی۔اگر ملزم رفاقت گرفتار نہ ہوتا تو شاید مدعی مقدمہ کتنے بے گناہ افراد کو اس مقدمہ میں گرفتار کرواتے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *