دعا مانگنے کا ہنر۔۔بنت الہدیٰ

دعا مانگنے کی رسم بہت پرانی ہے،
مزاروں پر جلتے چراغ، مندروں کی گھنٹیاں،
چرچ کو روشن کرتی موم بتیاں
اور آسمان کی سمت پھیلی ہتھیلیاں
دعاوں کا تسلسل بنائے رکھتی ہیں

دعا کے لئے اٹھتے ہاتھ مسجد، مندر یا مزاروں کا تفاخر ہوسکتے ہیں
مگر دعاؤں میں گُھلا خلوص
ہسپتال کے در و دیوار سے لپٹے بےبس وجود میں ہی دیکھا جاسکتا ہے۔۔

ہسپتال کے بستر پر لیٹا وجود
زندگی کی خاموشی سے ہمکلام ہونا سیکھتا ہے
دعاؤں کے سہارے چلنے والی سانسیں زندگی کے اعتراف میں
وینٹی لیٹر پر منتقل کر دی جاتی ہیں۔

کچھ دعاؤں کی پرواز ساتویں آسمان تک نہیں ہوتی
مگر وہ پہاڑوں کے ڈھلان پر بنے
اینٹوں کے اک مکان سے
بارہا  ٹکراتی رہتی ہیں
کہ کبھی تو اسے قبولیت کی سند کے ساتھ پلٹایا جائیگا

گرچہ دعائیں کسی سے بے وفائی نہیں کرتیں
سوائے اس کے کہ
دعا کے لئے اٹھنے والے ہاتھوں کی لکیریں
مصلحت کی لکیروں سے الجھا دی گئی ہوں،

دیر سویر قبول ہوتی دعاؤں کے انتظار میں ہی
شاعر نظمیں تراشتے ہیں
تو ادیب نت نئی کہانیاں بُننے لگتے ہیں
وہ کہانیاں جن میں امید کا کوئی سِرا ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا

اور کچھ کہانیوں میں راہ بھٹکے کردار۔۔

کسی خاص موڑ پر لاکر
معجز نما کردئیے جاتے ہیں

جیسے ہسپتال میں، مریضوں کی عیادت کو آنے والی دعائیں
جو خاموشی سے ڈرپ کے ذریعے نسوں میں گھلتی دواؤں کے ساتھ شامل ہوجاتی ہیں

“یہی دعائیں کہانی میں منّت کا دھاگہ بن جاتی ہیں ”

لا علاج مرض بھی آخری لمحے تک زندگی کا انجکشن چاہتا ہے،
بند ہوتے دماغ میں گونجتی امید و خوف کی کشمکش
جہاں سانس کا آنا محال اور جانا آسان ہو۔۔
وہاں امام زادوں کے مزار کی سیڑھیاں چڑھتی دعائیں،
اپنی پھولتی ہوئی سانسوں کے ساتھ۔۔
اکھڑتی ہوئی سانسیں بحال کردیتی ہیں۔

تحریر ادھوری چھوڑ کر
قلم کی نوک کو سوالیہ نشان پر روکنے والے۔۔
دعاؤں کے سہارے صفحہ پلٹ بھی سکتے ہیں۔۔
کہ دعا مانگنے کا ہنر وراثت میں دیا جا چکا ہے!

بنت الہدی
بنت الہدی
کراچی سے تعلق ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *