چہار درویشنیں ۔۔شفیق زادہ/قسط1

حالات کے بے رحم تھپیڑوں پر جیتے، خود ناراضی کا شکار اپنے آپ سے لڑتےایک ایسے شخص کی کہانی جس نے زندگی سے انتقام لینے کی ٹھانی ہوئی تھی، چاہے اِس کوشش میں چاہت اور چہیتے ہی کیوں نہ بھسم ہو جائیں۔ جدید دور کی ایکتا کپوری ٹرینڈچار شرعی بیویوں کا دھماکہ خیز اتحاد، جس نے راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کا تورا بورا کرنے کی ٹھانی ہوئی تھی۔ رومانویت اور مزاح کا حسین امتزاج، جس میں چار بیویاں اپنے اکلوتے شوہر پر دعویدار ہیں۔ چہار درویشنیں حالات کا وہ آئینہ جس میں ہر مرد کو اپنی عکسی خواہش نطر آسکتی ہے جسے مسخ کرنے کے لیے زنانہ بریگیڈ بھی میسّر ہوتی ہے ۔ نسوانی احساسات کی ترجمانی کرتی ایک مردانہ تحریر ۔

چہار درویشنیں

ستارے جو چمکتے ہیں کسی کی چشم حیراں میں ۔۔
برسوں پہلے جگت خالو سے ہماری پہلی ملاقات فخریہ ، دوسری اتفاقیہ، اور تیسری رسمیہ تھی۔ اُس کے بعد کی باقی ملاقاتیں بس ملاقاتیں ہی تھیں، جن کو ہم کوئی نام دینے سے قاصر تھے۔ مگر اُن کے لیے ہمارے دل میں بہت احترام اور کہیں کہیں رشک اور ستائش کے جذبات بھی تھے۔ جگت خالو کے لیے محلے میں ہر کسی کے جذبات یک رنگی نہ تھے، کچھ ایسے سورما بھی تھے جن کے دل میں ان کے خلاف حسد اور بہت سی حسیناؤں کے دل میں ان کے لیے نرم و گرم جذبے تھے۔ محلے کی مہیلائیں اور مرد ان کے معاملے میں ایک ’ پیج ‘ پر کیوں نہ تھے ، اس کی وجہ جاننے کے لیے آپ کو ماضی کے جھروکوں میں جھانکنا پڑے گا۔ ایک دن ہمیں پتا چلا کہ خالو کی دوسری شادی، پہلی خالہ اور تیسری شادی، پہلی اور دوسری خالاؤں نے مل کر کروائی تھی۔ لیکن جب ہماری پہلی، دوسری اور تیسری خالائیں سوِل اور مٹیاری ’ بُراکریسی ‘ کی مانند ایک پیج پر آکر خا لوحضور کی چوتھی شادی کے چکر میں پڑیں تو ہمیں بڑی کُھد بُد ہوئی۔ ہم خالہ کو سلام کرنے کے بہانے ملنے پہنچے اور آداب بجالانے کے دم سادھے چپ چاپ بیٹھے رہے ۔ خالہ حضور نے ہماری بے چینی بھانپ کر مدّعا دریافت کیا تو ڈرتے ڈرتے ہم نے ان سے سوتن در سوتن کے عذاب سہنے کی وجہ دریافت کرنی چاہی تو وہ نہایت اطمینان سے سروطے کے درمیان چھالیہ پھنسانے کے عمل کو روک کر بولیں ’اے بیٹا! تم کو معلوم ہے کہ یومِ مئی کیوں منایا جاتا ہے‘؟ ہم نے اثبات میں سر ہلادیا۔ ایک ہلکا سا ہنکارا بھر کے بولیں، اس ملک میں عورتوں کے حقوق نسواں دراصل مرد کے حق ِنفسانی کا متبادل نام ہے۔ بے چاری بیوی کو تمہارے خالو جیسے مردوے انسان نہیں، بلکہ ہیومن ریسورس سمجھتے ہیں، جس سے ذاتی مقاصد ایفیشنسی اور خانگی ذمّہ داریاں ایفیک ٹیولی پورے کیے جاسکیں۔ شادی کے پہلے ہی سال خالو کی حسنِ کارکردگی دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا تھا کہ اگر کمک، یا مزید رسد بہم نہ پہنچی تو اِس ملک میں عورتوں کی اوسط عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی اوپر پہنچ جاؤں گی۔ تب ہی میں نے طے کر لیا کہ مجھے زندہ رہنے کے لیے سوتن برداشت کرنا پڑے گی، کیوں کہ اکلوتی بیوی ہونے کا فخر انجوائے کرنے کے لیے کم اَز کم زندہ رہنا ضروری ہے جب کہ تمہارے خالو کا مزاج مغل بچوں کا سا تھا جو جس پر مرتے اسے مار رکھتے۔ لہٰذا  تمہارے خالو کی شوہرانہ محبت دیکھ کر مجھے یہ یقین ہو چلا تھا روز شب کی آپریشنل ریکوائرمنٹ پوری کرتے کرتے ایک دن میں بھی جلد تمہارے خالو کے لیے کراچی کی کالعدم ٹرام سروس ثابت ہوں گی، جو کہ اب صرف ندیم اور محمد علی کی پُرانی فلموں میں ہی نظر آتی ہے۔ تصویر میں اُتر کر کسی خوب صورت فریم میں پھولوں کا ہار پہن کر ٹنگنے سے کہیں بہتر ہے کہ سائیڈ لائن پر بیٹھ کر خالو کو کسی نئے کھلاڑی سے بِھڑا کر ریٹائرمنٹ کا انتظار کیا جائے۔

خالو کی بے اعتدالیوں اور بگڑے شوق دیکھ کر خالہ کو اُن کے قبل اَز وقت ریٹائر کر دیے جانے پر کوئی شک نہیں تھا اور خالہ کے علم میں یہ بھی تھا کہ گریجویٹی کی گزک تو بعد اَز ریٹائر منٹ ہی ملتی ہے۔ ہم خالہ اوّل کے   دور اندیش وِژن سے ہم آہنگ مشن کی اسٹریٹیجک پلاننگ سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور دل ہی دل میں عش عش کرتے اُن سے اجازت چاہنے کے لیے اُن کی طرف دیکھا تو وہ سر جھکائے، سکوت طاری کیے ، میری موجودگی سے لا تعلق لگ رہی تھیں ،سروطے کی کٹ کٹ بھی میکانکی عمل کی مانند جاری تھی۔ ہم نے کچھ نہ سمجھے تو ہنکارہ بھرکر اُن کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی تو وہ چونک کر ہمیں دیکھنے لگیں۔ اُنہوں نے ہم سے پوچھا، ’ مجھے پتا ہے کہ تم کو شاعری سے شغف ہے، منیر نیازی کو پڑھا ہے‘۔ ہمارے جواب سے پہلے ہی اُنہوں نے یہ نظم ہمیں سنانی شروع کر دی :
ستارے جو چمکتے ہیں کسی کی چشمِ حیراں میں
ملاقاتیں جو ہوتی ہیں جمالِ ابروباراں میں
یہ ناآباد وقتوں میں دلِ ناشاد میں ہوگی
محبت اب نہیں ہوگی
یہ کچھ دن بعد میں ہوگی
گزر جائیں گے جب یہ دن
یہ ان کی یاد میں ہوگی

ہم ان کی آواز کے زِیرو بَم میں گمُ ہوگئے، نظم کے بولوں پر توجہ نہ گئی ۔ ہمارے اندر شاعری پڑھنے کا شوق پیدا کرنے اور ذوق تعمیر کرنے میں خالہ اول کا بہت بڑا حصہ تھا۔ ہم کچھ نہ سمجھتے ہوئے سلام کر کے اُٹھ گئے، مگر ہماری طبیعت کو چَین نہیں تھا۔ نہ جانے کیوں استعجاب بڑھتا جا رہا تھا کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں، جتنا کہ بیان کردہ تھا، کچھ اَن کہی بھی ہے جسے سننے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا۔

خالہ نے ا بتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی تھی، جو کہ اُن کی گریجویشن سیریمنی بھی ثابت ہوئی۔ اپنی زندگی میں کبھی اسکول کی شکل بھی نہ دیکھنے والی خالہ اوّلین کی دُور اندیشی اور دُوربینی نہایت متاثر کن تھی۔ یوں سمجھیے جیسے کسی زمانے کی امریکی وزیر خار جہ ’ کونڈا لیزا رائس‘ کہ وہ بھی صدام حسین کے بغیر عراق کے لیے خالہ اوّلین ثابت ہوئی تھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ خالہ اوّلین عقل کا اور یہ استحصال کا استعمال کررہی تھی۔ دوسرا فرق مونچھوں کا بھی تھا، جو بہ قول شخصے ’ کونڈا لیزا رائس‘ کی خالہ اوّل کے مقابلے میں بہت زیادہ نمایاں اور گھنی تھیں۔ پیارے میاں آج بھی یہ سوچ کر حیران ہوتے ہیں کہ شان و شوکت والے ایک امپورٹڈ بینکارنے اِس چوہیا نما ناگن میں کیا دیکھا تھا کہ جان سے بھی عزیز رکھا۔ انہیں یہ سمجھنے میں بہت دِقت پیش آ ئی تھی کہ دل تو دل ہے ، کلو پٹرا کی سواری پر بھی آسکتا ہے اور کرشن چندر کی مادام روپ وتی کا ، بے چارے دھبّو کمہار کے بولتے گدھے پر بھی۔ کم بخت دل ! اس کا اعتبار کیا کیجیے۔

اب تمام صورتِ حال ہماری سمجھ میں آنے لگی تھی۔ بزنس اور مینجمنٹ کی تعلیم سے نابلد خالہ اوّ لین نے اُ س مشہور مینجمنٹ تھیوری کا سہارا لیا تھا، جس کے مطابق کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے اُس مسئلہ کو اُس کے جزئیاتی ٹکڑوں میں توڑ لیا جائے اور پھر ایک ایک کرکے حل کرلیا جائے۔ جیسے دوسری جنگ عظیم کے بعد اتحادیوں نے عرب و یورپ میں کیا تھا یا پھر’ مٹیاری بُراکَرسی‘ مرضی کا خصم لانے کے لیے سیاسی پارٹیوں کے ساتھ حق مہر اور نان و نفقہ کے نام پر کرتی ہے۔ خالہ ’مفاہمتی پا لیسی‘ کی کسی ایسی گیدڑسنگھی کی ہر گز قائل نہ تھیں، جو قوم کی بولتی بند کر کے رکھ دے،اورساتھ میں ہوا، پانی، بجلی، روٹی اور زبان کی بندش اضافی بونس، جیسے السّان العربی میں دبئی کی سپر مارکیٹوں کے باہر بڑے بڑے پوسٹرز پر ’ خصمِ خاص‘ یعنی انگریزی کا ’اسپیشل آفر‘ جسے اُردو میں ’این آر او‘ لکھا اور کہا جاتا ہے۔ وقت گزرتا گیا، دن ماہ وسال میں بدلنے لگے ا ور ہم بھی اپنے سوالات کا جواب گزرتے وقت کی دھول میں کھوجتے کھوجتے اُس کے ساتھ ساتھ بہتے رہے۔

کہیں دل ملے، کہیں دل جلے ۔۔

ہم نے اپنے لڑکپن میں خالو کی جوانی دیکھی تھی۔ چھ فٹ سے بھی اُبھرتا ہوا قد، سلیقے سے سنورے ہوئے بال (جس کی ایک لٹ پیشانی پہ جھول کر اُن کے رومان پسند ہونے کا اشارہ دیتی) کِھلتا ہوا گندمی رنگ اور کشادہ سینہ۔ چہرے پر مستقل چھائی معصومیت ونرمی ایسی کہ کوئی بھی لڑکی دل ہار کے بھی جیت کی خوشی منا نے میں فخر محسوس کرے۔ شاید ہی کوئی حسینہ اِس بات سے واقف ہوگی کہ اِن کے چہرے کے یہ نرم تاثرات کسی بھی خلافِ طبیعت بات پر ایسی کرختگی میں بدل جاتے کہ اگر گالی نہ بھی دیں تو مخالف کو اِس کا احساس ضرور ہو جاتا۔ ہمارے ایک کر کٹر دوست نے بتایا کہ بولنگ کے دوران خالو کبھی ایمپائر سے اپیل نہیں کرتے، بس چہرے کے تاثرات یکسر تبدیل کرلیتے، اُنگلی والا کام ایمپائر خود کرلیتا۔ بے چارہ ایسا نہ کرے تو بات نکلتی ہے، جو پھر دُور تلک جاتی ہے۔ شرافت کا زمانہ تھا کسی کو ایف اوف کرنے کے لیے بھی اُنگشت ِشہادت ہی استعمال ہوتی تھی، اُنگشتِ شرارت کا کھلم کھلا استعمال ابھی تک عوام تک نہیں پہنچا تھا ۔ رہی چھنگلی تو وہ بیچاری اس وقت بھی صرف کُٹی کرنے کے لیے ہی استعمال کی جاتی تھی ۔ اُ ن کی آواز ایسی پاٹ دار کہ آج بھی بہتیروں کو اُن سے فون پربات مکمل کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔ خالو کے اکثر کاروباری سودے صرف اس لیے ٹوٹ جاتے کہ دوسری پارٹی اُن کی آواز کی گھن گرج سے خوفزدہ ہوکر گفتگو کا سلسلہ منقطع کر دیتی۔ مگر اِسی آواز میں جب مہندی، شادی یا دوسری تقریبات میں مقصد یا بِنا مقصد ایسے ہی موقع کی منتظر لڑکیوں سے دھیمی لے میں کلام کرتے تو بے چاریوں کو رات رات بھر نیند نہ آتی۔ کروٹیں بدلنے کی وجہ سے تکیے پر ٹوٹے بال دیکھ کر مائیں بیٹی کی جوانی میں ہی گنجی ہو جانے کے ڈر سے تِل ملے سرسوں کے بدبو دار تیل سے مالش شروع کردیتیں۔ بعد میں اسکول یا کالج کاکام لینے کے بہانے ایک دوسرے کے گھر جا کر کمرہ بند کرکے دبی دبی آواز میں اپنے اپنے پوشیدہ جذبات سے بے خبر خالو پر حق جتایا جاتا اور ایک دوسرے سے کٹّی کی جاتی، جس کی وجہ جاننے کے لیے دونوں اطراف کی مائیں سر توڑ ناکام کوشش کرتیں اور یہ مان کر چپ ہو بیٹھتیں کہ اِس بار امتحان کچھ زیادہ ہی ’سخت‘ ہے۔ محلے کی لڑکیوں میں اُن کے کھوئے کھوئے لہجے، بکھرے بال ، کھلے گریبان اور سجیلے پن کی دُھوم تھی ۔ وہ شادی شدہ، منگنی شدہ اور تازہ تازہ جوان شدہ، اِن معاملات میں تھوڑی بہت شُد بُد رکھنے والیوں کے حلقے میں اپنی اپنی پسند کے فلمی ہیرو کےبمطابق وحید مراد، ندیم اور محمد علی مشہور تھے۔ کچھ ’ایڈوانسڈ یوزرز‘ یعنی حقیقت پسند بیاہی خواتین اور اپنے سرکاری ملازم ’غیر فعال ‘ شوہر کو ’نکھٹّو بکارِ خاص‘ سمجھنے والیاں، آنکھیں موند کر سپنوں میں اِن میں ’ سلطان راہی‘ کو بھی کھوجا کرتیں۔ محلے کے کسی نَرکو اِن سے اُلجھنے کی کبھی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ بھولو برادران کے گارڈن والے اکھاڑے میں باقاعدگی سے زورکرنے اور بھری بھرکم ڈمبل اُٹھا کر کسرت کرنے جاتے تھے۔ ا س سے بڑھ کر یہ حقیقت بھی کہ زنانہ نظروں کی تیر اندازی کو اُنہوں نے ہمیشہ نظر انداز کیا اور کبھی بھی اندرون یا بیرون محلہ کسی کو نہ قریب آنے دیا اور نہ کسی کے قریب گئے۔ البتہ ہر کسی کے دُکھ سُکھ میں بوجھ اُٹھانے کے لیے اُن کے چوڑے اور مضبوط کاندھے سب سے پیش پیش ہوتے۔
جب اندرونِ صوبہ شورش شروع ہوئی تو خالو حضور نے کراچی کا رُخ اختیار کیا اور یہیں پر اپنے ہونے والے سسر صاحب سے اُن کی پہلی ملاقات ہوئی۔ کراچی جیسا بڑا شہر، جس کی ہر چیز خواب سے بھی بڑھ کر فسوں خیز تھی۔ اس شہر کی بڑی سڑ کیں، بڑی عمارات، بڑی دکانیں، بڑے ہوٹل، بڑے لوگ اور اِن سب سے بڑھ کر بڑی بڑی خواہشات، جن کو پورا کرنے کے لیے بڑی بڑی دوڑیں اور پھر بڑی جیت، جس کے بعد بڑی بڑی دشمنیاں، جن کو نبھانے کے لیے چھوٹی سی زندگی۔ عجب گورکھ دھندا تھا یہ شہر ، اندھی ممتا کی ماری ماں کے آنچل کی طرح سب کو سمیٹے ہوئے اتنا مہربان کہ محوِ خواب ہونے سے پہلے ہر پیٹ میں روٹی ضرور پہنچے۔ اور اتنا بے لوث کہ ہر اگلی صبح ناخلف مقیمین کے ہاتھوں مسترد ہونے کا دُکھ بھی سہے، مگر نہ شکوہ نہ شکایت۔ دُکھ کے موسم اور بیگانگی کے عذاب سہنے کے باوجود کسی کھمبی کی ما نند بڑھتا اور پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے، ہر سائز کے بٹوے اور کم ظرف کے احسان فراموشوں کے لیے۔ اپنی بڑی جاگیر کو جلد اَز جلد چھوٹا کرنے کی اَن چاہی خواہش اِن کو جلد ہی بلبل ہزار داستان اور ریس کورس تک لے گئی، جہاں پر وہ پیروں فقیروں کے گھوڑوں کے مقابلے پر بازی لگاتے اور بغیر کسی تعویذ کے جیت بھی جاتے۔

اُنہی دنوں حیدرآباد سے حال ہی میں نووارد خالہ اوّل کی فیملی میں اِن کا عمل دخل شروع ہوا۔ پہلے پہل محلے کی پرچون کی دکان پر پھر سینما گھر اور بالآخر ریس کے میدان میں خالہ اوّل کے والد صاحب سے دوستی کی پینگیں بڑھائی گئیں۔ دونوں حضرات کی عمروں میں بھلے کافی فرق تھا، مگر شغل بہت مماثل تھے۔ بڑھؤ خرچ کرنے کے شوقین اور یہ شوقین پر خرچ کرنے والے۔ چند ہی مہینوں میں رفتہ رفتہ بڑے میاں اِن کے اتنے مقروض ہوگئے کہ خالو کا اُن کے گھر میں آنا جانا شروع ہوگیا۔ قرض کے اضافے کے ساتھ ساتھ گھر کے معاملات میں بھی اِن کو راہداری ملنی شروع ہوئی اور یہیں ایک روز کبوتروں کو ہلّا شیری کرتی ،گنگناتی، ہانک لگاتی،تمتماتے گلابی گالوں اور گہری سیاہ آنکھوں والی سرو قد خالہ اوّلین اُن کے دل میں کُھب گئیں۔ موصوفہ بھی اِن کی ناموری اور کارناموں سے انجان نہیں تھی، شاید اسی لیے مقناطیسی کشش کی مانند اُن کی طرف کھنچی چلی آئیں۔ نظریں ملنے سے دل ملنے تک کا مرحلہ بڑی سرعت سے طے ہوا، مگر اِس سے آگے کا مرحلہ پار کرنے کی ہمت دونوں ہی جوڑ نہیں پارہے تھے۔ اس غیر مرئی تعلق کو دستاویز کی شکل دے کر قابلِ حمل بنانے کے لیے بڑھؤ کی منظوری بہت ضروری تھی۔

بے وقوف کہتے ہیں کہ پیسہ بڑی شے ہے اور سیانے کہتے ہیں کہ پیسہ کچھ بھی نہیں ، اور اِس معاملے میں بھی رواج کے مطابق سیانوں کو شکست ہوگئی۔ پیسہ نامی چالو جن نے یہ مشکل مرحلہ بھی’ دستی ‘طے کروادیا اور نیب زدہ سیاسی لوٹوں کے ہڑپ کیے ہوئے قرضوں کی مانند بڑھؤ کے تمام قرضے معاف ہوگئے۔ بڑھؤ کے کاندھوں سے قرض اور فرض دونوں کا بار ختم ہوگیا، دختر نیک اختر بالآخر پرائی ہوئی۔ اور اِس طرح خالہ اوّلین اُن کی زندگی میں داخل اور دخیل ہوئیں۔ اِدھر بڑھؤ اپنے بڑے پن کے عوض تا حیات مالی امداد کے حق دار ہوئے ۔

ان دونوں کی شادی بھی خوب تعلق ثابت ہوئی، بالکل آگ اور پیٹرول کی دوستی کی مانند، بھڑکتی کو بجھانے کی ہر کوشش مزید بھڑکنے کا سبب بن جاتی۔ دونوں نوجوان مہم جو ازدواجی مہم جوئی کی پیاس کو نمک سے بجھانے کی کوشش کرتے، اِس سے بھلا پیاس کیا بجھتی، نا آسودگی اور بڑھ جاتی، مگر بادلوں کی طرح تیرتے ہنسوں کے اِس جوڑے کو پیاس بجھانے کی کوئی جلدی تھی بھی نہیں۔ خالہ اور خالو کی یہ جوڑی خوب شہرت حاصل کررہی تھی۔ اب تو محلے سے باہر بھی دُور تک خالو کی مردانہ وجاہت اور خالہ کی مسحور کن خوب صورتی کے قصّے کیپٹل ٹاک کی طرح عام ہونے لگے تھے۔ موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پر خالو سے چپک کر بیٹھی خالہ، جب کچی اور ٹوٹی سڑک پر اپنا توازن سنبھالنے کی کوشش میں خالو سے کچھ اور چپک جاتیں تو خالو کو موٹر سائیکل سنبھالنے اور دیکھنے والوں کو نظریں ہٹانے میں بہت دِقّت ہوتی۔ یہ دونوں ہی سماج اور سماج کے ٹھیکیداروں کے جلنے بھننے کا خوب سامان کر رہے تھے۔ گہرے گریبانوں کا فیشن شریف زادیوں نے ابھی تک نہیں اپنایا تھا، لہٰذا چادر نما دوپٹے سے بدن کو ڈھانپ کر چہرے اور سر پر لپیٹنے کے بعد جو گٹھر عیاں ہوتا ، نظر باز اُسی کو دیکھ کر سرد آہ بھر لیتے۔ استخوانی بدن والی سائز زیرو ماڈلز رسالوں کے سرورق پر نمودار ہونا شروع نہ ہوئی تھیں اور بھرے بھرے جسم والی کَسی کَسائی خواتین خوب صورتی کا پیمانہ تھیں۔ اس حقیقت سے کسی کو تردّد نہ تھا کہ اِس پیمانے کے لحاظ سے خالہ اُس دَ ور کا اسٹینڈرڈ پیس تھیں، جس کو ایک دل جلے کے بقول ، پیرس کے اسٹینڈرڈ ہاؤس میں ٹمپریچر اینڈ اینوائرمنٹ کنٹرولڈ شوکیس میں ہونا چاہیے تھا، بولے تو سماجی رشتوں کی چیرہ دستیوں اور شوہرانہ دست برد سے محفوظ ،اتنا محفوظ کہ امتدادِ زمانہ بھی جسے چھو نہ سکے۔

جاری ہے ——–

ShafiqZada
ShafiqZada
شفیق زاد ہ ایس احمد پیشے کے لحاظ سےکوالٹی پروفیشنل ہیں ۔ لڑکپن ہی سے ایوَی ایشن سے وابستہ ہیں لہٰذہ ہوابازی کی طرف ان کا میلان اچھنبے کی بات نہیں. . درس و تدریس سے بھی وابستگی ہے، جن سے سیکھتے ہیں انہیں سکھاتے بھی ہیں ۔ کوانٹیٹی سے زیادہ کوالٹی پر یقین رکھتے ہیں سوائے ڈالر کے معاملے میں، جس کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی طمع صرف ایک ہی چیز ختم کر سکتی ہے ، اور وہ ہے " مزید ڈالر"۔جناب کو کتب بینی کا شوق ہے اور چیک بک کے ہر صفحے پر اپنا نام سب سے اوپر دیکھنے کے متمنّی رہتے ہیں. عرب امارات میں مقیم شفیق زادہ اپنی تحاریر سے بوجھل لمحوں کو لطیف کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ " ہم تماشا" ان کی پہلوٹھی کی کتاب ہے جس کے بارے میں یہ کہتے ہیں جس نے ہم تماشا نہیں پڑھی اسے مسکرانے کی خواہش نہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *