• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • سیاست پیچیدہ مرحلہ میں داخل ہو گئی۔۔۔اسلم اعوان

سیاست پیچیدہ مرحلہ میں داخل ہو گئی۔۔۔اسلم اعوان

ہماری ارتقاءپذیرسیاست میں مزاحمت کا استعارہ سمجھے جانے والے سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف علاج کی غرض سے بلآخرلندن سدھار گئے،انہیں احتساب کی دو عدالتوں نے ایون فیلڈ ریفرنس اور العزیزیہ اسٹیل ملزکیس میں بالترتیب دس اور آٹھ سال قید کی سزا سنائی،دریں اثناءانہیں چوہدری شوگرملز کیس میں تفتیش کےلئے جیل سے نکال کے بیس روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا گیا لیکن نیب کی تحویل میں اچانک طبیعت بگڑ جانے کے باعث انہیں لاہور کے سروسیز ہسپتال منتقل کرنا پڑا،جہاںسرکاری ہسپتال کے میڈیکل بورڈ نے انہیں علاج کی غرض سے لندن ریفر کر دیا،حکومت نے نوازشریف کے بیرون ملک علاج کو سات ارب روپے کے ضمانتی مچلکوں کے ساتھ مشروط کرنا چاہا مگر لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے حکومت کے تراشیدہ قوائد وضوابط میں ضروری ردّ و بدل کر کے انہیں شخصی ضمانت پہ چار ہفتوں کےلئے ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی۔ایسالگتا ہے کہ ہماری عدلیہ کی اجتماعی دانش ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد اب کسی دوسرے وزیراعظم کی غیر طبعی موت کا دوش اپنے سر لینے کو تیار نہیں تھی،لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے نوازشریف کو علاج معالجہ کی خاطر باہر جانے کی راہ میں حائل طریقہ کار کی رکاوٹیں دور کر کے طاقت کے مراکز کو یہی پیغام دیا ہو گا کہ سیاسی تبدیلی کا راستہ اب ایوان عدل کی راہداریوں سے نہیں گزر پائے گا۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی العزیزیہ ریفرنس کیس میں طبی بنیادوں پہ نوازشریف کو آٹھ ہفتوں کی ضمانت دیکر اپنے کندھوں سے سیاسی تنازعات کا بوجھ اتارنے کی جسارت کی تھی،جوڈیشری کی طرف سے بھجوائے گئے اسی ملفوف پیغام کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے ہزارہ موٹر وے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران سپریم کورٹ کے موجودہ اور متوقع چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں طاقتور اور کمزور کےلئے انصاف کے الگ الگ پیمانوں کے تاثر کو ختم کرنے کا مشورہ دیا،جس کے جواب میں اگلے روز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نہایت نپّے تلّے الفاظ میں ردعمل دیتے ہوئے فرمایاکہ قانون کی نظر میں طاقتور اور کمزور یکساں ہیں،سنہ دوہزار نو کے بعد کی عدلیہ،جس نے ایک وزیراعظم(یوسف رضا گیلانی) کو توہینِ  عدالت کے مقدمہ میں سزا سنائی اور دوسرے (نوازشریف)کواثاثے چھپانے کی پاداش میں نااہل کرنے کے علاوہ اب سابق آرمی چیف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ سنانے جا رہی ہے،ماضی کی جوڈیشری سے یکسر مختلف ہے،لحاظہ عدالتوں بارے لب کشائی میںاحتیاط برتی جائے ۔بیشک،سیاسی وقانونی دائروں کے اندر نہایت تیزی کے ساتھ رونما ہونے والی اس پراسرار پیش رفت نے مسلم لیگ نواز کو طاقتور سیاسی قوت کے طور پہ نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ اسی سیاسی و قانونی جنگ کے تال میل نے عدلیہ سمیت دیگر ریاستی اداروں کوآئینی اصولوں کی پاسداری کا حوصلہ دیکر سیاسی بساط پہ طاقت کی حکمرانی کےلئے جگہ کم کر دی،اگرچہ آمریتوں کے ہاتھوں پہ در پہ شکستیں کھانے والے سماج کو فی الحال اس انہونی کے وقوع پذیر ہونے کا یقین دلانا مشکل ہو گا اور اب بھی لوگ اس پیش رفت کو ڈیل یا ڈھیل کی فرسودہ اصطلاحوں سے ماورا سمجھنے کی سکت نہیں رکھتے لیکن حقیقت یہی ہے کہ مسلم لیگ نے بازو مروڑ کے نوازشریف کو سیاسی تادیب کے چنگل سے آزاد کرا لیا۔

آج سے چند ماہ قبل جب مریم نواز نے ہنگامی پریس کانفرنس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ اقبالی ویڈیو کو افشاں کرتے ہوئے نہایت وثوق سے کہا تھا کہ”ہم نوازشریف کو مرسی نہیں بننے دیں گے“ تو اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ ناتواں خاتون طاقتوروں کے ارادوں کی راہ میں حائل ہو جائے گی۔یہ عین ممکن ہے کہ اب مسلم لیگ کی کمر توڑنے کےلئے بدعنوانی کے مقدمات میں الجھائے گئے نوازشریف کے وفا شعار ساتھیوں،شاید خاقان عباسی،رانا ثنا اللہ اورحمزہ شہباز سمیت خواجہ برادران کو بھی جلد رہائی مل جائے کیونکہ اب انہیں پا بازنجیر رکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔نوازشریف کا ڈھیل اور ڈیل کے بغیرریاست کے پنجہ استبداد سے نکل جانا جہاں بساط سیاست پہ طاقت کے توازن کا پتہ دیتا ہے وہاں یہی پیش دستی خود مسلم لیگ کے سیاسی ڈھانچہ میں کئی غیر معمولی تبدیلیوں کی راہ ہموار بنا دے گی تاہم اس امر کا امکان اس سوال سے جڑا ہوا ہے کہ، کیا نوازشریف کی رہائی کے بعد مریم نواز کا کام ختم ہوجائے گا؟یا وہ بدستور سیاسی عمل کا حصہ رہیں گی؟ کیونکہ اس سے قبل جنرل مشرف کی آمریت کے خلاف مزاحمت کی علامت بن کے ابھرنے والی بیگم کلثوم، نوازشریف کی رہائی کے بعد پس منظر میں چلی گئی تھی۔۔

بہرحال! اس وقت ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پہ سب سے بامعنی تبصرہ صدر پاکستان جناب عارف علوی نے فرمایاکہ”ملک پیچیدہ سیاسی حالات میں داخل ہو گیا ہے“۔اس کا مطلب ہے مملکت میں سیاسی تبدیلی کے روایتی طور طریقے متروک ہو چکے ہیں، آزادی کے فوری بعد براہ راست فوجی مداخلت کے ذریعے سیاسی تبدیلی کی جو روایت ڈالی گئی سنہ انیس سو اٹھاسی تک قوم ان مقدس آمریتوں کے تسلط سے اُکتا چکی تھی تاہم جنرل ضیاءالحق کی ناگہانی موت کے بعد ابھرنے والی نومنتخب لیڈر شپ نے جب اپنی تنگ نظری کی بدولت جمہوری سسٹم کو وقف اضطراب کیا تو ہمارا سماج جمہوریت سے مایوس ہونے لگا۔جمہوری حکومتوں کی کم مائیگی اورعالمی طاقتوں کے مفادات کے تقاضوں نے اکتوبر انیس سو ننانوے میں ایک بار پھر جنرل مشرف کو براہ راست مداخلت کر کے سیاسی تبدیلی کی راہ ہموار بنانے کا موقعہ دیا لیکن پرویزمشرف کے بعد عہد جدید کی فسوں کاری نے زندگی اور جنگ،دونوں کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا،چنانچہ جنگ دہشتگردی کے مہیب حرکیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وسعت نے سیاسی عمل میں براہ راست فوجی مداخلت کے امکانات کوتقریباً ختم کر دیا تو جادوگروں نے پاور پالیٹیکس کو عدالتی عمل کے ذریعے ریگولیٹ کرنے کی راہیں تراش لیں لیکن سوشل میڈیا کے پُرآشوب عہد میں اب عدالتیوں کےلئے بھی سیاسی تغیرات کا بوجھ اٹھانا ممکن نہیں رہا،لحاظہ آئینی طریقوں کے سوا سیاسی تبدیلی کی کوئی راہ باقی نہیں بچی،شاید اسی لئے اب سیاسی نظام پہ مقتدر حلقوں کی گرفت کمزوراورطاقت کا توازن ایک بار پھر مقبول سیاسی لیڈر شپ کی طرف جھکتا دکھائی دے گا۔

اُدھر طاقت کے مراکز سے وابستہ مذہبی گروپوں کی فیصلہ سازی کے عمل پہ اثر انداز ہونے کی قوت کم ہونے سے سماجی آزادیوں کی راہیں کشادہ ہونے لگی ہیں،مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کا دردناک انجام اسی تغیر کی نمایاں مثال تھی۔یہ کیسے ممکن تھا کہ ملکی مقتدرہ اورعالمی برادری سیاسی نظام پہ کسی مذہبی جماعت کی حتمی بالادستی تسلیم کر لیتی،اس وقت عالمی طاقتیں کشمیر سے لیکر افغانستان اور عراق سے لیکر لیبیا،شام و لبنان تک کسی بھی جگہ مذہبی قوتوں کے استبدادکو برادشت نہیں کرسکتیں،چنانچہ مقتدرہ نے سول سوسائٹی کے تعاون اور سوشل میڈیا کی سائنس کے ذریعے مولانا فضل الرحمٰن کی حکومت مخالف تحریک کو مذہبی عصبیتوں سے طاقت کشیدکرنے سے روک لیا،ہمارے سماج نے مولانا کو برداشت،تحمل اورمتوازن جمہوری رویہ اپنانے پہ ستائش سے مخمور رکھا،بہرحال یہ ایک مشکل ٹاسک تھا لیکن ہماری ریاستی مقتدرہ نے انتہائی نفاست کے ساتھ مولانا کو سمبھال کے نہایت پرامن انداز میں اس نازک مرحلہ کو سر کرلیا۔بلاشبہ زندگی کے کھیل میں کچھ ایسے قوانین بھی ہونے چاہیے جنہیں وہ بھی تسلیم کریں جو انکی خلاف وردی کرتے ہیں،امید ہے اب ریاستی ادارے ہموار جمہوری عمل کے ذریعے سیاسی تبدیلیوں کی راہیں کھلی رکھیں گے۔اس امر میں کوئی شبہ باقی نہیں بچاکہ موجودہ حکومت عوامی توقعات پہ پورا نہیں اتر سکی لیکن سیاسی تبدیلی کےلئے کسی غیرفطری یا غیرآئینی طریقے کی حمایت بھی نہیں کی جا سکتی۔اس لئے غالب امکان یہی ہے کہ اپوزیشن آئینی طریقوں کے ذریعے ہی پہلے پنجاب اور پھر مرکز میںعدم اعتمادکی تحریکیں لا کے گورنمنٹ بدلنے کی کوشش کرے گی بصورت دیگر وزیراعظم کی مرضی سے مڈٹرم الیکشن کے سوا تغیر وتبدّل کی کوئی راہ باقی نہیں بچی۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *